Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

تمہیں کیا لگا تم ضرغام بدر خان سے چھپ سکتے ہو؟
ضرغام نے پرسرار لہجے میں عرفان کو دیکھتے کہا۔
جو بدقسمتی سے اُس جگہ سے آج ہی باہر نکلا تھا جہاں سے نکلنے کے لیے اسے منع کیا گیا تھا۔
اور ہشام کے ساتھ ضرغام کے آدمی بھی اسے تلاش کر رہے تھے اور ضرغام کے آدمیوں کو. وہ نظر آگیا اور اسے یہاں ضرغام کے قید خانے میں لے آئے۔
میں نے کچھ نہیں کیا پھر تم میرے پیچھے کیوں پڑے ہو؟عرفان نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔
ضرغام چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بالوں سے دبوچتے اس کا چہرہ اوپر کیا۔
لگتا ہے کہ تمہیں بھول گیا ہے کہ میں کون ہوں۔
عزت کے ساتھ بات کرو ورنہ دوبارہ بولنے کے لیے زبان نہیں رہے گی۔
ضرغام نے غراتے ہوئے کہا۔
آ آپ میرے پیچھے کیوں پڑے ہیں،. عرفان نے فوراً لائن پر آتے کہا۔
گڈ…..
تو اب مدعے کی بات پر آتے ہیں۔
اگر تم نے کچھ کیا نہیں ہے تو مجھ سے چھپ کیوں رہے تھے؟
ضرغام نے عرفان کے بالوں کو چھوڑتے ہوئے پوچھا۔
م میں چھپ نہیں رہا تھا۔میرے دوست کی شادی تھی میں وہی تھا۔
کچھ دنوں تک میں نے واپس گھر آنا تھا۔
عرفان نے جلدی سے کہا۔
جھوٹ بولنے میں تم ابھی کچے ہو تمھاری لڑکھڑاتی زبان سب کچھ بتا رہی ہے۔
اب میرے سوالات کا ہاں یا ناں میں جواب دینا ورنہ ضرغام نے اپنے ٹیبل سے تیز دھار والا چاقو پکڑتے بات کو ادھورا چھوڑتے عرفان کی طر دیکھا جس کی خوف کے مارے آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
آپ اپنے کزن کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں؟ عرفان نے پیچھے کو کھسکتے ہوئے پوچھا۔
دھمکی تو میں نے ابھی دی ہی نہیں۔
اور ضرغام بدر دھمکی نہیں دیتا بلکہ سیدھا کام تمام کر دیتا ہے۔
ضرغام کہتے ہی اس نے اپنے قدم عرفان کی طرف بڑھائے۔
تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ ارحہ اُس آگ میں جل کر مر گئی؟ ضرغام کا لہجہ پتھریلا ہوا تھا۔
عرفان نے تھوک نگلتے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
میں نے کہا کہ اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمھارے ایک جھوٹ پر ایک انگلی کاٹوں گا۔
ضرغام نے عرفان کا ہاتھ پکڑتے اس کی انگلی پر گہرا کٹ لگاتے کہا۔
عرفان تکلیف سے کراہ پڑا تھا۔
م میں نے جھوٹ بولا تھا۔
عرفان نے جلدی سے کہا۔
ضرغام نے گہرا سانس لیتے اپنے اندر اٹھتے غصے کے اُبال کو کنٹرول کیا تھا۔
وہ لاش کس کی تھی؟ ضرغام نے اگلا سوال کیا۔
اُس لڑکی کو میں نہیں جانتا مجھے جیسا کہا گیا میں نے ویسا ہی کیا۔
اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔
عرفان نے جلدی سے کہا۔
کس کے کہنے پر تم نے ایسا کیا؟
ضرغام نے سرد لہجے میں پوچھا۔
میں اُسے نہیں جانتا وہ ماسک پہنتا ہے اور مجھے مارکیٹ میں ملا تھا۔
مجھے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے دوسرا کاروبار کرنے کا سوچا تھا۔تو اُس نے مجھے پیسے دے کر وہ کام کروایا۔
عرفان طوطے کی طرح سب کچھ بولتا جا رہا تھا۔
اُس کا نام کیا ہے؟ ضرغام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں کچھ نہیں جانتا نا کبھی اُس نے اپنا نام بتایا۔
عرفان نے بےبسی سے کہا۔
تم نے جو کیا اُس کے لیے تمہیں میں خود سزا دوں گا۔
لیکن آج نہیں کل ضرغام نے عرفان کو جبڑوں سے دبوچتے ہوئے سرد مہری سے کہا۔
اور اپنے آدمیوں کو عرفان کو باندھنے کا کہتے وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے عرفان رو رو کر اسے چھوڑنے کی فریاد کر رہا تھا جسے ضرغام نظر انداز کرتے وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم یہاں کیا پر کر رہی ہو؟ اس سے پہلے نازیہ کچھ کرتی اقبال نے اسے دیکھتے پوچھا تو نازیہ نے تکیہ فوراً نیچے رکھ دیا۔
کچھ نہیں کیا میں آپ کہ بیٹی کے پاس نہیں بیٹھ سکتی؟
نازیہ نے کھڑے ہوتے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
اقبال نے آگے بڑھتے اپنی بیٹی کو گود میں لیا تھا۔
اگر ایسا ہے تو تمھارا چہرہ تو کچھ اور ہی داستان بیان کر رہا ہے۔
میری بیٹی سے نازیہ دور رہنا اگر اُسے تمھاری وجہ سے کچھ. بھی ہوا تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔
اقبال نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔
کیا آپ مجھے جانتے نہیں؟ جو یہ کہہ رہے ہیں؟ نازیہ نے غصے سے کہا۔
تمہیں جانتا ہوں اس لیے تنبیہ کر رہا ہوں۔
کیونکہ میں تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں۔
اقبال نے سنجیدگی سے کہا اور گڑیا کو. لیے وہاں سے چلا گیا۔. نازیہ نے پیچھے زور سے اپنے پیر کو پٹخا اور اپنے کمرے کی طرف. چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
تم کیا نکاح کرنے والے ہو جو مجھے اتنی ایمرجنسی میں گواہ کے طور پر بلایا؟
داؤد نے ہشام کو دیکھتے دانت پیستے پوچھا۔
جسے اپنے دوست کی حالت پر ترس آ رہا تھا۔
جس کی حالت اسے قابلِ رحم لگی تھی۔
چہرہ کمزور ہو گیا تھا آنکھوں سے رونق کہی غائب سی ہو گئی تھی۔
وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے وہ اسے بتائے کہ اس کی بیوی کے ساتھ کیا ہوا۔
ہشام بنا کچھ کہے داؤد کے گلے جا لگا۔
کیا ہوا؟ تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ داؤد نے حیرانگی سے ہشام سے پوچھا۔
میرے ساتھ چلو……
ہشام نے دھیمے لہجے میں کہا اور داؤد کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے کمرے سے باہر چلا گیا۔
جسے ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہشام کو ہوا کیا ہے۔
ہشام نے دروازہ ناک کیا۔
جہاں اندر ارحہ کسی اپنے کو سامنے دیکھتے زمل کے گلے لگے رو رہی تھی۔
ہشام کمرے میں داخل ہوا اس کے پچھے داؤد بھی تھا،
جس کی نظر سب سے پہلے ارحہ پر پڑی اور پلٹنا بھول گئی۔
ہشام نے زمل کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خاموش کے ساتھ خود بھی کمرے سے باہر نکل گیا۔
داؤد پتھر کا بنا وہی کھڑا ارحہ کو تکنے لگا۔
جس کی آنکھوں سے گرم آنسو نکلتے اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔
داؤد کو لگا اس کی ٹانگیں بےجان ہو گئی ہیں۔
وہ وہی زمین پر ڈھ سا گیا تھا۔اس نے تو ارحہ کے ملنے کی امید کھو دی تھی۔
م میں کہی خواب تو نہیں دیکھ رہا؟. داؤد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود سے سوال کیا پھر نظریں اٹھا کر ارحہ کی طرف دیکھا۔
یہ حقیقت ہے۔داؤد نے خود کو جیسے یقین دلایا تھا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ارحہ کے پاس گیا اور اس کے پاس ہی بیٹھ کر اس کے چہرے کو چھو کر یقین کرنا چاہا۔
جو سچ میں اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
داؤد نے فوراً اسے پکڑے اپنے سینے میں بھینچا۔
ارحہ محسوس کر سکتی تھی کہ داؤد کے دل کی دھڑک کتنی تیز چل رہی ہے۔
ارحہ تم کہاں تھی؟ ایم سوری میں تمھاری حفاظت نہیں کر پایا۔
پلیز مجھے معاف کر دینا۔
داؤد بنے ارحہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھتے کہا۔
جو خاموشی سی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی،. وہ داؤد کی آنکھوں میں بےبسی، تکلیف اور گلٹ دیکھ چکی تھی۔کتنی خوش قسمت تھی کہ اللہ نے اس کے نصیب میں داؤد جیسا مرد لکھا تھا لیکن جو اس کے ساتھ ہوا اُس کے بعد وہ خود کو داؤد کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔
ارحہ کیا تم مجھ سے خفا ہو؟ ہونا بھی چاہیے میں تمھاری حفاظت کرنے میں ناکام جو رہا۔
مجھے معاف کر دو۔
داؤد نے ارحہ کے ہاتھ پر لب رکھتے کہا۔
اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔
وہ مضبوط مرد آج آنکھوں میں پانی لیے ارحہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
اس کے جھکے ہوئے کندھے مرجھایا ہوا چہرہ ارحہ کو یہ وہ والا داؤد تو ہرگز نہیں لگا تھا جس سے اس کا نکاح ہوا تھا۔
کیا اس کی غیر موجودگی نے داؤد کی صحت پر اس قدر اثر ڈالا تھا۔
ارحہ کچھ تو بولو میں تمھاری آواز سننے کو ترس گیا ہوں،
داؤد نے بےبسی سے کہا۔
د داؤد ارحہ نے آنسو پیستے بمشکل داؤد کا نام پکارا۔
میری جان میں سن رہا ہوں۔
بولو داؤد نے پیار سے کہا۔
آ آپ پلیز مجھے چھ چھوڑ دیں م میں آپ اب آپ کے قابل نہیں ہوں۔
ارحہ نے کپکپاتے لہجے میں بمشکل اپنی بات کو مکمل کیا تھا۔داؤد کا یہ سنتے ایک پل کو سینے میں سانس اٹکا تھا۔
آنکھیں حیرانگی سے پھیلی تھیں۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ ارحہ کی بات کا کیا مطلب ہے۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہ بولنے کی؟ کس نے حق دیا تمہیں کہ خود کو مجھ سے دور کر سکو؟ اگر اب تم مجھ سے دور گئی تو پوری. دنیا کو جلا کر راکھ کر دوں گا۔
داؤد نے غصے سے ارحہ کو دیکھتے کہا۔
داؤد آپ سمجھ نہیں رہے ارحہ کے اس نے اپنے چہرے کے گرد ہاتھوں کو پیچھے کرتے بھاری لہجے میں کہنا چاہا۔
ششش…. داؤد نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش کرواتے کہا۔
اس وقت کس طرح اس نے خود کو بکھیرنے سے روکا تھا صرف وہی جانتا تھا ورنہ اپنی بیوی پر ہوئے ظلم ہر اس ک دل خون کے آنسو رونے کو کر رہا تھا۔
لیکن ارحہ کے سامنے وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
ورنہ ارحہ بھی ہمت ہار جاتی۔
اگر تمھیں لگتا ہے کہ جو بھی تمھارے ساتھ ہوا وہ جاننے کے بعد میں تمہیں چھوڑ دوں گا تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے۔
میں تمھارا ساتھ مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا اور جس نے تمہیں تکلیف پہنچائی اُس کو میں تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔
ابھی اپنے دماغ سے ہر قسم کا خوف نکال دو اب تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا تم اب اپنے شوہر کے ساتھ ہو۔
داؤد نے ارحہ کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔جو روتی جا رہی تھی۔
کیا تھا سامنے بیٹھا انسان اس کی غلطی نا ہونے کے باوجود بھی وہ خود کو قصوروار سمجھ رہا تھا۔
کیا وہ اس انسان کی محبت کے قابل تھی۔
ارحہ اس وقت مزید کچھ سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہی تھی اس وقت وہ خود کو محفوظ ہاتھوں میں محسوس کر رہی تھی۔
بند ہوتے آنکھوں سے اس نے داؤد کے سینے پر سر رکھا اور وہی لیٹ گئی۔
داؤد کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر ارحہ کے بالوں میرے جذب ہو گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم کہاں جا رہی ہو؟ زمل جو ہشام کے کہنے پر کمرے سے باہر آ گئی تھی اس نے ہشام کو اگنور کیا اور وہاں سے جانے لگی جب اس نے زمل سے پوچھا۔
آپ نے خود ہی کہا تھا کہ میں یہاں سے چلی جاؤں۔
زمل نے سرد لہجے میں کہا۔
تمہیں میرا ڈرائیور ایئرپورٹ چھوڑ دے گا۔
ہشام کا. لہجہ ابھی بھی سرد تھا۔
آپ کو کس نے کہا کہ میں ائرپورٹ جاؤں گی؟ مجھے ابھی واپس نہیں جانا،
زمل نے ضدی لہجے میں کہا۔
ہشام نے بنا کچھ کہے اسے بازو سے پکڑا کو کھنچتے ہوئے کمرے کی طرف لے گیا۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے۔زمل نے ہشام کی. گرفت میں مچلتے ہوئے کہا۔
جس نے کمرے میں جاکر اس کا بازو چھوڑا تھا۔
اگر تم واپس جانا چاہتی ہو تو پھر تمہیں اس گھر سے نکلنے کی اجازت ہے ورنہ اسی کمرے میں بند رہو۔
ہشام نے زمل کو. دیکھتے دو ٹوک الفاظ میں کہا،
میں کیوں آپ کی بات مانو؟ مجھے آپ کے گھر نہیں رہنا۔
زمل نے چیختے ہوئے کہا اور اپنے قدم دروازے کی. طرف بڑھائے۔
جب ہشام نے غصے سے اس کے بازو کو پکڑے دیوار کے ساتھ لگایا۔جس سے اس کا سر زور سے دیوار کے ساتھ لگا تھا۔
تکلیف کے مارے اس کی آنکھوں میں پانی آگیا۔
تمہیں ایک بار بات سمجھ میں نہیں آتی؟
تم چاہے جتنا مرضی چیخ لو لیکن یہاں سے میری مرضی کے بغیر نکلنا نا مکمل ہے۔
ہشام نے زمل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور اسے چھوڑے کمرے سے نکل گیا۔اور باہر سے اس نے دروازے کو لاک لگا دیا تھا۔