Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 7)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
“کیا نگار؟” وہ چونکا
“ہاں نگار” بشر نے اشارہ کیا
نگار اس کے پیچھے کھڑی تھی۔۔عشر نے پلٹ کر دیکھا۔۔
“اوہ نگار۔۔” وہ مسکراہٹ سے کہنے لگا
“کیا کر رہے ہیں آپ لوگ یہاں؟” نگار نے کہا
“بھائی سے لڑکی کا نام پوچھ رہا ہوں بتا ہی نہیں رہے” عشر نے بشر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کوئی ہے ہی نہیں یار” اس نے کہا تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔
“Excuse me”
وہ کہتا شاپ سے باہر نکل گیا۔
“سوٹ کیسا ہے بتاؤ؟” عشر نے نگار کو دکھایا
“”بلیک میں لو نا اچھا لگے گا” نگار نے مشورہ دیا
“اچھا…اور تم نے کرلی شاپنگ؟”
“ہاں بس برائڈل ڈریس رہ گیا”
“اچھا چلو آؤلیتے ہیں” عشر کہتا اسے شاپ سے باہر لے گیا۔۔۔
نعمان اور عشر دولہے بنے بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔
وہ دونوں سٹیج پر بیٹھے تھے۔۔
سب کی موجودگی میں ان دونوں کا نکاح ہوا۔۔۔
سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔۔
گلے ملنے لگے۔۔سب بہت خوش تھے۔۔
مسکان رخصت ہوکر سسرال آگئی تھی۔۔۔
نگار اور عشر نے بہت تصویریں بنوائی ساتھ۔۔
وہ لوگ بہت خوش تھے۔۔
جب کہ نعمان کو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی۔۔
مسکان کے لیے وہ گھرنیا نہیں تھا۔۔
مگر وہ پھربھی اداس تھی۔۔
“بھائی یہ زیادتی ہے” عشر نے خفگی سے کہا
“کیا ہوا اب؟” بشر نے کہا
“میری بیوی کی رخصتی نہیں کروائی۔۔۔آخر یہ زیادتی کیوں۔۔کیوں؟”
“ہاہاہا ڈرامے بند کر۔۔اور بڑا ہوجا اب تیری شادی ہوگئی۔۔”
بشر نے ہنس کر کہا
“لیکن یہ زیادتی ہے یا نہیں باتیں؟”
“ہے تو سہی۔۔” بشر نے مسکرا کر کہا
تبھی وہا صدف بیگم آگئی۔۔
“بشر تم سوئے نہیں؟ جاؤ بیٹا سوجاؤ۔۔۔تھک گئے ہوگے۔۔”
صدف بیگم نے کہا
“جی مما بس جا رہا ہوں۔۔یہ عشر نے دماغ کھایا ہوا ہے”
بشر نے شرارت سے کہا
“کیوں کیا ہوا؟”
“یہ کوئی زیادتی کی بات کر رہا تھا۔۔۔بولو عشر؟”
بشر نے چھیڑا۔ عشر کو جیسے جھٹکا لگا۔۔
“نہیں۔۔نہیں مما میں تو کچھ نہیں کہ رہا” عشر نے گھبرا کر کہا
“اچھا جاؤ۔۔سوجاؤ دونوں” وہ کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔
اور بشر ہنستا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
“ہیلو” نگار نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا
“کیا کر رہی تھی ؟کب سے کال کر رہا ہوں” عشر کی آواز میں خفگی تھی۔۔
“موبائل روم میں تھا۔۔۔ تھک گئی آج تو۔۔۔۔” نگار کی تھکی آواز آئی۔
“یار یہ چاچو نے ٹھیک نہیں کیا؟” عشر نے کہا
“کیا؟ “
“میری بیوی کی رخصتی نہیں کی۔۔ایسے تھوڑی نا ہوتا ہے”
“اچھا” نگار نے کچھ دیر خاماشی کے بعد کہا
“کیا ہے یار۔۔تم بیوی بن کر بدل گئی”
“ہیں؟ کیا؟ اب میں نے کیا کردیا؟”
“کوئی بات ہی نہیں کر رہی۔۔۔تم تو خوش ہو رخصتی نہیں ہوئی تو”
“خوش کیوں ہونے لگی۔۔پاگل ہو تم بھی”
“اچھا میں آؤ تم سےملنے؟” عشر نے چہک کر کہا
“تم تو سچ میں پاگل ہوگئے ہو”
“نگار؟”
“عشر میں سو رہی ہوں”
“کمال ہے یار یہاں میری نیندیں اڑا کر تم سو رہی ہو؟”
“تو کیا کروں؟ مجھے بہت نیند آرہی ہے عشر صبح بات کرتے ہیں” نگار نے کہ کر فون بند کردیا
اور عشر فون کو گھورنے لگا۔۔
موسم بھی عجیب سا تھا کبھی بہت گرمی اور کبھی سردی
رات ہوتے ہی موسم ٹھنڈا ہوجاتا۔۔
اتنے ہیوی کپڑوں میں اسے گرمی ہی لگ رہی تھی۔۔
وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔جو رات کے دوبجا رہی تھی۔۔اسے تھکاوٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔۔
نعمان ابھی تک روم میں نہیں آیا تھا۔۔
نیند سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔۔
تبھی دروازہ کھلا۔۔
اس نے فوراً دروازے کی طرف دیکھا۔۔
نعمان کمرے داخل ہوا۔۔
دروازہ بند کرکے وہ گھڑی اتارتا۔۔ڈریسنگ کی طرف گیا۔۔
آئینے میں خود کو دیکھتا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
اے سی آن کیا۔۔شاید اسے بھی گرمی لگ رہی تھی۔۔
پھر وارڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا۔۔
مسکان ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اس نے کپڑے نکالے اور اسے مکمل طور پر اگنور کرتا واش روم چلا گیا۔۔۔
وہ کب سے بیٹھی انتظار کر رہی تھی اور اس نے ایک غلط نظر بھی اس پر نہیں ڈالی۔۔
اسے خود کے اس طرح بیٹھنے پر بے عزتی محسوس ہونے لگی۔۔
نعمان واش روم سے باہر نکلا۔۔
اور بیڈ کے قریب آکر ٹھہر گیا۔۔
“اب تک تو تمہارا دلہن بن کر بیٹھنے کا بھوت سر سے اتر چکا ہوگا؟” اس نے طعنے کستے ہوئے کہا
وہ خاموش بیٹھی رہی۔۔آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی۔۔
“اب ایسے کیا بیٹھی ہو؟ اٹھو اور جا کر چینج کر کے آؤ”
اس نے حکم صادر کیا۔۔
مسکان حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“اٹھو” وہ دھاڑا
وہ یک دم سہم گئی۔۔
آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔۔
اٹھ کر واش روم کی طرف چلی گئی۔۔
آئینے میں خود کو دیکھ اسے خود پر ترس آنے لگا۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
جانے کتنی ہی دیروہ روتی رہی۔۔
پھر فریش ہوکر باہر آئی تو۔۔اس نے بیڈ کی طرف دیکھا۔۔
نعمان چہرے پر ہاتھ رکھے۔۔سو چکا تھا۔۔۔
وہ مرے قدموں سے بیڈ تک آئی۔۔
وہیں کھڑی کھڑی وہ نعمان کی بے حسی کو دیکھنے لگی۔۔
دو آنسوں آنکھوں سے گرے۔۔
وہ بہڈ پر لیٹنے کا ارادہ ترک کرتی الماری تک گئی۔۔
چادر نکال کر بیڈ سے تکیہ اٹھایا۔۔اور صوفے پر لیٹ گئی۔۔
آج اسے اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی۔۔غصہ بھی آرہا تھا۔۔مگر وہ مجبور تھی۔۔
نعمان نے نا پسندیدگی کا اظہار پہلے ہی کردیا تھا۔۔
مگر مسکان دل ہی دل میں اسے پسند کرتی تھی۔۔
پھر کیسے وہ انکار کردیتی شادی سے۔
وہ صبح صبح اٹھا اور چھت پر چلا گیا۔۔
ایکسر سائز کرنے آیا تھا مگر پھر سے اداسی سے ہاتھوں پر چہرہ جمائے بیٹھ گیا۔۔
پھر وہ اٹھا اور نمبر ملانے لگا۔۔
رنگ جا رہی تھی۔۔مگر رسیو نہیں ہوا۔۔
اس نے پھر ڈائل کیا۔۔
“ہیلو” کال رسیو ہوتے ہی آواز آئی
“ہیلو نگار” عشر نے کہا
“کیا ہوا عشر” اس کی نیند میں بوجھل آواز آئی
“سورہی تھی؟” عشر نے پوچھا
“ظاہر ہے یار اس ٹائم سب سوتے ہیں”
“میں تو جاگ رہا ہوں”
“تمہیں نیند نہیں آرہی تو میں کیا کرو؟ مجھے تو سونے دو”
” کوئی سونا وونا نہیں ہے۔۔شرافت سے چھت پر آؤ”
“کیا؟ کیوں؟”
“مجھے کچھ دینا ہے تمہیں”
“کیا؟”
“آؤ تو یار”
“اچھا آرہی ہوں” اس نے کہ کر فون بند کردیا۔۔
نعمان کی جب آنکھ کھلی تو اس نے برابر میں دیکھا مسکان نہیں تھی۔۔
“یہ کہاں گئی؟” اس نے کمرے میں نظر دوڑائی۔۔
سامنے ہی صوفے پر وہ گہری نیند سو رہی تھی۔۔
“اچھی بات ہے اوقات کا پتا چل گیا اسے اپنی” وہ خود کلامی کرتا کھڑا ہوا۔۔
“اٹھو” وہ صوفے کے قریب آیا۔۔
مگر وہ گہری نیند سو رہی تھی۔۔
“اٹھو” اس نے بازو پکڑ کر ہلایا
“جج۔۔جی” وہ ہڑبڑا کر اٹھی
“زیادہ دیر تک سونے والے مجھے بلکل پسند نہیں۔۔اٹھو اور جا کر نا شتہ لاؤ۔۔”
اس نے حکم دیا۔۔
“جی” وہ کہتی کھڑی ہوئی اور فریش ہونے واش روم کی جانب چل دی۔۔
جب تیار ہو کر نیچے جانے لگی تو نعمان نے آواز دی۔۔
“جی”
“یہ لو۔ تمہارا گفٹ” اس نے ڈبی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جسے نا چاہتے ہوئے بھی۔۔مسکان کو پکڑنا پڑا۔۔
اس نے ڈبی کھولی تو اس میں دو خوبصورت سے کنگن تھے۔۔
جسے دیکھنے پر اسے اپنی ایک بار پھر بے عزتی محسوس ہوئی۔۔
“باہر کسی کو کچھ بتایا تو اپنی حالت کی زمہ دار تم خود ہوگی” اس نے دھمکی دی۔۔
وہ چپ چاپ سنتی رہی۔۔۔
وہ بیٹھا کب سے انتظار کر رہا تھا۔۔
کہ اس کی آنکھوں پر کسی نے ہاتھ رکھے۔۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
“نگار” اس نے ہاتھ پکڑ کے آنکھوں سے ہٹائے۔۔
مہندی والے ہاتھوں کو دیکھ اس نے اپنے ہونٹوں سے لگائے۔۔
“کب سے انتظار کر رہا تھا مسسز” عشر نے اسے پاس بٹھاتے ہوئے کہا
“اچھا کیا دینا ہے جلدی دو” نگار نے دلچسپی سے کہا
” تم آنہیں رہی تھی گفٹ لایا تھا تمہارے لیے”
“پھر دو کہاں ہے؟”
“وہ میں نے کسی اور کو دے دیا۔۔”
“کس کو؟”
“اب کس کس کا نام بتاؤں مجھ پر تو بہت لڑکیاں مرتی ہیں” عشر نے شرارت سے کہا
وہ نگار کو تپانا چاہتا تھا۔۔
“اچھا۔۔مرتی ہوں گی۔۔میں تو تمہارے ساتھ جینا چاہتی ہوں” اس نے عشر کا بازو کو تھامتے ہوئے اس کے کاندھے پر سر رکھ کر کہا
“ہائے سچی؟” عشر نےخوش ہو کر پوچھا
“مچی” نگار نے کہا
“نگار؟”
“ہاں”
“اگر میں مر گیا تو تم روؤ گی؟” عشر نے سوال کیا
نگار نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا
عشر نے عجیب سی بات کہی تھی۔۔
“عشر… Stop it” وہ یک دم کھڑی ہوئی
“نگار میں مزاق کر رہا تھا” عشر نے اسے شانوں سے تھامتے ہوئے کہا۔
“اللہ نا کرے تمہیں کچھ ہو۔۔میری عمر بھی تمپیں لگ جائے” نگار نے اسکے سینے سے لگتے ہوئے کہا۔
آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔
“تم روکیوں رہی ہو؟” عشر نے اسے روتا دیکھ پوچھا
“مجھے نہیں پتا” اس نے مختصر کہا
۔۔میں تمہیں رولانا کبھی نہیں چاہتا۔۔۔اپنے ساتھ بھی نہیں اپنے بعد بھی نہیں” عشر نے سنجیدگی سے کہا
“عشر؟” وہ غصہ سے چلائی۔۔
اور ایک گھونسہ اس کے پیٹ پر رسید کیا۔۔
“آہ۔۔۔ظاطم مسسز۔۔ہسبنڈ پر ہاتھ اٹھا رہی ہو؟”
“اس سے بھی برا حال کروں گی دوبارا ایسی بکواس کی تو”
نگار نے غصہ سے کہا
“اچھا بابا نہیں کر رہا۔۔اپنا گفٹ تو دیکھ لو” اس نے ڈبی آگے کرتے ہوئے کہا
“کیا ہے اس میں؟”
“اس میں یہ ہے” عشر نے ایک خوبصورت پینڈنٹ نکالتے ہوئے کہا
“واؤ۔یہ میرے لیے ہے؟۔” نگار نے اپنے ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے خوشی سے کہا
“بلکل۔۔اپنی مسسز کے لیے لایا ہوں میں” عشر نے قریب آتے ہوئے کہا
اور اسے وہ پینڈنٹ پہنانے لگا۔۔
“ویسے کس خوشی میں؟” نگار نے پوچھا
“ہمارے نکاح کی خوشی میں” عشر نے کہا
“بہت اچھا لگ رہا ہے تم پر یہ”
“اچھا۔۔ تھینک یو” نگار کہتی اس کے گلےگی۔۔
اس نے مسکراہٹ کے ساتھ نگار کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔
