355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 6)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

ان کے پیپرز ختم ہوتے ہی مسکان اور نعمان کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھی۔۔

سب بہت خوش تھے۔۔

اس دن کے بعد بشر کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔۔

وہ بظاہر تھوڑا سخت تھا۔۔

مگر اس کے دل میں نگار کی محبت جاگ گئی تھی۔۔

لیکن جب اس نے عشر کے ساتھ نگار کو دیکھا تو

اپنی محبت کو دل میں مار دیا۔۔

ابھی وہ اپنے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ اسے عشر اندر آتا دکھائی دیا۔۔

“بھائی۔۔” وہ اس کے قریب آیا۔۔

“آپ نے شاپنگ کرکی۔۔؟”

“نہیں یار۔۔”

“تو چلیں نا ہم سب جا رہے ہیں”

“نہیں یار ابھی میرا موڈ نہیں”

“آپ اتنے اداس کیوں ہیں۔۔آپ کی بھی کردیں گے شادی”

اس نے ہنس کر کہا

“اچھا۔۔اپنی تو کرلے۔۔”

“میں کیسے کروں؟ مما پاپا سوچتے ہی نہیں میرے بسرے میں” عشر نے اداسی سے کہا

“میں بات کرتا ہوں۔۔یہ مرا جا رہا ہے شادی کرنے کے لیے”

“ہاں یہ تو سچ ہے۔۔”

“مگر چچی تو مانے پہلے” بشر نے سنجیدگی سے کہا

“چچی تو۔۔۔”وہ کہتا کہتا چونکا

“آپ کو کیسے پتا پتا؟”

“مجھے کچھ نہیں پتا” بشر انجان بنتے کہنے لگا

“پھر آپ نے چچی کا کیوں کہا؟ آپ کو کیسے پتا میں نگار کی بات کر رہا ہوں؟” عشر نے نجیدگی سے پوچھا

“تو میرابھائی ہے۔۔ وہ بھی چھوٹا۔۔تو کب؟ کہاں؟ کیا کیا کرتا پھر رہا ہے سب جانتا ہوں” بشر نے ہنستے ہوئے کہا۔

عشر منہ کھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

“منہ بند کرلے اب میں کرتا ہوں مما سے بات مسکان کے ساتھ تمہاری بھی شادی کردیں”

“بھائی۔۔بھائی۔۔۔۔بھائی آپ کتنے اچھے ہیں” وہ ٹون سے کہتا گلے لگا

“ہاہاہا بس بس زیادہ مسکا مت لگا” وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سب بہت خوش تھے بشر نے سب کو بٹھا کر بات کی اور عشر کی پسندیدگی کے بارے میں بتایا۔۔

“مگر بیٹا۔۔نگار کی شادی ہم نہیں کر سکتے ابھی۔۔” نہال صاحب نے کہا

“چاچو مسکان اور نعمان کی شادی تو ہو ہی رہی ہے نا ساتھ میں ان دونوں کی بھی کردیتے ہیں”

“مگر بیٹا۔۔نگار اگے پڑھنا چاہتی ہے۔۔میں خود بھی یہی چاہتا ہوں”

“تو پڑھ لے گی شادی کے بعد بھی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے” صدف بیگم نے کہا

“پھر بھی آپا۔۔شادی ایک زمہ داری ہے۔۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ ہینڈل نہیں کرسکتی” غزالہ نے کہا

“تو ایساکرتے ہیں ابھی نکاح کر دیتے ہیں۔۔جب پڑھائی پوری ہوگی۔۔تب رخصتی کردے گے” نہال صاحب نے کہا۔۔

“ہاں یہ ٹھیک ہے” صدف بیگم نے کہا

“مگر۔۔” بشر کچھ کہناچاہتا تھا مگر چپ ہوگیا۔۔

“چلیں ٹھیک ہے۔۔اب تو ڈبل تیاری کرنی ہے” دانیال صاحب نے کہا

“مٹھائی کھلاؤ بھئی سب کو” دانیال صاحب نے کہا

اور غزالہ بیگم نے سب کو مٹھائی کھلائی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ہیلو” نگار نے فون اٹھایا

“نگار۔۔میری ہونے والی مسسز” عشر نے پیار سے کہا

“ہاں۔۔عشر مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہماری شادی ہو رہی ہے؟” نگار نے خوشی سے کہا۔

“یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا۔۔تم ہمیشہ کے لیے میری ہوجاؤ گی صرف میری”

“ابھی کسی اور کی ہوں کیا؟”

“نہیں نہیں ابھی بھی میری ہو اور میری ہی رہو گی”

“ہاں۔۔ہمیشہ”

“اور ہاں کام سیکھ کر آنا۔۔میرے سارے کام تم کرو گی۔۔میرے لیے کھانا بنانا، میرے کپڑے دھونا، پریس کرنا” وہ بولتے جا رہا تھا

“بسبس مطلب کہ مجھے تمہارے گھر میں ماسی کی جاب مل جائے گی۔۔۔” اس نے چڑ کر کہا

“ہاں۔۔تو تمہیں رانی تھوڑی بنا کر رکھو گا”

“کیا کہا؟” وہ تپ گئی

“اور ہاں میرےمیں مالش بھی۔۔روز کرنا” اس نے اور تپانے کے لیے کہا

“تمہارا سر نا پھوڑ دوں میں؟” وہ غصہ سےکہنے لگی۔۔

بدلے میں عشر کا زور دار قہقہہ گونجا

نگار کا غصہ اور چڑھ گیا اس نے فون بند کردیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سیڑھی چڑھتی نگار کے کمرے میں آئی مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

“یہ کہاں گئی؟”

وہ بڑبڑائی

اور باہر نکل گئی روم سے۔۔اس نے سیڑھی پر پہلہ قدم رکھا ہی تھا نیچے جانے کے لیے کہ کسی نے اسے بازوں سے پکڑ کر کھینچا۔۔

اور کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کیا۔۔

وہ گھبرا گئی تھی۔۔

وہ نعمان ہی تھا۔۔”یہ آپ کیا؟” وہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی نعمان نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔

وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

اسے اس کی آنکھوں میں عجیب سی وحشت نظر آئی۔

“چیخنا مت مسکان” نعمان نے کہا

اور ہاتھ ہٹا لیا وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔

“مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔ اس لیے۔۔” نعمان نے سنجیدگی سے کہا

وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔

“دیکھو مسکان گھر والے ہماری شادی کر رہے ہیں مگر تم جانتی ہو ہم دونوں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔۔۔

ہمارا رہن سہن لائف ٹائل سب الگ ہے۔۔تو تم گھر والوں کو جا کر منا کردو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتی”

نعمان نے اپنی بات پوری کی۔۔

وہ حیران کھڑی تھی۔۔

“تم کرو نا ایسا۔۔تم بہت اچھی ہو۔۔مگر ہماری سوچ الگ ہے تم میرے ساتھ میچ نہیں کرتی یار۔۔”

“آپ خود کیوں نہیں منا کردیتے؟” مسکان اخر بولنے پر مجبور ہوئی۔

“میں۔۔مما سے کچھ بھی کہوں گا وہ میری نہیں مانیں گی۔۔تم جانتی ہو وہ تھوڑی سخت قسم کی ہیں”

“میں نہیں بول سکتی کچھ۔۔۔”

“کیا؟ مگر کیوں”

“سب بہت خوش ہیں میں کچھ نہیں کہوں گی۔۔میں اپنی وجہ سے انہیں تکلیف نہیں دے سکتی۔۔اور ویسے بھی میں مما اور پاپا کے فیصلے کے سامنے ہیں بول سکتی۔۔”

“تم کرو گی منا۔۔” وہ غصہ سے تپ گیا

“میں تو لڑکی ہوں۔۔۔آپ تو لڑکے ہیں اپنی مرضی چلا سکتے ہیں” اس نے صاف گوئی کی۔

اس نے یک دم اس کے ہاتھ پکڑے دیوار سے لگایا۔۔

وہ گھبرا گئی۔۔

وہاس کے بہت قریب تھا اس کے پرفہوم کی خوشبو اس تک با آسانی پہنچ رہی تھی۔۔

وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔مگر گرفت مضبوط تھی۔

اس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے۔۔

“تو تم بھگتو گی مجھے۔۔۔ساری عمر۔۔پچھتاؤ گی اپنے فیصلے پر۔۔۔” اس نے دہکتی آنکھوں سے کہا

وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

“منظور ہے” مسکان نےدھیمے لہجے میں کہا

اس کی بات نعمان کےچہرے پر مزید غصے کےتعصرات رونما ہوئے۔

“اچھا تو ٹھیک ہے” وہ اس کے بہت قریب آگیا تھا۔۔

کہ مسکان کو اس سانسوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔۔

وہ اس پر جھکنے لگا۔۔

مسکان کو الجھن ہو رہی تھی۔۔

“نعمان پیچھے ہٹو” وہ چلائی

“کیوں؟ میری بیوی بننے کا زیادہ شوق ہے نا تمہیں۔۔۔اس سب کی عادت ڈال لو۔۔۔” وہ عجیب سی مسکان کے ساتھ پیچھے ہٹا۔۔

“جاؤ” وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا

مسکان گھبرا گئی۔۔یک دم دروازہ کھولا اور باہر بھاگ گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سب شاپنگ کرنے ائے تھے آج۔۔عشر بہت خوش تھا

“بھائی ” یہ کیسا ہے ؟ اس نے تھری پیس سوٹ بشر کی طرف بڑھایا

مگر بشر اپنے ہی خیالوں میں تھا۔۔

“مجھے تجھ سے زیادہ عزیز کوئی نہیں عشر۔۔تو نہیں جانتا تو میرے لیے کیا۔۔۔ہے۔۔۔اللہ ہمیشہ تجھے ایسے ہی خوش رکھے۔۔” اس نے دل میں کہا

“بھائی” عشر نے دوبارہ کہا

“ہاں” وہ یک دم سوچوں سے نکلا

“یہ کیسا ہے پوچھ رہا ہوں اور اپ جانے کہاں کھوئے ہیں؟”

“نہیں کہیں نہیں”

“کہیں آپ بھی تو۔۔۔کون ہے؟” عشر نے چھیڑتے ہوئے کہا

“چپ کر ورنہ پٹے گا” بشر نے ہنستے ہوئے کہا

“بتاؤ نا بھائی”

“کیا بتاؤں؟”

“لڑکی کا نام؟”

“کوئی لڑکی نہیں ہے اپنے جیسا سمجھا ہے کیا مجھے؟” بشر نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔

“اپ چھپا رہے ہیں؟”

“نہیں”

“پھر بتائیں؟”

“نگار” بشر نے یک دم کہا

“کیا نگار؟” وہ چونکا۔۔۔۔