Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 8
“بیوی”
سب ہونق بنے آہل کی طرف دیکھ رہے تھے. آج پے درپے انکشافات کا دن تھا.
“صحیح سنا. بیوی !! ہمارا نکاح ہوا ہے. زر شرعی اور قانونی بیوی ہے میری. اور میری بیوی ایک باحیا اور باکردار لڑکی ہے۔ جس نے زر کے بارے میں اب مزید کوئی الٹی سیدھی بکواس کی تو میں منہ سے کچھ نہیں بولوں گا ڈائریکٹ عمل کروں گا. کھڑے کھڑے تم سب کو یہاں سے نکلوا دوں گا”. آتش زدہ انداز تھا۔
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوا۔ ہماری بیٹی کا کوئی نکاح نہیں ہوا۔ اور نکاح گھر کے بڑے سربراہ کی غیر موجودگی میں کی جائے تو ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ بیوی ہے تو جس کو یہاں لیکر آیا تھا وہ کون ہے۔ جو مردوں کو قابو میں کرنے کا ہنر بخوبی جانتی ہے۔ ابھی ابھی ایک کیساتھ منہ کالا کرنے بند روم میں پکڑی گئی.” سلطان میر نے معاملہ ٹھنڈا دیکھ کر تیر پھینکا۔
“وہ سب بھی تم لوگوں کی کوئی من گھڑت چال ہی ہوگی. عنایہ کی پرورش میں نے کی ہے. اور مجھے خود سے بڑھ کر مان ہے اس پر کہ یہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی کہ میرا سر شرم سے جھک جائے”. آہل نے پاس کھڑی سہمی سی عنایہ کو خود سے لگایا۔
“تمہیں میں نے وارن کیا تھا نا کہ عنایہ سے دور رہ ۔ اپنی غلیظ نظروں کو قابو میں رکھ. مگر تم سب نے میری غیر موجودگی کا فایدہ اٹھایا۔ مجھے تمہاری لگامیں کھینچنی چاہئے تھی” اہل زخمی شیر کی طرح اذلان پر جھپٹا. اور گریبان سے پکڑ کر پیٹ میں دو تین مکے مار دئے.
“مار دو. میں اف تک نہیں بولوں گا. میرے اپنے خون کے رشتے میری بے گناہی کا ثبوت مانگ رہے ہیں تو بھلا آپ کو کیا صفائی دوں۔غلطی میری ہی تھی کہ بغیر کنفرم کئے میں عنایہ کی طبیعت کی خرابی کا سن کر بھاگتا آیا.” اذلان نے بے بسی سے ہونٹ چبائے. تو آہل نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تو وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوگیا۔
“کب نکاح کیا ہے تم نے؟؟ حدید نے زر کی حالت کے پیش نظر ذرا نرمی سے استفسار کیا.
“دو سال پہلے !! زر بس اتنا بول پائی.
ہال میں ایک دم سکوت چھا گیا اور وجہ آہل کے پی اے کا آنا تھا. جس کے ہاتھ میں اہل کا بریف کیس تھا جس میں اس کے ضروری فائلز اور ڈاکومنٹس ہوتے ہیں۔
آہل نے اس کے ہاتھ سے بریف کیس لیکر کھول دیا اور ایک پیپر نکال کر ایاز میز اور سلطان میر کیطرف اچال دیا.
“خود کو اچھی طرح مطمئن کرلو. میری بیوی تم لوگوں کے کسی سوال و جواب کی پابند نہیں۔ اور کیا کہا تم نے؟ گھر کے سربراہ کی غیر موجودگی؟؟ تو پڑھ لو یہ. بھگا کر نہیں لے کر گیا تھا۔”
اذلان نے زمین سے پیپیر اٹھاکر اس پر ایک نظر ڈالی تو چار سو وولٹ کا کرنٹ لگا۔ پھر اس نے پیپر باپ کی طرف بڑھایا.
“بابا سرکار؟؟ یہ نکاح بابا سرکار نے خود کروایا ہے. وہ کیسے مجھ سے پوچھے بغیر میری بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں نہیں مانتا ایسے کسی نکاح کو” وہ پیپیر پر نظر گاڑھے متغیر رنگت کے ساتھ خود کو یقین دلانے کی کوششوں میں تھا.
” نیچے زر کے سائن بھی ہے سسر جی !! اور نکاح کے وقت زر کی عمر اکیس سال تھی۔ اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار… اب بھی کوئی شک ہے؟ یہ حویلی جتنی تم لوگوں کی ہے۔ اتنی میری. اور میں نے اپنے حصے کی پوری پراپرٹی زر کے نام کی ہے. ساتھ میری کمپنی میں بھی ففٹی پرسنٹ کے شئیرز کی مالک ہے ۔ تو اگر کسی نے میری بیوی اور ہونے والے بچے کو ہرٹ کرنے کی کوشش کی تو نتائج کے زمہ دار تم لوگ خود ہوں گے. میں لمبا سفر کرکے آیا ہوں۔ بہت تھک چکا ہوں۔ اسلئے مجھے اب گھر میں کوئی تماشا کوئی ہنگامہ نہیں چاہئے۔ پھر زرا فرصت میں عنایہ والا معاملہ بھی نبھٹاتے ہیں.” اکتاہٹ کا اظہار کرکے وہ زر اور عنایہ دونوں کے گرد بازوؤں حمائل کرکے جانے لگا۔ عنایہ کے تاثرات بلکل سپاٹ تھے. وہ تو اہل کے منہ سے زر کے لئے کہے گئے لفظ “بیوی” سن کر تڑپ اٹھی. جبکہ یہی حال سوہا کا بھی تھا۔ جس کے دل میں محبت کی ننھی کلی نے سر اٹھایا تھا۔ وہ شکست خوردہ سی تنے غضلات کیساتھ آہل کے سینے سے لگی اپنی بہن کو تنفر زدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
عنایہ کے روم کے سامنے رک کر اس نے عنایہ کو اندر بھیج دیا اور زر کو اپنے ساتھ اپنے روم کے آیا.
اذلان خوش تھا اپنی بہن کے لئے۔ دادا سرکار نے برسوں پرانی فرسودہ روایات کو ختم کرنے کے لئے اسٹیپ لیا تھا جو کہ خوش آئند قدم تھا.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زر کو اپنے روم میں لا کر اسے بیڈ پر بٹھایا. اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکے قریب بیٹھ گیا.
” یہ خوشخبری سننے کا پہلا حق میرا تھامسز!! آہل کے متغرض لہجے نے اسے چونکا دیا.
“آہل میں نے آپکو بولا بھی تھا. مجھے اپنی ذات کا تماشا نہیں بنانا۔ نکاح ہوا تھا وہ بھی دادا سرکار اور پھوپھو کی موجودگی میں. تو ہمیں تب تک اپنے رشتے کو آگے نہیں بڑھانا تھا جب تک سب کچھ منظر عام پر نہیں اتا۔ آج بے گناہ ہوکر بھی میرے کردار پر جو کیچڑ اچھالا گیا۔ سگے باپ , چچا نے مجھے بے حیا, بدکردار کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا, میں یہ ڈیزرو نہیں کرتی تھی. دو سال آپ نے شوہر ہوتے بھی اپنا حق نہیں مانگا کچھ وقت اور انتظار کر لیتے تو آج میں اسطرح سب کے سامنے سر جھکا کر کھڑی نہیں ہوتی۔ بلکہ فخر سے آپکے کندھے سے کندھا ملا کر عزت سے , مان سے مسز آہل یزدان بن کر کھڑی ہوتی.” زر دل پر چھایا جمود کم کرنے کی کوشش کرنے میں ہلکان ہوگئ۔۔
“یار مجھے تھوڑی نا پتہ تھا کہ ہمارے بچے کو دنیا میں آنے کی اتنی جلدی ہوگی. ورنہ میں تمہیں ان جابر لوگوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ کر جاتا. اور تم بھی برابر کی قصور ہو. تمہیں میں اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھنے کے لئے منتیں کرتا رہا, مگر تمہیں تو اسطرح خود ذلیل ہونے کا شوق تھا۔ کہ مجھے سارے رسموں رواجوں کے ساتھ دنیا کے سامنے عزت سے بیاہ کر لے جاؤ. ورنہ اب ہم اپنے گھر میں سکون کی زندگی جی رہے ہوتے۔ مجھے نا اس حویلی میں کوئی انٹرسٹ ہے نا یہاں کے مکینوں میں. نا ان کی پراپرٹی میں. ” اہل اس کے آنسو اپنے انگلی کے پوروں سے صاف کرنے لگا.
“ہاں تو کونسا گناہ کیا۔ سب لڑکیوں کی طرح میرے بھی کچھ خواب تھے کہ میری شادی دھوم دھام سے ہو۔ میں نے دادا سرکار کے سامنے بھی اپنی خواہش کا برملا اظہار کیا تھا۔ اور انہوں نے رضامندی بھی ظاہر کی تھی۔ مگر ان کی سانسیں ختم ہوگئی تھی۔ چل بسے اور میرے خواب ادھورے رہ گئے” زر سسکنے لگی۔
اسطرح رو کر اسٹریس لیکر خود پر اور میرے بچے پر ظلم کر رہی ہو. رونا بند کردو۔ ابھی تو عشق کے امتحاں اور بھی ہے۔ وہ تم نے سنا ہوگا نا غیروں کے مقابلے میں اپنے ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں. صرف نکاح کی بات باہر آئی ہے۔ ابھی اور کتنے رازوں سے پردہ اٹھانا ہے…..”
“ایک منٹ!! زر نے سرعت سے اہل کی بات کاٹ دی۔۔
آپ نے تو صبح بات کی تھی نا مجھ سے۔۔ آپ تو پرسوں آنے والے تھے تو….؟؟؟
“جب عنایہ والی بات ہوگئی تو بی اماں نے مجھے کال کرکے سب بتا دیا تھا۔ اور میں اسی وقت نکل گیا۔ اور دبئی کتنا دور یے۔ تمہارے سامنے ہوں۔ وعدہ کیا تھا نا میں نے آپکے دادا سرکار سے کہ چاہے جیسے بھی حالات کیوں نا ہو۔ میں نے اپنی بیوی کا ساتھ ہمیشہ دینا ہے۔ اس کی ڈھال بننا ہے۔ لو دیکھ لو۔ خاضر ہوگیا.”
” میں نہیں جانتی عنایہ کے ساتھ سب کیسے ہوگیا۔ میری صبح سے طبیعت کافی خراب تھی۔ میں پھپھو کے روم میں جارہی تھی کہ اسکو ساتھ لیکر چیک اپ کے لئے جاؤ. مجھے ڈاوٹ ہوا تھا کہ یہ طبیعت بے وجہ خراب نہیں. مگر اس سے پہلے ہی اچانک طوفان کیسے اگیا۔ اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے زر کی گال دہک اٹھے۔
“ہاہاہاہاہاہا… تم بلش کر رہی ہو. آہل نے اسکے گال پر چٹکی کاٹی۔
” تم خود کو دوش مت دو۔ سالوں پہلے جو ہوا تھا. وہی دہرایا جا رہا ہے۔ اور آج بھی وہی لوگ مقابل ہیں جو برسوں پہلے تھے۔ مگر شائید بھول گئے یہ لوگ کہ اس بار کس سے پالا پڑنے والا ہے۔ انکا سامنا کرنے کے لئے کمزور و لاچار کامل یزدان نہیں جس سے اسکی زندگی کا مقصد ہی چھین لیا گیا۔ اسکی بہن اسکی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئی۔. اور وہ کچھ نہیں کرپایا تھا۔ اب میدان میں اسکا شیر جیسا بہادر بیٹا اترے گا۔ جسے طوفانوں سے ٹکرانے کی ہمت ہے ۔یہ آندھیاں اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اب تم نے وہی کرنا ہے جو میں بولوں گا۔ وقت آگیا ہے۔ حساب چکتا کرنے کا۔ میری پھپھو اور تمہاری پھپھو کو انصاف دلانے کا۔ آخر میں آہل کی آواز میں دکھ کا عنصر شامل تھا۔
“جی !! میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں۔ بس آپ مجھے مت چھوڑیں گا” زر کو اسکے چہرے پر چھائی کرب کے آثار صاف دکھے۔ باپ کو کھویا تھا۔ بھری جوانی میں پھپھو کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے جس کی تاب نا لاتے ہوئے وہ ابدی نیند سوگئی. ماں سے بچھڑ گیا تھا۔ بہت کچھ کھویا تھا اس نے۔
“میں فریش ہوکر آتا ہوں۔ تم بی اماں کو بول دو
میرے لئے چائے بنا کر لائے۔” زر کر سر پر ہونٹ رکھ کر وہ واشروم میں بند ہوگیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عنایہ ابھی تک آہل کے کہے گئے الفاظ کے زیر اثر سکتے میں بیٹھی تھی۔ یہ بات ہضم بھی نہیں ہورہی تھی کہ آہل شادی شدہ ہے۔ اور اب باپ بننے والا ہے۔ وہ تو آہل کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ اور اوپر سے آج ہونے والے حادثے نے اسکا دماغ ماؤف کردیا تھا۔ وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا کہ روم کا دروازہ کھلا اور آہل فریش سا اندر داخل ہوا۔
ماتھے پر گیلے بال سکن کلر ہالف سلیوز شرٹ پہنے وجاہت کا بھرپور شاہکار۔
“آپ نے مجھے بھی اندھیرے میں رکھا۔؟؟ سب سے پہلے جو سوال دماغ میں آیا پوچھ ڈالا ۔
” صرف تمہیں نہیں کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ آہل اسکے مقابل صوفے پر بیٹھ گیا۔
“مگر ہم ایک گھر میں ایک چھت کے نیچے رہ رہے تھے۔ آپ تو کم از کم مجھے بتا سکتے تھے.” عنایہ نے جھلائی آواز میں گلہ کیا۔
“ہماری شادی دوسری شادیوں کی طرح کوئی روایتی انداز سے نہیں ہوئی تھی۔ جس کا کھلے عام پرچار کرتے۔ اسکو حفیہ رکھنے کی بہت سی وجوہات تھی۔ اسلئے وقت سے پہلے بتانا مناسب نہیں تھا۔ چھوڑو وہ سب۔ اب تم دھیان سے میری بات سنو۔ جو میں بول رہا ہوں۔ دماغ میں ڈال دو. آہل چن چن کر الفاظ کا انتخاب کرنے لگا۔
” جی!! وہ مٹی کا مادھو بن کر بیٹھی تھی۔
“ان لوگوں کی تمہارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ صرف مجھے گرانے کی لئے چال چلی تھی۔ اور خود کے بیٹے کو بھی نہیں بخشا,اس کی بھی بلی چڑھا دی۔۔ میں تمہارے نکاح کی بات کروں گا۔ تم……
“واٹ!!!! آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتےہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی یہ لوگ کتنے پست ذہنیت کے مالک ہیں۔ مجھے ان لوگوں کی بہو بنا رہے ہیں۔ بیوی کے پیار میں اتنے اندھے ہوگئے آپ۔ کہ مجھے بھی کنویں میں ڈال رہے ہیں۔ آہل کی بات بیچ میں درشتی سے کاٹ کر عنایہ کی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئی.
“ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔” پھر آہستہ آہستہ آہل نے اسے پوری بات بتا دی۔ مگر عنایہ کو پھر بھی اعتراض تھا۔
آہل !! مجھے یہ لوگ زہر لگتے ہیں۔ اور نکاح کا بندھن تو اتنا پاکیزہ ہوتا ہے ہم اسے ذاتی مفاد کے لئے کیوں استمعال کرے۔” دماغ پر چھائی کثافت چھٹنے لگی مگر وہ نکاح کے حق میں نہیں تھی.
“ازلان تمہیں لائک کرتا ہے۔ جیسا کہ تم نے بتایا کہ اس نے خوداظہار کیا۔ تو وہ بخوشی راضی ہوجایے گا۔ اگر تم چاہو اپنی میرہڈ لائف شروع مت کرنا۔ مگر ازلان ہمارے کام کا بندہ ہے۔ اپنے باپ کے خلاف ہماری مدد کرسکتا ہے۔ اگر پھر تم چاہو خلع لیکر الگ ہوسکتی ہو ۔ میرے گھر کے دروازے تمہارے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وہاں کی بیٹی ہو تم۔” آہل نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا تو عنایہ اس کے ہاتھوں پر سر رکھ کر بلک بلک رودی.
“ششش !! آہل نے اپنائیت سے لبریز انداز میں اسے خود سے لگایا۔
“میں سوچوں گی…” بالآخر کچھ صبر آزما انتظار کے بعد وہ بس اتنا بول پائی تو اہل نے ایک پرسکون سانس فضا کے سپرد کی.
“کل تک کا ٹائم ہے. سوچ لو. ازلان دل کا بہت اچھا ہے۔ اسے خود بھی باپ اور چچا کے کالے کرتوتوں کا علم نہیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اللّٰہ وہ نہیں دیتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے۔بلکہ وہ دیتا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہوتا ہے۔ میں نے زر کو لیکر یہاں سے جانا ہے۔ تمہیں بغیر کسی بڑے حوالے کے یہاں چھوڑ نہیں سکتا, تو ازلان بیسٹ آپشن ہے۔”
عنایہ کے دل پر برچھیاں برس رہی تھی۔ کل تک وہ آہل کو اپنے ہمسفر کے روپ میں دیکھ کر سوچتی۔ اور آج وہی اہل کسی دوسری لڑکی کا سہاگ نکلا۔ اور اوپر سے نکاح۔ وہ بھی ایک انجان شخص سے۔ وہ تذبذب کا شکار تھی۔
