Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 16)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 16)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
وہ پیکنگ کر رہی تھی جب وہ کمرے میں آیا۔۔
“نگار کچھ گرم کپڑے بھی رکھ لینا ضرورت پڑ سکتی ہے” بشر کہتا ہوا ڈریسنگ کی طرف گیا اور گھڑی اتارنے لگا۔۔
“جی” نگار نے مختصر کہا۔۔
اور پیکنگ مکمل کر کے کمرے سے جانے لگی۔۔
“کہاں جا رہی ہو؟” بشر نے پوچھا
“میں تائی امی کے پاس۔۔انہوں نے کہا تھا پیکنگ مکمل کر کے آؤں” نگار نے نظریں جھکائے کہا۔۔
“اچھا۔۔ایک کپ چائے کا بھی کہ دینا مما کو” بشر نے کہا
“جی” وہ کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔
اور وہ وارڈ روب کی جانب بڑھ گیا۔۔
“تائی امی ” اس نے دروازہ نوک کرتے ہوئے کہا۔۔
“آجاؤ بیٹا ” صدف بیگم نے کہا
“بیٹھو” صدف بیگم نے اشارہ کیا
وہ بیٹھ گئی۔۔
“پیکنگ ہوگئی بیٹا؟”
“جی”
“گرم کپڑے بھی رکھ لیتی”
“جی رکھے ہیں” نگار نے مسکرا کر کہا
“اور بشرکیا کررہاہے؟”
“وہ بھی تیاریوں میں ہی لگے ہوئے ہیں”
نگار نے کہا
“اچھا..بشرمیرا بیٹا بہت سیدھا سا ہے۔۔وہ بہت کم گو۔۔نگار تم جانتی ہو۔۔” صدف بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“جی میں جانتی ہوں”
“اسے غصہ بھی جلدی آجاتا ہے۔۔بیٹا میں تمہیں اسیلیے ساتھ بھیج رہی ہوں تا کہ تم لوگوں میں انڈرسٹینڈنگ بڑھے..”
صدف بیگم نےنرمی سے کہا
نگار نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“وہ اگر کچھ کہ دے۔۔یا اس کی کوئی بات بری لگے تو۔۔ناراض مت ہونا بیٹا وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گا” صدفبیگم نے سمجھایا
شاید وہ ان دونوں کے بیچ کی ہچکچاہٹ کو محسوس کرچکیتھی۔۔
“خوب انجوائے کرنا۔۔میں نے کہا ہے بشر کو تمہیں گھومائے
پھرائےگا۔۔” صدف بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔
بدلے میں نگاربھی ہنس دی۔۔
“اوہ میں تو بھول ہی گئی۔۔مجھے چائے بنانی تھی۔۔” اسے یاد آیا
“تم کیوں بنا رہی ہومیں بنا کر بھیجتی ہوں تم جاؤ کمرے میں” صدف بیگم کھڑی ہونے لگی۔۔
“تائی امی میں خود بناؤں گی۔۔آپ بیٹھیں” نگار نے انہیں روکتے ہوئے کہا
“آپ اب سو جائیں۔۔گڈ نائٹ”وہ کہتی باہرنکل گئی۔۔
وہ جب چائے بنا کر کمرے میں لے کر گئی۔۔تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔
شاید وہ واش روم میں تھا۔۔
اس نے چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی اور اپنا کپ ہاتھ میں لیے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
تبھی اس کی نظر ریسنگ کے پاس پڑے پینڈنٹ پر پڑی وہ اٹھ کر قریب گئی۔
چائے کا کچ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔۔
اس نے جھک کر اٹھایا۔۔
وہ وہی پینڈنٹ تھا۔۔جو اسے بشر نے دیا تھا۔۔
مگر اس نے پہنا نہیں اس کے گلے میں عشر کا پینڈنٹ تھا جسے وہ کبھی نہیں اتارتی تھی۔۔
“میں نے اسے دراز میں رکھا تھا؟” وہ الجھی۔۔
پھر دراز کھول کر اس میں رکھ دیا۔۔
وہ مڑنے ہی والی تھی کہ اسے اسے زوردار ٹکر لگی۔۔
بشر بال خشک کرتاارہا تھا کہ اس سے ٹکراؤ ہوا۔۔
چائے کا کچ زمین پر جا گرا۔۔
“اوہ۔۔سوری۔۔کہیں لگی تو نہیں؟” بشر نے فکر سے پوچھا
“نہیں۔۔”نگار نے کہا اور زمیں پر بکھرے کانچ کے ٹکڑے دیکھنے لگی۔۔
“میں نے دیکھا نہیں تھا۔۔وہ ٹاول۔۔یہ” بشر کنفیوژ ہوا
“اٹس اوکے” نگار نے کہا
اور نیچے بیٹھ کر کانچ اٹھانے لگی۔۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بال بنانے میں مصروف ہوگیا۔۔
س نے جب مڑ کردیکھا تو۔۔نگار ٹکڑے اپنے ہاتھوں میں رکھ رہی تھی۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو؟” وہ یک تیز لہجے میں بولا۔۔
نگار نےاس کی جانب دیکھا
“اٹھو۔۔” اس نے حکم دیا۔۔
وہ چپچاپ کھڑی ہوگئی۔۔
ٹکڑے ابھی بھی ہاتھ میں تھے۔۔
“بشر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔اور ٹکڑے اپنے ہاتھ میں لیے۔۔اس کا ہاتھ جھاڑنے لگا۔۔
“کانچ ہے یہ لگ جاتی تو؟” بشر نے اس کے ہاتھ کودیکھتے ہوئے کہا۔۔
نگار کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھی۔۔
اس کی اس فکرمندی کو نوٹس کر رہی تھی۔۔جو اس وقت وہ انجانے میں ظاہر کر رہا تھا۔۔
وہ بال کھولے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی۔۔
نعمان جب کمرے میں آیا تو وہ بالوں کو فولڈ کر کے باندھ رہی تھی۔۔
نعمان نے دروازہ بند کیا اور اس کی طرف آیا۔۔
“کیوں باندھ رہی ہو؟” نعمان نے شرارت سے کہا
“آپ نے ہی کہا تھا کہ کھولوں نا”
“کمرے سے باہر۔۔” اس نے بتایا
مسکان نے یک دم اسے دیکھا۔۔
“پتا ہے مسکان۔۔مجھے تمہارے بال بہت پسند ہیں” وہ قریب آتے ہوئے کہنے گا۔۔
وہ نظریں جھکا گئی۔۔
نعمان نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کو کھول دیا۔۔
“مسکان” اس نے پکارا
“تم مجھسے ڈرتی ہو؟”
مسکان نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“پھر اعتبار نہیں ہے؟”
سکان نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“میری لائف میں اب کسی کی جگہ نہیں تمہارے علاوہ”
نعمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مسکان ہلکے سے مسکرا دی۔۔
یہ جملہ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔۔
“اچھا میں سو رہی ہوں گڈ نائٹ” وہ کہتی بیڈ کی طرف چلی گئی۔۔
“ویسے اب تم زیادہ فری نہیں ہوگئی۔۔بیڈ پر ہی سونے لگ گئی۔۔” اس نے شرارت سے کہا
آپ خود لائے تھے مجھے یہاں” وہ گھورنے لگی۔۔
اور نعمان کا قہقہہ گونجا۔۔
وہ اور تپ گئی۔۔
“اچھا نا مزاق کر رہا ہوں” اس نے اس کے غصہ کو ںھانپتے ہوئے کہا
“سو رہی ہوں میں” مسکان منہ بناتی لیٹ گئی۔۔
“اتنی جلدی؟” وہ جھکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
مسکان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
وہ خاموشی سے مسکرادیا۔۔
وہ اس کے مزید قریب آتا گیا۔۔اور وہ آنکھیں بند کر گئی۔۔
“میں ٹھیک ہوں” نگار نے مسکرا کر کہا۔۔
بشر نے فوراً سے دیکھا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
“سوجاؤ” وہ کہتاصوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔
اور وہ بیڈ پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھنے لگی۔۔
کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی رے میں۔۔
“نگار” بشر نے خاموشی توڑی۔۔
“تمہیں مجھ سے ڈرلگتا ہے؟” بشر نے مسکرا کر کہا
“پہلے بہت لگتا تھا۔۔اب تھوڑاکم ہوگیا” نگار نے جواب دیا
نگارکی بات پر وہ مسکرا دیا۔۔
“اب کم کیوں لگتا ہے؟”
“آپویڈے نہیں رہے “
“کیسا؟”
“روک ٹوک کرنےوالے۔۔ڈانٹنے والے غصہ کرنے والے”
“میں اب بھی ویساہی ہوں۔۔” بشر نے سنجیدگی سے کہا
وہ خاموشیسے اسے دیکھنے لگی۔۔
پھر کتاب میں نظریں جمالی۔۔
“سو جاؤ۔۔اور لائٹ آف کردویز” وہ کہتا صوفے پرلیٹ گیا۔۔
اور نگار اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
