Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 13)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔
کہ بشر اندر داخل ہوا۔۔
“آؤ بیٹا بیٹھو۔۔۔” رفیق صاحب نے کہا۔۔
بشر چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے کیوں بلایا گیا تھا۔۔
“بشر بیٹا ہم نے تمہیں یہاں کوئی بات کرنے کے لیے بلایا ہے” رفیق صاحب نے کہا
بشر خوموش بیٹھا تھا۔۔
“دیکھو بیٹا نگار ہماری عزت ہے ہمارے گھر کی بچی ہے۔۔ہم نہیں چاہتے کہ وہ کہیں اور جائے۔۔بیٹیاں گھر میں رکھنے کی بھی چیز نہیں۔۔۔” رفیق صاحب نے سنجیدگی سے کہا
بشر خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا۔۔
“نگار اب بیوہ ہے۔۔ اکیلے زندگی تو نہیں گزار سکتی نا؟ کسی سے تو اسے شادی کرنی ہوگی۔۔تو ہم سب کا یہ فیصلہ ہے تمہاری شادی نگار کے ساتھ ہوگی۔۔” رفیق صاحب نے فیصلہ سنایا۔
“ابا جی۔۔مگر” وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی رفیق صاحب نے ٹوک دیا
“انکار کے علاوہ کچھ کہنا ہے تو کہو” رفیق صاحب نے سختی سے کہا
“بشر بیٹا اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو کوئی زبردستی نہیں ” نہال صاحب نے کہا
بشر خاموش تھا۔۔
“نہیں یہ بات میں پہلے اس سے پوچھ چکی ہوں بھائی صاحب” صدف بیگم نے کہا
“تو ہوچکا فیصلہ بس” رفیق صاحب نے کہا۔۔
بشر کچھ بول نہیں سکا۔۔
“بیٹا تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتاؤ؟” غزالہ بیگم نے پوچھا
“مما مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی” نگار نے کہا
“نگار ہم نے تمہاری خوشی کے لیےعشر سے رشتہ کردیا تھا کیا تم اب ہماری خوشی کے لیے بشر سے شادی نہیں کر سکتی؟” غزالہ نے نرمی سے کہا
“مگر مما”
“اکیلے زندگی نہیں گزرتی میری جان۔۔تمہاری عمر ہی کیا ہے ابھی۔۔ہم تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتے”
نگار خاموش تھی۔۔
“کیا تم ہماری خوشی کے لیے اتنا نہیں کر سکتی؟”
“ٹھیک ہے پھر جیسا آپ کو صحیح لگے۔۔میں اپ کی خوشی کے لیے یہ بھی کر کے دیکھ لیتی ہوں”
نگار نے ہار مانتے ہوئے کہا
“خوش رہو بیٹا اللہ تمہارے نصیب اچھے دیکھنا تم کتنی خوش رہو گی بشر کے ساتھ” وہ شفقت سے کہنے لگی۔۔
اور پیار کرتی ڈھیر ساری دعائیں دینے لگی۔۔
جمعہ کا دن رکھا گیا تھا بشر اور نگار کے نکاح کا۔۔
گھر میں سب خوش تھے۔۔
سب تیارہوں میں لگ گئے تھے۔۔
نگار بس خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔یاخود کو بس کمرے تک محدود رکھتی۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوچ میں ڈوبی تھی کہ مسکان کمرے میں آئی۔۔
“نگار” اس نے پکارا
“ہاں؟” نگار نے سیدھے ہو کر کہا
“اٹھو چلو” مسکان نے کہا
“کیوں؟”
“مارکیٹ جارہے ہیں ہم” مسکان نے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اسے۔۔
“جھے نہیں جانا”
“کیوں؟ شاپنگ نہیں کرنی شادی کی؟”
“تم لوگ ہی کرلینا۔۔”
“لیکن لہنگا تو تمہیں ہی پسند کرنا ہوگانا؟”
“نہیں مجھےہنگا نہیں پہننا”
“کیوں؟”
“بس۔۔”
“تم چلو۔۔” وہ اسے کھینچتی باہر لے گئی۔۔
“چچی؟” مسکان نے پکارا
“چچی میں نگار کو بھی لے جا رہی ہوں۔۔جلدی آجائیں گے”
مسکان نے کہا
“اچھا ٹھیک ہے اسے بھی جو پسند آئے دلوا دینا” غزالہ بیگم نے مسکرا کر کہا
“آپفکر ہی نا کریں ساری شاپنگ کروا دوں گی” وہ کہ کر اسے ہاتھ پکڑتی باہر لے گئی۔
نعمان گاڑی کے پاس ہی کھڑا تھا۔
انہیں دیکھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
وہ دونوں بھی آکر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔۔
اور نعمان نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔
“بشر” صدف بیگم کمرے میں آئی۔
“جی مما” وہ راکنگ چیئر پر جھول رہاتھا۔۔
انہیں دیکھ کھڑا ہوا۔۔
“کھانا کھا لو بیٹا” انہوں نے پاس آکر کہا۔
“مما ابھی بھوک نہیں ہے”بشر نے کہا
“ادھر آؤ” وہ اسے بازوں سے پکڑ بیڈ پر بٹھانے لگی۔۔
“بشر بیٹا۔۔تم خوش نہیں ہو؟” وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے کہنے لگی۔۔
“مما۔۔نگار عشر کی پسند تھی اس کی محبت تھی۔۔
میرا دل نہیں مان رہا” بشر بے بسی سے کہنے لگا
“بشر اگر تم ایسا سوچو گے تو نگار کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گے۔۔تم ایک بار نگار کا تو سوچو۔۔وہ تنہا ہے اسے
بھی ایک ساتھی کی ضرورت ہے اگر عشر کی زندگی نہیں تھی تو وہ کیا خود بھی مر جائے؟ مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔زندگی گزارنی ہی پڑتی ہے”
وہ سمجھانے لگی۔۔
بشر خاموش ہوگیا۔۔وہ جانتا تھا وہ اپنی جگہ صحیح ہیں۔۔
“بشر مجھ سے واعدہ کرو جو خوشیاں عشر اسے نہیں دے پایا وہ تم دو گے” صدف بیگم نے کہا۔۔
بشر نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلادیا۔۔
انہیں واپس آتے آتے رات ہوگئی تھی۔۔
وہ شاپنگ بیگز تھامے گھر میں داخل ہوئے۔۔
“ارے آگئے تم لوگ؟” غزالہ بیگم نے آتے دیکھ کہا۔۔
“تم تو کہ رہی تھی جلدی آجائیں گے؟” غزالہ بیگم نے پوچھا
“آپ لو نہیں پتا مما؟ لیڈیز کبھی جلدی شاپنگ کرلیں؟ ناممکن” نعمان نے مسکرا کر کہا۔۔
“ہاں یہ تو ہے” غزالہ بیگم نے ہنس کر کہا۔۔
مسکان نعمان کو گھورنے لگی۔۔
“مما میں روم میں جاؤں” نگار نے کہا
“کھانا تو کھا لیتی بیٹا”
“ہم کھا کر آئے ہیں” مسکان نے کہا
“اچھا جاؤ میں دودھ لاتی ہوں تم آرام کرو”غزالہ بیگم نے پیار کرتے ہوئے کہا۔۔
وہ مسکرا کر سیڑھیاں چڑھتی کمرے میں چلی گئی۔۔
“اچھا کیا کیا لائے ہو دکھاؤ تو مجھے بھی ؟” غزالہ بیگم نے کہا۔
اور صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
مسکان ساری شاپنگ دکھانے لگی۔۔
“یہ لی ہے شادی کے لیے؟” غزالہ بیگم نے ایک ہلکے سے کام کی میکسی دیکھی تو پوچھا
“جی چچی یہ نگار نے ضد کر کے لی ہے میں نے بہت کہا مگر اس نے ایمبرائیڈیڈ لہنگا یا کوئی میکسی شادی کے لیے لی ہی نہیں۔یہ پسند کی ہے سمپل سی” مسکان نے کہا
“یہ لڑکی بھی بہت ضد کرنے لگی ہے” غزالہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“اچھا یہ سمیٹو۔۔اور آرام کو تم لوگ بھی” وہ کہتی کچن کی طرف چلی گئی۔۔
وہ روم میں جب آئی تو سامنے نعمان بیڈ پر بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔۔
اسے آتا دیکھ سیدھا ہوا۔۔
مسکان نے دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔
اور وارڈ روب سے کپڑے نکالے۔واش روم چلی گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد بال خشک کرتی باہر آئی۔۔
نعمان اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“اس ٹائم کیوں نہائی ہو؟۔۔بیمار پڑ جاؤ گی” نعمان نے کہا
مگر مسکان نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
وہ اس کے اس انداز پر مسکرایا۔۔
پھر اٹھ کر اس کے پاس گیا۔۔
وہ بنا مڑے بال بنانے لگی۔۔
“مسکان ” اس نے پکارا
مگر جواب نہیں ملا۔۔
اس نے بازوں سے پکڑے اسے اپنی طرف کھینچا
وہ یک اس سے آلگی۔۔
نعمان نے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔
“کب تکناراض رہو گی؟” نعمان نے پوچھا۔۔
“چھوڑیں مجھے” وہ خود کو چھڑوانے لگی۔۔ مگر گرفت مضبوط تھی۔۔
“اتنا آسان نہیں ہے” اس نے مسکرا کر اس کر کہا
“چھوڑیں نعمان مجھے۔۔” اس نے غصہ سے کہا۔۔
اچھا چھوڑ دیتا ہوں” وہ الگ ہوتے ہوئے کہنے لگا۔۔ لمحہ بھر اسے دیکھا پھر بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔۔
مسکان نے بھی تکیہ اٹھایا اور صوفے پر رکھ کرلیٹ گئی۔۔
نعمان کواسے دیکھ پچھتاوا ہوا۔۔
“نگار” غزالہ بیگم نے اندر آتے ہی کہا۔
“جی مما؟” نگار سیدھی ہوئی۔۔
“یہ لو دودھ پیئو” انہوں نے گلاس پکڑاتے ہوئے کہا۔
نگار نے گلاس تھام لیا
“تم نے اتنی ہلکے کام کی میکسی کیوں لی؟” وہ پوچھنے لگی
“مجھے یہی پسند تھی” نگار نے مختصر کہا
“تو بھی لے لیتی مگر شادی کے دن کا کوئی بھاری کام والا لہنگا یا میکسی بھی لیتی”
“یہی پہنوں گی”
“کیوں؟”
“بھاری کام والا تو ایک بار پہن چکی”
“یہ کیا بات ہوئی؟ ایسے دلہن بنی اچھی لگو گی؟”
“دلہن تو ایک بار پہلے بن چکی مما” اس نے پھر بات دوہرائی۔۔
“ایسا نہیں کہتے بیٹا۔۔تم خوش رہو تمہاری شادی ہے”
“سمجھوتا ہے مما” نگار جبرن مسکرا کر کہا
“سمجھوتا نہیں بیٹا دل سے نبھائے جاتے ہیں رشتے۔۔
بشر کنوارہ ہے وہ کبھی دولہا نہیں بنا۔کیا وہ نہیں چاہے گا اس کی دلہن سجی سنوری ہو؟”
نگار سر جھکا گئی۔۔
” دوبارہ ایسا مت کہنا دل سے قبول کرو سب” وہ اسے پیار کرتی کہنے لگی۔۔
“جی” نگار بس اتنا کہ سکی
“اب سوجاؤ۔۔گڈ نائٹ” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
اور نگار نے گہرا سانس لیا۔۔
