No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
مجھے خون بہا چاہیے یا تو آپ کو اپنی بیٹی کا نکاح ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ کرنا ہو گا یا اپنی ساری پراپرٹی میرے حوالے کرنی ہو گی ایک پھوٹی کوڑی بھی آپ کے پاس نہیں رہے گی۔
جرگے میں ضرغام بدر کی کرخت آواز گونجی تھی۔
چودھری جواد کی آنکھیں ضرغام بدر کی بات پر بےیقینی سے پھیلی تھیں۔
جرگے میں کچھ پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔
جہاں جواد چودھری اپنے گاؤں میں اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور تھا وہی دوسری جانب ضرغام بدر بھی کم نا تھا۔۔
ضرغام بدر سوچ سمجھ کر بات کرو۔
تمھاری ہمت بھی کیسی ہوئی اس طرح کی فضول بات کرنے کی؟
جواد چودھری نے دھاڑتے ہوئے ضرغام بدر کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
آواز نیچی….. مجھے بھی آواز اونچی کرنی آتی ہے۔
تمھارے پاس دو راستے ہیں اگر تم نے ان میں سے میری ایک بھی بات نہیں مانی تو میری بہن کو زندہ سلامت میرے سامنے لے آؤ
ضرغام نے سرد لہجے میں کہا۔
باقی سارے گاؤں والے کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔
ٹھیک ہے میں اپنی بیٹی کا نکاح تمھارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد جواد نے بےتاثر لہجے میں کہا۔
اس وقت ضرغام بدر جواد چوہدری کے گاؤں میں موجود تھا۔
لیکن میری ایک شرط ہے جواد نے ضرغام کو دیکھتے کہا اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا ضرغام نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
چودھری صاحب آپ کی بیٹی خون بہا میں میری حویلی میں آ رہی ہے تو آپ کی کوئی بھی شرط ماننا تو دور میں سننا بھی پسند نہیں کرتا۔
دس منٹ کے اندر مولوی صاحب کو بلائے میرے پاس فضول کا وقت نہیں ہے۔
ضرغام نے دوٹوک الفاظ میں میں کہا۔
جواد چوھدری نے غصے سے اپنے ہاتھوں کو بھینچے اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا۔ورنہ آج تک اس لہجے میں اس سے کسی نے بات نہیں کی تھی لیکن ضرغام کی تو بات ہی الگ تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
بابا آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
انوشے نے لہجے میں بےیقینی لیے جواد چوھدری کو دیکھتے پوچھا۔
انوشے جو ابھی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی اپنی ماں کو پریشان دیکھتے ان کے پاس آئی اس سے پہلے وہ اپنی ماں سے پریشانی کی وجہ پوچھتی اس کے باپ نے وہاں آتے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
انوشے اب تم اپنے باپ کی حکم عدولی کرو گی؟
جواد چوھدری نے سرد لہجے میں کہا۔
امی جان آپ پلیز بابا کو سمجھائے یہ مجھے کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں؟
ان سب میں میرا کیا قصور ہے۔
انوشے نے اپنی ماں کے پاس آتے بےبسی سے روتے ہوئے کہا۔
میری بچی اپنی ماں کو معاف کر دے میں تیری مدد نہیں کر سکتی۔
صبا بیگم نے انوشے کے آنسو صاف کرتے کہا۔
وہ خود بھی تو رہی تھیں۔
چوہدری صاحب مولوی صاحب آگئے ہیں۔
ملازم نے آتے ہی نظریں جھکا کر مولوی صاحب کے آنے کی اطلاع دی۔
صبا مولوی صاحب آگئے انوشے کو باہر لے آؤ۔
جواد نے حکمیہ لہجے میں کہا اور بڑے بڑے ڈھاگ بڑھتا وہاں سے چلا گیا۔
امی جان ماموں کے کیے کی سزا مجھے کیوں مل رہی ہے؟ انوشے نے سرخ آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھتے شکوہ کرتے کہا۔
میری بچی یہ رسم برسوں سے چلتی آ رہی ہے ہم سب بےبس ہیں۔
صبا نے گہرا سانس لیتے جود کو کمپوز کرتے کہا اور چلتی ہوئی الماری کی طرف گئی اور ایک سرخ رنگ کا ڈوپٹہ لے کر انوشے کے سر پر اوڑھ دی، اگر اس وقت وہ خود ہمت ہار جاتی تو انوشے کو کون سنبھالتا۔
انوشے نے اس کے بعد اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا تھا وہ خاموش ہو گئی تھی۔
جب اس کے باپ نے اپنی بیٹی کو جہنم میں دھکیلنے کے بارے میں سوچ لیا تھا تو اب کچھ بھی کہنا بیکار تھا۔
تھوڑی دیر بعد ضرغام بدر کا نکاح انوشے چودھری سے ہو گیا۔
ضرغام کے چہرے پر چھائی سرد مہری کو دیکھتے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس سے بات کر سکے۔
نکاح کے ہوتے ہی گھونگھٹ اوڑھ کر بیٹھی انوشے کی طرف ضرغام نے قدم بڑھائے اور اسکی نازک کلائی کو پکڑے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
آج سے تم لوگوں کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی میری حویلی میں اس سے ملنے آیا تو سزا آپ لوگوں کی لاڈلی کو بھگتنی پڑے گی۔
ضرغام نے دو ٹوک الفاظ میں میں حشمت چوھدری کو دیکھتے کہا، اور انوشے کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گیا۔
جو پتھر بنی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔
آپ کے لیے کیا یہ جائیداد اتنی اہم ہے کہ آپ نے اس کی خاطر اپنی بیٹی کی قربانی دے دی؟
صبا نے جواد کے سامنے کھڑے ہوتے روتے ہوئے پوچھا،
یہ زمینیں اور یہ ساری جائیداد ہمارے بڑوں کی محنت ہے۔اور میں یہ ساری جائیداد ضرغام بدر کے حوالے کرتے خود سڑک پر نہیں آ سکتا تھا،
اور اس پر میرے بیٹے کا حق ہے،
جواد نے دوٹوک الفاظ میں میں کہا۔
آپ کو اپنے بیٹے کی فکر ہے لیکن بیٹی کی نہیں؟ اُس کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہو گا آپ نے اس بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا اور یہ سب آپ کے بھائی کی وجہ سے ہوا، میری بیٹی بےقصور ہوتے ہوئے بھی سزا بھگت رہی ہے۔
صبا کی آواز بھی آج پہلی بار اپنے شوہر کے سامنے اونچی ہوئی تھی۔
جواد نے آگے بڑھتے صبا کو گردن سے دبوچا،
آئندہ تمھاری زبان میرے سامنے چلی تو اسے کاٹ کر رکھ دوں گا،
اور جہاں تک بات ہے میرے بھائی کی تو اُس کے ساتھ تو میں وہ کروں گا جس کے بارے میں اُس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا،
جواد چوھدری نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے صبا کی گردن کو چھوڑتے ہوئے کرختگی سے کہا جو کھانسنے لگی اور گہرے سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے لگی۔
جواد نے ایک قہر برساتی نظر صبا طہر ڈالے اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
امی آپ تو اس طرح کا ردعمل ظاہر کر رہی ہیں جیسے آپ کی بیٹی مر گئی ہو،
نکاح ہی ہوا ہے اُس کا اور اتنا اچھا اُسے شوہر مل گیا ہے اس سے زیادہ اُسے کیا چاہیے۔
نازیہ نے غصے سے اپنی ساس کو دیکھتے کہا جو جواد کے جانے کے بعد یہاں آئی تھی۔
صبا نے ایک نظر نازیہ کو دیکھا اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔وہ جانتی تھی کہ نازیہ سے بات کرنا بیکار ہے۔
ضرغام تم میری بہن کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تمھاری منگنی میری بہن کے ساتھ ہو چکی تھی پھر بھی تم نے انوشے کے ساتھ نکاح کیا۔
نازیہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا،
اس وقت اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا تھا۔
وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ اس کی نند کو ضرغام جیسا ہمسفر ملے۔
نازیہ ضرغام کے چچا کی بڑی بیٹی تھی۔
جس کی شادی آٹھ سال پہلے انوشے کے بھائی تیمور چوھدری سے ہوئی تھی۔
اُس وقت دونوں گاؤں کے درمیان سب ٹھیک تھا۔
لیکن اُس کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ دونوں گاؤں کے سردار ایک دوسرے کی جان کے پیاسے بن گئے۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام انوشے کو اپنی حویلی لے آیا تھا۔جہاں سارے ملازمین چہرے پر حیرانگی لیے ضرغام اور اس کے ساتھ چلتی انوشے کو دیکھ رہے تھے۔
ضرغام نے حویلی میں داخل ہوتے بڑی خانم کو آواز دی۔
ضرغام کی بھاری آواز پوری حویلی میں گونجی تھی۔
تھوڑی دیر بعد بڑی خانم چہرے پر سنجیدگی لیے اپنے کمرے سے باہر آئیں۔
ابھی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھیں۔
ہاتھ میں تسبیح پکڑے وہ ضرغام اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی انوشے کو دیکھ رہی تھیں۔ایک ہفتے پہلے ہی تو ان کی لاڈلی پوتی ان کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔وہ جو حویلی میں ہر طرف ہستی مسکراتی پھیری تھی اپنے ساتھ حویلی کی ساری خوشیاں بھی لیے چلی گئی۔
اتنے میں نازیہ کی ماں اور اس کی بہن بھی وہاں آگئی تھیں۔
ضرغام یہ لڑکی کون ہے؟
خانم نے گھونگھٹ نکالے کھڑی انوشے کو دیکھتے پوچھا۔
ضرغام نے بھی انوشے کو آٹھ سال پہلے دیکھا تھا۔اس کے بعد دونوں گاؤں کے درمیان کچھ ایسا ہوا کہ دوبارہ کبھی وہ ایک دوسرے کی حویلی میں نہیں آئے اور ضرغام بدر کو بھی انوشے کا چہرہ دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
بڑی خانم یہ لڑکی جواد چوھدری کی بیٹی ہے جو خون بہا میں یہاں آئی ہے۔
ضرغام نے بڑی خانم کے پاس آتے نرم لہجے میں کہا۔ان سے وہ ہمشیہ نرم لہجے میں بات کرتا تھا چاہے صورتحال کیسی بھی ہو۔
اس کا مطلب ہے کہ تم اس لڑکی سے نکاح کر چکے ہو اور یہ اس حویلی کی بڑی بہو ہے اب
خانم نے انوشے کو دیکھتے کہا۔
یہ لڑکی خون بہا میں آئی ہے خانم اور یہ اس گھر کی بہو نہیں ہے۔
ضرغام نے نفی میں سر ہلاتے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن نکاح کی بات سنتے نازیہ کی ماں حمیرا اور اسکی چھوٹی بیٹی انعم نے بےیقینی سے پہلے خانم اور پھر کچھ فاصلے پر کھڑی انوشے کی طرف دیکھا۔
ضرغام آپ کیسے یہ نکاح کر سکتے ہیں؟ جبکہ کے آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آپ کی منگیتر ہوں۔
انعم جو سب سے پہلے ہوش میں آئی تھی اس نے آگے آتے ضرغام کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
انعم مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور آئندہ جب بڑے بات کر رہے ہو تو دخل اندازی مت کرنا۔دوبارہ میں تمھاری اس حرکت کو برداشت نہیں کروں گی۔
بڑی خانم نے انعم کو دیکھتے سنجیدگی سے اسے تنبیہ کرتے کہا۔
اور تم اس لڑکی کو میرے کمرے میں لے کر آؤ بڑے خانم نے جانے سے پہلے ملازمہ کو دیکھتے اسے حکم دیا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
ضرغام اندر جانے کی بجائے وہاں سے باہر نکل گیا تھا۔
ملازمہ انوشے کو بڑی خانم کے کمرے کی طرف لے گئی پیچھے انعم اور حمیرا ایک دوسرے کی شکلوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
💜 💜 💜 💜
ملازمہ انوشے کو بڑی خانم کے کمرے میں چھوڑنے کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی۔
یہاں آؤ خانم نے کھڑی ہوئی انوشے کو دیکھتے کہا۔
جو چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اور اپنے چہرے سے گھونگھٹ کو ہٹائے اس نے خانم کی طرف دیکھا جو اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔اس نے جب پہلے بڑے خانم کو دیکھا تو اسے وہ بہت اچھی لگی تھیں لیکن ااے نہیں معلوم تھا کہ ان سے دوبارہ ملاقات ایسے حالات میں ہو گی۔
بیٹھو یہاں بڑی خانم نے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہا تو انوشے خاموشی کے ساتھ ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
بڑی خانم نے بھی انوشے کو آٹھ سال پہلے دیکھا تھا۔اور اب تو وہ مزید پیاری اور معصوم لگ رہی تھی۔
بڑی خانم نے انوشے کی طرف دیکھا۔اور بات کا آغاز کیا۔
تم جانتی ہو نا کہ یہاں تم خون بہا میں آئی ہو۔
بڑی خانم کا لہجہ نرم تھا۔
میں بس اتنا جانتی ہوں کہ کسی اور کے کیے کی سزا اب مجھے ساری زندگی بھگتی پڑے گی۔
میں یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔
اگر ہمارا کوئی پیارا ہمیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو وہ کبھی واپس نہیں آتا لیکن…..
انوشے نے بھاری لہجے میں کہا۔
میرا کیا قصور ہے؟ انوشے بےبسی سے کہتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔اُس نے بہت کوشش کی کہ اب وہ نہیں روئے گی لیکن آنسو روکنے کے باوجود باہر آرہے تھے۔
بڑی خانم خاموشی سے اسے روتا دیکھ رہی تھیں۔
تم اب اس حویلی کی بہو ہو اس حقیقت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
ملازمہ تمہیں ضرغام بدر کے کمرے میں چھوڑ دے گی۔
اب سے جو کچھ تمھارے ساتھ ہو گا وہ تمھاری قسمت
بڑی خانم نے نظریں چراتے کہا۔
اور ملازمہ کو آواز دیتے کہا کہ انوشے کو ضرغام بدر کے کمرے میں چھوڑ دے۔
اگر میری جگہ آپ کی اپنی بیٹی ہوتی تو کیا آپ کا پھر بھی یہی فیصلہ ہوتا؟
انوشے نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے شکوہ کرتے کہا۔
جو اب ہونا تھا اگر وہ سب کچھ اس کی قسمت میں لکھا تھا تو وہ کیوں غبار اپنے اندر رکھتی۔
انوشے کہتے ہی ملازمہ کے ساتھ وہاں سے چلی گئی پیچھے بڑی خانم کو کہی سوچوں میں دھکیل گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ملازمہ انوشے کو لیے ضرغام بدر کے کمرے کی طرف جا رہی تھی اور انوشے کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی جو میک اپ کے بغیر بھی اسے معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی جب راستے میں انعم نے انوشے کو راستے میں روکا،
ایک پل کے لیے تو تو انعم بھی انوشے کو دیکھتے حیران ہوئی جو اس سے بہت زیادہ خوبصورت تھی۔
بی بی جی بڑی خانم کا حکم ہے کہ چھوٹی بی بی کو ضرغام صاحب کے کے کمرے میں چھوڑنا ہے۔
ضرغام کے کمرے میں؟ میرے حق پر ڈاکہ ڈال کر اب یہ ضرغام کے کمرے میں جائے گی؟
اس کی اوقات نہیں ہے کہ یہ ضرغام کی بیوی بنے۔
انعم جو پہلے ہی غصے میں جل بھن رہی تھی وہ انوشے کی طرف جھپٹی جو ایک دم گھبرا کر پیچھے کو ہوئی اور اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور زمین بوس ہو گئی اس کا ماتھا زمین پر جا لگا۔
انوشے کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی تھی۔
بی بی جی کیا کر رہی ہیں آپ اگر بڑی خانم کو پتہ چل گیا تو وہ آپ کے ساتھ ناجانے کیا کریں گئ۔
ملازمہ نے پریشانی سے انعم کو دیکھتے اسے ڈرانا چاہا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ بڑی خانم سے کتنا ڈرتی ہے۔
انعم نے انوشے کو غصے سے دیکھا جو ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔خون کو دیکھتے ایک پل کے لیے انعم کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھرے اسے صرف بڑی خانم کا ڈر تھا۔
اس لیے خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔
بی بی جی آپ ٹھیک ہیں؟
ملازمہ نے جلدی سے جھک کر انوشے کو سہارا دیا۔
جس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
بی بی جی آپ کے ماتھے سے تو خون نکل رہا ہے۔
ملازمہ نے پریشانی سے کہا۔
میں ٹھیک ہوں انوشے نے کھڑے ہوتے اپنی چادر کو ماتھے پر رکھتے کہا۔
لیکن بی بی جی خون نکل رہا ہے۔
ملازمہ نے جلدی سے کہا۔
میں ٹھیک ہوں انوشے نے سرد لہجے میں کہا۔
یہ سب تو اب اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔تو اب چھوٹی چھوٹی تکلیف پر بیٹھ کر وہ رو نہیں سکتی تھی۔
بی بی جی میں آتی ہوں ملازمہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
تھوڑی دیر بعد ملازمہ بھاگتی ہوئی وہاں آئی جس کے ہاتھ میں بینڈیج تھا اور اس نے جلدی سے انوشے کے ماتھے پر لگا دیا۔
چلیں اب میں آپ کو صاحب کے کمرے میں چھوڑ دیتی ہوں۔
ملازمہ نے فکرمندی سے کہا تو انوشے اس کے ساتھ خاموشی کے ساتھ چل پڑی۔
آگے ناجانے کون سی مشکلات کا سامنا انوشے کو کرنا کرنا تھا۔لیکن ملازمہ کو معصوم سی انوشے پر ابھی سے ترس آ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ملازمہ انوشے کو کمرے میں چھوڑتے وہاں سے چلی گئی تھی۔
انوشے نے ضرغام بدر کے بارے میں سنا بہت تھا لیکن ابھی تک دیکھا نہیں تھا اور اب بھی جب وہ ضرغام بدر کے ساتھ یہاں آئی تو گھونگھٹ نکالا ہوا تھا۔
سرجھکائے وہ لرزتی کانپتی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔اس وقت اس کی جو حالت ہو رہی تھی وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی۔
اس کمرے میں اس کا وجود نہایت عجیب لگ رہا تھا۔۔اور دل بھی زور سے دھڑک رہا تھا شاید ضرغام بدر کے خوف سے اس کی ایسی حالت یو رہی تھی۔
بڑی خانم کا حکم تھا کہ اسے ضرغام بدر کے کمرے میں پہنچانے کا۔۔کیونکہ اب وہی اونچی شان و شوکت والا مرد اس کی قسمت تھا،۔۔اس کی زندگی کا مالک ، ورنہ تو اسے لگ رہا تھا اسے کسی چھوٹے سے کمرے میں پھینک دیا جائے گا۔
کمرے کا دروازہ کھلا تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔ گلابی چہرے پر خوف کی سفیدی پھیلنے لگی تھی۔۔
بھاری قدموں کی آہٹ پر اس نے مٹھیاں ایک دوسرے میں قید کیے سامنے دیکھا تو یوں لگا جیسے وہ اب سانس نہیں لے پائے گی۔
ضرغام بدر ،۔۔جس کے ظلم سے پورا گاؤں واقف تھا۔۔جس کی درندگی اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔وہ اپنے دشمنوں کو ایسی بھیانک سزا دیتا آیا تھا کہ مضبوط سے مضبوط شخص بھی سن کر دہل جاتا۔۔اور وہ تو تھی ہی نازک سی لڑکی،۔اس کا ظلم تو اسے آج بھی یاد تھا۔۔سینے میں مچلتا دل مزید شدت سے دھڑکتا اسے مزید خوفزدہ کر رہا تھا۔
سیاہ کرتا شلوار میں ملبوس ضرغام بدر اس وقت اسے مزید خوفناک لگا تھا۔بےشک وہ ایک خوبصورت مرد تھا۔
۔۔۔اس کی سرمئی سرخ ڈوروں آنکھوں میں ایک طوفان برپا تھا۔۔جبکہ سیگریٹ کی زیادتی سے سیاہ لب کسی آفت کو چھپائے ہوئے تھے۔۔
انوشے مزید دیوار کے ساتھ چپکی جب وہ ایک سرد نگاہ ڈالتا بیڈ کے کنارے پر بیٹھا۔۔انوشے ایک پل کے لیے حیران ہوئی۔۔
“یہاں آؤ۔۔ لڑکی ۔۔” اس کی کرخت بھاری آواز گونجی تو وہ اپنی جگہ سے اچھل کر چند قدم پیچھے ہوئی۔۔لیکن پیچھے دیوار تھی۔۔
“مجھے اپنی بات دہرانا پسند نہیں ہے۔۔۔” ایک بار پھر وہ دانت پیسے غرایا تو انوشے کے لبوں سے سسکی نکلی تھی۔اصل امتحان تو اب اس کا شروع ہونے والا تھا۔
کل رات جب وہ سوئی تو اسے معلوم نہیں تھا اگلا دن اس کے لیے اتنے امتحان لے کر آئے گی۔
ضرغام بدر نے گردن موڑ کر اسے سرخ نگاہ سے گھورا اور اگلے ہی پل کھڑا ہوتا وہ اس کی جانب آیا اور اسے بازو سے جکڑ کر زمین کی جانب دھکیلا۔۔ انوشے چیخ کے ساتھ زمین پر گری تھی۔
آہہہ !!! ضرغام بدر خان نے جھک کر اسے سیدھا کیا اور اس کی تھوڑی کو سختی سے دبوچا۔۔
“سمجھ نہیں آتا میں کیا کہہ رہا تھا۔۔پہلے ہی دن میرے حکم کی نافرمانی کرنے کی گستاخی تم نے کیسے کی۔۔۔۔؟”
وہ دھاڑا تھا۔۔۔انوشے کی سیاہ بڑی بڑی آنکھوں میں آنسوں کی نمی پھیل گئی۔
“وہ۔۔ممم میں۔۔۔”
“زبان بند کرو اپنی۔۔۔” وہ پوری شدت سے دھاڑا جبکہ انوشے سختی سے آنکھیں میچ گئی۔بازو پر سخت گرفت۔۔۔نے اسے سخت اذیت دی تھی۔۔اس کے مضبوط ہاتھ کی انگلیاں بازو میں دھنس سی گئی تھیں۔۔
” آنکھیں کھولو۔۔۔” اس نے تھوڑی پر دباؤ ڈالا تو اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی۔ایک پل کے لیے دونوں کی نگاہ ٹکرائی۔۔اور دونوں جانب دلوں نے دھڑکنوں کو تیز کیا۔۔
“میرے لیے تم یا تمھارا وجود کوئی اہمیت نہی رکھتا ۔۔۔اور سب سے بڑھ کر اپنے قاتل چچا کی بھتیجی ہو تم ۔۔۔جس سے میری دشمنی بہت پرانی ہے ۔۔۔اور اب اس نے میری بہن کا قتل کرکے مجھ پر اپنا خون واجب کردیا ۔۔۔لیکن اس سے پہلے میں تمہاری جان لوں گا۔۔بہت لاڈلی تھی ناں تم اپنے چچا کی۔۔۔اب جب تم برباد ہوکر واپس جاؤ گی تو میرا انتقام پورا ہوگا۔۔میری بہن کی روح پرسکون ہوگی۔۔۔”اس کے بعد تمھارے چچا کو تڑپا تڑپا کے ماروں گا۔وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا تو انوشے نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا۔۔جس کی آنکھوں میں فلحال اس کے لیے سفاکیت تھی۔۔
“تمہاری یہ بہتی آنکھیں معصوم حسن مجھ پر اثر نہیں کرے گا۔۔۔”
اس نے انوشے کی بازو کو جھٹکا دئیے۔۔اسے اپنے مقابل کھڑا کیا تو وہ توازن برقرار نہ رکھنے کے باعث سیدھا اس سے ٹکرائی تھی۔۔لیکن ضرغام بدر نے اسے کسی اچھوت کی طرح خود سے دور کیا کہ وہ سیدھا اس کے قدموں میں جاگری تھی۔۔انوشے کراہ پڑی اس کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماجائے۔۔
“آج پہلی اور آخری بار میں اپنی بات دہرا چکا ہوں۔۔آج کے بعد میرے حکم عدولی کی تو یاد رکھنا میں معاف کرنا نہیں جانتا۔میں صرف سزا دیتا ہوں۔۔اور میری سزا موت سے بھی بدتر ہوتی ہے۔۔۔” وہ سسکتے ہوئے بسی سے رو رہی تھی۔
۔۔جبکہ اس کے الفاظ کانوں میں کسی نوک دار کانچ کی طرح چھب رہے تھے۔۔لیکن اس کے اگلے الفاظ اس کا حلق بھی خشک کرچکے تھے۔
“جاکر اپنا حلیہ درست کرکے آؤ۔۔۔مجھے گندگی سے سخت نفرت ہے۔۔۔” اس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔اس کی آنکھوں میں پھیلی طلب و بربریت نے انوشے کو بے جان سا کردیا تھا۔۔
وہ جھکاتھا۔۔ایک بار پھر اسے تھامنے کے لیے۔۔جبکہ انوشے کا پورا وجود جیسے کسی دہکتی آگ کی زد میں آیا تھا۔۔
