Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 20) Last Episode (Last Part)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 20) Last Episode (Last Part)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
(آپ مجھے عشر کی امانت سمجھتے ہیں نا تو لوٹا اسے اس کی امانت۔۔)
(مجھے اس کے پاس بھیج دیں)
بشر کے سماعت سے اب تک اس کی آواز ٹکرا رہی تھی۔۔
وہ تیزی سے باہر نکلا۔۔
اس نے کچن میں دیکھا نگار نہیں تھی۔۔
“مما نگار کہاں ہے؟” بشر نے صدف بیگم سے پوچھا
“وہ اوپر گئی ہے چھت پر۔۔” صدف بیگم نے بتایا
بشر سنتے ہی اوپر بھاگا۔۔
وہ دیوار کے پاس کھڑی تھی۔۔
“نگار” بشر نے پکارا۔۔
“جی” وہ پلٹی۔۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟”
“مرنے نہیں آئی۔۔بس موسم اچھا تھا بس اس۔۔۔”
“کیا بکواس کر رہی ہو؟”
“کیوں مجھے کھونے سے اتنا ڈر لگتا ہے؟۔۔۔اور جو ععزیت اپنے رویےسے آپ مجھے دیتے ہو۔۔آپ نہیں سمجھیں گے میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔۔؟” نگار نے چبا کر کہا
“نگار۔۔” وہ نظریں چرا گیا
“میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں بشر۔۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں آپ سے محبت کروں گی۔۔مگر میں کر بیٹھی۔۔وہی محبت جونکاح کے بعد اللہ دو دلوں میں ڈال دیتا ہے۔۔مگر آپ کو صرف اپنی پرواہہے اپنے بھائی کی پرواہ اس سب میں میں کہاں ہوں؟” نگار نے دکھ بھری آواز میں کہا۔۔۔
اور وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔
“نگار” وہ اس کے پیچھے بھاگا۔۔
“نگار” وہ سیڑھی اترنے ہی لگی تھی کہ دوپٹا اس کے پاؤں میں الجھا وہ خود کو سمبھال نا سکی۔۔۔
اور گرتی چلی گئی۔۔
“نگار” بشر چیخا۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں پار کرتا نیچے گیا۔۔
جہاں وہ بے حوش پڑی تھی۔۔
اس کے سر سے خون بہ رہا تھا۔۔
“نگار” وہ گھبرایا
“نگار کیا ہوا۔۔” دف بیگم بھی آگئی
“سیڑھیوں سے گر گئی۔” بشر نے گھبرا کر کہا۔۔
اور اسے ہسپتال لے گئے۔۔
وہ سب پریشان بیٹھے تھے۔۔
اسے حوش نہیں آرہا تھا۔۔اس کے دماغ پر گہری چوٹ لگی تھی۔کافی خون بہ چکا تھا۔صبح سے شام ہوگئی تھی مگر اسے حوش نہیں آیا۔۔
بشر کھڑکی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
وہ بے سدھ لیٹی تھی۔۔انکھیں موندے۔۔
سر پر پٹی بندھی تھی۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔
(آپ مجھے عشر کی امانت سمجھتے ہیں نا ٹو لوٹا دیں اسے اس کی امانت۔۔بھیج دیں مجھے اس کے پاس)
اس کا جملہ پھر اسے یاد آیا۔۔
دو آنسوں اس کے رخصار کو بھگو گئے۔۔
“بشر” صدف بیگم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔اللہ سے دعا کر” صدف بیگم نے اسے گلے سے لگایا۔۔
“چچی” مسکان ان کے پاس جا بیٹھی۔۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا نگار ٹھیک ہوجائے گی۔۔” مسکان نے کہا
غزالہ بیگم نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“تم گھر جاؤ” غزالہ بیگم نے کہا
“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔” مسکان نے کہا
“تم گھر جاؤ بیٹا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ایسی حالت میں صبح سے بیٹھی ہو جاؤ گھر جا کر آرام کرو۔۔” غزالہ بیگم نے حکم دیا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی کھڑی ہوگئی۔۔
وہ بشر کے ساتھ گھر آگئی۔۔
وہ اسے چھوڑ واپس جانے لگا۔۔
“بھائی” مسکان نے پکارا۔۔
وہ پلٹا۔۔
“نگار کو کچھ نہیں ہوگا۔۔” مسکان نے کہا
بشر نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ اثبات میں سرہلایا۔۔
اور باہر نکل گیا۔۔
بارش شروع ہوگئی تھی۔۔
وہ یک دم رکا۔۔
اسے پھر نگار یاد آئی۔۔اس کا بارش میں کھیلنا۔کودنا۔۔انجوائے کرنا۔۔آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی۔۔
وہ چلتا ہوا باہر لان میں آیا۔۔
اورہوا میں بازو پھیلائے بارش کے قطروں کو خود پر گرنے دیا۔۔
مجھے ٹھنڈک راس نہیں آتی
مجھے بارش سے خوف آتا ہے
پر جب سے ہے معلوم ہوا
یہ موسم تم کو بھاتا ہے
اب جب بھی ساون آتا ہے
میں بارش میں بھیگتا رہتا ہوں
اس کے قطروں میں تمہیں ڈھونڈتا ہوں
بوندوں سے تمہارا پتا پوچھتا ہوں
ہاں میں ایسی محبت کرتا ہوں
اس نے کتنی ہی دیر مسجد میں رو رو کر دعا کرتے گزار دی۔۔
اسے ملال تھا۔۔پچھتاوا تھا۔۔
“یا پروردگار ۔۔میری غلطی کی سزا اسے مت دینا۔۔
وہ معصوم ہے۔۔میں نے اس کو بہت دکھ دیا۔۔
میں نے اسے بہت رولایا ہے۔۔۔۔مجھے معاف کردے اللہ۔۔بس اسے ٹھیک کردے۔۔وہ میری روح کا حصہ بن چکی ہےاب میں اسے کھونا نہیں چاہتا۔۔میں بس عشر کا سوچتا تھا۔۔یہ بھول گیا تھا کہ وہ اب نہیں رہا۔۔اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔۔” یہ کہتے اس کے رونے میں شدت آگئی۔۔
شاید آج اسے پھر اپنا بھائی یاد آگیا تھا۔۔
مگر آج وہ یہ بات تسلیم کر چکا تھا۔۔کہ وہ اب وہ کبھی نہیں آئے گا۔۔
وہ جب ہسپتال آیا تو صدف بیگم نے اسے بتایا نگار کو ہوش آگیا ہے۔۔
وہ تیزی سے روم کی طرف گیا۔۔جہاں نگار تھی۔۔
وہ دروازہ کھول اندر آیا۔۔
نگار نے یک دم اسے دیکھا
وہ بھی اسے دیکھ رہا تھا۔۔
زرد چہرہ۔،ماتھے پر بندھی پٹی،
کافی حد تک چہرہ سوج چکا تھا۔۔
اسے دیکھ بشر کے دو آنسوں لڑھک کر گال پر گرے۔۔
میں زندہ ایک حقیقت ہوں
اور جذبہ عشق کی شدت ہوں
میں تم کو دیکھ کے جیتا ہوں
ہر لمحہ تم پر مرتا ہوں
ہاں!میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
یہ آج زرا بتلا دو نا
کہ تم کیسی محبت کرتی ہو
(ایک سال بعد)
“چچی ہادی کہاں ہے؟
جب سے اس کے پاؤں لگے ہیں، چلنا کیا سیکھا۔۔چین سے نہیں بیٹھتا وہ۔۔” مسکان نے کہا
“ہاں ماشاءاللہ بہت شرارتی ہے” غزالہ بیگم نے کہا
“گیا کہاں؟” وہ ڈھونڈنے لگی۔۔
“نعمان تو نہیں آئے تھے۔۔؟” وہ پوچھنے لگی
“نہیں..” غزالہ بیگم نے کہا
“پھر کہاں گیا۔۔؟” وہ پریشان ہوئی۔۔
“نگار سے پوچھ لو وہلےگئی ہوگی” غزالہ بیگم نے کہا۔۔
“ہاں میں پوچھتی ہوں” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
“نگار” مسکان کچن میں آئی۔۔
“ہاں۔۔”سامنے ہی کھڑی تھی
“ہادی کہاں ہے؟”
“تمہارا بیٹا ہے مجھے کیا پتا؟”نگار نے لا پرواہی سےکہا
“نگار بن مت تو اٹھا کر لائی ہے”
“نہیں میں تو نہیں لائی” وہ انجان بنتی کہنے لگی۔۔
“نہیں کر۔۔میں جان اٹکی ہوئی ہے گلے میں بتا دے”
“۔۔نعمان بھائی کو پتا لگا تو تجھے مار ہی ڈالے گے۔۔اور ابو کو پتا لگا کہ تو نے ان کے پوتے کو گم کردیاپھر۔۔
لاڈلا اتنا ہے سب کا” نگار نے مزے لیتے ہوئے کہا
“تیرےپاس ہی ہےمجھے پتا ہے” مسکان نے کہا
“کہاں ہے دیکھ ” وہ یہاں وہاں اشارہ کرنے لگی
“ابھی جا کر تائی امی کوبتاتی ہوں ان کی بیٹی کسی کام کی نہیں اپنا بیٹا نہیں سمبھلتا اس سے۔۔ڈوب مرنے کا مقام ہے” نگار نے تپاتے ہوئے کہا
“میں کیوں مر جاؤں تو ہی مر جا۔۔میرا بیٹا بتا دے کہاں ہے؟” مسکان نے تپ کر کہا
“یہاں ہے” بشر کچن میں داخل ہوا۔۔
اس کی گود ایک معصوم سا بچہ مسکرا رہا تھا۔۔
“کتنی بن رہی تھی یہ اسی کی حرکت ہے” مسکان نے اسے تھپڑ رسید کیا
“میں نے کیا کردیا؟ بچہ خود کو سمبھالنا مہیں آتا الزام مجھ پر” نگار نے کہا
“اللہ تجھے دوجڑواں بچے دے پھر میں پوچھوں گی بچے کیسےسمبھالتے ہیں۔” مسکان نے چڑ کر کہا
اور بچے کو لے کر چلی گئی۔۔
“ویسے بات تو ٹھیک کر کے گئی ہے” بشر نے قریب آتے ہوئے کہا
“کیا بات؟” نگار نے پوچھا۔۔
“دو جڑواں بچے ہی چاہیے مجھے تو” بشر نے شرارت سے کہا
“وہ توپاگل ہے” نگار نے ہنس دی۔۔
“اور میں بھی” وہ قریب آتے ہوئے کہنے لگا۔۔
نگار نظریں جھکا گئی۔۔
“ہائے کتنا شرماتی ہو تم” بشر نے مسکرا کر کہا۔۔
نگار نے فوراً پیچھے ہٹایا اور ہنس دی۔۔”کیا ہوا بس ڈر گئی۔۔ویسے تو بڑی بڑی باتیں کر رہی تھی حق چاہیے تھا نا۔۔” بشر نے شرارت سے کہا۔۔
وہ چپ رہی۔۔
“چلو میں یہیں کھڑا تمہیں دیکھتا ہوں ” وہ ہاتھ باندھے دیکھنے لگا نگار نے اسے گھورا۔۔
“کیا ہیلپ کروا دوں؟” بشر نے کہا
“نہیں کوئی ضرورت نہیں” نگار نے مسکراکر کہا
“بس دو انڈے دے دو۔۔۔” نگار نے بے دھیانی میں کہا
“کیا؟ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو کیا تم الٹی رمائشیں کرو گی” وہ چونکا
“فریج سے” نگار نے اشارہ کیا۔۔
“اوہ۔۔” بشر نے سر پر ہاتھ رکھتے اسے دیکھا۔۔
اور یک دم دونوں کے قہقہے گونجے۔۔۔
ختم شد
