Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 11)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 11)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
مانتا ہوں مگر اس سب میں ایک لڑکی کا کیا قصور۔۔؟..لوگ دکھ میں شریک نہیں ہوتے بلکے زخم کریدنے آتے ہیں۔۔میں پوچھتا ہوں اگر لڑکی بیوہ ہوگئی تو یہ کہاں لکھا ہے؟ کہ اس لڑکی کو جینے کا، خوش رہنے کا، ہنسنے کا حق ہی نہیں۔۔ یا وہ جینا چھوڑ دے..” بشر نے سنجیدگی سے کہا
وہ عورت خاموش ہوگئی۔۔ پھر اٹھ گئی
“اچھا میں چلتی ہوں غزالہ بہن۔۔” وہ عورت کہتی باہر نکل گئی۔۔
وہ کمرے میں آئی۔۔آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔۔
(ویسے غزالہ بیگم اب تمہاری بیٹی بیوہ ہے اور اتنا سنگار۔۔؟)
(یہ چوڑیاں وغیرہ تو اتار دیتے)
(کیا تمہیں نہیں پتا۔۔ہاتھ۔ پاؤ، ناک یہاں تک کہ کپڑوں میں بھی شوخ رنگ بیوہ پر نہیں بھاتے۔۔بلکہ اجازت ہی نہی)
اس عورت کی باتیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔
آنسوں پھر سے بہنے کو تیار تھے۔۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو مہندی اور چوڑیوں سے سجے تھے۔۔
دو آنسوں گر کر اس کی ہتھیلیوں میں جذب ہوئے۔۔
اس نے تیزی سے چوڑیاں نکالنی شروع کی۔۔
جلدی میں کچھ چوڑیاں ٹوٹ کر اس کی کلائی میں چبھ گئی۔۔
مگر وہ پرواہ کیے بنا اتارتی رہی۔۔
اس نے وہ چوڑیاں، انگوٹھی، نوز پن غرض ہر چیز اتار دی۔۔
جیسے ہی اس کی نظر آئینے میں پڑی۔۔
گلے میں لٹکتا پینڈنٹ دکھا۔۔
اس نے اسے ہاتھ سے چھوا۔
(ویسے کس خوشی میں دے رہے ہو؟)
(ہمارے نکاح کی خوشی میں)
اسے فوراً عشر کے الفاظ یاد آئے۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
(اگر میں مر گیا تو تم روؤگی؟)
“عشر دیکھو میں رو رہی ہوں پلیز واپس آجاؤ۔۔میں مر جاؤں گی۔۔واپس آجاؤ۔۔” وہ روتے روتے کہنے لگی۔۔
تبھی بشر کمرے میں آیا۔۔
“نگار” وہ اس کی طرف بڑھا۔۔
“تم ان فضول عورتوں کی باتوں میں آرہی ہو؟ وہ چلی گئی ہے۔۔اور یہ؟ تمہیں کچھ بھی اتارنے کی ضرورت نہیں” وہ پاس پڑی چوڑیوں کو دیکھتے کہنے لگا۔
“آپ جائیں یہاں سے پلیز” وہ روتے ہوئے کہنے لگی
“نگار۔۔پلیز تم کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو۔۔کیوں خود کو ععزیت دے رہی ہو۔؟” وہ اسے شانوں سے پکڑتے ہوئے کہنے لگا۔
“نگار” وہ اسے گھور رہا تھا۔۔
نگار یک دم اسکے گلے لگی۔۔
اور سسکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔
بشر جوں کا توں کھڑا تھا۔۔
“پتا نہیں دنیا کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتی کسی کو دکھ میں بھی برداشت نہیں کرتی۔۔جان ںوجھ کر ایسی باتیں۔۔بلکہ طعنے مارتی ہیں” وہ غصہ سے کہنے لگا
“ہوا کیا ہے؟” صدف یگم نے پوچھا
“کوئی عورتبیٹھی تھی ابھیچچی کے گھر نگار کو دیکھ اس کے سامنےہی باتیں بنانا شروع ہوگئی”
“کہتی ہےنگار کو سنگار کرنے کا موئی حق نہیں۔۔کیا بیوہ جینا چھوڑ دے” بشر نے غصہ سے کہا
“اتنی معصوم سی میری بچی۔۔ابھی تو اس نے خوشیاں دیکھی بھی نہیں تھی۔” صدف نے دکھ سے کہا
“دیکھے گی مما وہ ساری خوشیاں دیکھے گی۔۔
اس سے اس کی خوشیاں کوئی نہیں چھین سکتا۔۔” ۔۔
“بس وقت لگے گا مما اسے سمبھلنے میں۔۔”
بشرنےسنجیدگی سے کہا
“ہاں بس اللہ اسے صبر دے ہمت دے ” صدف بیگم نے دعائیں دیں۔۔
“مما میں امریکہ جانا چاہتا ہوں” بشر نے کہا
“کیوں؟”
“جاب کے لیے۔۔”
“نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے”
“پلیزمما۔۔”
“تم پاگل ہو؟ ابھی ابھی ایک بیٹے کو کھویا ہے اوراب دوسرے کو خود سے دور بھیج دیں”
“مما۔۔آپ سمجھ نہیں رہیں”
“کچھ سمجھنا نہیں مجھے” وہ کہتی اپنے روم کی سمت بڑھ گئی۔۔
وہ خاموش کھڑا انہیں جاتا دیکھنے لگا۔۔
وہ کمرے کی بیڈ شیٹ ٹھیک کر رہی تھی جب نعمان دروازہ کھول کر اندر آیا۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔
وہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“پانی لاؤں آپ کے لیے؟” مسکان نے پوچھا
“ظاہر ہے یار شوہر باہر سے آتا ہے پانی لاکر دیتے ہیں پوچھتے نہیں ہیں” نعمان نے غصہ سے کہا
“جی میں لاتی ہوں” وہ کہتی پلٹ گئی۔۔
“رکو۔۔”
“جی”
“میں نے پی لیا ہے پانی۔۔بس تمہاری کام چوری دیکھ رہا تھا۔۔” نعمان نے تیور چڑھاتے ہوئے کہا
مسکان اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
“یہاں آؤ” اس نے حکم دیا
“جی” وہ چل کر قریب آئی۔۔
“اتارو” نعمان نے اپنے جوتے میز پر رکھتے ہوئے روب سے کہا۔۔
اس کی بات پر مسکان مسکرا دی۔۔
اور جوتے اتارنے کے لیے ہاتھ ہی بڑھایا تھا کہ۔۔نعمان نے ہٹا لیےجوتے۔۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“جاؤ میرےلیے چائے بنا کر لاؤ” اس نے حکم دیا اور اپنے جوتے خود اتارنے لگا۔۔
مسکان مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“جاؤ” اس نے سخت لہجے میں کہا۔۔
وہ چپ چاپ باہر نکل گئی۔۔
“کیا مصیبت ہے میرے گلے ڈال دیا گھر والے اسے” وہ غصہ سے بڑبڑانے لگا۔۔
وہ چائے بنانے لگی۔۔تبھی کچن میں نگار آئی۔۔
“مسکان” نگار نے پکارا
“چائے بنا رہی ہو؟”
“ہاں پیئو گی؟” مسکان نے پوچھا
“ہاں۔۔۔” نگار نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا
“تو باہر بیٹھ جا نایہاں گرمی ہے”
“نہیں ٹھیک ہوں میں”
“کچھ کھایا تو نے؟”
“دل نہیں کر رہا”
“کھائے گی تو دل بھی کرے گانا۔۔کچھ بنا دوں ؟”
مسکان نے کہا۔۔
“نہیں مجھے نہیں کھانا کچھ۔۔۔ بس چائے پیئو گی۔۔”
نگار نے اکتاہٹ سے کہا
“کچھ تو کھانا پڑے گا۔۔ جلدی بتاؤ”
“برگر۔۔” نگار نے مختصر کہا
مسکان نے یک دم اسے دیکھا آج کتنے ہی دن بعد اس نے کچھ کھانے کی فرمائش کی تھی۔۔ورنہ تو کھانا بھی اسے زبردستی کھلانا پڑتاتھا۔۔
مسکان مسکرائی۔۔
“میں۔۔میں نعمان کو کہتی ہوں۔۔” مسکان نے کہا
تبھی بشر کچن میں داخل ہوا۔۔
“مسکان یہ شرٹ تو پریس کردو۔۔امی گھر پر نہیں ہیں۔۔؟” بشر نے کہا
“اچھا۔۔میں یہ چائے دے آؤں نعمان کو پھر کرتی ہوں”
“اچھا” بشر نے سر سری نگاہ نگار پر ڈالی۔۔
جو سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔
“بھائی آپ نگار کو برگر لا دیں۔۔آج اس نے فرمائش کی ہے”
مسکان نے بتایا
“اچھا۔۔لیکن ایک شرط ہے” بشر نے کہا
“کیا؟” مسکان نے حیرانی سے پوچھا
“نگار کو میرے ساتھ چلنا ہوگا …ایک کے بھی دو کھلاؤں گا”
بشر نے مسکرا کر کہا
بشر اسے ہنستا مسکراتا پھرسے دیکھنا چاہتا تھا۔۔
وہ چاہتا تھا کہ نگار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئے وہ جو اداس رہنے لگی تھی پھر سے خوش رہے۔۔
“چلو گی نا نگار؟” بشر نے پوچھا۔۔
“نہیں مجھے نہیں کھانا” نگار نے اس کی طرف بنا دیکھے کہا۔
“کیوں؟ ” وہ حیران ہوا
“بس یونہی” وہ کہتی کھڑی ہوئی۔۔
“چلی جاؤ نگار” مسکان مے کہا۔۔
“پلیز” بشر نے منت کی۔۔
“اوکے” آخر اسے ماننا ہی پڑا۔۔
“یہ آپ کی چائے” مسکان نے چائے ٹیبل پررکھی۔۔
نعمان نے ایک نظر اسے دیکھاپھر اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔۔
وہ تھوڑی دیرکھڑی رہی پھر کمرے سے نکل گئی۔۔
نعمان نے یک دم نظر اٹھائی۔۔
پھر نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔
مگر نمبر مسلسل۔آف جا رہا تھا۔۔
“کیا مصیبت ہے؟” وہ بیزاری سے بولا
پھر کچھ سوچنے لگا۔۔
اٹھا اور تیزی سے سیڑھیاں اترتا باہر نکل گیا۔۔
مسکان جب کمرے میں آئی تو چائے ویسے ہی رکھی تھی۔۔
مگر نعمان نہیں تھا۔۔
وہ چپ چاپ برگر کھا رہی تھی۔۔
وہ بہت بولنے والیڑکی اب زیادہ ترچپ ہی رہتی تھی۔۔
بشر اسے ٹکٹکی باندھے گھور رہا تھا۔۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں میں ٹھیک ہوں” نگار بنا اسے دیکھے اسے انداز میں کہا
“تمہیں پتا ہے نگار تم چپ بلکل اچھی نہیں لگتی”
بشر نے کہا
“اور آپ بولتے ہوئے ” نگار نے اسی ٹون میں کہا
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ آپ ہمیشہ سے سنجیدہ قسم کے رہے ہیں کم گو ہیں آپ اب اتنا زیادہ بولنے کی کوشش کرنے لگے ہیں صرف اس لیے کہ میں بولنے لگوں” وہ کانٹامنہ میں ڈالتی ہوئی کہنے لگی
“جب تم سب جانتی ہو تو خود کو پہلے جیسا ہی کیوں نہیں بنا لیتی؟”
“مجھ میں پہلے جیسا اب کچھ نہیں رہا” نگار نے سنجیدگی سے کہا۔۔
بشر تھوڑی کے لیےخاموش ہوگیا۔۔
“خود کی وجہ سے دوسروں کو تو دکھ مت دو۔۔سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتے”
بشر سمجھانے لگا۔۔
اور وہ خاموش رہی۔۔
وہ جب کمرے میں آیا تو مسکان بیڈ پر سو رہی تھی۔۔
اسنے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔
پھر تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔
“ٹھو۔۔۔کیا کر رہی ہو یہاں؟” وہ اسکا بازو ہلاتا کہنے لگا
“جی” وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔
“میرے بستر پر کیا کر رہی ہو؟” نعمان نے غصہ سے پوچھا
“وہ میں سو گئی تھی۔۔سوری”
وہ اٹھ گئی تھی۔۔
“اب یہیں سو جاؤ۔۔تمہارے استعمال شدہ بستر پر میں نہیں سو سکتا۔۔”
“کیوں۔۔میں بیوی نہیں ہوں آپ کی؟” مسکان نے سنجیدگی سے سوال کیا
“نا پسندیدہ بیوی ہو۔۔تمہارا اور میرا کوئی میچ نہیں۔۔” وہ چبا کر کہنے لگا۔۔
مسکان کو اس کے الفاظ تیر کی طرح محسوس ہوئے۔۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔۔
وہ جا کر صوفے پر تکیہ رکھ کر لیٹ گیا ۔
مسکان اسے دیکھتی رہی۔۔۔
“وہ بچی ہنسنا بھول گئی ہے کتنا ٹائم تو ہوگیا لیکن وہ دوبارہ جیسے خوش ہونا ہی نہیں چاہتی۔۔” صدف نے کہا
“ہاں۔۔اب نصیب کے آگے کیا کر سکتے ہیں۔۔” دانیال صاحب نے کہا
“دنیا تو اسے جینے نہیں دیتی کوئی نا کوئی ایسی بات کردیتے ہیں جس سے اسے تکلیف ہو” صدف بیگم سنجیدہ تھی
“لوگوں کی تو زبان بند کرنی آتی ہے مجھے” بشر نے کہا
“کس کس کو چپ کرواؤ گے؟ ابھی کل ہی ایک عورت آئی تھی نگار کا رشتہ لے کر۔۔اپنے طلاق یافتہ بھائی کے لیے۔۔
جس کا ایک بیٹا بھی تھا۔۔” صدف نے بتایا
“کیا؟” بشر کو جھٹکا لگا
“اس میں حیران ہونے والی بات نہیں ہے اس پر بیوہ کا دھبہ لگ چکا ہے۔۔اب لوگوں کی زبانوں کو ہم بند نہیں کروا سکتے”
صدف بیگم نے تلخی سے کہا
“دھبہ کیا ہے مما؟ اس کا صرف نکاح ہوا تھا کوئی رخصتی تو نہیں۔۔تو کیوں اسے ڈیگریڈ کیا جا رہا ہے ؟”
“بشر تم سمجھ نہیں رہے بیوہ ہے وہ لوگوں کو اسی بات کا اعتراف ہوگا۔۔”
“تو آپ بیٹھی رہنے دیں اسے گھر کوئی ضرورت نہیں شادی کرنے کی اس کی ابھی””ابھی نہیں تو کچھ ٹائم بعد صحیح
شادی تو کرنی ہے نا۔۔اور میں تو کہتی ہوں غزالہ کو ابھی شادی کرنی چاہیے اس کی ۔۔نئی زندگی شروع ہوگی اس کی تو عشر کو بھی بھول جائے گی۔۔تم نے دیکھا ہے اس بچی کو ؟
ہنستی مسکراتی ہر دم شرارتیں کرتی تھی۔۔اور اب۔۔اب تو جیسے مسکرانا ہی نہیں آتا اسے”
صدف بیگم سنجیدگی سے کہا
“مگر مما۔۔ایسے رشتوں سے بہتر ہے نا ہی کریں”
بشر نے یک دم
“کیوں؟ تم کرو گے اس سے شادی؟”
بشر نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔
“بولو؟”
“نہیں” بشر نے مختصر کہا
“کیوں؟ تم بھی تو کنوارے ہو؟ اور تم اسے بیوہ بھی نہیں مانتے۔۔پھر کیوں انکار کر رہے ہو؟”
صدف بیگم نے اسے تلخی سے کہا
“میں اب بھی یہی کہتا ہوں۔۔میں نے اس میں کوئی عیب نہیں نکالا بس میں شادی نہیں کرنا چاہتا” وہ کہ کرکھڑاہوگیا
“Excuse me”
وہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
