Mere Hum Nafas By Isra Rao NovelR50467 Mere Hum Nafas (Episode - 14)
No Download Link
Rate this Novel
Mere Hum Nafas (Episode - 14)
Mere Hum Nafas By Isra Rao
اس کی جب آنکھ کھلی تو فجر کی آذان سنائی دی۔۔
وہ اٹھا اور وضو کیا۔۔
پھر نماز کےیے مسجد کی راہ لی۔۔
مسجد پہنچ کر نماز ادا کی۔۔
جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو نگار کا چہرہ سامنے آگیا۔۔
اس کی آنکھ سے آنسوں گرا۔۔
“یا اللہ تو سب جانتا ہے میں نے نگار کو دل سے نکال دیا تھا۔۔
آج پھر حالات مجھے وہیں لے آئے۔۔
میرے بھائی کی خوشی اس میں تھی۔۔
اس پر صرف اس کا حق تھا۔۔جسے میں اپنے عشر کے لیے بھولا چکا تھا۔۔اسے کیسے اپناؤں؟ کیسے کروں یاللہ۔۔۔یااللہ میں عشر کو کیا جواب دوں گا؟”
آنسوں اس کی آنکھوں سے رواں تھے
“مگر یارب میں یہ بھی جانتا ہوں نگار کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔میں نے کبھی اسے دعاؤں میں نہیں مانگا۔۔میں نے بس نگار کی خوشیاں مانگی ہیں اور اب بھی یہی چاہتا ہوں بس وہ خوش رہے۔۔.یہ سچ ہے میں اسے چاہ کر بھی بھولا نہیں سکا۔۔۔ مگر مجھے کوئی لالچ نہیں میرا مفاد نہیں اس شادی میں وہ میرے بھائی کی امانت ہے بس۔۔میں اسے ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔یااللہ مجھے دے دے۔۔
اس کی زندگی خوشیوں سے بھر دےپروردگار۔۔
وہ پھر سے ہنسنے مسکرانے لگے۔۔ بس میری یہی دعاہے”
اس نے نم آنکھوں سے دعا کی۔۔
پھر خاموشی سے اپنی ہتھیلیوں کو گھورنے لگا۔۔
جب ہاتھ دعا کو اٹھتے ہیں الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں
بس دھیان تمہارا رہتا ہے اور آنسوں بہتے رہتے ہیں
ہر خواب تمہارا پورا ہو اس رب سے یہی منت کرتا ہوں
ہاں! میں ایسی محبت کرتا ہوں۔۔
آج اس کا نکاح تھا نگار کے ساتھ
وہ بہت کچھ اپنے رب سے کہنا چاہتا تھا۔مگر
اس کے پاس اور الفاظ نہیں تھے۔۔
بس ہاتھ اٹھائے خاموش رہا۔۔
بے شک اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔۔
۔۔
اسے تیار کیا جا رہا تھا۔۔وہ پہلی ایسی دلہن تھی۔۔
جو سادہ سی تیار تھی۔۔اس نے کوئی بہت زیادہ میکاپ نہیں کیا۔۔
بیوٹیشن کوغزالہ بیگم نے زبردستی بلایا تھا۔
نگار کے لاکھ منع کرنے پر بھی۔۔
مگر نگار نے بیوٹیشن کو پہلے ہی کہ دیا تھا۔۔
ہیوی میک اپ نا کرے۔۔
اور بیوٹیشن نے اس کی ہدایت کے مطابق ہی اسے تیار کیا۔۔
سب نیچے چلے گئے تھے۔۔
نکاح شروع ہوگیا تھا
“قبول ہے” بشر نے کہا۔۔
مزید دو بار اور کہنے پر۔۔
سب مبارک باد دینے لگے ایک دوسرے کو۔۔
مگر جو توڑ پھوڑ بشر کے اندر چل رہی تھی وہ صرف بشر ہی جانتا تھا۔۔
نگار رخصت ہو کر اس گھر آچکی تھی۔۔
جہاں اس نے ہمیشہ سے آنے کے سپنے دیکھے تھے۔۔
“ماشاءاللہ بہت اچھی لگ رہی ہو” صدف بیگم نے کہا
“مما یہ ضد کر کے سمپل تیار ہوئی ہے۔۔سوچیں اگر یہ اور زیادہ تیار ہوتی تو کیسی لگتی” مسکان نےشرارت سے کہا
“ہاں یہ تو ہے ہماری نگار ہے ہی اتنی پیاری” صدف بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئےکہا
اور اس کے ہاتھوں میں کنگن پہنانے لگی۔۔
“یہ میری طرف سے گفٹ ہے بیٹا” صدف بیگم نے کہا
نگار ہلکا سا مسکرا دی۔۔
“مسکان اسے کمرے میں چھوڑ آؤ تھک گئی ہوگی آدام کرلے گی” صدف بیگم نے کہا۔
اور مسکان اسے روم میں لے گئی۔۔
“کچھ چاہیے ہو تو بتا دینا” مسکان نے جاتے جاتے کہا
“نہیں کچھ نہیں چاہیے۔۔اور چاہیے بھی ہوگا تو میں خود لے لوں گی۔۔ہر چیز سے واقف ہوں اس گھر کی” نگار نے مسکرا کر کہا
“یہبھی ٹھیک ہے” مسکان نے ہنس کر کہا اور وہاں سےچلی گئی۔۔
“اچھا مما میں جاتی ہوں دیکھو چچی کو کوئی کام ہوگا تو شادی کا گھر ہے نا ” مسکان نے کہا
“ہاں میری بچی کتنی سیانی ہے۔۔اللہ ہمیشہ خوش رکھے جاؤ بیٹا” صدف بیگم نے پیار کرتے ہوئے کہا
“پاپا بھائی کہاں ہیں؟” اس نے پاس بیٹھے دانیال صاحب کو دیکھ کر کہا۔۔
“اس کے دوست آئے ہیں کچھ ان کے پاس ہے۔۔” دانیال صاحب نے بتایا
“اچھا۔۔چلیں میں چلی ہوں اللہ حافظ” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
“سب خیر سے ہوگیا اللہ کا شکر ہے” صدف بیگم نے بیٹھتے ہوئے کہا
“ہاں بساللہ نصیب اچھے کرے دونوں خوش رہیں”دانیالصاحب نے دعا دی۔۔
“آمین” صدف بیگم نے گہرا سانس خارج کیا
اور مسکرا دی۔۔
وہ لوگ آج بہت خوش تھے۔۔
وہ جب کمرے میں آئی تو نعمان انکھیں موندے لیٹا تھا۔۔
وہ جیولری وغیرہ اتارتی ڈریسنگ کی طرف گئی۔۔
نعمان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔پھر مسکرا دیا۔۔
وہوارڈ روب سے کپڑے نکال کر واش روم چلی گئی۔۔
پھر تھوڑی ہی دیر میں نکلی اور تکیہ اٹھا کر صوفے پر لیٹ گئی۔۔
نعمان نے یک دم اسے دیکھا۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اٹھ کھڑاہوا۔۔
مسکان نے اسے کھڑے ہوتے دیکھ آنکھوں پر بازوں رکھے آنکھیں بند کی۔۔
وہ سیدھا اس کے پاس آیا۔۔
اور اسے گود میں اٹھانے لگا۔۔
“یہ کیا کر رہے ہو؟” وہ ہڑبڑائی۔۔
مگر اس نے ان سنی کرتے اسے گود میں اٹھا لیا۔۔
“چھوڑو نعمان۔۔کیا کر رہے ہو؟” وہ گھبرا کر پوچھنے لگی۔۔
“کوئی انوکھا کام تو نہیں کر رہا بیوی ہو تم میری” نعمان نے اسے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے کہا۔۔
“آج خیال آیاہے آپ کو بیوی ہوں۔۔؟ پہلے تو میں بیڈ پر لیٹ جاتی تھی تو آپ سوناتک پسند نہیں کرتے تھے۔۔” مسکان غصہ سے کہنے لگی۔۔
نعمان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“اور خود اس دن میرے صوفے پر سوگئے تھے۔۔
وہاں بھی تو میں ہی سوتی تھی۔۔وہاں کیوں لیٹے تھے؟” وہ بولتیجا رہی تھی۔۔
“اور اب مجھے خود یہاں لے آئے۔۔کیوں ترس آگیا مجھ پر؟
مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔۔
میری کوئی پرواہ نہیں ہے آپ کومیں سمجھ چکی اور اب عادت بھی ہوگئی۔۔آپ بس اپنی اس معشوقا کو دیکھو۔۔
جس کےلیے پیار اور پرواہ دونوں ہیں آپ کے دل میں”
وہ غصہ میں بولتی چلی جارہی تھی۔۔وہ انجان تھی کہ وہ کیا کہ رہی ہے۔۔
“مسکان بدتمیزی مت کرو” نعمان نے کہا
“کیوں نا کروں آپ بھی تو ایسے ہی لہجے میں باتکرتے تھے مجھ سے تو میں کیوں نا کروں؟” وہ ڈھٹائی سےکہنے لگی۔۔
“تم چپ نہیں ہوئی نا مسکان تو۔۔” وہ کہتے کہتے رکا۔۔
“تو کیا کرلو گے۔۔میں ڈرتی نہیں ہوں” اس نے تلخی سے کہا۔۔
تبھی نعمان نے اس ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔۔
“بس چپ میری بھی بات سن لو کب سے بولتی جا رہی ہو۔۔”
نعمان نے کہا
“کوئی نہیں ہے میری لائف میں۔۔ہاں تھی ضرور مگر وہ اب نہیں ہے۔۔کیا تم یہ جاننا چاہتی ہو کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔یا یہ کہ اس نے کسی اور سے شادی کرلی۔۔
یا یہ کہ میں کس ععزیت سے گزرا تھا،یا یہ کہ مجھے تمہارے ساتھ غلط کرنے کی سزا مل گئی۔۔مہں پچھتا رہا ہو تم یہ چاہتی ہو کہ میں تم سے معافی مانگوں؟” وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولتا جا رہا تھا۔۔
مسکان آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“ایم سوری یار۔۔میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا تھا۔۔
میں پچھتا رہا ہوں پلیز مجھے معاف کردو” نعمان نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔۔
مسکان کی آنکھ سے آنسوں گرا۔۔
جسے نعمان نے اپنی انگلی سے صاف کیا۔۔
“آئندہ میں رونے نہیں دوں گا۔۔”
نعمان نے کہا
“پتا ہے مسکان تم بہت اچھی ہو میرے برے رویے کو بھی برداشت کیا۔۔تمہارا دل صاف ہے۔۔
اور جسے میں خوبصورت سمجھتا رہا وہ دل سے کتنی بد صورت تھی۔۔
مجھے سمجھ آگئی۔۔” نعمان نے کہا
“میں تمہاراساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا پکا” نعمان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“معاف کردو پلیز” نعمان نے کان پکڑتے ہوئے کہا۔۔
اس کے اس انداز پر مسکان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
“ہائے کتنی پیاریلگتی ہو تم ایسے ” نعمان نے شرارت سے کہا
“ہاہاہا سوجاؤ اب” وہ لیٹتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“اٹھ کر مت چلی جانا صوفے پر” وہ کہتا سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔
“اور چلی گئی تو؟” مسکان نے مسکرا کر پوچھا
“تو پھر اٹھا لاؤں گا ہلکی سی تو ہو” نعمان نے ہنس کر کہا اور بدلے میں مسکان بھی ہنس دی۔۔
اور اس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ آف کردیا۔۔
وہ کمرے میں کب سے بیٹھی انتظار کر رہی تھی۔۔
مگر بشر اب تک نہیں آیا تھا۔۔آخر کار اسے نیند آہی گئی تھی۔۔
اور وہ کب سوگئی اسے پتا بھی نہیں چلا۔۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔
مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔
وہ حیران ہوئی کہ بشر پوری رات نہیں آیا تھا؟
مگر پھر اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی ایک ڈبی پر پڑی۔۔
اس کے ساتھ ہی بشر کی گھڑی۔۔رومال۔۔اور اس انگوٹھی پرپڑی جو بشر کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔۔۔
اس کا مطلب تھا کہ وہ رات دیر سے کمرے میں آیا جب وہ سو چکی تھی۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈبی اٹھائی۔۔
اسے کھولا تو اس میں ایک خوبصورت سا پینڈنٹ تھا۔۔
نگار نے واپس رکھ دیا۔۔
اور اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی۔۔
