Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 19)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی کہ نعمان آیا۔۔
اور زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا اس کی طرف پھول بڑھانے لگا۔۔
اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
“Beautiful flower for the beautiful girl”
نعمان نے ٹون میں کہا
اور وہ بے ساختہ ہنستی چلی گئی۔۔
نعمان حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“مسکان” نعمان نے کہا
“سوری۔۔سوری۔۔آپ سے امید نہیں تھی نا ایسی مجھے اسی لیے ہنسی نہیں رک رہی” مسکان نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔
“تمہیں پتا ہے آج تم نے مجھے سب سے زیادہ خوشی دی ہے۔۔اور کبھی ان لمحوں کو کھونا نہیں چاہتا” وہ کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نعمان ایک بات کہوں؟”
“ہاں کہو”
“کبھی بدل مت جانا میں برداشت نہیں کرسکتی”
“نہیں بدلوں گا۔۔پرومس پکے والے” نعمان نے ہنس کر کہا۔۔
اور مسکان اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔
“کل کچھ لوگ آئیں گے گھر پر۔۔کھانا وغیرہ مت بنانا میں باہر سے آرڈر کروا لوں گا۔۔اور ہاں ایک مہربانی کرنا باہر مت چلی جانا۔۔” بشر نے بیڈ پر بیٹھی نگار کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
نگار خاموشی سےسن رہی تھی۔۔
“کھڑوس۔۔ دو پیار بھری باتیں کرلے گا تو اس کا کیا بگڑ جائے گا؟” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔
“سن رہی ہو نا؟” اس نے آئینے میں بال بناتے ہوئے کہا
“جی” اس نے مختصر کہا۔۔
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں” وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔
” یہ کیسا شخص دے دیا گھر والوں نے مجھے۔۔؟
تائی امی اسے کیسے برداشت کرتی تھیں مجھ سے تودومنٹ نہیں ہوتا۔۔اتنے نکھرے، اتنا غصہ، اتنا کھڑوس، لگتا ہے۔۔
لگتا ایسے ہے جیسے پیدا ہوتے ہی کریلہ کھایا تھا۔۔بس کڑوی باتیں کروا لو” وہ بڑبڑانےلگی۔۔
“ایک نظر مجھے دیکھنا گوارا نہیں کرتا جیسے دنیا کی سب سے بد صورت لڑکی ہوں میں۔۔خود کو نہیں دیکھے گا چماروں جیسی شکل ہے۔۔آیا بڑا۔۔ہونہہ۔۔
نگار کسی سے کم نہیں” اس نے اتراتے ہوئے خودکلامی کی۔۔
اور اٹھ کر وارڈ روب کی طرف گئی۔۔
تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔
اس نے کالرسیو کی۔۔
“ہیلو” نگار نے کہا
“نگار۔۔کیسی ہے” مسکان نے کہا
“میں ٹھیک ہوں تو بتا۔۔میرے پلین نے اثر دیکھایا؟”
“فٹے منہ تیرے نگار۔۔اور بھی ناراض کروا دیا تھا تونے”
“کیوں؟”
“بالوں کی کٹنگ جو کروائی۔۔”
“ہاہاہا اب مجھے کیاپتا تھا تیرا بیڈ لک چل رہا ہے؟” وہ ہنسنے لگی۔۔
“دفا ہو” وہ غصہ سے بولی
“اچھا پھر منایا کیسے؟”
“اتنی منت کی پھر مانے۔۔”
“اچھا چلو آہستہ اہستہ سب ٹھیک ہوجائےگا۔اور تو سنا “
“ہاں ایک خوشخبری توسنانی تھی۔۔”
“کیا..سنا؟” نگار مے پوچھا
“چل تو خود سوچ کیا ہو سکتی ہے؟”
“مجھے کیاپتا۔۔کیا۔۔۔” وہ کہتے کہتے رکی۔۔
اس کے رکنے پر مسکان کی آواز ائی۔۔
“کیا۔۔مسکان سیریسلی؟”
“ہاں”سچی میں پھوپھوبن جاؤں گی۔۔واہ واہ۔۔” وہ خوش ہوئی۔۔
“نہیں آنٹی” مسکان تصحیح کی۔۔
“آنٹی کیوں؟”
“تو میری دوست جو ہے۔۔”
“ہاں لیکن میں تو پھوپھو ہوں بھئی۔۔اچھا۔۔مما آگئی؟”
“نہیں شام تک آئیں گی” مسکان نے کہا۔۔
۔اور فون بند کردیا۔۔۔
وہ کچن میں سارے کھانے کے انتظام کر رہی تھی۔۔
بشر کے ساتھ تین ادمی تھے جو گیسٹ روم میں بیٹھے تھے۔۔
جب سارا انتظام ہو چکا تو اس نے کھانا لگا دیا سب بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔۔۔
وہ کچن کے دروازے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔۔
“کھانا تو بہت اچھا بنا ہے ضرور تمہاری وائف نے بنایا ہوگا”
ایک نے بشر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
۔۔”نہیں۔۔وہ۔۔” وہ کچھ کہتا اس سے پہلے اس کا فون بجنے لگا۔۔
“Excuse me”
وہ کہتا اٹھ گیا۔۔اور سائیڈ پر چلا گیا۔۔
“پانی” اسے آواز آئی۔۔
تو اسے یاد آیا پانی اس نے رکھا ہی نہیں۔۔
وہ کچن میں گئی اور پانی جگ اٹھا کر ائی۔۔
مگر نہیں تھا وہاں۔۔
مجبوراً اسے خود جا کر رکھنا پڑا۔۔
“ارے بھابھی آئیں ہمیں جوئن کریں” ایک لڑکے نے مسکرا کر کہا
“نو تھینکس۔۔مجھے کچھ کام ہے”
“ویسے کھانا آپ نے بہت اچھابنایا ہے” اس نے پھر کہا
نگار خاموش رہی۔۔تبھی بشر وہاں آگیا۔۔
ارے دیکھو ہم بھابھی کو کہ رہے ہیں ہمیں جوئن کرے بٹ وہ آ نہیں رہی۔۔” اس نے پھر کہا
بشر نے نگار کو گھورا۔۔وہ گھبرائی اور وہاں سے چپ چاپ چلی گئی۔۔
بشر بیٹھ گیا۔۔
“ویسے بشر تم آفس ہوتے ہو توبھابھی تو گھر پر بور ہوجاتی ہوں گی۔۔تم انہیں بھی کہو جاب کرے۔۔” اس لڑکے مشورہ دیا
بشر کچھ کہے بنامسکرا دیا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ چلے گئے۔۔
وہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ کہ غزالہ کی آواز سنی۔۔
“چچی” وہ کھڑی ہوئی۔۔
“کیسی ہے میری بچی؟” غزالہ بیگم نے اسے پیار کیا۔۔
“میں تو ٹھیک ہوں” مسکان نے کہا
“صدف نے بتایا مجھے تمہاری طبیعت کا میں تو فوراً آگئی۔۔
ایسی حالت میں تمہارا خیال بھی تو رکھوں گی” غزالہ بیگم نے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
“آپ بتائیں کیسی ہیں؟”
“میں تو ٹھیک ہوں”
“میں چائے بنا کر لاتی ہوں اپ کے لیے” مسکان کھڑی ہوئی۔۔
“نہیں تم بیٹھ جاؤ۔۔اب تم کوئی کام نہیں کرو تمہاری ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں” غزالہ بیگم نے اسے اپنے پاس بٹھایا
“میں ٹھیک ہوں “
“بس بیٹھی رہو” انہوں نے کہا
اور پھر یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی۔۔
“کیا ضرورت تھی تمہیں۔۔وہاں آنے کی؟” بشر نے غصے سے کہا
“وہ میں۔۔” وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
“بہت شوق ہے تمہیں غیر مردوں کے سامنے آنے کا؟” وہ چبا کر کہنے لگا۔۔
“میں۔۔وہ۔۔ پانی رکھنے گئی تھی ۔۔۔بس” نگار نے یک دم کہا
“تو مجھے کہ دیتی”
“آپ نہیں تھے وہاں اور وہ لوگ مانگ رہے تھے۔۔”
“تو پہلے ہی کیوں نہیں رکھا تھا۔۔؟”
“میں بھول گئی تھی۔۔”
“تمہیں کچھ یاد رہتا ہے؟” وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی رہی۔۔
وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔
“دل تو کر رہا تھا۔۔دو تھپڑ لگاؤں۔۔” وہ غصہ سے کہنے لگی۔۔
پھر سارے برتن وغیرہ سمیٹنے لگی۔۔
کھانا کھایا۔۔اور سارا کام نبٹا کر روم میں آگئی۔۔
جب وہ گھر آیا تو رات ہوگئی تھی۔۔
اس نے کمرے میں آتے ہی کوٹ بیڈپر پھینکا۔۔
پھر لیٹ گیا۔۔
نگار نے اسے دیکھا۔
“کیا ہوا؟” نگار نے ہمت سے کہا
“مجھے سر درد کی میڈیسن دے دو” اس نے نڈھال ہوتے ہوئے کہا
“جی” وہ کہتی کھڑی ہوئی
اور پانی کے گلاس کے ساتھ میڈیسن اس کی طرف بڑھائی۔۔
وہ میڈیسن لیتے ہی واپس اسی انداز میں لیٹ گیا۔۔
“طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ کی؟” نگار نے اس کیحالت دیکھ پوچھا۔۔
“ٹھیک ہوں بس تھوڑا سر میں درد ہے” بشر نے آنکھیں بند کی۔۔
نگار کی نظر اس کے پاؤں پر پڑی وہ جوتے پہنے ہوئے لیٹ گیاتھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اس کے جوتے اتارنے چاہے۔۔
“کیا کر رہی ہو؟” وہ یک دم اٹھ بیٹھا۔۔
“”وہ جوتے ” نگار نے کہا
“میں اتار لوں گا۔۔
وہ کہتا جوتے اتارنے لگا۔۔
پھر ٹائی اتار کر سائیڈ پر رکھی اور پھر سےلیٹ گیا۔۔
اور آنکھیں بند کرلی۔۔
“آپکو کچھ چاہیے؟” نگار نے پوچھا
مگر کوئی جواب نہیں ملا۔۔
۔۔
“نگار” بشر کی آوازاس کی سماعت سے ٹکرائی۔۔
نگار کی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی کو چھوا۔۔
جو تپ رہا تھا۔۔
“اتنا تیز بخار؟”نگار پریشان ہوئی۔۔
اس نے وال کلاک کو دیکھا جو 11 بجا رہی تھی۔۔
“اس وقت میں کہاں لے کر جاؤں” وہ گھبرائی۔۔
پھر اس کے دماغ میں خیال آیا۔۔
وہ گئی اور ایک برتن میں ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لےآئی۔۔
وہ رات کتنی ہی دیر تک اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی رہی۔۔تب جاکر اس کا بخار تھوڑا ہلکا ہوا۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی کہ اچانک وہ کچھ بڑ بڑانے لگا۔
“نگار۔۔” وہ بار بار اس کا نام پکار رہا تھا
“بشر میں یہیں ہوں” وہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے کہنے لگی۔۔ تبھی بشر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔۔
اور آنکھیں کھول اسے دیکھنے لگا۔۔
“کیا ہوا۔؟ طبیعت کیسی ہے؟” وہ کہنے لگی
تبھی بشر نے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔وہ یک دم اس کے اوپر گری۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔
نگار اس سے نظریں چرا رہی تھی۔۔
بشر نے ہاتھ بڑھا کر اس آگے آتے بالوں کو پیچھے کیا۔۔
“وہ میں۔۔” وہ خود چھڑوا کر پیچھے ہٹی۔۔
مگر بشر نے اس کو مضبوطی سے پکڑے روک لیا۔۔
بشر اس پر جھکتا چلا جارہا تھا۔۔
“بشر یہ آپ کیا۔۔”
“ششش۔۔۔” اس نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھی۔۔
اور پھر سے اس پر جھکنے لگا س نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
جانے وہ رات کیسی تھی۔۔جو اسے خود پر قابو نہیں رہا اور غلطی کا ارتکاز کر بیٹھا۔۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی جو نگار اس کی بانہوں میں گہری نیند سو رہی تھی۔۔
اس نے جھٹکے سے اسے دور کیا۔۔
اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
نگار کی نیند بھی ٹوٹ چکی تھی۔۔
وہ چل کر آئینے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھنے لگا۔۔
وہ بنا شرٹ پہنے کھڑا تھا خود کو گھور رہا تھا کہ رات کا منظر اس کی آنکھوں میں لہرایا۔۔
“بشر” نگار اٹھ کر اس کے قریب آئی۔۔۔
“جاؤ یہاں سے” وہ تلخی سے بولا
“جی؟” وہ حیران ہوئی
“دفاع ہوجاؤ یہاں سے” وہ چیخا
نگار سہم گئی۔۔
“تم ایسے نہیں جاؤ گی۔۔” اس نے نگار کا بازو پکڑا اور کمرے سے باہر دھکیل کر دروازہ بند کردیا۔۔۔
“کیا میں اتنا کمزور تھا جو خود پر قابو نہیں کر پایا؟”
وہ سوچنے لگا
“اتنی بڑی غلطی کیسے ہو گئی مجھ سے؟”
آنسوں اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔۔
وہ وہیں زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا بچوں کی طرح رونے لگا۔
“یہ میں نے کیا کردیا؟۔۔۔میں عشر کو جواب دوں گا؟” وہ روتے روتے بڑبڑانے لگا
“میں اتنا کمزور تھا۔۔میں ۔۔۔۔” وہ اتنا کہ کر سرخ چہرے کے ساتھ زور سے چیخا
کہ کمرے کے درودیوار ہل جائیں۔۔۔
