Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467

Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 20) Last Episode (Part - 1)

355K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Hum Nafas (Episode - 20) Last Episode (Part - 1)

Mere Hum Nafas By Isra Rao

وہ کمرے کے باہر کھڑی تھی۔۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بشر ایسا کیوں کر رہا ہے؟

دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے۔۔

وہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑی رہی۔۔

پھر جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

تبھی وہ کمرے سےباہرآیا وہ تیار تھا۔۔

“بشر” وہ کچھ کہتی مگر۔۔

وہ اسےمکمل طور پر نظر انداز کرتا باہر نکل گیا۔۔

وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔

وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی اور بیڈ پر گرتے ساتھ رونا شروع کردیا۔۔

وہ تیز تیز رو رہی تھی مگر اسے سننے والا وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چیئر پر بیٹھا گہری سوچ میں تھا۔۔۔۔

خیالات اس سے دور نہیں تھے۔۔

“کیا میں اتنا کمزور تھا؟۔۔۔ایک لمحے کے لیے بھی میں عشر کو کیسے بھول گیا؟۔۔۔

میں اتنا کمزور تھا کہ ایک عورت سے ہار گیا۔۔”

وہ سوچ کر رہ گیا۔۔

پھر اس کا فون بجنے لگا اور خیالات کا تسلسل ٹوٹا۔۔

اس نے کال رسیو کی۔۔

“ہیلو اسلام علیکم مما”

“ہیلو بشر۔۔وعلیکم اسلام۔۔۔کیسے ہو؟

“ٹھیک ہوں”

” بیٹا نگار فون نہیں اٹھا رہی۔۔”

“اچھا۔۔کوئی کام کر رہی ہوگی”

“وہ ٹھیک تو ہے نابیٹا؟”

“جی مما ٹھیک ہے۔۔میں دیکھتا ہوں پھر آپ کو کال بیک کرتا ہوں” بشر نے کہ کر فون بند کردیا ۔

(دفاع ہوجاؤ)

اسے صبح کا اپنا رویہ یاد آیا۔۔

اسے اچھا محسوس نہیں ہوا۔۔

اس نے نگار کا نمبر ڈائل کیا۔۔

مگر کال رسیو نہیں ہوئی۔۔

اس نے پھر ڈائل کیا۔۔میسج چھوڑا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔۔ وہ پریشان ہوگیا۔۔

وہ تیزی سے وہاں سے نکلا۔۔

گاڑی دوڑاتا گھر آیا۔۔

اس نے کمرے میں دیکھا

وہ قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔۔

اسے دیکھ اس کی جان میں جان آئی

اس نے سکون کا سانس لیا اور واپس باہر نکل گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مما بشر اور نگار کب آئیں گے؟” مسکان نے پوچھا۔۔

“کل آئیں گے۔۔” صدف بیگم نے کہا۔۔

“اچھا ۔۔”

“تیری بات نہیں ہوئی؟”

“ابھی کچھ دن سے تونہیں ہوئی۔۔پہلے ہوئی تھی”

“اچھا وہ خوش تو ہے نا بشر کے ساتھ؟”

“ہاں مجھے تو خوش ہی لگی۔۔” مسکان الجھی۔۔

“اچھا۔۔اللہ خوش ہی رکھے دونوں کو” صدف بیگم نے دعا دی۔۔

“مما بشر بھائی کو پیار، محبت جتانا نہیں آتا۔۔وہ ایک سخت قسم کا انسان ہے۔۔”

“ہاں مگر وہ شروع سے ہی ایسا ہے”

“مگر مما ایک عورت کو ایسا انسان نہیں بلکہ ایسا چاہیے ہوتا ہے جو اسے سمجھے، اسے پیار جتائے، دکھائے ۔۔

بشر بھائی کو خود کو بدلنا چاہیے اب۔۔نگار نے پہلے ہی بہت کچھ سہا ہے۔۔انہیں اب چاہیے کہ وہ پیار محبت اسے جتائے۔۔اپنائیت دکھائے” مسکان نے کہا

“سمجھ جائے گا آہستہ آہستہ” صدف بیگم نے کہا

شاید” مسکان کہتے ہوئےسوچنےلگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دو تین دن ہوگئے تھے اس واقع کو مگر ان دونوں میں اب کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔۔

وہ رات گئے گھر اتا اور باہر صوفے پر ہی لیٹ کر سوجاتا۔۔

نگار نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔۔

تو اب نگار نے بولنا چھوڑ دیا تھا۔۔

آج انہیں واپس گھر جانا تھا۔۔

ساری پیکنگ ہو چکی تھی۔۔

وہ سامان اٹھانے ہی لگا تھا کہ نگار نے پکارا۔۔

وہ چپ چاپ جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور بشر نے گاڑی اسٹارٹ کرلی۔۔

پورے راستے وہ لوگ خاموش ہی رہے۔۔

گھر پہنچتے ہی نگار گاڑی سے نکل کر اندر چلی گئی۔۔

“نگار” صدف اسے اندر آتا دیکھ اس کی طرف لپکی۔۔

اسے خوب پیار کیا۔۔

وہ بھی سب سے خود دلی سے ملی۔۔

غزالہ بیگم اور مسکان بھی وہیں ان کا انتظار کر رہی تھی۔۔

ان کے لیے بہت سے کھانے بنائے گئے تھے۔۔

جنہیں سب نے خوب انجوائے کیا۔۔کتنی ہی دیر وہ لوگ خوش گپیوں میں لگے رہے۔۔

“تم دونوں چپ چپ کیوں ہو؟” مسکان نے پوچھا

“ارے یہ لوگ تھک گئے ہونگے بیٹا۔۔جاؤ آرام کرلو” صدف بیگم نے کہا۔۔

اتنا سنتے ہی نگار اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

پھر باقی سب بھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے مگر بشر وہیں بیٹھا رہا۔۔

جانے کتنی ہی دیر۔۔

رات کے دو بج رہے تھے جب وہ کمرے میں آیا۔۔

نگار بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی۔۔

اسے دیکھ بشر کے دل میں ایک کسک اٹھی۔۔

پھر قریب آکر اس پر کمبل صحیح کیا اور جا کر صوفے پر لیٹ گیا۔۔

نگار نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔

وہ صوفے پر سو رہا تھا۔۔

نگار نے اپنے اوپر کمبل کو دیکھا۔۔

پھر گہری سوچ میں ڈوب گئی۔۔وہ بشر کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب نماز کے لیے اٹھا تو نگار پہلے ہی اٹھ چکی تھی۔۔

وہ جائے نماز پر بیٹھی نماز میں مشغول تھی۔۔

وہ اسے گہری نظر دیکھتا باہر نکل گیا۔۔

وہ نماز پڑھ کر آیا تب بھی وہ جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی۔۔

وہ رو رو کر دعا مانگ رہی تھی۔۔

اسے پتا ہی نہیں چلا کہ بشر اسے دیکھ رہا ہے۔۔

اس کی دعا میں شدت دیکھ بشر کا دل ہل کر رہ گیا۔۔

“کیا یہ میری وجہ سے؟

میں تمہیں دکھ نہیں دینا چاہتا نگار۔۔

مگر میں تمہیں یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ میں تم سے کس قدر محبت کرتا ہوں۔۔” وہ دل میں سوچنے لگا۔۔

“نگار” اس نے دھیرے سے پکارا۔۔

نگار نے دعا ختم کی اور اسے دیکھا۔۔

مگر کچھ کہے بنا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

اورباہر جانے لگی۔۔

“نگار میری بات سن کر جاؤ” بشر نےپھر کہا۔۔

“جی کہیں” وہ پلٹ کر بولی۔۔

“نگار تمہیں اگر میری کوئی بات بری لگی تو پلیز مجھے معاف کردینا۔۔” بشر نے شرمندگی سے کہا

“ایک جواب دیں گے سچ سچ؟”

“ہاں پوچھو”

“آپ مجھ سے دورکیوں بھاگتے ہیں کیا میں اتنی بری ہوں؟ کیا آپ مجھے اپنے لائق نہیں سمجھتے؟”

نگار نے پوچھا

مگر وہ خاموش رہا

“جواب دیں کیوں آپ کو میرے وجود سے گھن آتی ہے۔۔

میں بیوہ کے داغ کے ساتھ ملی اس لیے؟ “

وہ تیز لہجے میں کہنے لگی

“نہیں ایسی ات نہیں ہے نگار”

بشر نے فوراً کہا

“پھر کیا وجہ ہے جو آپ مجھ سے محبت کرتے ہوئے بھی

مجھ سے دور رہتے ہیں کیوں کر رہے ہیں ایسےخود کے ساتھ بھی اورمیرے ساتھ بھی۔۔؟” اس کی آواز بھر آئی۔۔

“میں ۔۔تم۔۔سے۔۔محبت نہیں۔۔” وہ اٹکتے ہوئے کہنے لگا۔کہ نگار کے بات کاٹی۔

“آپ کرتے ہیں” وہ چیخی۔۔

“نہیں کرتا میں۔۔” وہ منہ پھیرتے کہنے لگا۔۔

“آپ کرتے ہیں ” وہ پھر چیخی

“نہیں کرتا میں”

بشر نے پھر دوہرایا جملہ

“آپ کرتے ہیں میری آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات کہیں۔۔

آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں۔۔کرتے ہیں۔۔۔کرتے ہیں۔۔” وہ چیخ کر ایک ہی بات بار بار کہ رہی تھی۔۔

بشر کو ایسا لگا جیسے اس کا دماغ پھٹ جائےگا۔۔

“چپ کرو۔۔بس” وہچلایا

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں” اس نے پھر سے کہا

“ہاں کرتا ہوں۔۔” وہ کہ بیٹھا

نگار ہلکا سا مسکرائی۔۔

“ہاں کرتا ہوں تم سے محبت اور ہمیشہ سے صرف تم سے کی ہے مگر تم میرے عشر کی تھی۔۔تم پر صرف اس کا حق تھا۔۔میرا نہیں۔۔وہ تو قسمت نے میرے نصیب میں تمہیں لکھ دیا۔۔ورنہ میں نے تمہیں کبھی پانا نہیں چاہا تھا نگار” اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔۔

“مگر اس رات میں پتا نہیں کیسے تمہارے قریب آگیا۔۔۔

میں نے ہمیشہ خود کو روک کر رکھا۔۔تم سے دور کر کے رکھا۔۔مگر میں ہار گیا۔۔میں خود پر قابو نہیں کرپایا۔۔

میں عشر کوکیا جواب دوں گا کہ میں میں تمہیں اس کی محبت اس کی امانت سمجھا ۔۔” وہ کہتے کہتے رکا۔۔

“آپ کو یہ یاد ہے کہ آپ عشر کو کیا جواب دو گے؟ مگر میں یاد نہیں۔۔مجھے کیاجواب دو گے مسٹر بشر۔۔میں آپ کی بیوی ہوں۔۔اور میرا حق مجھے نادینا۔۔اس کا کیا جواب دو گے آپ؟ ” نگار نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔

وہ خاموش رہا۔۔

“کیا آپ کو اس بات کا جواب اللہ کو نہیں دینا ہوگا؟

عشر اس دنیا سے جا چکا ہے اس کے حق اسی کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں۔۔جو زندہ ہیں انہیں تو جواب دو آپ۔۔ ” نگار کہتی چلی جا رہی تھی۔۔

مگر خاموش کھڑا سن رہاتھا۔۔

“آپ مجھے اس کی امانت کہ رہے ہیں نا؟ پھر مجھے اس کے پاس بھیج دیں اس کی امانت اسے لوٹا دیں” گار نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“نعمان” مسکان نے پکارا۔۔

“ہاں” وہ اس کی طرف بڑھا۔۔

“نعمان اس لڑکی کا کیا ہوا؟” مسکان کو آج بیٹھے یاد آیا

“کون لڑکی؟”

“جس سے تم پیار۔۔”

نعمان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔۔

“میں صرف تم سے پیار کرتا ہوں”

نعمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“اور رہی بات اس لڑکی کی۔۔اس کی شادی ہوگئی میں نے تمہیں بتایا تھا۔۔” نعمان نے کہا۔۔

“ہاں مگر اس دن کال آئی تھی۔۔”

“ہاں اس نے کی تھی ایک بار کال مگر میرے دل میں اب کسی اور کے لیے جگہ نہیں میرے دل میں صرف تم ہو۔۔

اور ہمیشہ رہو گی۔۔” نعمان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔

وہ دونوں دل سے خوش تھے۔۔