Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 10)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
تم مجھے چھوڑ کر کیسے چلے گئے عشر؟ تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ”
وہ دل میں سوچنے لگی۔
رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھی۔۔
“تم نے کہا تھا مجھے رولاؤ گے نہیں۔۔مگر تم تو مجھے ہمیشہ کے لیے رولا کرچلے گئے۔۔
“کیوں کیا تم نے ایسا عشر کیوں؟” وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی۔۔
عشر کی تصویر تھامے وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
اور غزالہ بیگم اندر آئی۔۔
“نگار؟ اب ٹھیک ہے طبیعت؟” غزالہ بیگم نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شفقت سے پوچھا۔۔
“مما میرے سر میں درد ہو رہا ہے بہت” نگار نے بے بسی سے ماں کو دیکھا
“نگار۔۔صبر کرو بیٹا۔۔میری بیٹی بہت ہمت والی ہے وہ کبھی نہیں ہارے گی..ہیں نا؟” انہوں نے پیار سے پوچھا۔
نگار کی آنکھوں سے دو آنسوں گرے۔۔
“مما وہ کیوں چلا گیا؟” وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر کہنے لگی۔
“نگار” انہوں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“تمہیں تو بہت بخار ہے نگار” وہ پریشان ہوئی۔
“میرا سر پھٹ رہا ہے مما۔۔” وہ درد سے کہنے لگی۔۔
“میں نعمان کو بلاتی ہوں۔۔ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” وہ کہتی باہر چلی گئی۔۔
نگار کی آنکھوں کے آنسوں ابھی بھی نہیں تھمے تھے۔۔
“نعمان” غزالہ بیگم نے آواز دی۔۔
“نعمان” وہ کمرے میں آئی۔۔
“نعمان کہاں گیا؟”
“وہ تو پاپا کے ساتھ گئے ہیں۔۔” مسکان نے بیڈ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
“نگار کو بہت تیزبخار ہے اسے ڈاکٹر کے پاس بھیجنا تھا”
وہ پریشانی سے کہنے لگی
“بھائی ہونگے گھر چچی۔۔انہیں کہ دیں” مسکان نے کہا۔۔
“اچھا کہہتی ہوں تم نگار کو تیار کرو جانے کے لیے”
“جی چچی میں دیکھتی ہوں” وہ کہتی غزالہ بیگم کے ساتھ
نیچے چلی گئی۔
وہ صوفے پر سر گرائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔۔
“بشر” غزالہ بیگم کی آواز آئی۔۔
اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔
“جی چچی”
“یٹا نگار کو بہت تیز بخار ہے۔۔اسے ڈاکٹر کےپاس لے جاؤ”
انہوں نے اکہا
“کیا ہوا نگار کو؟” صدف بیگم پیچھے سے آتی کہنے لگی۔۔
“اسے بہت تیز بخار ہے۔۔”
“سارا سارا دن روتی رہتی ہے نگار طبیعت خراب کرلی اس بچی نے” صدف بیگم نے پریشانی سے کہا
“دو دن ہوگئے عشر کی تدفین ہوئے۔۔مگر نگار نے اب تک کچھ نہیں کھایا۔۔صبح بھی زبردستی دودھ دیا تھا۔۔اس کے سر کا دردنہیں جا رہا” زالہ بیگم کہنے لگی
“جاؤ بشر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ” صدف نے کہا
“جی ” وہ کہتے ہوئے باہر گیا۔۔
“نگار۔۔کیسی طبیعت ہے؟” مسکان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“میرا سر پھٹ جائے گا مسکان” وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی۔۔
مسکان نے اس کے ماتھے کو چھوا جو تپ رہا تھا۔۔
کسی گرم توے کی مانند۔۔
“تو سارا دن روتی رہتی ہے طبیعت تو خراب ہوگی نا۔۔”
“میں کیا کروں۔۔مسکان میں اتنی بے بس کیوں ہوں؟” وہ بے بسی کی انتہا پر تھی۔۔
۔۔۔۔
مسکان اسے دیکھ کر رہ گئی۔
“نگار” بشر اندر آیا
“چلو اٹھو۔۔” اس نے آتے ہی کہا۔۔
“کہاں؟” وہ حیران ہوئی۔۔
“ڈاکٹر کے پاس”
“نہیں مجھے نہیں جانا”
“کیوں؟”
“بس نہیں جا۔۔کہیں نہیں جانا” وہ بضد تھی۔۔
“کھڑی ہوجاؤ۔۔میں بس ایک بار بولتا ہوں” وہ غصہ سے کہنے لگا۔۔
نگار چپ چاپ کھڑی ہوگئی۔
مسکان نے اسے چادر اوڑھائی۔۔
اور وہ بشر کے ساتھ چل دی۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔ڈاکٹر نے میڈیسن لکھ دی تھی۔۔
بخار بھی کافی بتایا تھا۔۔
“سر میں ابھی بھی درد ہے؟” بشر نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
“نہیں۔۔” نگار نے مختصر کہا۔۔
“اچھا۔۔۔۔” بشر نے اسے دیکھا
صاف شفاف کھلے ہوئے چہرے زردی پھیلی تھی۔۔ایک ویرانی تھی۔۔
وہ چہرہ ہمیشہ ہنستا مسکراتا دیکھا تھا اس نے وہاں اداسی تھی۔۔آنکھیں سوجی ہوئی تھی۔۔
“یہ کیا حال بنا لیا اس نے اپنا؟”وہ سوچ کر رہ گیا۔۔
“کچھ کھاؤ گی؟” بشر نے پوچھا
“نہیں” اس نے پھر مختصر کہا۔۔
“اچھا آؤ پارک چلتے ہیں تمہیں وہاں جانا پسند ہے نا؟” بشر نے اس کا دل بہلاناچاہا
“نہیں اب جانا پسند نہیں”
“اچھا آؤ ریسٹورنٹ چلتے ہیں کھانا کھائیں گے کافی پیئیں گے” بشر نے پھر کہا
“نہیں” نگار نے پھر انکار کیا
“نگار کیا ہوگیا ہے۔۔تم” وہ کچھ کہنا چاہتاتھا مگر نگار نے بات کاٹی۔۔
“میں ٹھیک ہوں آپ مجھے بہلانے کی کوشش نہ کریں۔۔” وہ باہر دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“نگار مگر۔۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رکا۔۔
وہ خاموشی سےگاڑی چلانے لگا۔۔
وہ نگار کے ساتھ ہی اندر داخل ہوا۔۔
سامنے ہی صوفے پر غزالہ بیگم کسی عورت کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
“ہاں افسوس تو بہت ہوا مجھے اتنی سی عمر میں بیوہ ہوگئی بیچاری۔۔بس بہن نصیبوں کاکچھ نہیں پتا” وہ عورت کہ رہی تھی۔۔
نگار اور بشر کے کانوں اس عورت کی آواز پڑی۔۔
“نگار” غزالہ بیگم اسے دیکھ قریب آئی
“کیا کہا ڈاکٹر نے؟” وہ پوچھنے لگی۔۔
“چچی بس بخار ہے میڈیسن ٹام پر دینے کو کہا ہے۔۔ٹھیک ہوجائے گا” بشر نے کہا
“نگار نے آگے بڑھ کر اس عورت سے سلام کیا۔۔
“کیا حال ہوگیا ہےبیچاری کا۔۔بس قسمت میں ہی بیوہ ہونا تھا۔۔اتنی پیاری بچی ہے۔۔اتنی کم عمر ہے۔۔” وہ عورتکہتیچلی جارہی تھی۔۔
بشر کے تیورچڑھ رہے تھے۔۔
“ویسے غزالہ بیگم اب تمہاری بیٹی بیوہ ہے اور اتنا سنگار۔۔؟
یہ چوڑیاں وغیرہ تو اتار دیتے۔۔کیا تمہیں نہیں پتا۔۔ہاتھ۔ پاؤ، ناک یہاں تک کہ کپڑوں میں بھی شوخ رنگ بیوہ پر نہیں بھاتے۔۔بلکہ اجازت ہی نہیں” اس عورت نے نگار کو سر سے پاؤں گھورتے ہوئے کہا
“ابھی کچھ دن پہلے تو نکاح ہوا تھا اس کا۔۔” غزالہ بیگم نے کہا
“وہ تو ٹھیک ہے۔۔لیکن اصول اپنی جگہ۔۔جنازے کے اٹھتے ہی سفیددوپٹا پہنا دیا جاتا ہے۔۔۔” اس عورت نے کہا۔۔
“نگار تم اندر جا کر آرام کرو” غزالہ بیگم نے نگار کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
نگار خاموشی سے اندر چلی گئی۔۔
بشر کو ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔
وہ چل کر قریب آیا۔۔
“آنٹی معاف کیجئے گا مگر آپ کی بات سے ایگری نہیں کرتا۔۔
اسلام اتنا سخت بھی نہیں جتنالوگوں نےبنایا ہوا ہے۔۔میں مانتا ہوں بیوہ کو اس سنگار کی اجازت نہیں جس سے لگے کہ وہ شادی شدہ ہے۔۔مگر آپ یہ بھی دیکھیں کہ اس کی شادی ابھی کچھ دن پہلے ہوئی تھی۔۔جبکہ اس کی رخصتی تک نہیں ہوئی۔۔تو اس پر یہ بیوہ ہونے کا دھبا بےبنیاد ہے” بشر سنجیدگی سے کہنے لگا
“معاف کرنا بیٹا مگر بیوہ تو ایک دن کی شادی کی بھی ہوجاتی ہے۔۔” اس عورت نے کہا۔۔۔
بشر اس عورت کو دیکھنے لگا۔۔
