Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 9)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
وہ حواس قابو کرتا بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آیا۔۔
“میرابھائی؟” وہ لوگوں سے پوچھنے لگا
“انہیں پاس کے ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔۔ان کی حالت بہت خراب تھی۔۔” ایک آدمی نے بتایا۔
وہ نام پتا پوچھ کر بھاگتا ہوا گیا۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی اس نے معلومات کی۔۔
وہ تیزی سے اوپر بھاگا۔۔۔
سامنے ہی روحیل کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا۔۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بھاگتا ہوا آیا۔۔
“روحیل؟” اس نے پکارا
“روحیل میرا بھائی۔۔۔عشر۔۔عشر کہاں ہے؟” وہ پھولتے سانسوں سے پوچھنے لگا
“بشر۔۔” اس نے بشر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
“روحیل بتا کہاں ہے عشر؟” وہ چیخا
“وہ اب ہمارے بیچ نہیں رہا۔۔اسے یہاں تک لانے سے پہلے ہی۔۔”
وہ چپ ہوگیا
بشر کو ایسا لگا جیسے اس کی سانسیں تھم گئی۔۔
اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ بس روحیل کو تک رہا تھا۔۔
“بشر حوصلہ رکھ۔۔” اس نے تسلی دینی چاہی۔
بشر خاموش تھا۔
“ہم اسے گھر ہی لے جا رہے تھے مگر۔۔اس کی حالت ایسی نہیں تھی۔۔تو۔۔۔خون۔۔” وہ آگے بولتا اس سے پہلے ہی بشر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔۔
اس میں سننے کی ہمت نہیں تھی۔۔
وہ ساکت کھڑا رہا۔۔
پھر یک دم چیخنے کے ساتھ ہی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
اور تیز تیز رونے لگا۔۔
“بشر خود کو سمبھالو” روحیل نے تسلی دینی چاہی۔
مگر وہ مسلسل رو رہا تھا۔۔
اس قدر کہ کسی اکھڑ مزاج مرد کو کبھی کسی نے اس طرح روتے نہیں دیکھا ہوگا۔۔
مگر آج اس کے بھائی کی موت نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔
نعمان لاؤنج میں بیٹھا تھا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔۔
اس نے کال رسیو کی۔۔بشر کی کال تھی
“ہیلو”
“کیا؟…کہاں ہو ایڈریس بتاؤ۔۔۔؟”
وہ پریشانی سے کھڑا ہوا
“میں آرہا ہوں” وہ باہر نکلنے لگا تھا کہ غزالہ بیگم نے پکارا
“نعمان؟”
“مما عشر کا ایکسینٹ ہوگیا۔۔۔”
“کیا؟ کیسے۔۔یا خدا” وہ گھبرا گئی۔۔
“بشر کی کال آئی تھی۔۔میں دیکھتا ہوں ” وہ کہتا تیزی سے باہر نکلا۔۔
پاس کھڑی مسکان بھی سن چکی تھی۔۔
“یہ نعمان کیا کہ رہے تھے چچی؟” وہ گھبرا کر پوچھنے لگی۔۔
“عشر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔۔اللہ رحم کرے گا۔۔ ” انہوں نے مسکان کو گلے لگاتے ہوئے کہا
اور وہ دونوں دانیال کے گھر گئے۔۔
وہاں بھی صدف بیگم کی رو رو کر حالت خراب تھی۔۔
غرض پورے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔۔
سب کی انکھوں میں آنسوں تھے۔۔
“کچھ پتا چلا؟” غزالہ نے پوچھا
“نہیں۔۔دانیال بھی گھر پر نہیں ہیں۔۔بس کال کر کے بتایا تھا کہ ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے” صدف بیگم نے بھری آواز سے کہا
“اللہ رحم کرے گا” غزالہ بیگم تسلی دینے لگی۔۔
وہاں سب موجود تھے بس نگار نہیں تھی۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی دوپہر سے شام ہوگئی تھی۔۔مگر بشر نا ہی فون اٹھا رہا تھا نا ہی کوئی خبر دے رہا تھا۔
وہ کب سے دونوں کے نمبر ملا رہی تھی۔۔
وہ پریشان تھی۔۔
اس کا دل بیٹھ رہا تھا۔۔
اس کے کانوں سے بار بار وہ ایکسیڈنٹ کی بھیانک آواز ٹکرا رہی تھی۔۔
“عشر۔۔اللہ اسے کچھ نا ہو” وہ کانوں کو ہاتھ لگائے کہنے لگی
آنسوؤں سے چہرہ بھیگ گیا تھا۔
وہ اٹھی اور وضو کیا۔۔
جائے نماز بچھا کر عصر کی نماز ادا کی۔۔
اور جانے کتنی ہی دیر روتی رہی۔۔
پوری نماز میں اس کے آنسوں نہیں تھمے۔۔
“یا اللہ عشر کو صحیح سلامت واپس بھیج دے۔۔
تو تو میرے دل کی ہر بات ہر خیال سے واقف ہے وہ میرا محرم ہے۔۔یارب میری زندگی بھی اسے لگا دے بس اسے کچھ نا ہو۔۔میں۔۔میں جانتی ہوں میں اسے تنگ کرتی ہوں مگر۔۔” وہ کہتے کہتے رکی۔۔
اس کی زبان نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔۔
کتنی ہی دیر وہ ہاتھ اٹھائے دعا مانگتی رہی۔۔
روتی رہی۔۔
مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔۔جب اسے ہارن کی آواز سنائی دی۔۔
اس کے دل نے جیسے دھڑکنا چھوڑ دیا۔۔
وہ مرے قدموں سے کھڑکی تک آئی۔۔
گیٹ کے قریب ہی لوگوں کا ہجوم تھا۔۔
اسے جیسے جھٹکا لگا۔۔
“عشر؟” وہ بڑبڑائی۔۔
وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی۔۔۔۔
کسی کا جنازہ اندر لے جایا جارہا تھا۔۔
مگر وہ کفن میں ملبوس شخص کون تھا؟
اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔۔
وہ بھاگتی ہوئی آئی۔۔
نعمان نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا۔۔
“بھائی..یہ عشر نہیں ہے نا؟ کون ہے یہ؟” وہ حواس کھونے لگی۔۔
عشر کے جنازے کو اندر رکھ دیا گیا تھا۔۔
بشر بھی قریب ہی کھڑا تھا۔۔
“بشر” صدف بیگم نے آگے بڑھ کر بشر کو پکارا
“مما یہ عشر ہے۔۔ہمیں چھوڑ کر چلا گیا” بشر نے بھری آواز سے کہا
اتنا سننا تھا کہ رونے اور چیخنے کی آوازیں گونجنے لگی۔۔
نگار بھاگتی ہوئی اندر آئی۔۔
“یہ عشر نہیں ہے۔۔وہ مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے؟” وہ بڑبڑانے لگی۔۔
“اس کا چہرہ کیوں نہیں کھول رہے۔؟۔۔آخری بار تو اس کا چہرہ دکھا دو” غزالہ نے بشر سے کہا
“نہیں چچی۔۔اس کی حالت دیکھنے والی نہیں ہے اسے غسل دے دیا گیا ہے تھوڑی ہی دیر میں لے جائیں گے ” بشر نے منہ کھولنے سے منا کیا
“نہیں مجھے دکھاؤ میرا بچہ۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔” صدف بیگم روتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“نہیں۔۔مما آپ سمجھیں پلیز” وہ ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
سب کا رو رو کر برا حال تھا
مسکان مسلسل عشر کو پکار رہی تھی مگر وہ جیسے سب سے ناراض تھا۔۔
سوائے نگار کے وہ ساکت کھڑی تھی۔۔
“نگار بیٹا؟” غزالہ اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
“نعمان اسے دیکھو یہ رو نہیں رہی۔۔نگار” اس کی ماں گھبرانے لگی۔۔
“نگار۔۔نگار” اس کے کانوں سے آوازیں ٹکرا رہی تھی۔۔
“نگار۔۔عشر مر چکا ہے” بشر نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
وہ یک دم صدمے سے نکلی۔۔
“نہیں۔یہ عشر نہیں ہو سکتا۔۔وہ مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔
۔۔مجھے۔۔مجھے دیکھنا ہے ” وہ بشر کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“چچی اسے اندر لے جائیں” بشر نے کہا
“نہیں مجھے نہیں جانا۔۔مجھے عشر کو دیکھنا ہے” وہ چلانے لگی۔۔وہ بے قابو ہونے لگی۔۔
اسے غزالہ بیگم پکڑ کر زبردستی اندر لے گئی۔۔مگر پورے گھر میں اس کی چیخوں کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔
