Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 12)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 12)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
“تم نے بلکل ٹھیک سوچا ہے بشر کو ہی شادی کرنی چاہیے” دانیال صاحب نے کہا
“مگر وہ بچہ تو نہیں ہے۔۔اسے سمجھنا چاہیے۔۔”
صدف بیگم نے کہا
“تم دوبارہ اسے سمجھاؤ۔۔”
“ہاں لیکن میں زبردستی تونہیں کر سکتی نا اس کے ساتھ”
“نگار کی شادی کہیں نا کہیں تو کرنی ہے نا؟۔۔خدانخواستہ وہ لوگ خوش نا رکھ سکے نگار کو تو۔۔؟”
“آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔۔ایسے وقت میں بشر کو ہی ساتھ دینا چاہیے”
“آپ نہال سے غزالہ سے تو بات کریں۔۔”
“انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔گھر کا بچہ ہے۔۔” دانیال صاحب نے کہا
“تم اسے سمجھانا۔۔بلکہ فیصلہ سنانا۔۔ ” دانیال صاحب نے کہا
“جی” وہ کہتی سوچ میں پڑ گئی۔۔
وہ کچن سے تیزی سے نکلی۔ہاتھ میں جوس میں گلاس تھا۔۔
تبھی اس کا زور دار ٹکراؤ ہوا۔۔اور سارا جوس نعمان کی شرٹ پر گر گیا۔۔
“آپ۔۔ایم۔۔سوری” وہ بوکھلائی۔۔
نعمان کا زاودار تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔۔
جس سے وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرتی گرتی بچی۔۔
“دکھتا نہیں ہے تمہیں اندھی ہو؟” وہ چیخا
مسکان آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔۔
وہ سسکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔
نعمان کو ایک دم اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔
“مسکان” وہ آگے بڑھا۔۔
“شٹ اپ” وہ چیخی
اور تیزی سے بھاگتی اوپر چلی گئی۔۔
نعمان اس کے پیچھے اوپر بھاگا۔۔۔
“مسکان” وہ کمرے میں آیا۔۔
وہ سامنے ہی زمین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔۔
“یار۔۔” وہ سر پر ہاتھ رکھ کر بڑبڑایا۔۔
“مسکان” وہ قریب آیا۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔
“مسکان” اس نے اس کے بازوں پر ہاتھ رکھا۔۔
“ہاتھ مت لگائیں مجھ۔۔۔” وہ چلائی۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو؟ میں آپ سے پیار کرتی ہوں اس لیے چپ چاپ آپ کی ہربات برداشت کرتی رہی۔۔مگر اب بس ہوگئی۔۔میں تھک گئی ہوں آپ کی بے رخی برداشت کرتے کرتے”
وہ کہتی چلی جا رہی تھی۔۔
“ہاں میں محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔مگر آپ کو تو ضرورت ہی نہیں میری محبت کی۔۔کیوں کہ آپ کے دل میں کوئی اور ہے۔۔مگر یہ جانتے ہوئے بھی میں ہمت نہیں ہاری۔۔مجھے لگا ایک دن میں آپ کا دل جیت لوں گی۔۔مگر آجہاتھ اٹھا کر آپ نے ثابت کردیا۔۔کہ میں غلط تھی۔۔غصہ آپ کو شرٹ خراب ہونے کا نہیں تھا۔۔جو نفرت آپ کو مجھ سے ہے وہ سامنے آئی ہے” وہ روتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالنے لگی۔۔
نعمان خاموش تھا۔۔
“آپ فورس کیوں کر رہی ہیں؟” بشر نے کہا
“کیوں کے یہ ہمارا فیصلہ ہے” صدف بیگم نے کہا
“اس کی اور میری عمر میں بہت فرق ہے” اس نے بہانا بنایا
“عمر کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔۔پانچ چھ سال ہی بڑے ہو بس” صدف بیگم نے اس کے بہانے کو سائیڈ کیا۔۔
“میں نگار سے شادی نہیں کر سکتا ماما” بشر نے کہا
“بشر تم سمجھ نہیں رہے ہو۔۔؟”
“کیا سمجھوں میں؟ ۔۔۔آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے ؟”
وہ غصہ سے کہنے لگا۔
“اس لڑکی سے کون شادی کرےگا پھر تم نہیں کرو گے تو؟۔۔۔اس بچی کا قصور کیا ہے؟ اگر اس کی قسمت ہی ایسی تھی تو؟”
وہ اداسی سے کہنے لگی۔
“مما میں سمجھتا ہوں اس میں اس کا کوئی قصور نہیں مگر۔۔۔” وہ کہتے کہتے رکا
“بشر کیا کمی ہے نگار میں؟خوبصورت ہے، پڑھی لکھی ہے، کم عمر۔۔۔ہر چیز میں پرفیکٹ ہے۔۔” وہ تلخی سےپوچھنے لگی۔وہ خاموش رہا۔۔
“میں جانتا ہوں اس میں کوئی کمی نہیں مگر۔۔۔میں اس سے شادی کیسے کرلوں؟۔۔۔۔جس کے خواب میرے عشر نے دیکھے تھے۔۔اس پر صرف عشر کا حق تھا۔۔”
وہ دل میں سوچنے لگا۔۔
“بولو؟” انہوں نے پھر پوچھا
بشر کے پاس جواب نہیں تھا
“دیکھو بشر اس پر بیوہ ہونے کا داغ لگ چکا ہے۔ ۔۔۔ تمہیں یہ شادی کرنی ہوگی۔۔یہ سب کا فیصلہ ہے اور اس میں نہیں کی کوئی گنجائش نہیں” انہوں نے فیصلہ سنایا اور وہاں سے چلی گئی مگر بشر وہیں کھڑا رہا۔۔۔اس کا ضمیر اسے اس شادی کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔۔۔
“مجھ سے اتنی نفرت کرتا ہے نعمان۔۔کیوں؟ میں اس کے جتنی خوبصورت نہیں ہوں اس لیے؟” وہ لیٹی سوچ رہی تھی۔۔کمرے میں بلکل اندھیرا تھا۔۔
نعمان باہر گیا ہوا تھا۔۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا۔۔
جب نعمان روم میں آیا۔۔
مسکان نے جھٹ آنکھیں بند کی۔۔
نعمان فریش ہونے واش روم گیا۔۔پھر آکر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
اس نے ایک نظر صوفے پر لیٹی مسکان پر ڈالی۔۔
پھر لیمپ آف کردیا۔۔
کمرے میں خاموشی تھی بس۔۔نعمان کی سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔۔
جیسے وہ رو رہا ہو۔۔
مسکان کو جھٹکا لگا۔۔
مگر اس نے اٹھنے کی ہمت نہیں کی۔۔
وہ ایسے ہی لیٹی رہی۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد کمرے میں بلکل۔خاموشی ہوگئی۔۔
اسے بھی کب نیند آئی اسے نہیں پتا۔۔
وہ رات سو نہیں سکا۔۔
اس خیال سے کہ وہ نگار سے شادی سے انکار کیسے کرے؟
اسے بار بار عشر کا چہرہ یاد آرہا تھا۔۔
آج وہ عشر کی یاد میں بہت رویا تھا۔۔
کتنی دیر بعد اس کی آنکھ لگی تھی۔۔
صبح کے سات بج رہے تھے۔۔ جب اس کی آنکھ کھلی۔۔
وہ اٹھا اور واشروم گیا۔۔فریش ہوکر کھڑکی کی طرف گیا۔۔
اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا۔۔ٹھنڈی ہوا اس سے ٹکرائی۔۔
“اس نے نیچے فیکھا تو نگار پر نظر پڑی جو لان میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔
شاید کسی گہری سوچ میں تھی۔۔
وہ بلکل ساکت بیٹھی تھی۔۔
ہر چیز سے آری۔۔
وہ اب سب ایسے ہی نظر آتی تھی۔۔اکیلی تنہائی میں بیٹھی۔۔یا اپنے کمرے میں قید۔۔وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔۔
تبھی۔۔بارش شروع ہوگئی۔۔
بشر کو بارش بلکل پسند نہیں تھی۔۔
نگار چپ چاپ اٹھی اور اندر چلی گئی۔۔
بشر اسے دیکھ حیران ہوا۔۔
وہ جو بارش ہوتے ہی بھاگتی ہوئی آتی۔۔
اسے بارش بہت پسند تھی۔۔
کھیلتی کودتی۔۔انجوائے کرتی بارش کو۔۔
مگر آج بارش کو دیکھ وہ اندر چلی گئی تھی۔
اس کی آنکھ کھلی تو نعمان گہری نیند سو رہا تھا۔۔
وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی۔۔
وہ پریشان تھی کہ نعمان رات کو رو کیوں رہا تھا۔۔
جبکہ اس نے اسے کبھی روتا نہیں دیکھا تھا۔۔
وہ وارڈ روب کی طرف گئی۔۔
کپڑے نکالے اور واشروم چلی گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد جب نہا کر نکلی تو نعمان اٹھ چکا تھا۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتی ڈریسنگ کے سامنے آئی۔۔
بال خشک کرنے لگی۔۔
اس کے گیلے بال کمر پر گرے ہوئے تھے۔۔
نعمان اسے گھور رہا تھا۔۔
پھر اٹھ کر اس کے قریب گیا۔۔
اس نے آئینے میں دیکھا وہ اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
وہ ہاں سےجانے لگی کہ نعمان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
اس نے یک دم پلٹ کر دیکھا کہ اس کے گیلے بالوں سے اڑتے کچھ چھینٹے نعمان کے چہرے پر گرے۔۔
نعمان نے یک دم آنکھیں بند کی۔۔
مسکان دیکھ شرمندہ ہوئی۔۔
اور اپنا ہاتھ چھڑوا کر بال باندھنے لگی۔۔
کہ نعمان نے ہاتھ بڑھا کر اسے روکا۔۔
“آ۔۔ہاں۔۔گیلے بالوں کو باندھتے نہیں ہیں” نعمان نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیے پلٹ گئی۔۔
“مسکان” اس نے پکارا
مگر وہ بنا کوئی جواب دیے۔۔دراز ٹٹولنے لگی۔۔
“مسکان۔۔” اس نے اسے ہاتھ سے پکڑا کر کھینچا۔۔
“ناراض ہو؟”نعمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے” وہ ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔
“سوری” نعمان نے کہا۔۔
وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
