Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 15)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
تھوڑی ہی دیر میں جب وہ نہا کر نکلی تو بشر روم میں تھا وہ بیڈ پر بیٹھا موبائل میں گم تھا۔۔
نگار نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ڈریسنگ کے پاس چلی گئی۔۔
بشر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ڈبی اٹھائی۔۔
اور اس کے قریب آیا۔۔
“نگار” بشر نے دھیمے لہجے میں کہا
“جی” نگار نے کہا
“یہ تمہارا۔۔گفٹ۔۔ہے” بشر نے ہچکچاتے ہوئے ڈبی اس کی طرف بڑھائی۔۔
نگار نے ڈبی پکڑ لی۔۔پھر نظر جھکا گئی۔۔
“سوری میں۔۔رات۔۔پتا نہیں کب سوگئی۔۔” نگار نے نظریں جھکائے سادگی سے کہا
“کوئی بات نہیں” بشر نے کہا۔۔
نگار پلٹ کر جانے ہی والی تھی کہ یک دم گرتے گرتے بچی۔۔
بشر نے اسے نا پکڑا ہوتا تو شاید وہ گر بھی جاتی۔۔
“اس کے دوپٹے کا کونا بشر کے پاؤں تلے تھا جس کی وجہ سے گرتے گرتے بچی۔۔
وہ بشر کی بازوں میں خود کو محفوظ محسوس کرنے لگی۔۔
بشر کی نظر اس کے چہرے کا طواف کرنےلگی۔۔
صاف شفاف رنگت گیلے بال جو کچھ ماتھے پر ٹکے تھے۔۔وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ واقع بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ایک دن کی دلہن پر جو روپ آتا ہے
بشر کی نظر چہرے سے ہوتی اسکی گردن پر پڑی جہاں پانی کی کچھ بوندیں موتیوں کی مانند چمک رہی تھی۔۔
وہ مہارت سے نظریں چرا گیا اور پیچھے ہٹا۔
اور بیڈ کی طرف چلا گیا۔۔
“تم نے نماز نہیں پڑھی؟” بشر نے کہا
“نہیں آنکھ نہیں کھلی تھی” نگار نے کہا
“اچھا میں اٹھا دوں گا کل سے” بشر نےمسکرا کر کہا
“تھینک یو” نگار نے مسکراتے ہوئے کہا
اور تھوڑی دیر میں نگار تیار ہوکر چلی گئی تھی۔۔
مسکان کی جب آنکھ کھلی تو خود کو نعمان کی باہوں میں پایا۔۔
وہ جھٹ اٹھ بیٹھی۔۔
نعمان کی آنکھ بھی اس کے اٹھنے سے کھل گئی۔۔
“کیا ہوگیا؟” نعمان نے نیند سے بوجھل آواز میں کہا
“اپنی سائیڈ سوتے نا آپ ” وہ جھنجھلائی۔۔
بدلے میں نعمان کا قہقہہ گونجا.
“یہ ہنسنے کی بات تھی؟”مسکان نے منہ بنایا
“نہیں نہیں بلکل بھی نہیں” وہ روہانسی ہوا۔۔
وہ گھورتی ہوئی اٹھنے لگی۔۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
“آپ کو سب بتا دوں؟”
“بتا دو” اس نے اطمنان سے کہا
اس کے انداز پر مسکان کو ہنسی آگئی مگر اس نے اسی انداز سے چھپائی۔۔
اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“یار جلدی ناشتہ لادو ” اس نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔۔
“نیچے جا کر کرو نا ایسے اچھا تھوڑی لگتا ہے” مسکان نےڈانتے ہوئے کہا
“اچھا بھئی چلا جاؤں گا۔۔” وہ کمبل اوڑھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
اور وہ واشروم کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ سب ناشتہ کر رہے تھے نگار بھی چپ چاپ کھانے میں مصروف تھی۔۔
“نگار کچھ چاہیے ہو تو بتانا۔۔میں نے تمہارے لیے پوریاں بھی منگوائی ہیں تم کھاتی ہو نا؟” صدف بیگم نے کہا
“تائی امی میں تو کچھ بھی کھا لیتی ہوں” نگار نےمعصومیت سے کہا
“ہاں مجھے پتا ہے تم کھانے میں کتنے نکھرے کرتی ہو” صدف بیگم نے ہنس کر کہا
بدلے میں سب ہنس دیے۔۔
“مما میری اسلام آباد سے کال آئی ہے۔۔” بشر نے کہا
“اچھا کب جانا ہے؟” دانیال صاحب نے پوچھا
“پرسوں” بشر نے جواب دیا
“کیا پرسوں؟” صدف بیگم نے حیرت سے پوچھا
“جی مما پرسوں جانا لازمی ہے۔۔” بشر نے کہا
“پھر کب تک آؤ گے؟” صدف بیگم نے پوچھا
“پندرہ دن بعد” بشر نے کہا
“اچھا چلو اللہ تمہیں کامیاب کرے۔۔” دانیال صاحب نے کہا
” پیکنگ کرلینا آج ہی۔۔” صدف نے کہا
“جی مما” بشر نے کہا اور کھانے میں مصروف ہوگئی۔۔
وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔۔
“چچی۔۔نگار کے پاس چلیں؟” مسکان نے چہک کر کہا
“وہ خود ہی آجائے گی ابھی۔۔دل اس کا بھی نہیں لگ رہا ہوگا” غزالہ بیگم نے کہا
“کیوں نہیں لگے گا وہ گھر اس کے لیے نیاتھوڑی ناہے”
“ہاں یہ بھی ہے۔۔” غزالہ بیگم نے مسکرا کر کہا
“چچی نگار چپ چپ رہتی ہے ہیں نا؟”
“ہاں جب سے عشر گیا ہے۔۔بس اب اللہ اس کے نصیب اچھے کرے سب بھول جائے گی”
غزالہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“انشاءاللہ بہت خوش رہے گی بشر بھائی کے ساتھ۔۔وہ بہت سمجھ دار ہیں” مسکان نے کہا
“ہاں یہ تو۔۔”
“مما۔۔” نگار کی آواز آئی
“نگار” وہ کھڑی ہوئی۔۔
نگار ان کے گلے لگی..
“کیسی ہے میری بیٹی؟”غزالہ بیگم نے پیار کرتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہوں” نگار نے کہا۔۔
“آؤ بیٹھو” مسکان نے کہا
“نہیں مجھے پارلر جانا ہے ” نگار نے کہا
“اچھا” غزالہ نے مسکرا کر کہا
“میں نے کہا میں ولیمے کےلیے گھر ہی تیار ہوجاؤں گیمگر وہ مان ہی نہیں رہیں گاڑی کے پاس کھڑی ہیں” نگار نے کہا
“تو اچھی بات اتنا کہ رہی ہیں تو منا نہیں کرتے جاؤ”غزالہ بیگم نے کہا
“اچھا اللہ حافظ” وہ کہتی وہاں سے نکل گئی۔۔
“کتنا روپ آیا ہے نا چچی نگار پر” مسکان نے خوش ہو کر کہا
“ہاں ماشاءاللہ” صدف بیگم نے کہا۔۔۔
ولیمے کا فنکشن بھی بہت اچھے سے گزر گیا۔۔
سب نے ہی نگار کی تعریف کی۔۔
پیچ کلر کی کامدار میکسی میں وہ واقع بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔
بشر کی نظر اس پر ہی جمی تھی پورے فنکشن میں
مگر وہ ظاہر کرنے سے پرہیز ہی کرتا رہا۔۔
سب بہت خوش تھے۔۔
رات میں سب لاؤنج میں بیٹھے فنکشن پر تبصرا کر رہے تھے۔۔
کہ اچانک بشر کو فلائٹ کا یاد آیا۔۔
“مما میں جاؤ گامیری پیکنگ کروادینا” بشر نے کہا
“اچھا یہ کروائے گی نا نگار اپنی بھی تو کرے گی” صدف بیگم نے کہا
“اپنی؟” وہ چونکا
“ہاںیہ بھی جائے گی تمہارے ساتھ” صدف بیگم نے کہا
نگار یک سر اٹھائے انہیں دیکھنے لگی
“مگر میں سیٹ نہیں کروائی” بشر نے کہا
“کوئی بات نہیں گاڑی میں جانا دونوں”
“مگر مما؟” وہ کچھ کہناچاہتا تھا
“بیٹا ابھی تو تمہاری شادی ہوئی ہے۔۔ایسے اسے اکیلا چھوڑ کر پندرہ دن کے لیے جاو گے لے کر جاؤ ساتھ۔۔گھوم پھر لے یہ بھی” صدف بیگم نے کہا۔۔
“جی” بشر بس اتنا کہ سکا۔۔
