355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 2)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

واپسی آتے آتے انہیں رات ہوگئی۔۔

ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور سردی بڑھ گئی۔۔۔

نگار جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی غزالہ بیگم سامنے ہی کھڑی تھی۔۔

وہ گھبراتی ہوئی آئی۔۔

“مما وہ…”وہ ہکلائی

“یہ ٹائم ہے واپس آنے کا؟” انہوں نے غصہ سے گھورا

“مما وہ مسکان دیر کروادیتی ہے” اس نے نیچے نظریں کرتے ہوئے کہا

“تم کب بڑی ہوگی نگار۔۔۔؟” وہ جھنجھلائی

“مما۔۔۔” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی غزالہ بیگم نے بات کاٹی

“جاؤ اپنے کمرے میں” انہوں نے حکم دیا

“جی مما” وہ کہتی کمرے طرف بڑھ گئی۔

اس نے کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کیا۔۔

تبھی سیل وائبریٹ ہوا۔۔

اس نے دیکھا تو عشر کامیسج تھا

اس نے رپلائی کیا تو فوراً کال آگئی۔

“ہیلو”اس نے رسیو کرتے ہوئے کہا

“کیا کر رہی تھی میری جان؟” اس نے پیار سے پوچھا

“بہت غصہ میں بیٹھی ہوں میں” اس ۔ے غصہ سے جواب دیا

“کیوں؟ اب کیا کردیا میں نے؟” عشر چونکا

“تمہاری بہن نے تو کیا ہے نا”

“کیا کردیا۔۔بتاؤ تو”

“میں کب ڈے کہ رہی تھی جلدی تیار ہوجاؤ اتنی دیر سے نکلی اب آتے آتے دیر ہوگئی۔۔پتا ہے کتنی ڈانٹ پڑی مجھے مما سے؟” اس نے منہ بناتے ہوئے کہا

بدلے میں عشر کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔

“تم ہنس رہے ہو؟”

“تو ہنسنے کی ہی بات ہے۔۔کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب تمہیں ڈانٹ نا پڑے؟”

“عشر۔۔میں فون بند کردوں گی؟”

“اچھا۔۔اچھا سوری۔۔اب نہیں ہنس رہا”

“جیسی بہن ویسا بھائی۔۔”

“کیسا ہوں میں؟”

“بہت برے”

“سچی؟کھاؤ۔۔قسم؟”

“کس کی تمہاری؟”

“مجھے مارنے کا ارادہ ہے کیا؟”

“ہاں بلکل”

“شادی سے پہلے ہی بیوہ ہوجاؤ گی”

“منظور ہے”

“پھر رونا مت”

“روئے گی میری جوتی”

“ہائے انہیں اداؤں پر تو دل ہار بیٹھا”

“ابھی ادائیں دکھائی کہاں ہیں میں نے؟”

“تو دکھا دو نا”

“کافی چھیچھورے نہیں ہوگئے ہیں آپ”

“آپکے پیار میں”

“ہاہاہا اچھا میں سو رہی ہوں۔۔صبح بات کرتے ہیں “

“اکیلی ہی سو رہی ہو؟”

“تو؟”

“کچھ نہیں” وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا

“اچھا گڈ نائٹ”

اس نے کہ کر فون بند کردیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔

ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔۔

وہ عشر سے بات کرتی تو ایسے ہی اس کا چہرہ کھل اٹھتا۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رفیق صدیقی کے دو بیٹے دانیال صدیقی اور نہال صدیقی تھے

دونوں بھائیوں کا بلکل برابر گھر تھا۔۔

دانیال صدیقی اور صدف بیگم کے تین بچے تھے سب سے بڑا بیٹا بشر جو کہ ملک سے باہر زیر تعلیم تھا ، پھر عشر جس نے ابھی ابھی جاب اسٹار کی تھی اور سب سے چھوٹی بیٹی مسکان جو نگار کے ساتھ گریجویشن کر رہی تھی۔

اور نہال صدیقی اور غزالہ بیگم کے دو بچے تھے ایک بیٹا

نعمان جو اپنے باپ کے ساتھ بزنس میں ہیلپ کرواتا۔

اوراٹھارہ سالابیٹی نگار۔

رفیق صاحب اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ ہی رہتا تھا۔۔

بیوی کا کافی سال پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔

عشر اور نگار ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے۔۔

جسکا علم کسی کونہیں تھا۔

مسکان کی منگنی نعمان کے ساتھ ہوگئی تھی۔۔

مسکان بھی نگار ہی کی طرح شوخ چنچل سی تھی۔۔

اس کے برعکس نعمان کافی سمجھدار اور سنجیدہ قسم کا تھا۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

آج بشر کو پاکستان آنا تھا رات کی فلائٹ سے۔۔

عشر نے ڈرائیور بھیج دیا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر وہ گیا تو بشر غصہ ہوگا۔۔

اس نے گھر میں بھی کسی کونہیں بتایا تھا بشر کے آنے کے بارے میں۔۔۔

سب اپنے اپنے روم میں جا کر سو گئے تھے۔۔

رات کے کسی پہر بشر آیا اور اپنے روم میں چلا گیا تھا۔

سردی کافی عروج پر تھی۔ ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔۔

اتنے لمبے سفر سے اتنی ٹھنڈ میں اس کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔

اس کا روم نیچے ہی تھا۔۔۔

وہ روم میں گیا تو سائیڈ ٹیبل پر گھڑی اتار کر رکھنے لگا ہی کہ اسے ٹیبل پر مٹی نظر آئی۔۔

اس نے ٹیبل پر انگلی پھیری تو اس کے تیور چڑھ گئے۔۔۔

اسے گندگی بلکل پسند نہیں تھی۔۔

اور اس کے روم کی صفائی نہیں کروائی گئی تھی۔۔۔

کیونکہ کسی کو پتا نہیں تھا کہ بشر آج آئے گا۔۔۔

اس کا روم اس کےعلاوہ کوئی یوز نہیں کرتا تھا۔۔

وہ فریش ہوکر باہر صوفے پر کمبل لے کر لیٹ گیا۔۔

کتنی ہی دیر اسے نیند نہیں آئی۔۔

اسے صوفے پر سونا عجیب لگ رہا تھا۔۔

کافی دیر بعد اسے نیند آئی۔

دروازے کے بجنے پر اس کی نیند ٹوٹی کمبل سے نکل کر دروازہ کھولنا اسے عذاب لگ رہا تھا۔ مگر وہاں کوئی اور تھا بھی نہیں۔اور دروازہ مسلسل بج رہا تھا۔۔

وہ جھنجھلاتے ہوئے اٹھا۔۔۔

اس نے گھڑی کو دیکھا۔۔جو صبح کے سات بجا رہی تھی۔

ہلکی ہلکی دھند پھیلی تھی۔۔

وہ بیزاری سے دروازے تک گیا۔۔

دروازہ کھولا۔۔۔

یک دم ہی نگار آئی۔۔۔

وہ ماتھے پر بل چڑھائے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

وہ تین سال بعد آیا تھا۔۔تب نگار پندرہ سال کی تھی۔۔

اس لیے پہلی ہینظر میں اس نے پہنچانا نہیں۔۔۔

“دو انڈے دینا” وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگی

“کیا؟” وہ چونکا

“دو انڈے دے دو بھئی جلدی۔۔” اس نے بے دھیانی سے کہا

وہ اسے گھوررہا تھا

“ارے بس انڈے ہی تو مانگے ہیں۔۔۔آپ کو دینے کے لیے تھوڑی نا کہا ہے جو اتناچونک رہےہیں” نگار نے جیکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا

“بدتمیز لڑکی! تم پاگل ہو؟۔۔ایک تو اتنی صبح صبح دماغ خراب کردیا تم نے میرا اوپر سے کیا بے حودہ فرمائش ہے

اور اوپر سے بکواس؟” وہ غصہ سے کہنے لگا

وہ یک دم سہم کر کھڑی ہوئی۔۔۔

“نکلو یہاں سے” وہ دھاڑا۔

“میں بڑے پاپا کو بتاؤں گی آپ کا” وہ روتے ہوئے کہتی باہر کی طرف بھاگ گئی۔۔

اور وہ الجھتا گیا۔