Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

انعم اپنی ماں کو بازو سے پکڑے زبردستی کمرے سے لے کر باہر نکلی لیکن ان کی قسمت خراب کہ سامنے ہی ضرغام کھڑا تھا چونکہ ضرغام کا کمرہ انوشے کے کمرے کے ساتھ تھا تو وہ اپنا موبائل بھول گیا تھا اور وہی لینے واپس آیا جب اس نے انعم اور حمیرا کو انوشے کے کمرے سے نکلتے دیکھا،
انعم تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟ضرغام نے سنجیدگی سے انعم کو دیکھتے پوچھا۔اور چلتا ہوا ان کے پاس آیا۔
حمیرا بھی سامنے ضرغام کو دیکھتے سہم گئی تھی، غصہ ایک سیکنڈ میں ہوا تھا۔
و وہ ہم دونوں تو گزر رہے تھے یہاں سے انعم نے جلدی سے ارد گرد دیکھتے کہا۔
اور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے وہاں سے جانے لگی،
رکو….. ضرغام نے سرد لہجے میں کہا تو دونوں کے قدموں کو بریک لگی۔
کیونکہ دونوں کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔اس لیے ضرغام کو لگا کہ ضرور انہوں نے کچھ نا کچھ کیا ہے۔
کیا ہوا ضرغام؟ انعم نے اپنا حلق تر کرتے پوچھا۔
جب تک میں نہیں کہتا آپ دونوں یہاں سے زرا سی بھی حرکت نہیں کریں گیں،
ضرغام نے کہا اور خود چلتا ہوا انوشے کے کمرے کے اندر کی جانب بڑھا،
ضرغام کو اندر جاتے دیکھ دونوں ماں بیٹی کے چہرے پر خوف کا سایہ لہرایا تھا۔
ضرغام نے کمرے کے اندر قدم رکھا اور انوشے کو بے سدھ زمین پر پڑا دیکھ اس کے ماتھے کے بل گہرے ہوئے اور جلدی سے آگے بڑھتے اس نے پہلے آواز دیتے انوشے کو ہوش میں لانا چاہا لیکن پھر اس کی نظر دیوار پر لگے خون پر پڑی۔اس وقت اسے انوشے کی حالت قابلِ رحم لگی تھی۔
ضرغام خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اس نے جلدی سے انوشے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لیٹاتے ملازمہ کو آواز دی،
اس کی آواز میں دھاڑ ایسی تھی کہ باہر کھڑی حمیرا اور انعم دونوں کپکپا گئی تھیں،
ملازمہ نے ضرغام کی آواز سنی اور جلدی سے اندر آئی۔
اور انوشے کو دیکھتے پریشانی سے اس نے جبڑے بھینچے کھڑے ضرغام کو دیکھا۔
ڈاکٹر کو کال کرو اور ڈاکٹر میل نہیں ہونا چاہیے،
ضرغام نے سرد لہجے میں حکم دیتے کہا۔
جی صاحب ملازمہ کہتے ہی ڈاکٹر کو فون کرنے چلی گئی۔
ضرغام کی دھاڑ سنتے بڑی خانم بھی کمرے میں آگئی تھیں انہوں نے باہر کھڑی حمیرا اور انعم کو دیکھا تو ان دونوں کو بھی اندر آنے کا کہا لیکن جب وہ اندر آئی تو ان کے تاثرات حیرانگی میں بدل گئے اور فوراً انوشے کے پاس گئی۔
اسے کیا ہوا؟
بڑی خانم نے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
یہ آپ ان سے پوچھیں ۔ضرغام نے اپنے قدم دونوں کچھ فاصلے پر کھڑی ماں بیٹی کی طرف بڑھاتے سرد لہجے میں کہا،
وہ حمیرا نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اتنا ہی کہا جب ملازمہ کے ساتھ فی میل ڈاکٹر اندر کمرے میں داخل ہوئی۔ڈاکٹر کا کلینگ پاس ہی تھا اس لیے جلدی آگئی تھی۔
ضرغام نے رخ موڑ لیا بلکہ کمرے سے ہی باہر نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی۔
بڑی خانم بھی اس کے ساتھ ہی تھیں،
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی وائف اب ٹھیک ہیں۔
زخم زیادہ بڑا نہیں تھا اس لیے میں نے پٹی کر دیں ہے۔کچھ دیر بعد ان کو ہوش آجائے گا۔
ڈاکٹر نے ضرغام کو دیکھتے کہا،
جو وائف کے لفظ پر گہرا سانس بھر گیا تھا۔
ضرغام کے کمرے سے نکلنے کے بعد انعم اور حمیرا باہر نہیں آئی تھیں۔کیونکہ وہ ضرغام کے غصے کے بارے میں سوچ کر بچنے کا کوئی طریقہ سوچ رہی تھیں۔جو انکو مل نہیں رہتا تھا۔
تھینک یو ڈاکٹر ان کو باہر تک چھوڑ آؤ ضرغام نے ملازمہ کو دیکھتے بھاری لہجے میں کہا۔اور ڈاکٹر کے جانے کے بعد ضرغام چلتا ہوا حمیرا کے پاس آیا جو بڑی خانم کے پیچھے کھڑی تھی،
کیا کیا آپ نے انوشے کے ساتھ؟
ضرغام نے کرختگی سے پوچھا۔
میں نے بس اُس لڑکی کو اُس کی اوقات یاد دلائی اُس کی وجہ سے میرا بیٹا اس حالت میں ہے حمیرا نے اپنے خوف کو سائیڈ پر رکھتے کہا۔
کیسی ماں ہیں آپ؟
آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ عرفان نے کیا حرکت کی اور ابھی بھی آپ کو اپنا بیٹا ٹھیک لگ رہا ہے؟ شکر کریں میں نے اُسے جان سے نہیں مار دیا۔
ضرغام بدر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔آنکھیں پل بھر میں سرخ ہوئی تھیں۔
ضرغام تم ایک پرائی لڑکی کے لیے اتنے فکرمند کیوں ہو رہے ہو؟
مت بھولو وہ خون بہا میں یہاں آئی ہے اور تمھاری بہن کا قتل اس کے چچا نے ہی کیا،
حمیرا نے ضرغام کی دکھتی رگ کو چھیڑتے ہوئے کہا۔
تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے…. ضرغام نے ایک قدم حمیرا کی طرف بڑھاتے ٹھنڈی لہجے میں مزید کہا۔
حمیرا اس کے لہجے میں سرد مہری محسوس کرتے ایک قدم پیچھے ہوئی تھی۔
انعم اور بڑی خانم کھڑے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
اگر وہ خون بہا میں آئی ہے تو اس کا مطلب آپ کا نالائق بیٹا اُسے اپنے ناپاک ہاتھ لگائے گا؟
آج میں آپ سب پر واضع کرنا چاہتا ہوں۔اگر کسی نے بھی انوشے کو ہاتھ لگایا تو اُس کے ہاتھ توڑنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔
جو بھی کرنا ہو گا میں خود کر لوں گا کسی اور کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اُسے ہاتھ لگائے اور آپ دونوں انوشے کے ہوش میں آتے ہی اُس سے معافی مانگیں گئی۔
ضرغام نے رخ موڑے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے حکم دیتے کہا۔
ضرغام تم چاہتے ہو کہ میں اُس لڑکی سے معافی مانگو؟ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔
حمیرا نے لہجے میں بےیقینی لیے کہا۔
انعم اور بڑی خانم کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا انکو امید نہیں تھی کہ ضرغام ایسی کوئی بات کرے گا۔
غلطی آپ کی ہے تو معافی بھی آپ مانگے گی اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو اس حویلی سے جا سکتی ہیں۔
کیونکہ ضرغام بدر خان کو وہ لوگ بلکل بھی پسند نہیں ہیں جو اُس کی بات نہیں مانتے۔
ضرغام نے بےتاثر لہجے میں کہا۔
ضرغام تم مجھے میرے ہی گھر سے نکال نہیں سکتے، یہ میرا اور میرے بچوں کا بھی گھر ہے۔
حمیرا نے آنکھیں پھیلائے کہا۔اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
آج تو ضرغام بدر کا الگ ہی روپ دیکھنے کو مل رہا تھا۔
بڑی خانم سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ضرغام بدر کرنا کیا چاہ رہا ہے۔
آپ شاید بھول رہی ہیں۔
ضرغام نے حمیرا کی طرف دیکھتے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
چچا کی وفات کے بعد آپ نے حویلی میں سے اور ہر جگہ سے اپنا حصہ نا نا معاف کیجئے گا چچا کا حصہ لے لیا تھا تاکہ آپ اپنے بیٹے کو باہر بھیج سکیں اور وہاں باہر کوئی بزنس سٹارٹ کر سکے تو آپ کے بیٹے نے تو باہر جاکر سارے پیسے جوئے میں لگا دیے اور ہار گیا۔
تو اب آپ کا اور آپ کے بچوں کا نا حویلی میں کوئی حصہ ہے نا زمینوں میں تو ان سب چیزوں کو اب صرف اور صرف ایک ہی مالک ہے اور وہ ہے ضرغام بدر خان یہاں وہی ہو گا جو ضرغام چاہے گا،
اس لیے آپ کے پاس انوشے کے ہوش میں آنے تک کا وقت ہے اچھی طرح سوچ لیں اُس سے معافی مانگنی ہے یا حویلی سے جانا ہے۔
ضرغام بدر خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
بڑی خانم بنا کچھ کہے انوشے کے کمرے کی طرف چلی گئی اور حمیرا چہرے پر بےیقینی لیے انعم کو دیکھ رہی تھی۔
ضرغام جتنا بھی سنگدل ہو لیکن وہ ایک چیز کبھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی بھی کسی لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کرے اور ایک بار اس کے گاؤں میں ایک لڑکے نے کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تو اس نے پورے گاؤں والوں کے سامنے اس کی دونوں ٹانگوں سے اُسے محروم کر دیا۔
اور اب کوئی بھی اس کے گاؤں میں ایسی ویسی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچتا تھا۔اور اب تو بات انوشے کی تھی جس کے ساتھ اس کا نکاح چاہے جس بھی حالات میں ہوا لیکن وہ اس کے نام کے ساتھ جڑی تھی۔تو کیسے وہ برداشت کرتا۔کہ اس کی اپنی حویلی میں کوئی انوشے کے ساتھ بدتمیزی کرے۔
💜 💜 💜 💜
داؤد غصے میں واپس حویلی آیا تھا واپس آتے ہی فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اس نے اپنے آدمی کو کال کی اور اُس کلینک کے بارے میں معلوم کرنے کا کہا اور موبائل بند کرتے اس نے بیڈ پر پھینکا اور اپنے کندھے پر رکھی چادر کو بھی بیڈ پر پھینکا۔
اور چلتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا اور پیچھے ٹیک لگائے آنکھیں موند لیں۔
اسے اپنے زخم کی بھی پرواہ نہیں تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ اُس دن اُس لڑکی کی مدد کرنے کی اسے اور انوشے کو اتنی بڑی سزا ملے گی۔
اگر تم نے اتنی جلدی جانا تھا تو میری زندگی میں آئی ہی کیوں؟
ایک موتی داؤد کی آنکھ سے نکل کر نیچے گر گیا۔اس کے اس جملے میں کتنی تکلیف تھی عہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔
وہ ایک مضبوط مرد تھا لیکن کچھ چیزیں انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی اُس لڑکی کی موت کی خبر کے بعد آج پہلی بار اس کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا اس اکیلے نے خود کو کیسے سنبھالا تھا وہی جانتا تھا۔لیکن اب ناجانے کیسے آنسو باہر نکل آیا۔
اچھا نہیں کیا تم نے بلکل بھی اچھا نہیں کیا،. داؤد نے دل میں کہا اور آنکھیں بند کیے اُس دن کے بارے میں سوچنے لگا۔
وہ مردان خانے میں موجود تھا۔ کچھ ضروری کاغذات دیکھتا وہ پرسوچ سا تھا، یکدم کسی نے دروازہ زور سے دھڑدھڑایا تھا۔۔
پیپر اس کے ہاتھ سے زمین بوس ہوئے۔۔اس کی نظر دروازے کی جانب گئی۔جس پر ایک بار پھر دستک ہوئی تھی۔ آج یہاں گارڈز کا پہرا بھی نہیں تھا ،کیونکہ وہ کسی اہم کام کی وجہ سے سب کو چھٹی دے چکا تھا۔
حویلی میں بھی کوئی نہیں تھا گاؤں میں ایک شادی تھی دب وہی گئے تھے۔
دروازے کی تیز دستک پر وہ پیپرز کو ایک نظر دیکھتا آگے بڑھ کر دروازہ کھول چکا تھا۔۔
دروازہ کھلتے ہی کوئی نازک وجود اندر داخل ہوتا اس سے لپٹا تھا۔
داؤد ایک پل لیے چونکا تھا۔۔اسے یہ احساس شدت سے ہوا تھا کہ وہ کوئی لڑکی ہے۔مزید تصدیق اس کی آواز نے کی تھی۔۔وہ آواز اسےجانی پہچانی لگی تھی۔
“مم مجھے بچالیں۔۔مجھے اپنے پاس پناہ دے دیں۔۔۔وہ مم مجھے ماردیں گے۔۔آپ کو خدا کا واسطہ ہے۔۔مجھے بچالیں۔۔”
داؤد اس کی فریاد پر مزید حیران ہوا۔
“کون ہو تم۔۔۔اور اندر کیسے آئی۔۔۔”داؤد نے اسے خود سے دور کرنا چاہا،۔لیکن وہ مزید شدت سے اس کے ساتھ چپکی۔۔
“نن نہیں۔۔میں نہیں جاؤں گی۔۔”وہ روتے ہوئے فریادی ہوئی۔۔
“دور ہٹو لڑکی۔۔” داؤد بری طرح اسے دور کیا تو وہ زمین بوس ہوئی تھی۔
“نکلو یہاں سے ابھی کے ابھی۔۔۔” داؤد بلند آواز میں دھاڑا۔۔جب اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا۔۔اور مقابل شخص کو ایسے لگا وقت تھم گیا ہو۔
“تم۔۔” وہ بے یقینی سےبولا۔جبکہ نگاہیں اس پر جم سی گئی تھی۔۔
” خدا کا واسطہ ہے مجھے پناہ دے دیں۔۔مجھے اپنے پاس رہنے دیں ،وہ مجھے ماردیں گے۔۔”
وہ کھڑی ہوتی اس کے آگے ہاتھ جوڑ چکی تھی۔
“کون ماردے گا۔۔تمہیں۔۔بولو۔۔”وہ اپنی حیرت پر قابو پاچکا تھا۔
“وہ۔۔۔مم میں آپ کو سب بتاؤں گی مجھے چند روز اپنے پاس رکھ۔۔لیں۔۔میں۔۔آپ کا احسان تاعمر نہیں بھولوں گی۔۔”
“ہرگز نہیں۔۔میں اپنی عزت پر کوئی الزام برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔”
وہ پل میں سفاک بنا تھا،۔
“آپ پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔میں ہر الزام اپنے اوپر لے لوں گی۔۔”
“تم اچھی طرح جانتی ہو ، کہ تم کس کی بہن ہو۔۔اور کیا کہہ۔رہی ہو؟”
داؤد سرد انداز میں بولا۔
“میں اس وقت صرف آپ سے پناہ چاہتی ہوں۔صرف چند دن کی پناہ۔۔اور مجھے کسی بات سے لینا دینا نہیں ہے۔۔”
“لڑکی تم پاگل ہوچکی ہو۔۔۔ایک تنہا مرد اور عورت کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔۔۔” داؤد کا رنگ زرد ہوا تھا۔۔ایک شیطان سے بچ کر ہی تو وہ یہاں آئی تھی۔
“تو پھر آپ مجھ سے نکاح کرکے مجھے قید کرلیں۔۔، لیکن مجھے یہاں سے جانے کا مت کہیں۔۔میں آپ کا ہر ظلم ہر ستم سہہ لوں گی۔۔لیکن مجھے اس سے بچالیں۔۔پلیز۔مجھے بچالیں۔۔” وہ روتی ہوئی اس کی سیاہ قمیض کا کالر تھام چکی تھی۔۔
جبکہ۔داؤد کے سر پر دھماکہ ہوا تھا۔۔
ابھی داؤد یہی سب سوچ رہا تھا جب دروازے پر ہوتی دستک نے اس کے خیالات میں خلیل ڈالی اور داؤد نے آنکھیں کھولے دروازے کی طرف دیکھا۔