355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 5)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا تھا کہ صدف بیگم آئی۔۔

“بیٹا جاکر مسکان اور نگار کو لے آؤ یونیورسٹی سے۔۔آج ڈرائیور نہیں آیا۔۔صبح تو عشر چھوڑ آیا تھا۔۔” صدف بیگم نے کہا

“جی مما جارہا ہوں” بشر اٹھ کھڑا ہوا

اور گاڑی لے کر یونیورسٹی پہنچا۔۔

وہ دونوں ہی کھڑی انتظار کر رہی تھی

انہیں دیکھ بشر کے چہرے پرنا گواری اتری۔۔

“گاڑی میں بیٹھو” اس نے غصہ سے کہا

وہ دونوں چپ چاپ بیٹھ گئی۔

“تمہیں سمجھایا تھا نا ایسے کپڑے پہن کر باہر مت جانا؟”

وہ نگار سے مخاطب تھا۔

“جی؟..میں؟” وہ چونکی

“جی ہاں تمہیں کہ رہا ہوں۔۔چادر کہاں ہے تم دونوں کی؟”

“یونیورسٹی کون چادر لے کر جاتا ہے؟” اس نے دھیرے سے کہا۔

“مگر تم لوگ لے کر جاؤ گے..آئی سمجھ؟” وہ اس کی بات سن چکا تھا۔۔

“لیکن میرے پاس ایسے ہی کپڑے ہیں ” نگار ہچکچا کر کہا

وہخاموش رہا۔۔

گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہی اس نے نے مسکان کو جانے کو کہا

مسکان گاڑی سے اتر گئی۔۔نگار اترنے لگی توبشر نے اسے روکا۔

“تم بیٹھی رہو” اس نے حکم دیا

مسکان اندر چلی گئی تھی۔۔اور بشر نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

نگار پوچھنا چاہتی تھی۔۔مگر ہمت نہیں تھی۔۔

بشر نے گاڑی مال کے سامنے روکی۔۔

“چلو” اس نے گاڑی سے اتر کر کہا

وہ بھی چپ چاپ اس کے ساتھ چل دی۔۔

“اب یہاں سے کچھ ڈھنگ کے کپڑے خرید لو” وہ اسے شاپ کی طرف لے جاتے ہوئے کہنے لگا

“جی۔۔مگر میرے پاس۔۔پیسے۔۔۔مما۔۔” وہ نظریں جھکائے کہ رہی تھی کہ بشر نے بات کاٹ دی۔۔

“اس کی فکر تم مت کرو۔۔” وہ کہنے لگا

وہ کپڑے پسند کرنے لگی ۔۔

“وہ دکھائیے گا” اس نے شاپ کیپر سےاشارہ کرتے ہوئے کہا

شاپ والے نے دکھا دیا

“یہ چھوڑ دو کوئی اور پسند کرو” وہ پیچھے کھڑا تھا

“جی؟” وہ چونکی

“جی ہاںیہ سلیولیس ہے” وہ غرایا

وہ نظریں جھکا گئی۔

“وہ والا دکھائیں ” بشر نے اشارہ کیا

“یہ ٹھیک ہے” بشر نے کہا

اور اس کے بعد بھی کافی سوٹ خود ہی پسند کیے اور اسے لیے گاڑی تک آیا۔۔

“کھڑوس کہیں کا جب خود ہی پسند کرنا تھا تو مجھے کیوں لایا؟” وہ بڑبڑاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی۔

“آگے آکر بیٹھو میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں” بشر نے اسے پیچھے بیٹھتے دیکھ کہا تھا۔

وہ منہ بناتی ہوئی آگے آکر بیٹھ گئی۔۔

بشر اس کے چہرے کو کو دیکھ رہا تھا جس پر معصومیت جھلک رہی تھی۔

ناجانے کیسی کشش تھی اس میں کہ وہ کھچتا چلا جا رہا تھا اس کی طرف۔۔

وہ اس ناسمجھ لڑکی کے آگے دل ہار بیٹھا تھا۔۔

اس کی شرارتیں اس کا کا بھولا پن۔۔اور خاص کر وہ ڈر جو اس کی نظروں میں اپنے لیے نظر آتا۔۔اسے بہت لطف دیتا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“چچی۔۔نگار کہاں ہے؟” مسکان نے اندر آتے ہی کہا

“وہ اوپر چھت پر ہوگی” غزالہ بیگم نے کہا

“اچھا” وہ کہتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی

تبھی سیڑھیاں اترتے نعمان سے اس کا ٹکراؤ ہوا۔۔

“تمہیں دکھائی نہیں دیتا؟” وہ غصہ سے کہنے لگا

“سس۔۔سوری۔۔مجھے۔۔وہ۔ آپ” وہ ہکلانے لگی

“سوری کہنے سے کیا ہوگا؟” وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا۔

“میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا نعمان۔۔” اس نے نعمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

وہ اسے گھورتے ہوئے سیڑھیاں اترتا چلا گیا۔۔

وہ کچھ دیر اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔پھر اوپر چلی گئی۔۔

وہ اوپر گئی تو وہ وہیں کھڑی تھی۔۔

“نگار؟” مسکان نے پکارا

“کیا ہوا کیوں تھک رہی ہے؟” اس نے لاپرواہی سے کہا

“ڈیش انسان تو یہاں ہے میں کب سے تجھے ڈھونڈ رہی ہوں”

وہ کہنے لگی۔

“کیوں؟”

“یہ دیکھ مائرہ نے اپنے منگیتر کی تصویر سینڈ کی ہے” اس نے موبائل دکھاتے ہوئے کہا۔

“اچھا۔۔ٹھیک ہے بس” نگار نے ناک چڑھائی۔

“یہ دیکھ کان تو دیکھ کتنے بڑے ہیں۔۔جیسے کے قیمتی اعضاء۔۔” مسکان نے کہا

اور دیکھتے ہی نگار کی ہنسی نکل گئی۔۔

“اور اتراتی کتنا ہے؟ خود کو سلطنت پور کی شہزادی سمجھتی ہے” نگار نے کہا

“سلطنت پور؟ یہ کون سی جگہ ہے؟” مسکان نے دوہرایا

“نہیں ہے؟” وہ کنفیوژن سے پوچھنے لگی

اور دونوں پھر سے ہنسنے لگیں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

موسم بھی بدل رہا تھا

بادل چھائے ہوئے تھے۔۔

وہ دونوں صوفے پر بیٹھے تھے

“آج موسم بڑا اچھا ہو رہا ہے نا؟” نگار نے کہا

“مجھے تو بارش کا موسم بلکل پسند نہیں” مسکان نے کہا

“نعمان کو بھی نہیں پسند۔۔کتنی ملتی ہے نا تمہاری سوچ؟” نگار نے چھیڑتے ہوئے کہا۔

بدلے میں اس نے گھوری سے نوازا۔۔

تبھی ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی۔۔۔

“میں تو جا رہی ہوں باہر موسم کا لطف اٹھانے تو بیٹھی رہ یہیں۔۔” وہ کہتی باہر بھاگی۔۔

لان میں ہلکی ہلکی پھوار ہو رہی تھی۔

وہ اپنے بازوں ہوا میں پھیلائے کھیلنے لگی۔۔

اسے بارش بہت پسند تھی۔۔

اوپر کھڑکی میں کھڑا بشر اسے دیکھ رہا تھا۔۔

اسے دیکھ یک دم ہی اس کے چہرے پر مسکان آئی۔۔

“کتنی معصوم ہے یہ ہر غم سے دکھ عاری۔۔

لائف کو انجوائے کرنے والی۔۔

بس تھوڑی نا سمجھ ہے” وہ سوچ کر رہ گیا۔۔

لیکن اتنی ٹھنڈ میں یہ پاگل ہو گئی۔۔بیمار ہو جائے گی۔۔”

اس نے خود کلامی کی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ مزے سے گھوم رہی تھی کہ اسے اپنی کمر پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔۔

اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔

سامنے عشر کھڑا تھا۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔

“کیا کر رہی ہے میری بے بی؟”

“بے بی؟” وہ چونکی

“ہاں” عشر نے مسکرا کر کہا

“ہر روز کوئی نام دیتے ہو” اس نے لاپرواہی سے کہا

“پیار جو کرتا ہوں” اس نے اسے قریب کرتے ہوئے کہا

“کتنا پیار کرتے ہو؟”

“اتنا جتنا دنیا میں کسی نے کسی سے نا کیا ہو”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔

“بڑے ڈائیلاگ آگئے مسٹر”

“بس تمہارے پیار نے پتا نہیں کیا کیا سکھا دیا”

“اچھا۔۔پھر بھی سدھرے نہیں؟”

“تم سدھار دینا شادی کے بعد”

“میں تو ایسا ویسا سدھاروں گی تمہیں”

“اچھا کیا کرو گی؟”

“پاؤں دبواؤں گی”

“ہاہاہا دبا دوں گا۔۔۔ اور کچھ؟”

“اور۔۔۔؟” وہ سوچنے لگی۔۔

“تم سوچ لو میں تب تک فریش ہو کر آتا ہوں”

“بد تمیز” وہ چلائی

“ہاہاہا نگار اندر آناؤ۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی” وہ کہتا اندر کی جانب چل دیا۔۔

اور وہ پیر پٹختی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی۔۔

تھوڑے فاصلے پر کھڑا بشر ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔