355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 18)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

وہ بور ہو رہی تھی۔۔اکیلی کمرے میں

بشر بھی چلا گیا تھا۔۔

اس نے مسکان کا نمبر ڈائل کیا

“ہیلو کیسی ہے؟” مسکان کی آواز آئی

“بور ہو رہی ہوں” اس نے منہ بنا کر کہا

“کیوں؟”

“اکیلی بیٹھی ہوں روم میں”

“بھائی تو چلے گئے ہوں گے آفس”

“ہاں۔۔وہ توویسے ہی کھڑوس ہے”

“میرے بھائی کو ایسے تو نہیں بول۔۔”

“ہاہاہا اب جیسا ہوگا ویسا ہی کہوں گی نا؟”

“بس بس”

“تو بتا کل کیا بات کرنی تھی۔۔؟”

“چھوڑ بس”

“بتا۔۔جھگڑا کیا ہے میرے بھائی کے ساتھ تو نے؟”

“وہ ہی ناکرلے مجھ سے”

“تو ہوا کیا پھر؟” نگار کے پوچھنے پر اس نے سب بتا دیا۔۔

“اس میں تیرا قصور ہے” نگار نے کہا

“کیا؟ میرا کیوں؟”

“دیکھ مسکان تو بول رہی ہے کہ نعمان کا انٹرسٹ تجھ میں نہیں ہے۔۔ تو تونے کبھی سوچا کہ اسے تجھ میں دلچسپی کیوں نہیں ہے؟”

“کیوں کہ میں اس کی طرح خوبصورت نہیں”

“نہیں۔۔تو خود خوبصورت نہیں دکھنا چاہتی۔۔کبھی تیارشیار ہوئی ہے۔۔؟”

“تجھےپتا ہے میں زیادہ میک اپ نہیں کرتی”

“تو اب کیا کر”

“اچھا”

“اب جیسا میں کہوں ویسا ہی کر” نگار نے اسے ہدایات دی اور فون بند کردیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

غزالہ بیگم اور نہال صاحب حیدرآباد شادی میں چلے گئے تھے۔۔

وہ اکیلی بیٹھی تھی۔۔

اس کے دماغ میں نگار کی بات گھوم رہی تھی۔۔

“میں نے واقع کبھی اسے تیار شیار ہوکر اپنی طرف مائل نہیں کیا۔۔ “

وہ سوچنے لگی۔۔پھر اٹھ کھڑی ہوئی اور پرس اٹھاکر باہر

نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شام کو وہ روم خالی کر کے گھر چلے گئے تھے۔۔

اسے کمپنی کی طرف سے ملا تھا۔۔

بشر اسے گھر چھوڑ کر سامان لینے چلا گیا تھا۔۔

اور وہ صفائی کرنے لگی۔۔

اسے معلوم تھا بشر کو زرا سی بھی گندگی نہیں پسند۔۔

تھوڑی دیر بعد بشر سامان کے ساتھ واپس آگیا تھا۔۔

وہ اسے سامان دے کر روم میں چلا گیا۔۔

سارا کام نبٹا کر جب وہ روم میں آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا۔۔

لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔۔

وہ اسے دیکھنے لگی۔۔

“نہا کر آجاؤ تمہیں دیکھ کر الرجی ہورہی ہے مجھے۔۔” بشر نے اسی اندازمیں کہا۔۔

“ہونہہ الرجی۔۔کھڑوس زرا شرم نہیں تھوڑی ہیلپ کروادیتا” اس نے دل میں کہا اور منہ بناتی واش روم میں گھس گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات میں جب وہ گھر آیا تو اس کی مسکان پر نظر پڑی۔۔

اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔

وہ واقع بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔

بلو کلر کے فراک میں ہلکا سا میک اپ کیے، سٹیپ کٹنگ بال کھولے وہ وہاپنا ہر انداز جھلکا رہی تھی۔۔

“وہ چلتا اس کے قریب آیا۔۔

اس نے اس روپ میں اسے پہلی بار دیکھا تھا۔۔

وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔

پھر یک دم اس کی ہنسی غائب ہوگئی۔۔

“کس سے پوچھ کر بالوں کی کٹنگ کروائی ہے؟”

وہ غصہ سے پوچھنے لگا۔۔

مسکان نے یک دم اسے گھ را کر دیکھا۔۔

“مجھ سے پوچھا تم نے ایک بار شوہر کی یہ عزت ہے۔۔

میری کوئی اہمیت ہی نہیں” وہ کہتا اوپر سیڑھیا چڑھتا کمرے میں چلا گیا۔۔

وہ کھڑی اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔

” اڈیٹ۔۔نگار کمینی۔۔اورناراض کروادیا۔۔تجھے تومیں بعد میں بتاؤں گی” وہ پیر پٹختی اوپر چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب نہا کر نکلی۔۔تو وہ کمرے میں نہیں تھا۔۔

“یہ کہاں گئے؟” وہ ادھر ادھردیکھنےلگی۔۔

“چلو مجھے کیا خود آجائے گے”

پھر ڈریسنگ کے پاس کھڑی بال بنانے لگی۔۔

تبھی وہ روم میں داخل ہوا۔۔

ہاتھ میں دو کپ لیے۔۔

“چائے” اس نے کپ اس کی طرف بڑھایا۔۔

“آپ نے کیوں بنائی میں بنا دیتی مجھے بتایا ہوتا” نگار نے کہا

“بس میرے سر میں درد تھا اور تم نہارہی تھی تو میں خود بنانے چلا گیا۔۔۔۔” بشر نے مسکرا کر کہا۔۔

“ہاں وہ تو میں نہا رہی تھی۔۔ورنہ احساس نہیں یہ بھی مجھ سے بنواتا کھڑوس” وہ دل میں بولی۔۔

“میڈیسن لے لیں آپ۔۔” نگار نے کہا

“ہاں لے لی” بشر کہتا بیڈپر جا بیٹھا۔۔

وہ بھی جا کردوسری سائیڈ بیٹھ گئی۔۔

بشر نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“آرام کرلو تھک گئی ہو گی۔۔

“وہ کہتا۔۔صوفے پر تکیہ رکھ لیٹ گیا۔۔

نگار اسے دیکھنے لگی۔۔

“یہ مجھ سے اتنا دور کیوں بھاگتا ہے؟” وہ سوچنے لگی۔۔

“خیر مجھے کیا؟” وہ خیالات کو جھٹکتے لیٹ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“نعمان” مسکان نے پکارا وہ موبائل میں مصروف تھا۔۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“نعمان سوری”

“تمہیں سوری بولنے کی ضرورت نہیں”

“یہ میں نے آپ کے لیے کیا ہے”

“میں نے کب ایسا کرنے کو کہا؟”

“آپ مجھ پر توجہ نہیں دیتے تو یہی کرنا تھا نا۔۔”

وہ کہتے ساتھ رونے لگی۔۔

“یکھو مسکا رونا بند کرو۔۔”

نعمانے کہا

“مجھے تھوڑا ٹائم دو جیسا تم مجھے بنانا چاہتی ہو میں ایک دم نہیں بن سکتا تھوڑا ٹائم لگے گا”

نعمان نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔

“میں آپ کے لیے اتنا تیار ہوئی اور آپ نے تعریف تک نہیں کی” وہ خفگی سے بولی

نعمان کا زور دار قہقہہ گونجا

“ویسے واقع اچھی تو لگ رہی تھی۔۔” نعمان نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔

مسکان اس کے کےحصار میں مسکرادی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

بشر کے جانے کے بعد وہ پھر سے اکیلی ہوگئی۔۔

اس نے کھڑکی کھول کر دیکھا باہر کا موسم بہت خوبصورت تھا۔۔

اس نے پرس اٹھایا اور باہر جانے لگی۔۔پھر کوئی خیال آنے پر رکی اور چادر اوڑھتی باہر نکل گئی۔۔

“کھڑوس کہیں کا۔۔یہ تو مجھے گھومانے لے جائے گا نہیں ۔۔موسم کتنا حسین ہے ہر طرف کا منظر کتنا خوبصورت ہے..” وہ چلتی جا رہی تھی۔۔

تبھی اسے پیچھے سے آواز آئی۔۔

“Hey”

اس نے پلٹ کردیکھا۔۔

دو لڑکے کھڑے اسےدیکھ رہے تھے۔۔

“ہم سے دوستی کریں گی؟” ایک لڑکے نے کہا

“سوری” وہ کہتی تیز تیز قدم بڑھانے لگی۔۔

“نام تو بتاتی جائیں” اس کے پیچھے سے آواز آئی

وہ تیزی سے بھاگنے لگی۔۔

بھاگتی بھاگتی وہ بہت دور آگئی تھی۔۔

جب رکی تو اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔

کوئی نہیں تھا۔۔

“یہ میں کہاں اگئی۔۔؟” وہ پریشان ہوئی۔۔

اس نے جھٹ پرس سے سیل فون نکالا اور بشر کا نمبر ڈائل کیا۔۔

“ہیلو” اس کی مصروف آواز سنائی دی۔۔

“بشر۔۔” اس کی گھبرائی ہوئی آواز بشر کو سنائی دی

“کیا ہوا؟ نگار” وہ یک دم چونکا

“بشر میں پتا نہیں کہاں آگئی ہوں مجھے راستہ نہیں پتا۔۔مجھےے کر جائیں۔۔” وہ گھبرائی۔۔

“کیا؟ تم کہاں ہو۔۔اور تم گھر سے کیوں نکلی؟”

“میں وہ۔۔موسم انجوائے کرنے۔۔مجھے لے کر جائیں۔۔پلیز۔” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔

” اچھا تم کہاں ہو اگے پیچھے کیا ہے؟” اس کے پوچھنے پر نگار نے اسے بتایا۔۔

اور فون بند کردیا۔۔

“میں گھر سے ہی کیوں نکلی؟ وہ پریشانی سے کہنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کچن میں کھانے کی تیاری کرنے آئی

“کیا بناؤں؟” وہ سوچنے لگی۔۔

پھر نعمان کو کال ملائی۔۔

“ہیلو”

“ہاں بولو مسکان”

“وہ میں یہ پوچھ رہی تھی کیا بناؤں کھانے میں۔۔؟

“جو تمہارا دل کرے ۔”

“میرا کچھ بھی دل نہیں کر رہا آپ کے لیے بنا دیتی ہوں جو کہو”

“کیوں طبیعت ٹھیک نہیں؟”

“ٹھیک ہے۔۔”

“پھر ایسا کرو تیار ہوجاؤ باہر چل کر کھاتے ہیں”

“نہیں میرا دل نہیں کر رہا”

“چلو نا یار۔۔جلدی ریڈی ہوجاؤ” “اچھا ٹھیک ہے” اس نے کہ کر فون بند کردیا اور تیار ہونے کمرے کی جانب چل دی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ پتھر پر بیٹھی تھی جب وہ وہاں پہنچا۔۔

وہ گاڑی سے اترا کہ وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور آتے ہی اس کے گلے لگ گئی۔۔

اور رونے لگی۔۔

اس نے بھی اس کے گرد بازو حمائل کردیے۔۔

تبھی اس کے آنکھوں کے سامنے عشر کا چہرہ آگیا۔۔وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا۔۔

“گھر چلو” وہ نظریں چراتے کہنے لگا۔۔

اور دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔

پورے راستے دونوں خاموش رہے ۔۔

نگار گھبرائی ہوئی تھی۔۔

بشر نے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی۔۔

اس نے چپ چاپ پکڑ لی اور پانی پی لیا۔۔بشر کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔

پر اب نگار پرسکون تھی۔۔

گھر پہنچتے ہی اس نے نگار کو دیکھا۔۔

“کیوں گئی تھی باہر؟” وہ غصہ سے پوچھنے لگا۔۔

“مم۔۔میں۔۔وہ۔۔” وہ ہکلائی۔۔

“وہ..میں کیا؟ کچھ ہوجاتا تو؟” وہ تلخ لہجے میں بولا

نگار نے یک دم اسے دیکھا۔۔

فکر اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔۔

“آپ کو فکر ہوگئی تھی” اس نے معصومیت سے پوچھا۔۔

“بکواس بند کرو اپنی۔۔موسم انجوائے کرنے کا؟” وہ اس کی طرف آیا اور اسے بازو سے پکڑتے باہر لے گیا۔۔

“اب کرتی رہو انجوائے مجھے کوئی فکر نہیں” اس نے کہ کر دروازہ بند کردیا۔۔

“بشر دروازہ کھولیں۔پلیز۔۔” وہ دروازہ بجانے لگی۔

دو آنسوں اس کی آنکھوں سے گرے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گھر آیا تو مسکان تیار تھی۔۔

بلیک کلر ے سوٹ میں ہلکا سا میک اپ کیے۔۔

“کیسی لگ رہی ہوں” مسکان نے پوچھا۔۔

“بہت اچھی۔۔اب چلیں” نعمان نے بازو اس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔

اس نے مسکرا کر بازو پکڑا اور اس کے ساتھ چل دی۔۔

“ویسے آج لنچ باہر کرنے کا ارادہ کیسے بنا لیا؟” مسکان نے پوچھا۔۔

بس یونہی”وہ گاڑی ڈرائیو کرتے کہنے لگا۔۔

“نعمان۔۔” مسکان نے کہا

“کیا ہوامسکان؟ ” وہ پریشان ہوا۔۔

پتا نہیں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔گاڑی روکو” مسکان نے کہا

“اچھا ٹھیک ہے” اس نے سائیڈ پر گاڑی روک دی۔۔

وہ تیزی سے گاڑی سے نکلی اور سائیڈ پر چلی گئی۔۔

نعمان اسے دیکھ گاڑی سے نکلا۔۔

اسے وومٹنگ کرتے دیکھ وہ پانی کی بوتل لیےاسکے قریب آیا۔۔

“مسکان تم ٹھیک ہو؟ یہپانی پیو” وہ اسے پانی دینے لگا۔۔

اسے نے پانی پکڑ لیا۔۔

“چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” نعمان کہنے لگا

“نہیں میں ٹھیکہوں گھر چلیں” مسکان کہنے لگی۔۔

“تم چلو” وہ گاڑی میں بٹھاتے ہوئے خود بھی بیٹھ گیا۔۔

اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔۔

اسے حیرانی تب ہوئی جب اس نے ڈاکٹر کی بات سنی۔۔

کہ مسکان پریگننٹ ہے۔۔

وہ مسکرا دیا۔۔خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔

“کچھ کھاؤ گی؟” نعمان نے پوچھا

“نہیں” مسکان نے مختصر کہا

“لیکن مجھے تو بھوک لگی ہے” نعمان نے مسکرا کر کہا

کچھ کھا کر چلتے ہیں” وہ کہتا ریسٹورینٹ کے جانب گاڑی دوڑانے لگا۔۔

۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کتنی ہی دیر وہ کمرے میں بیٹھا رہا۔۔

اسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔۔

پھر واش روم کی طرف بڑھ گیا

نکلا تو بالوں میں ہاتھ پھیرتا۔۔بنا شرٹ کے ۔۔آئینے کے سامنے آیا۔۔

(آپ کو فکر ہو رہی تھی؟)

نگار کا جملا اس کے کانوں سے ٹکرایا۔۔

اس نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔

پھر کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔۔

وہاں سے دیکھا تو باہر تیز بارش ہو رہی تھی۔۔

اور باہر کہیں بھی نگار نہیں نظر آئی اسے۔۔

“یہ کہاں گئی؟” وہ تیزی سےبھاگتا ہوا باہر گیا۔۔

اس نے دروازہ کھول کر یہاں وہاں دیکھا

“نگار” وہ اسے پکارتا یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔

تھوڑا آگے بڑھا تو وہ ایک سائیڈ پر لان میں میں کھڑی بھیگ رہی تھی۔۔

اسے دیکھ اس کی جان میں جان آئی۔۔

“کیا چیز ہے یہ لڑکی؟” وہ دل میں سوچنے لگا۔۔

پھر اس کی طرف گیا۔۔

“نگار۔۔اندر چلو” وہ اس کے قریب آیا۔۔

مگر وہ ویسے منہ بنائے کھڑی رہی۔۔

“چلو” وہ سختی سے بولا

مگر وہ نہیں ہلی۔۔

“مجھے نہیں جانا” وہ ناگواری سے کہنے لگی۔۔

وہ اس کےقریب آیا۔۔

اور اسے گود میں میں اٹھا لیا۔۔

“یہ۔۔ککک۔۔کیا۔۔” نگار کے الفاظ ادا نہیں ہوئے

“سزا پوری ہوگئی۔۔بھیگتی رہی تو بیمار ہوجاؤ گی۔۔اور ہاں یہ مت سمجھنا کہ فکر ہے مجھے۔۔تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا، دیکھ بھال کرنے کا ٹائم۔نپیں میرے پاس۔۔” بشر نے سنجیدگی سے کہا

اور اندر لا کر اسے اتار دیا۔۔

اور خود کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

وہ ساکت کھڑی اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔