355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 3)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

“نگار؟” وہ بڑبڑایا

اور جاکر دوبارہ صوفے پر کمبل اوڑھے سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

تبھی عشر آنکھیں مسلتا آیا۔۔

“ارے بھائی آپ یہاں کیوں سو رہے ہیں؟” وہ بشر کو دیکھتے ہی قریب آیا

“تمہاری وجہ سے یہاں سونا پڑ رہا ہے مجھے ڈفر” وہ اٹھ کر اس سے گلے ملتے ہوئے کہنے لگا

“میں نے کب کہا یہاں سوجائیں؟”

“میرا کمرہ صاف کیوں نہیں کروایا؟” وہ اسے گھورنے لگا

“ارے شٹ میں تو بھول ہی گیا تھا” وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔

“تجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا۔۔میں۔۔۔” وہ کہتے کہتے رکا سامنے سے صدف بیگم آتی دکھائی دی۔

“ارے مما اسلام علیکم” وہ اٹھتےہی ماں کی طرف لپکا۔

“وعلیکم السلام تم کب آئے بشر بتایا بھی نہیں” وہ اسے پیار کرتے ہوئےکہنے لگی۔

“میں رات تین بجے پہنچا ہوں۔۔عشر کو بتا دیا تھا” وہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا

“س نے مجھے نہیں بتایا”

“میں نے ہی منا کیا تھا رات بھر پھر آپ لوگ جاگ کر انتظار کرتے۔۔”

“پھر بھی بتانا چاہیے تھا میں کمرہ وغیرہ صاف کروا دیتی۔۔۔کھانا وغیرہ بنا دیتی۔۔کچھ کھایا بھی تھا یا یونہی سوگئے تھے۔؟”

“کھانا تو میں نے کھا لیا تھا ہاں کمرہ نہیں صاف تھا۔۔یہ۔۔یہاں صوفے پر سویا ہوں۔۔اب پلیز میرا کمرہ صاف کروادیں” اس نے تھکے لہجے میں کہا۔

“ہاں میں صاف کرواتی ہوں”

“یہ مسکان نظر نہیں آرہی؟”

“سو رہی ہے..اس کو اور آتا ہی کیا ہے؟” عشر نے کہا

بدلے میں بشر کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی کہ غزالہ بیگم نے پکارا۔

“جی مما” اس نے کچن میں آتے ہی کہا۔

“یہ لےجاؤ پوریاں ” انہوں نے پوریاں پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

“یہ سالن بھی لے جاؤ۔۔” وہ ڈالتی جا رہی تھی اور نگار کا زرا دل نہیں تھا وہاں جانے کا۔

“مما ابھی پرسو ہی تو بھجوائی تھی آپ نے؟”

“تو کیا ہوا؟ کل عشر بول رہا تھا کہ نگار بس مسکان کو دیتی ہے چچی مجھے نہیں”

“کیا عشر نے ایسا کہا؟”

“اب لڑنے مت بیٹھ جانا اس کے ساتھ۔۔۔یہ لے کرجاؤ” انہوں نے پلیٹ دھماتے ہوئے کہا۔

اس نے منہ بسورتے ہوئے یٹ کو پکڑا اورچلی گئی۔۔۔

وہ سب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب وہ وہ آئی۔

“ارے نگار آؤ۔۔ناشتہ کرو” عشر نے اسے دیکھتے ہی مسکرا کر کہا۔ بشر نے فوراً نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

“گڈ مارننگ…” اس نے کہا

“میں یہ دینے آئی تھی بس۔۔مما نے بھجوایا ہے” اس نے پلیٹ

رکھتے ہوئے کہا

“پتا ہے بھائی چچی کی پوریا بیسٹ ہوتی ہیں” عشر کہنے لگا

“بھائی آپ بھی لیں نا” عشر نے کہا

“نو تھینکس” بشر نے کہا۔

“اچھی بات ہے ویسے بھی میں ان کے لیے نہیں لائی” نگار ہلکے سے بڑبڑائی۔ جسے عشر اور بشر دونوں نے سن لیا تھا

اور وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تم نے ایسا کیوں کہا صبح؟” عشر نے پوچھا

وہ دونوں لان میں بیٹھے تھے۔۔۔

“کیسا؟” وہ پوچھنے لگی۔

“اوہ کم آن یار پوریاں دینے آئی تھی جب تم”

“ہاں تو میں تمہارے لیے لائی تھی۔”

“لیکن اگر بھائی کھا لیتا تو کیا ہوجاتا یار؟ اور تم ملی بھی نہیں بھائی سے” عشر نے ٹوکتے ہوئے کہا

“میں مل چکی صبح۔۔اور کیوں دوں انہیں میں کچھ بھی۔۔انہوں نے بھی دو انڈوں پر ذات دکھا دی تھی” وہ غصہ سے پھٹ پڑی۔

“ہیں۔۔۔؟ کیا مطلب؟” وہ الجھا

“میں صبح آئی تھی۔۔انڈے مانگنے تمہیں پتا ہے آملیٹ ناشتے میں ضرور کھاتی ہوں۔۔میں نے جب صبح دیکھا تو فریج میں انڈے نہیں تھے۔۔۔میں نے سوچا میں تائی امی سے لے آتی ہوں”

“ہاں تو؟”

“تو تمہارے اس بھائی بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا مجھے۔۔نہیں کہا کیا تھا میں انہیں جو انہیں اتنا غصہ آیا۔۔دو انڈے ہی تو مانگے تھے۔۔دے دیتے تو کیا بگڑ جاتا ان کا؟”

وہ غصہ سے بولتی جا رہی تھی..

“یار وہ تھوڑے غصہ والے ہیں تم جانتی تو ہو” وہ سمجھانے لگا

“ہاں تو میں کیا ڈرتی ہوں ان سے غصہ والے ہیں تو غصہ اپنے تک رکھیں۔۔میں نہیں برداشت کرتی ایسے اکڑو لڑکے۔۔۔”

وہ اپنی دھن میں ہی بول رہی تھی۔۔

“نگار۔۔۔” عشر نے نظروں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا

“کیا؟” وہ پوچھنے لگی۔

“بھائی” اس نے بس اتنا کہا۔

“ہاں ہاں جانتی ہوں تمہارے بھائی کو۔۔۔دو انڈے تودے نہیں سکے آئے بڑے۔۔” وہ بولتی جا رہی تھی۔۔اسبات سے انجان کہ بشر اس کے پیچھے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔

“نگار؟”

“کیا ہے؟” اس نے جھنجھلا کر عشر سے پوچھا

میں۔۔ نہیں۔۔” اس نے پیچھے اشارہ کیا

کہ آوازپیچھے سے آئی ہے اس بار۔۔۔

نگار کی ہوائیاں اڑنے لگی۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔

وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔

“نگار تم تو کافی بڑی ہوگئی” بشر کہتا ہوا اس کے برابر چیئر کھینچ کر بیٹھنے لگا۔۔ وہ خاموش رہی۔۔۔

“کیسی ہو؟” وہ پوچھنے لگا

“ٹھیک۔۔ہوں” وہ بس اتنا کہ سکی۔۔

“میں ابھی آتی ہوں” وہ کہ کر وہاں سے اٹھ گئی ۔

اور تیزی سے اندر بھاگی۔۔

بشر نے عشر کی طرف سنجیدگی سے دیکھا۔۔

پھر یک ہی دونوں کی ہنسی نکل گئی۔۔اور وہ ہنستے ہی چلے گئے۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس کے بعد نگار اس ٹائم ہی آتی جب بشر سو رہا ہوتا یا باہر ہوتا۔۔۔

سب گھر والے جانتے تھے کہ بشر میں غصہ ہے۔۔نگار بھی اس کی موجودگی میں گھبرا جاتی۔۔

آج بھی وہ شام میں آئی اسے پتا تھا کہ وہ باہر ہوگا۔۔

“مسکان۔۔” وہ آواز لگاتی اندر آئی۔۔

“کیا ہوا؟” مسکان نے کہا

“آجا موسم اچھا ہے پارک چلتے ہیں گھومنے”

“کیا؟ مگر لے کر کون جائے گا؟”

“سب چلتے ہیں عشر کو کہوں گی لے کر جائے گا”

“جا منا کر آ اس کو میں تو منت کروں گی نہیں اس کی”

“ہاں میں منا لوں گی اس کو ہو تیار ہوجا” وہ کہتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔

“عشر۔۔” اس روم میں گھستے ہوئے کہا

مگر روم میں کوئی نہیں تھا۔۔

“یہ کہاں گیا؟” وہ سوچنے لگی۔۔

کہ عشر واش روم سے نکلا

بنا شرٹ کے اس کی باڈی واضع ہو رہی تھی۔۔

یک دم نگار نے منہ پھیرا۔۔۔

“عشر تم یونہی نکل آتے ہو ذرا تمیز نہیں تمہیں۔۔۔کپڑے کہاں ہیں تمہارے؟” وہ تیور چڑھائے کہنے لگی

“پہنے ہوئے تو ہیں” وہ قریب آکر کہنے لگا

“میں جا رہی ہوں تیار ہوکر آجاؤ پارک چلتے ہیں سب” وہ اسی اسٹائل میں کہنے لگی۔

“اچھا اور کوئی حکم؟” وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا

“نہیں بس ” وہ دروازے کی طرف جانے لگی کہ عشرنے راستہ روکا۔۔

” مسلز تو دیکھتی جاؤ” اس نے شرارت سے کہا

“ہا۔۔۔ مجھے کچھ نہیں دیکھنا پیچھے ہٹو”

وہ جانے لگی کہ عشر نے اس کا ہاتھ پکڑ ے اپنے حصارمیں لیا۔۔

“عشر۔۔۔” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی عشر نےاس کی بات کاٹی۔۔

“ششش۔۔۔خاموش ” وہ اس چہرے پرنظریں جمائے کہنے لگا۔۔

“نگار نے نظریں جھکالی۔۔

“نگار۔۔I love you” وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا

“مجھ پر صرف تمہارا حق ہے۔۔۔نگار تم نہیں جانتی تم میرے لیے کیا ہو؟” وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔

“جی تائی امی۔۔” نگار نے چونک کر کہا

عشر یک دم گھبرا کرپیچھے ہٹا۔۔۔۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

“ہاہاہا نیچے جلدی آجانا۔۔” وہ کہتی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔۔۔اور عشر اس کے جھوٹ کوسمجھتے ہوئے ہنس دیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

عشر گاڑی کے پاس کھڑا مسکان اور نگار کا انتظار کر رہا تھا کہ سامنے سے بشر آتا دکھائی دیا۔۔

“بھائی” عشر نے پکارا

“بھائی ہم پارک جا رہے ہیں گھومنے آپ بھی چلیں” عشر نے کہا

“پارک کیوں۔۔۔ میوزیم چلتے ہیں نا” بشر نے کہا

“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے” تبھی سامنے سے دونوں آتی دکھائی دی۔۔

مسکان نے کرتی اور پاجامہ پہنے گلے میں دوپٹا ڈالا تھا۔۔۔

جبکہ نگار نے جنس پر ٹی شرٹ کے ساتھ جیکٹ پہنی تھی۔۔

وہ پرس گھوماتی اپنے ہی انداز میں چلتی آرہی تھیں۔

انہیں دیکھ عشر مسکرایا۔۔

“یہ دونوں بھی آگئیں” عشر نے کہا اور بشر نے پلٹ کر انہیں دیکھا۔۔

انہیں دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر بل آئے۔۔

“یہ کھڑوس یہاں کیا کر رہا ہے” نگار بشر کو دیکھ دل میں سوچا

“چلیں؟” انہوں نے قریب آتے ہی کہا

“ہاں چلو” عشر نے کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔

“ایک منٹ؟” بشر نے کہا

“مسکان دوپٹہ گلے میں ڈالنے کے لیے ہوتاہے؟”بشر نے غصہ سے کہا

مسکان یک دم چونکی۔۔اور نفی میں سر ہلانے لگی۔۔

“سر پر لو” اس نے حکم دیا

اور مسکان نے فوراً دوپٹہ سر پرلیا۔۔

“اور نگار تم۔۔۔ایسے حلیے میں جاؤ گی پبلک پلیس میں؟” وہ گھورتے ہوئے کہنے لگا

“جی؟” وہ یک دم چونکی

“جی ہاں۔۔چینج کر کے آؤ جلدی” اس نے حکم صادر کیا

“جی” وہ بنا کچھ کہے اندر چلی حالانکہ غصہ اسے بہت آرہا تھا۔۔مگر بشر ایسا شخص تھا جس کے آگے بولنے کی کسی کی جراءت نہیں تھی۔۔۔