Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 1)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
اس نے پلیٹ دیوار پر رکھی پھر وہ چھوٹی سی دیوار پھلانگ کر دوسری طرف گئی۔۔پھر ہاتھ جھاڑنے لگی ۔۔۔
“یہ تم ایسے چوروں کی طرح کیوں آئی ہو دیوار پھلانگ کر؟” عشر نے حیرانی سے کہا
وہ ٹراؤزر اور بلیک بنیان پہنے کھڑا تھا۔
وہ صبح صبح چھت پر ایکسرسائز کرنے آتا تھا۔۔
“ہاں نیچے سے آجاؤں اور ڈیڑھ گھنٹہ نیچے ابا جی کی نصیحتیں اور تقریریں سنتی رہوں” وہ اکتاہٹ سے کہنے لگی۔
“کیوں اب تم نے کیا کردیا جو وہ تقریریں کریں گے؟” وہ سینے پر ہاتھ باندھے پوچھنے لگا
“کچھ نہیں کیا میں نے” اس نے فوراً کہا
“تو نیچے کیوں نہیں آئی پھر؟”
“بس یونہی۔۔۔” وہ پلیٹ اٹھا کر کہنے لگی۔
“اس میں کیا ہے؟” وہ تجسس سے پوچھنے لگا
“پوریاں ہیں۔۔ مسکان کے لیے لائی ہوں”
“اور میرے لیے؟”
“تم کیا کرو گے کھا کر؟۔۔۔تم بس مسلز بنانے میں توجہ دو ” اس نے اس کو حلیے کو دیکھ مزاق اڑاتے ہوئےکہا
“اور بھی بہت کچھ بنا لیا ہے دکھاؤں کیا؟” عشر نے شرارت سے کہا
“توبہ توبہ۔۔۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگی۔
“نہیں۔۔۔نہیں دیکھ لو۔ ” وہ بنیان کو پکڑتے ہوئے کہنے
“عشر سدھرو” وہ بھاگتے ہوئے کہنے لگی۔
“ارے دیکھ کر تو جاؤ” وہ شرارت سے کہنے لگا۔۔
مگر وہ بنا پلٹے وہاں سے بھاگ گئی۔۔
اور عشر کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔۔
“مسکان۔۔مسکان؟” وہ کمرے کا دروازہ مسلسل بجا رہی تھی
“کیا ہوگیا نگار؟” اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے دروازہ کھولا
“اب تک سو رہی ہے تو؟”
“ہاں تو آج چھٹی ہے یار۔۔” اس نے اندر جاتے ہوئے کہا
“چھٹی ہے تو کیا آج ہمیں مائرہ کے گھر جانا ہے”
“شام تک جائیں گے” اس نے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتے ہوئے کہا
“اچھا یہ ناشتہ تو کرلے پوریاں لائی ہوں تیرےلیے”
“کیا پوریاں؟” وہ ایک دم اٹھ بیٹھی
“ہاں “
“لا دے” اس نے ہاتھ بڑھایا
“منہ تو دھو لے”
“شیروں کے منہ کس نے دھوئے؟” اس پلیٹ یتے ہوئے کہا۔۔
“منہ تو چوہے بھی نہیں دھوتے” نگار نے چڑاتے ہوئے کہا
بدلے میں مسکان نے اسے گھوری سے نوازا۔۔۔
“ارے نگاربیٹا؟” رفیق صاحب نے پیچھے سے پکارا
اس نے آواز سنتے ہی دانتوں ے زبان دبائی۔۔
“جی ابا جی؟” اس پلٹ کر کہا
“تم کب آئی بیٹا؟” انہوں نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“بس ابھی ابھی”
“اچھا آجاؤ بیٹھو۔۔”
“نہیں ابا جی وہ مجھے نا پڑھائی کرنی تھی۔۔”
“بہت اچھی بات ہے بیٹا جاؤ پڑھائی کرو۔۔۔صبح کا پڑھا ہوا زہن میں بیٹھتا ہے”
“جی ابا جی” وہ بہانا بناتے ہوئے بھاگی۔ ۔
وہ اپنی دھن میں چلتی جا رہی تھی یک دم عشر سے ٹکراؤ ہوا…
“یااللہ! عشر تم ذرا دیکھ کر نہیں چلتے” اس نے جھنجھلا کر کہا۔
“سامنے سے بھاگتی ہوئی تو تم آرہی تھی۔۔” وہ اسی کی ٹون میں کہنے لگا
“ابھی تو تمہیں میں اوپر دیکھ کر آئی تھی ابھی تم نیچے آگئے؟” وہ ہاتھ کمر پر رکھے سٹائل سے پوچھنے لگی
“تمہارے پیچھے آیا ہوں” اس نے شرارت سے کہا
“کیا؟ کیوں بھئی؟” اس نے آئبرو اچکائی۔
“سب بتا دوں؟” اس نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“عشر۔۔۔کوئی آجائے گا۔۔۔۔؟” اس نے اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا
“تو آجانے دو۔۔۔اسی بہانے ان کو بھی پتا چل جائے ہمارے بارے میں۔۔۔” اس نے لاپرواہی سے کہا
“ہا۔۔۔؟اچھا چلو ہٹو جا رہی ہوں میں۔۔۔” اس نے جاتے ہوئے کہا
“نگار؟” اس نے پیچھے سے پکارا۔۔۔
“ہاں؟” وہ پلٹی
“کچھ نہیں جاؤ” اس نے مسکرا کر کہا
وہ بھی مسکرا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
“ہیلو بھائی” عشر نے فون کان سے لگاتے ہی کہا
“کیسا ہے؟” بشر نے کہا
“میں مزے میں۔۔۔آپ کب آرہے ہیں؟”
“دو دن بعد کی فلائٹ کی ہے”
“اچھا میں ائیرپورٹ پہنچ جاؤں گا”
“نہیں بس گاڑی بھیج دینا میں رات کو دو ڈھائی بجے تک آؤں گا۔۔تجھے آنے کی کوئی ضرورت نہیں” بشر نے تنقید کی
“میں آجاؤں گا بھائی۔۔۔کوئی مسئلہ نہیں ہے”
“نہیں۔۔کہا نا کوئی ضرورت نہیں بس گاڑی بھیج دینا۔۔”
“مگر۔۔”
“بس اور کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں خوامخواہ وہ لوگ جاگیں گے” بشر نے کہا
اورفون بند کردیا۔۔۔
“مسکان اب آ بھی جاؤ” نگار نے بیزاری سے آواز لگائی۔
وہ لاؤنج میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی مسکان کا۔
“تائی امی دیکھ رہیں ہیں آپ؟ یہ کتنی دیر لگاتی ہے۔۔پھر مما سے مجھے ڈانٹ پڑ جائی گی۔۔واپسی بھی آنا ہے” اس نے شکایت کرتے ہوئے کہا
“ہاں ہاں لگا دے میری ماں کو میری شکایتیں” مسکان نے پیچھے اس کے سر تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہاں تو غلط کہ رہی ہوں کیا؟کتنی دیر سے انتظار کررہی ہوں” اس نے یک دم کہا
“تو مرے گی نہیں تو انتظار کرے گی تو؟”
“مسکان کیسے بات کر رہی ہو۔۔؟ وہ صحیح کہ رہی ہے پھر واپسی پر لیٹ ہوجاؤ گے جلدی جاؤ۔۔جلدی آؤ”
“جی مما۔۔۔”
اب اٹھو بھی” مسکان نے کہا
اور نگار اس کے ساتھ جانے لگی۔۔
“باہر عشر ہوگا اسے کہا ہے میں نے چھوڑ آئےگا تم لوگوں کو۔۔اور جلدی آجانا” وہ کہتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
اور وہ لوگ باہر آئی تو عشر سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔
“چلو” مسکان نے عشر کو کہا
“نوکر نہیں ہوں عزت سے بول۔۔بھائی چلیں” اس نے روب دکھاتے ہوئے کہا
“میری جوتی بھی نا بولے۔۔۔” مسکان منہ بناتے ہوئے کہا
“تو میں بھی نہیں جا رہا” وہ ڈھٹائی سے کہنے لگا۔
“تم لوگ جھگڑتے رہتے ہو ہر وقت۔۔۔عشر چلو بھی پلیز”
نگار نے اکتاہٹ سے کہا
“تمہارے کہنے پر جا رہا ہوں ورنہ کل اس نے چغلی لگائی تھی میری” عشر نے شکایت کی
“چھوٹی بہن ہے کوئی بات نہیں”
وہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے۔
اور عشر نے گاڑی اسٹارٹ کرلی۔
