355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 17)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

وہ جب اٹھا تو نگار سو رہی تھی۔۔

وہ اٹھا اور واش روم جاکر وضو کیا۔۔

پھر نگار کی طرف آیا۔۔

“نگار” اس نے آواز دی۔۔

مگر وہ گہری نیند سوئی تھی۔۔

اس نے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔

مگر سوچ کر واپس ہٹا لیا۔۔

وہ لمحہ بھر کھڑا سوچتا رہا

پھر موبائل نکال کر تیز آوازمیں۔۔ٹون آن کرتے اس کے کان کے پاس لے گیا۔۔

وہ یک دم اٹھی۔۔

بشر کے چہرے پر شرارت تھی۔۔

اس کےچہرے پر غصہ کے تعصرات تھے۔

“اٹھو۔۔میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں تم بھی پڑھ لو” وہ ہنستے ہوئے کہنالگا اور کمرے سے نکل گیا۔۔

“کھڑوس یہ کوئی طریقہ ہے اٹھانے کا؟” وہ بڑبڑاتے ہوئے کھڑی ہوئی۔۔

“مجھے بولنا ہی نہیں تھا اٹھانے کا” وہ غصہ سےکہتی واش روم گھس گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سو رہا تھا۔۔جب وہ نہا کر نکلی۔۔

“اٹھو نعمان” وہ بیڈ کے قریب آئی۔۔

تبھی نعمان نے اسے ہاتھ پکڑ کھینچا وہ یک دم پر گری۔۔

“اٹھ گیا” نعمان نے شرارت سے کہا

“یہ کیا ہے اٹھو آفس نہیں جانا”

“تم کہو تو نہیں جاؤں؟”

“جاؤ۔۔” مسکان مسکرائی۔۔

“دل تو نہیں کر رہا” وہ اس کے بال پیچھے کرتے ہوئے پوئے پیارسے کہنے لگا

تبھی نعمان کا فون بجنے لگا۔۔

اور دونوں ہنس دیے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“چچی یہ دو سوٹ دینے ہیں؟” مسکان کپڑے ہاتھ میں لیے پوچھنے لگی۔۔

“آئے گی نا ابھی دکھا دینا” غزالہ ںیگم نے کہا۔۔

“مما” نگار کی آواز پر وہ پلٹے۔۔

“ارے نگار” غزالہ بیگم نے خوش ہوکر کہا۔۔

“اسلام علیکم” بشر نے سلام کیا

“وعلیکم السلام۔۔کیسے ہو؟” غزالہ بیگم نے پیار کیا

“ٹھیک ہیں چچی بس نکل رہے تھے تو آپ سے ملنے آگئے۔۔” بشر نے کہا

“اچھا۔اللہ خیرو عافیت سے پہنچا دے۔۔فون کردینا پہنچ کر” غزالہ بیگم نے کہا

“جی چچی” بشرمسکرایا

“نگار یہ سوٹ دیکھ لو جو پسند آئے تمہیں ” مسکان نے کہا

“ابھی جلدی میں ہیں تو آکر لے لوں گی۔۔ویسے بھی تائی امی نے اتنے سارے نئے کپڑے دلا دیے ہیں۔۔” نگار نے کہا

“اچھا۔۔چلو ٹھیک ہے” غزالہ بیگم نے کہا

“اچھا چچی ہم چلتے ہیں” بشر نے کہا

اور وہ سب سے مل کر روانہ ہوئے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ آئینے کے سامنے کھڑا ٹائی پہن رہا تھا کہ اس کا سیل بجنے لگا۔۔اس نے دیکھا انجانا نمبر تھا۔۔

“ہیلو” نعمان نے کہا

کچھ دیر خاموشی سے سنتا رہا۔۔

اس کےچہرے پر غصہ نمودار ہوا۔۔

پھر فون بند کرتے ہی اس نے پوری طاقت سے دیوار پر دے مارا۔۔

مسکان اندر داخل ہوئی تو فون ئی حصوں میں زمین پر پڑا تھا۔۔

وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔

“نعمان کیا ہوا؟” مسکان نے پوچھا۔۔

“وہ کیوں نہیں چلی جاتی میری زندگی سے؟” وہ بے بسی سے چلایا

“نعمان! کون؟ کیا ہوا ہے؟” وہ پریشان ہوئی۔۔

نعمان کی آنکھوں سے آنسوں گرا۔۔جسے اس نے مہارت سےچھپایا۔۔

اور تیزی سے باہر نکل گیا۔۔

اور ساکت وہیں کھڑی رہی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ پورادن نعمان کے بارے میں سوچتی رہی۔۔

“کیا وہ لڑکی؟” مسکان بڑبڑائی

“نہیں یا اللہ اب ایسا کچھ نا ہو۔۔کتنی مشکل سے

نعمان کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہواہے” وہ روہانسی ہوئی۔۔

اس نے سیل فون نکالا اور نگار کو میسج چھوڑا۔۔

اس کا کوئی ریپلائے نہیں آیا۔۔

“کیا مجھے نگار کو بتا دینا چاہیے سب؟” وہ سوچنے لگی۔۔

“ہاں وہ مجھے اچھی صلح دے سکتی ہے”

اس نے سوچا

“وہ عورت مجھ سے کہیں واپس چھین لے نعمان کو؟”

اس کے زہن میں خیالات آئے۔۔

“نہیں۔۔ایسا نہیں ہوگا”

“کاش کہ میں بھی اتنی ہی خوبصورت ہوتی تو نعمان صرف مجھ سے محبت کرتا”

وہ احساس کم تری کا شکار ہونے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️❤️⁩⁦❤️

جب وہ لوگ ہوٹل پہنچے تو رات ہوگئی تھی۔۔

وہ سامان رکھ کر دروازہ بند کرتے اندر آیا۔۔

تم فریش ہوجاؤ میں کھانا آرڈر کردیتا ہوں” بشر نے مسکرا کر کہا۔۔

وہ سامان نکالنے لگی۔۔۔

وہاں ہر طرف سب کچھ سیٹ تھا۔۔

وہ ایک خوبصورت بیڈ روم تھا۔۔

ہر چیز نفاست سے سجائی گئی تھی۔۔

وہ دیکھ کر کچھ سوچنے لگی۔۔پھر واش روم چلی گئی۔۔

جب نکلی تو وہ بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔

وہ ایک نظر اس پر ڈالتی بال خشک کرنے لگی۔۔

پھر ٹاول بیڈ پر پھینکتی بالبنانے لگی۔۔

بشر نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔پھر بیڈ پر پڑے ٹاول کو ناگواری سے دیکھا۔۔۔

اور کھڑا ہوگیا۔۔

“نگار” وہ غصہ سےبولا

“جی” وہ پلٹی۔۔

“یہ کیا ہے؟” اس نے ٹاول کی طرف اشارہ کیا۔۔

وہ ناسمجھی سے اسےدیکھنے لگی۔۔

“یہ ٹاول گیلا ہے اور تم نے بیڈ پر پھینک دیا مطلب کوئی سینس نہیں۔۔” اس نے تلخی سے کہا

“سس۔۔ سوری” وہ جھٹ سے اٹھانے لگی۔۔

اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔اس کی نظروں میں غصہ تھا۔۔

اس نے نظریں جھکا لی۔۔

وہ اسے گھورتا واش روم میں گھس گیا۔۔

“کھڑوس” وہ آہستہ سے منہ بنا کر بولی۔۔

اس نے فون چیک کیا تو۔۔مسکان کا مسیج تھا۔۔

اس نے اسے کال ملائی۔

“ہیلو” نگار نے کہا

“ہیلو نگار” مسکان نے کہا

“پہنچ گئے؟” مسکان نے پوچھا

“ہاں تھوڑی دیر پہلے پہنچے ہیں” نگار نے کہا

“تو نے میسج کیا؟”

“ہاں۔۔چل تو آرام کر بعد میں بتاؤں گی”

مسکان نے کہا”کیا بات تھی۔۔خیریت؟”

“ہاں سب ٹھیک ہے۔۔صبح بات کروں گی ابھی آرام کے تو”

“اچھا۔۔”

“بھائی کیا کر رہے ہیں؟”

“کھڑوس۔۔واش روم میں گیا ہے ڈانٹ کر مجھے” نگار نے منہ بنایا

“ہاہاہا کیوں کیا کیا اب تو نے؟” مسکان ہنس کر پوچھنے لگی

“کچھ بھی نہیں کیا۔۔بس گیلہ ٹاول بیڈ پر غلطی سےرکھ دیا غصہ آگیا۔۔بندہ آرام سے بھی بول سکتا ہے”

“بشر بھائی صفائی کے معاملے میں سخت ہیں تھوڑے انہیں گندگی نہیں پسند” مسکان نے بتایا

“ہاں تو بندہ آرام سے پیار سے سمجھا دے..پر نہیں کھڑوس جو ہے”

نگار نے کہا

“اچھا چل آئندہ دھیان رکھنا۔۔صبح بات کروں گی “مسکان نے کہا

“اوکے اللہ حافظ” نگار نے کہ کر فون بند کردیا۔۔

اور جیسے ہی پلٹی۔۔تو سامنے سینے پر ہاتھ باندھے بشر کو پایا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

اس کو یک دم چانکی۔

“کہیں اس کھڑوس نے باتیں تو نہیں سن لی” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

بشر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔۔

ویٹر کھانا رکھ کرچلا گیا تھا۔۔