Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 8)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
“ارے بیٹا تم اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی؟” غزالہ بیگم نے اسے کچن میں آتے دیکھ کر کہا
“بس ویسے ہی اٹھ گئی چچی” مسکان نے کہا
“کچھ چاہیے تھا تمہیں؟”
“وہ ناشتہ نعمان کے لیے” مسکان نظریں جھکائے کہا
“تو میں لے آتی تم کیوں؟ نعمان نے بھیجا ہے تمہیں؟”
“نہیں خود آگئی تھی میں نے سوچا چچی کی ہیلپ کروادوں”
” ساری عمر پڑی ہے ہیلپ کروانے کے لیے ابھی تو تمہارے آرام کے گھومنے پھرنے کے دن ہیں”
“میں کروا دوں گی چچی”
“نہیں جاؤ میں بنا کر لاتی ہوں ناشتہ” انہوں نے حکم کیا
وہ چپ چاپ باہرآگئی۔
“میری بھابھی آج اتنی جلدی کیسے اٹھ گئی؟” نگار نے اسے دیکھتے ہی کہا
“بھابھی؟ “
“ہاں نا اب سے تجھے بھابھی بولوں گی تجھے میں” نگار نے ہنس کر کہا
“نہیں جی۔۔”
“کیوں تو مجھے بول لے میں تو نہیں چڑتی”
نگار نےچہک کر کہا
“نگار؟”
“کیا ہوا؟”
“بس کچھ نہیں” وہ کہتی وہاں سے نکل گئی۔۔
عشر ناشتہ کر رہا تھا کہ اس کا سیل فون بجا۔۔
“ہیلو”
“خیر مبارک” عشر نے چہک کر کہا
“ہاں پارٹی تو بنتی ہے… چل ٹھیک ہے میں آتا ہوں” اس نے کہ کر فون بند کردیا
اور اٹھ کر باہر جانے لگا۔۔
“کہاں جا رہا ہے؟” بشر نے پیچھے سے کہا
“بھائی دوستوں نے پارٹی رکھی ہے روز ریسٹورنٹ میں وہاں جا رہا ہوں”
عشر نے جواب دیا
“اچھا۔۔تیری شادی کی خوشی میں؟”
“جی بھائی۔۔”عشر نے قریب آکر کہا
“تو خوش تو ہے نا؟” بشر نے سنجیدگی سے پوچھا
“بہت خوش ہوں بھائی۔۔۔میرے پاس آپ جو ہیں”
“ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہا کر بہت اچھا لگتا ہے
تیری شرارتوں کی عادت ہوگئی مجھے” بشر نے مسکرا کر کہا
“میں تو ایسا ہی ہوں بھائی سب کو ہنساتا ہوں۔۔۔”
“ہاں تو جب پیدا ہوا تھا نا تو سب بہت خوش تھے خاص کر میں مجھے تو جیسے کھلونا مل گیا تھا۔۔ “
“آپ کو میرابچپن یاد ہے بھائی؟”
“ہاں تھوڑا بہت میں پانچ سال کا تھا اس ٹائم۔۔”
“میں بچپن میں بھی ایسا ہی تھا؟” وہ دلچسپی سے پوچھنے لگا۔
“ہاں بہت شرارتی تھا۔۔لیکن روتا بھی بہت تھا تو”
“جب میں پیدا ہوا تھا۔۔تو آپ سب کو خوشی دے کر رورو کرتنگ کرتا تھا۔۔۔ایک دن آپ سب کو دکھ دے کر ہنستا مسکراتا اس دنیا سے چلا جاؤ گا۔۔آپ سب کو رولا کر” عشر بولتا گیا
“عشر” بشر کے ماتھے پر بل آئے۔۔
“ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے؟”
“نہیں ویسے ہی ایک بات کہ رہا ہوں بھائی”
“کیوں کہ رہا ہے؟” وہ غصہ سے بولا۔
“اچھا نا غصہ کیوں ہو رہے ہیں اب نہیں کر رہا”
عشر اس نے اس کے غصہ کو بھانپتے ہوئے کہا
“اچھا اب میں جاتا ہوں میرے دوست انتظار کر رہے ہوں گے نا” وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔
مسکان جیسے ہی کمرے میں آئی۔۔نعمان واش روم بال خشک کرتا نکلا۔۔
اس نے اس وقت بس جینس پہنی تھی۔۔
مسکان کی نظر اس پر پڑی تو نظریں چراتی واپس باہر جانے کے لیے پلٹی۔۔
“ایک منٹ” نعمان نے آواز دی
“جی” اس نے بنا پلٹے جواب دیا
“ناشتہ بنانے گئی تھی تم؟”
“ہ چچی نے بنانے نہیں دیا ” وہ گھبرا کر کہنے لگی۔
“تو تم چپ چاپ آگئی۔۔بڑی کام چور ہو” اسے اپنے قریب سے آوازآتی محسوس ہوئی۔۔
مگر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔
مسکان کےگھنے لمبے بال پشت پر گرے ہوئےتھے۔۔۔
نعمان کو قریب آتے ہی اس کے بالوں کی خوشبوں اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی۔۔
اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے۔۔نظریں چرائی۔۔
“یہاں دیکھو” نعمان نےکہا
“جی” وہ نظریں جھکائی پلٹی۔
نعمان کی انگلیاں اسے اپنے گال پر محسوس ہوئی۔۔
اسے جیسے کرنٹ لگا۔۔
اس نے ضبط سےآنکھیں بند کی۔۔
اس کی انگلیاں اب کان کو چھو رہی تھی۔۔
یک دم ہی نعمان نے اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا۔۔
“تکلیف سے اس نے یک دم آنکھیں کھول اسے دیکھا
“زیادہ شوق ہے تمہیں اپنے خوبصورت بال دوسروں کو دکھانے ہے؟” اس نے غصہ سے کہا
“نعمان مجھے درد ہو رہا ہے” وہ چلائی
اس نے ایک گھوری کے ساتھ جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔
“دوبارہ میں انہیں کھلا نا دیکھوں” وہ شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
مسکان کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔
“اب رو کیوں رہی ہو؟۔۔۔میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا۔۔” وہ کنگھا کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
وہ مسلسل روتی جا رہی تھی۔۔
“کیا ہوگیا؟ غلط تو نہیں کہا میں نے ایک ڈھنگ کے بال ہی ہیں تمہارے پاس اور اچھا ہے کیا؟ اور مجھے نہیں پسند تم سب کو دکھاتی پھرو بس اتنی سی بات ہے” وہ شرٹ پہنتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
ناشتہ تیار ہے۔۔آجاؤ نیچے ” نگار نے کہا
“اچھا آرہا ہوں” نعمان نے کہا
اور مسکان آنسوں صاف کرتے نگار کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔۔
سیڑھی اترتے ہوئے اس نے بالوں کو جوڑے کی صورت میں قید کیا۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی نعمان پھر سے ناراض ہو۔۔۔
وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا۔۔
اس نے کال رسیو کی۔
“ہیلو”
“ہیلو ” نگار کی آواز آئی
“کیا ہوا مسسز میری یاد آرہی ہے کیا؟” عشر نےشرارت سے کہا
“غلط فہمی تو زیادہ ہی ہے آپ کو”
“چلو ہمیں غلط فہمی میں ہی رہنے دو۔۔”عشر نے ہنس کر کہا
“ویسے کیا کر رہی ہو؟”
“نیل پینٹ لگا رہی ہوں”
“وہ ریڈ والیمت لگانا۔۔بور ہوگیا میں دیکھ دیکھ کر مگر تم لگا لگا کر بور نہیں ہوئی”
“اچھا تو پھر کون سی لگاؤ؟”
“پنک کلر لگاؤ”
“نہیں پنک تو ہے میرے پاس۔۔”
“تو پھر نہیں لگاؤ۔۔ میں شام میں آؤ گا تو لے آؤں گا تمہارے لیے”
“شام میں؟ کہاں جا رہے ہو اتنی دیر کے لیے جو شام میں لوٹو گے؟”
“دوستوں نے پارٹی دی ہے۔۔”
“اچھا۔۔ جلدی آجانا پھر گھومنے چلیں گے”
“سارا دن گھومنے کے لیے تیار بیٹھی رہتی ہو”
“ہاں تو؟” نگار نے غصہ سے پوچھا
“تو۔۔تو کچھ نہیں۔۔لے جاؤں گا”
عشر نے ڈر کر کہا
اور وہ زور سے ہنس دی۔۔
“نگار۔۔تم۔۔” وہ کہتا کہتا رکا
سامنے سے اسے ٹیمپو آتا دکھائی دیا۔۔
اس نے ہڑ بڑا کر گاڑی کو سمبھالنا چاہا مگر سمبھال نا سکا۔۔
“بشر اب تم بھی بتا دو اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو؟”
صدف بیگم نے کہا
“نہیں مجھے کوئی پسند نہیں” بشر نے کہا
“تو پھر لڑکییاں دیکھتی ہوں تمہارے لیے”
“اتنی جلدی کیا ہے مما۔۔کرلوں گا شادی”
“تمہارے چھوٹے بہن بھائی کی ہوگئی شادی اور تم کہ رہے ہوجلدی کیا ہے”
“ارے مما جب میرے نصیب میں ہوگی تو میری بھی ہوجائے گی” اس نے صدف بیگم کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
“ایسانہیں ہوتا۔۔مجھے اب لڑکی دیکھنی ہے عشر کے ساتھ تمہاری بھی شادی کردوں گی” انہوں اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا
“مجھے ابھی نہیں کرنی شادی”
“کیوں؟”
“ابھی میری جاب بھی نہیں لگی مما”
“لگ جائے گی۔۔کال آئی تو تھی تمہیں”
“کل جانا ہے انٹرویو کے لیے”
“اچھا اللہ کامیاب کرے گا” انہوں نے مسکرا کر دعا دی اوراس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
“عشر؟” وہ چیخی
مگر ایک بھیانک آواز کے ساتھ ہی کال منطقع ہوچکی تھی۔۔
وہ گھبرا گئی تھی۔۔
اس نے پھر سےنمبر ڈائل کیا۔۔
مگر آف جا رہا تھا۔۔۔اس کی پریشانی اور بڑھ گئی۔۔
“کہیں عشر کا ایکسیڈنٹ؟” اس کے دل میں خیال آیا
“نہیں۔۔” وہ کہتی بھاگتی ہوئی عشر کے گھر گئی۔۔
سامنے ہی بشر صدف بیگم کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔۔
وہ گھبراتی ہوئی اس کے پاس آئی۔۔
“وہ۔۔وہ عشر۔۔” وہ ہکلا رہی تھی۔۔بھاگنے سےاس کا سانس پھول رہا تھا۔۔
“کیا ہوا نگار؟” دف بیگم پریشان ہوئی۔۔
“آپ پلیز عشر کو لے کر آجائیں وہ۔۔وہ مجھ سے بات کر رہا تھا۔۔کال کٹ گئی۔۔پتا نہیں وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟”
“کیا؟” بشر کھڑا ہوا
تبھی اس کا فون بجنے لگا (روحیل) عشر کا دوست کا نمبر جگما رہا تھا۔۔اس نے کال رسیو کی۔۔
“ہیلو۔۔روحیل عشر تمہارے ساتھ ہے؟” بشر نے کال اٹھاتے ہی بولنا شروع کیا۔۔
تھوڑی دیر کی
خاموشی کے بعد بشر نے فون کاٹ دیا۔۔
“کیا ہوا بشر؟” صدف بیگم نے پوچھا
“کچھ نہیں ہوا مما” وہ کہتا تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔۔
“بشر۔۔بشر” صدف بیگم گھبرا گئی۔۔
وہیں نگار نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔
آنسوں آنکھوں سے رواں تھے۔۔
روحیل نے ا
بشر جب وہاں پہنچا تو لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا۔۔
سامنے کا منظر دیکھ اس کے پاؤں وہیں جم گئے۔ اسے زمین اپنے پاؤں تلےسے نکلتی محسوس ہوئی۔۔
عشر کی گاڑی کا حال برا تھا۔۔
وہ گاڑی پوری طرح ختم ہوچکی تھی۔۔
گاڑی کا ایسا کوئی حصہ نہیں تھا جو صحیح سلامت ہو۔۔
اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔
اسے اپنا وجود لرزتا محسوس ہوا۔۔۔
