Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 4)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
تھوڑی ہی دیر میں انہیں نگار آتی دکھائی دی۔۔
اب اس نے بلیک سمپل سافراک پہنا تھا،سر پر دوپٹہ جمائے وہ چلتی آرہی تھی۔۔
اسے دیکھ بشر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جسے اس نے مہارت سے دبا لیا۔۔
وہ پیر پٹختی قریب آئی اور بری نظر بھی اس نے بشر پر نہیں ڈالی۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر آرام سے بیٹھ گئی۔۔
مسکان اس کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی۔۔
بشر آگے بیٹھ گیا تھا۔۔اور عشر نے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔
عشر بار بار ہنس رہا تھا۔۔اس سے ہنسی کنٹرول کرنی مشکل ہو رہی تھی۔۔
مگر بشر سے زیادہ ڈر اسے نگار کا تھا۔۔
وہ اسے اگر ہنستا دیکھ لیتی تو کچا چبا جاتی۔۔
بشر کی نظر اس کی مکراہٹ پر پڑی۔۔
“کیا ہوا ہنس کیوں رہے ہو؟” بشر آخر پوچھ بیٹھا
نگار نے یک دم عشر کی طرف دیکھا۔۔
“نہیں بھائ میں تو نہیں ہنس رہا” وہ یک دم سنجیدہ ہوا۔۔
“اچھا مجھے لگا تم اکیلے ہی ہنس رہے ہو تو ہمیں بھی بات بتا دو ہم بھی تھوڑا ہنس لیتے ہیں”
“بھائی پارک کا راستہ تو پیچھے تھا آپ آگے گاڑی کیوں لے جا رہے ہیں؟” مسکان نے عشر کو کہا
نگار مسکان کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
عشر کو بھی مسکان سے اتنی عزت ملنے پر جھٹکا لگا۔۔۔
مگر وہ جانتا تھا یہ بشر کی موجودگی کا اثر ہے۔۔۔
“ہم میوزیم جا رہے ہیں” بشر نے جواب دیا۔
“کیوں؟ ہمیں تو پارک جانا تھا بس” نگار نے یک دم کہا
“کیوں میوزیم جانے میں کوئی برابلم ہے تمہیں نگار؟” بشر نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔
“جی۔۔۔نہیں۔۔” نگار بس کہ سکی۔۔
“کیا ضرورت تھی اس کھڑوس کو ساتھ لانے کی؟” اس نے دل میں سوچا۔۔
“مما نگار کہاں ہے میری شرٹ نہیں پریس ہوئی اب تک” نعمان نے کہا
“کون سی شرٹ؟” غزالہ بیگم ے کچن سے آتے ہی پوچھا۔۔
“یہ بلیک والی” اس نے شرٹ دکھاتے ہوئے کہا۔
“تم نے اسے کہا تھا کرنے کو؟”
“جی ممامیں نے کہا تھا مجھے کسی کام سےجانا ہے۔۔”
“وہ تو پارک گئی۔۔”
“کیا؟۔۔مما آپ دیکھ لیں اب میں غصہ ہوتا ہوں آپ لوگ بولتے ہیں پھر میری شرٹ بنا پریس کیے چلی گئی۔۔”
“میں کردیتی ہوں لاؤ مجھے دو” انہوں نے شرٹ لیتے ہوئے کہا
“تمہارے بابا تو نہیں آئے ابھی؟”
“پتا نہیں آتے ہی ہونگے”
نعمان کہتا کمرے میں چلا گیا۔۔
وہ سب شیشے میں لگی قدیم چیزیں دیکھنے میں مصروف تھے نگار وہاں بہت بور ہو رہی تھی۔۔
وہ چلتی چلتی اپنی دھن میں باہر آگئی۔۔
“تبھی اسے پیچھے سے آواز سنائی دی۔۔
“ہیلو”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔
کوئی نوجوان لڑکا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“Whats your good name?
اس لڑکے نے چہک کر پوچھا۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“Sorry?”
نگار نے حیرانی سے کہا اور جانے کے لیے پلٹی کہ اس لڑکے نے راستہ روک لیا۔۔وہ گھبرا گئی۔۔
“اتنا بھی گڈ نیم نہیں ہر راہ چلتے کو بتاتی جائے” اس لڑکے کو اپنے پیچھے سے آواز آئی۔۔۔
نگار نے دیکھا تو بشر وہاں کھڑا تھا۔۔
وہ بھاگ کر اس کی طرف گئی۔۔
وہ لڑکا انہیں دیکھ وہاں سے نکل گیا۔۔
اور بشر نے نگار کو گھوری سے نوازہ۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔۔
مسکان اور عشر بھی وہاں آگئے تھے۔
“کیوں بھئی تمہیں زیادہ شوق ہے ادھر ادھر منڈلانے کا؟” وہ غصہ سے کہنے لگا۔۔
“منڈلانا کیا ہوتا ہے؟” نگار نے معصومیت سے پوچھا
عشر اور مسکان کی یک دم ہی ہنسی نکلی۔۔اور بشر کا دل کیا وہ اپنا سر دیوار پر مار دے۔۔
وہ جب گھر آئے تو اندھیرا پھیل گیا تھا۔۔
بشر اور مسکان باتیں کرتے اندر چلے گئے۔۔
نگار بھی گھر جانے لگی۔۔
“نگار رکو” عشر نے کہا اور قریب آیا
“کیا ہے؟” اس نا منہ بنا ہوا تھا۔
“کیا ہوا؟” اس نے پیار سے پوچھا
“یہ تمہارے بھائ کو مسئلہ کیا ہے مجھ سے؟”
“یار وہ تھوڑے غصہ والے ہیں تم جانتی ہو”
“و کیا ضرورت تھی انہیں ساتھ لینی کی؟”
“اچھا نا چھوڑو اس بات۔۔ویسے آج تم بڑی خوبصورت لگ رہی ہو” عشر نے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
“سچی۔۔؟” وہخوش ہوئی
“مچی” اس نے اس کی ناک پکڑتے ہوئے کہا
“اچھا میں جا رہی ہوں” وہ جانے کے لیے پلٹی۔۔
“نگار۔۔میں فون کروں گی “
اچھا” وہ کہتی اپنی گھر کی طرف بڑھ گئی۔
“نگار۔۔” غزالہ بیگم نے آواز دی
“جی مما؟”
“اتنی دیر؟”
“مما وہ ” وہ ہکلائی۔
“اور تمہیں نعمان نے شرٹ پریس کرنکا کہا تھا؟”
“اوہ شٹ۔۔مما میرے زہن سے نکل گیا تھا۔۔”
“تمہیں پتا ہے اسے ٹائم پر کام چاہیے ہوتا ہے۔۔”
“مما میں بھول گئی تھی”
“تمہیں کچھ یاد بھی رہتا ہے؟ بس ہر ٹائم مستی مزاق گھمومنا پھرنا۔۔ بڑی ہوجاؤ اب” انہوں نے غصہ سے کہا
وہ سر جھکائے سن رہی تھی۔۔
“کیوں ڈانٹ رہی ہو میری بیٹی کو؟” پیچھے سے نہال صدیقی کی آواز آئی۔
وہ بھاگ کر ان کے پاس گئی۔۔
“پاپا۔۔” وہ ان کے سینے سے جا لگی۔۔
“نعمان نے شرٹ پریس کرنے کا کہا تھا۔۔گھومنے چلی گئی۔۔”
غزالہ بیگم نے بتایا
“تو کیا ہوا بھول گئی ہوگی۔۔” وہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“بیٹا مجھے ایک گلاس پانی لا دو” انہوں نے نگار کو کہا۔۔
“جی پاپا” وہ کہتی پانیینے چلی گئی۔
“میں سوچ رہا ہوں ان دونوں کے پیپرز ہونے والے ہیں اب ہمیں بھی بھائی اور بھابھی سے مسکان اور نعمان کی شادی کی بات کرنی چاہیے۔۔” نہال صاحب نے غزالہ کو کہا
“جی بلکل صحیح کہ رہے ہیں۔۔”
غزالہ نے ہامی بھری۔۔
مسکان کھڑکی میں کھڑی تھی۔۔
ٹھنڈ بڑھ رہی تھی۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔۔
تبھی اس کی نظر لان میں کھڑے عمان پر پڑی۔۔
جو فون پر بات کرنے میں مصروف تھا۔۔
بلیک جنس پر بلیک شرٹ پہنے ، ہاتھ میں واچ پہنے وہ واقع اچھا لگ رہا تھا۔۔
جو کہ حقیقت بھی تھی۔۔ اسے خاصہ غرور تھا خود پر۔۔
وہ واقع بہت خوبصورت تھا۔۔
جبکہ مسکان سادہ شکل تھی۔۔
وہ مسکان کو کوئی خاص پسند نہیں کرتا تھا۔
مگرماں باپ کے سامنے بولنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔۔
اسے مسکان اور خود کا پرفیکٹ میچ نہیں لگتا تھا۔۔
