No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
اگلی صبح زمل چلتی ہوئی دروازے کے پاس آئی اور اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور حیرانگی کی بات تھی کہ دروازہ کھل گیا۔
زمل کا چہرہ خوشی سے چمکا تھا۔
وہ پوری رات سوئی نہیں تھی اور اب اس کا سرد درد سے پھٹ رہا تھا آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں لیکن اسے موقع ملا تھا یہاں سے بھاگنے کا جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس لیے دبے پاؤں باہر نکلی اور بہت احتیاط سے ارد گرد دیکھتے آگے کی طرف بھرنے لگی۔
لیکن شاید اسے نہیں معلوم تھا کہ ہشام کے گھر سے باہر نکلنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔
دبے پاؤں وہ چل رہی تھی جب کسی نے اپنا مضبوط ہاتھ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
زمل نے بمشکل اپنی چیخ کا گلہ گھونٹا تھا۔
ہشام چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا اسے گھور رہا تھا ڈارک بلیو کلر کے تھری پیس میں ملبوس وہ بلاشبہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
لیکن اتنے قریب سے زمل نے غور سے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔
وہ کبھی غلطی سے بھی اس کے قریب نہیں آیا تھا۔
اور اس کے کلون کی خوشبو اتنی تیز تھی کہ زمل کو. لگا اگر وہ کچھ دیر مزید اسے ہی کھڑی رہی تو اتنی تیز خوشبو سے اس وہ بےہوش ہو کر گر جائے گی۔
ویسے تو تم مجھ سے محبت کی دعوےدار ہو تو اب مجھ سے دور کیوں بھاگ رہی ہو؟
اتنی جلدی تنگ آگئی تم تو پوری زندگی میرے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔
ہشام کا لہجہ طنزیہ تھا۔
اس نے زمل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کمر پر ابھی بھی گرفت مضبوط تھی۔
زمل نے خود اپنا چہرہ پیچھے کیے دونوں میں تھوڑا بہت فاصلہ بنایا تھا ورنہ ہشام نے جس انداز میں اسے پکڑا تھا اور خود کے قریب کیا تھا دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے ٹچ ہو جاتے،
آپ مجھے دھتکار چکے ہیں شاید آپ اس بات کو بھول چکے ہیں۔
اور جب آپ نے مجھ سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا تو میں آپ کے گھر میں کس حق سے رہو؟ مجھے بھی اپنی عزتِ نفس عزیز ہے۔
زمل نے ہشام کی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے کہا۔
تو فضول کی ضد چھوڑ دو اور واپس چلی جاؤ۔
ہشام کا لہجہ ابھی بھی کیسی تاثر سے پاک تھا۔
آپ….. چھوڑیں مجھے زمل نے ہشام کے سینے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
چپ چاپ واپس کمرے میں چلی جاؤ۔میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں تمھارا ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کر سکوں۔
ہشام نے بےدردی سے زمل کی بھیگتی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
تو کس نے کہا ہے کہ میرے ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔
زمل نے بھاری لہجے میں کہتے خود کو آزاد کرنا چاہا۔
اسے لگ رہا تھا کسی بھی وقت اس کے آنسو آنکھوں سے باہر آجائیں گئے۔
اور وہ اب ہشام کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔
ہشام خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کمرے میں جاؤ ہشام نے اس کی کمر سے ہاتھ پھیرے کرتے سرد لہجے میں کہا۔
جو فوراً اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی۔
ہشام نے اس کے جاتے مڑ کر اس کے کمرے کی طرف دیکھا۔
اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜 💜
میرے لیے چائے بنا کر لاؤ۔. نازیہ نے کمرے گارڈن میں داخل ہوتے حبہ کو دیکھتے اسے حکم دیتے کہا جو گھاس پر بیٹھی اپنی بیٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
تم ملازمہ کو کہہ دو۔ حبہ کہتے ہی اپنی گڑیا کی طرف دیکھنے لگی۔
کیوں تمھارے ہاتھوں میں مہندی لگی ہے؟
نازیہ نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
مہندی تو تمھارے ہاتھوں میں بھی نہیں لگی،
اور میں تمھارا کوئی کام نہیں کروں گی یا تو خود اپنا کام کرو یا ملازمہ سے کہو۔
حبہ نے گڑیا کو گود میں لیتے کھڑے ہوتے نازیہ کو دیکھتے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
اور وہاں سے چلی گئی،
نازیہ پیچھے غصے میں کھڑی جل بھن رہی تھی۔
یہ خود کو سمجھتی کیا ہے؟ میرے شوہر پر قبضہ کرنے کے بعد مجھ پر بھی اپنا حکم چلانا چاہتی ہے اسے تو میں جان سے مار ڈالوں گی۔
نازیہ نے سرد لہجے میں کہا۔
حکم تو وہ حبہ پر چلانا چاہ رہی تھی۔
جس نے انکار کر دیا۔
اس لیے نازیہ کو اتنا غصہ آ رہا تھا۔
حبہ نے جیسا نازیہ کے بارے میں سوچا تھا وہ اس کے برعکس تھی۔
اس لیے حبہ نے سوچا جیسی وہ اس کے ساتھ رہے گی ویسا ہی رویہ وہ نازیہ کے ساتھ رکھے گی اب اسے لگ رہا تھا کہ انوشے ٹھیک کہہ رہی تھی۔
نازیہ جیسی نظر آتی ہے ویسی ہے نہیں۔
اس لیے اسے نازیہ سے بچ کر رہنا ہو گا،
اور خاص طور پر اپنی بیٹی کو نازیہ سے دور رکھنا ہو گا۔
💜 💜 💜 💜 💜
داؤد آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ارحہ نے داؤد کو تیاریاں دیکھتے پریشانی سے پوچھا،جسے تھوڑی دیر پہلے داؤد نے ناشتہ کروایا تھا۔
میری جان مجھے آفس جانا ہے ایک اہم میٹنگ ہے۔
داؤد نے ارحہ کے پاس بیٹھتے پیار سے کہا۔
لیکن میں یہاں اکیلی کیا کروں گی؟
ارحہ کے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔
تمہیں یہاں کچھ نہیں ہو گا۔
اور میں دو گھنٹے کے اندر واپس آجاؤں گا۔
زمل یہی پر ہے۔
اُس سے باتیں کرنا تمھارا دل لگ جائے گا۔
داؤد جے نرم لہجے میں ارحہ کو دیکھتے کہا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے اٹھنے لگا جب ارحہ نے اس کے ہاتھ کو پکڑا۔
جس نے ارحہ کی طرف دیکھا۔
مجھے بھائی سے ملنا ہے۔
وہ کیسے ہیں؟
کیا انہوں نے مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی؟ ارحہ نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
اسے تو معلوم نہیں تھا کہ پچھے کیا معاملہ ہوا۔
وہ ٹھیک ہے تمہیں میں بہت جلد اُس کے پاس لے جاؤں گا۔
اور اُس نے تمہیں تلاش کرنے میں زمین آسمان ایک کر دیا تھا۔جب اُسے سچائی پتہ چلی آخری بات داؤد نے دل میں کہی تھی۔
کیا ہم کل اُن سے ملنے کے لیے جا سکتے ہیں؟ ارحہ کے تھوڑا جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
اگر میں اُسے یہی پر بلا لوں تو؟
داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارحہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
آپ اُ کو یہی بلا لیں۔میں یہی پر اُن سے مل لوں گی۔
ارحہ نے کہا۔
ٹھیک یے اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا اور سامنے والا کمرہ زمل کا ہے۔
داؤد مے جانے بسے پہلے اسے بتاتا پھر کمرے سے چلا گیا۔
ارحہ ابھی بھی اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔جو انوشے نے خود اسکے لیے بنایا تھا اور پانی بھی خود اَس کے لیے لائی تھی
۔جو چیز وہ مانگتا انوشے خود لا کر دیتی اُسے۔
اُس ملازمہ نے کہا بھی کہ وہ ناشتہ بنا دے گی لیکن انوشے نے اسے صاف انکار کر دیا۔. اور ضرغام کے سارے کام وہ خود کر رہی تھی۔
یہ بات ٹیبل پر موجود سب لوگوں نے محسوس کی تھی۔
کیا ان دونوں کے درمیان سب ٹھیک ہو گیا؟ حمیرا نے انعم کے کان میں سرگوشی کرتے پوچھا۔
جسبکا دھیان اپنے کھانے ہر تھا جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام نا ہو۔
پتہ نہیں انعم کے کندھے اچکاتے کہا۔
لیکن حمیرا کو غصہ انوشے پر اس لیے آ رہا تھا۔کہ وہ ملازمہ کو اُس کا کام کرنے نہیں دے رہی تھی۔
لیکن بڑ خانم یہ دیکھ کر بہت خوش تھیں۔
ضرغام نے ناشتے کے بعد انوشے کو کمرے میں آنے کا کہا اور اُٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
انوشے بھی اپنی جگہ سے اُٹھی اور کمرے کی طرف چلی گئی۔
تم یہ سب کیا کر رہی ہو؟ کمرے میں داخل ہوتی انوشے کو دیکھتے ضرغام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
کیا؟ انوشے نے انجان بنتے پوچھا۔
تم اچھی طرح جانتی ہو میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔ضرغام نے انوشے کو بازو سے پکڑے خود کے قریب کرتے کہا۔
میں بس آپ کے لیے ناشتہ بنانا چاہتی تھی۔
کیا آپ کو اچھا نہیں لگا؟ انوشے نے ضرغام کو. دیکھتے پوچھا۔
مجھے بہت اچھا لگا لیکن تم میری. عادتیں خراب کر دو گی۔
اور پھر جب انسان کو کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو بہت مشکل سے چھوٹتی ہے۔
اس لیے میری عادتیں خراب نا کرو۔ ضرغام نے سنجیدگی سے کہا۔
میں کہی نہیں جا رہی اور میرا جب دل کرے گا میں آپ اکے لیے کھانا بناؤ گی میں آپ کی بیوی ہوں ۔
انوشے نے غصے سے کہا اسے ضرغام کی بات بلکل بھی اچھی نہیں لگی تھی۔
اُف تمھارا مجھ پر حق جتانا کہی میری جان ہی نا لے لیں۔
ضرغام نے ڈرامائی انداز میں کہا۔
آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ انوشے نے گھورتے ہوئے کہا۔
ضرغام فقط مسکرا پڑا تھا۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کچھ دنوں کا مہمان ہوں۔
اندر سے ایسی فیلنگز آ رہی ہیں۔
ضرغام کے گہرا سانس لیتے اداسی سے کہا۔آج کل اس کا دل اداس رہنے لگا تھا۔
وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا بول گیا ہے۔
ضرغام آپ کیا بول رہے ہیں؟ انوشے نے پریشانی سے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
وہ اس کی باتیں سن کر پریشان ہو گئی تھی۔
کچھ نہیں چھوڑوں ان سب باتوں کو لیکن میری ایک بات یاد رکھنا،. اگر مجھے کچھ بھی ہو جاتا ہے تو اپنے چاچو کے پاس جانا اپنے باپ کے پاس ہرگز مت جانا۔
اگر اس دنیا مین تمھارا کوئی احساس کرتا ہے تو وہ وہ تمھارا چاچو ہے۔
ضرغام نے انوشے کو کندھے سے تھامے سنجیدگی سے کہا۔
ضرغام اب آپ مجھے اپنی باتوں سے ڈرا رہے ہیں۔
آپ کو کچھ نہیں ہو گا آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟
انوشے نے خوفزدہ لہجے میں ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
انوشے آگے کیا ہونے والا ہے کسی کو معلوم نہیں ہے۔
تو بہتری اسی میں ہے کہ انسان ہر طرح کے حالات کے لیے خود کو تیار رکھے۔
مجھے کچھ نہیں ہو گا لیکن احتیاط کے طور پر تمہیں کہہ رہا ہوں۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگر آپ کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوا ہی ہے تو اس طرح کی باتیں کرکے مجھے ڈرا رہے ہیں۔
انوشے نے منہ بسوڑتے کہا۔
ضرغام کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے۔
میں جانتا ہوں پیچھے تمھارے ساتھ جو کچھ ہوا اور جو میں نے کیا۔
اُس سے تمہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔
لیکن……
ضرغام کو الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
ضرغام میں نے کبھی آپ سے اس بات کا شکوہ نہیں کیا۔
بلکہ میں آپ کی شکرگزار ہوں۔جیسا آپ لوگوں نے میرے ساتھ رویہ رکھا ویسا کسی بھی ونی میں آئی لڑکی کے ساتھ نہیں رکھا جاتا۔
آپ کا رویہ میرے ساتھ سخت ضرور تھا۔اور وہ بھی اس لیے کہ آپ نے اپنی بہن کو کھویا تھا۔
تو اتنا غصہ کرنا تو آپ کا جائز تھا۔
انوشے نے دھیمے لہجے میں کہا۔
تم سمجھدار ہو انوشے لیکن چاہے تم کچھ بھی کہہ لو کیا ہم سب نے غلط ہی ہے۔
جس کا پچھتاوا شاید مجھے ہمشیہ رہنے والا ہے۔
خیر کافی باتیں بعد میں ہو گئی اب میں نکلتا ہوں مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔
ضرغام نے انوشے کو دیکھتے کہا۔
اور وہاں سے جانے لگا۔
ضرغام مجھے آپ کو کچھ بتانا تھا۔
انوشے نے ے اُس ملازمہ کے بارے میں سوچتے جلدی سے کہا۔
انوشے میں واپس آکر بات کرتا ہوں ابھی میں نکل رہا ہوں۔
ضرغام نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
انوشے نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ضرغام گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ جب اسے اپنے سینے کی پھر سے درد سا اٹھتا ہوا محسوس ہوا۔
ضرغام نے گہرا سانس لیتے اس درد کو برداشت کیا۔
اور اپنے رنگ ہوتے موبائل کو دیکھا،
داؤد کا نمبر دیکھ اس نے کال ریسو کی۔
اور موبائل کان سے لگایا۔
اس وقت کہاں ہو؟
کیا ہم مل سکتے ہیں؟
داؤد نے پوچھا۔
مجھے ابھی ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ہم بعد میں مل سکتے ہیں۔
کال آنے سے پہلے ضرغام نے کا ایک ہاتھ سٹیرنگ پر جبکہ دوسرا اپنے سینے پر تھا۔
ٹھیک ہے شام کیفے میں ملتے ہیں میں تمہیں ایڈریس سینڈ کر دیتا۔
داؤد نے سنجیدگی سے کہا،
ٹ ٹھیک ہے۔
ضرغام نے تکلیف دہ لہجے میں کہا سینے میں اٹھتی تکلیف بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
ضرغام تم ٹھیک ہو ؟داؤد نے جلدی سے پوچھا کیونکہ ضرغام کے لہجے میں تکلیف نمایا تھی۔
ہ ہاں میں ٹھیک ہوں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔ضرغام نے سامنے سڑک پر دیکھتے گہرا سانس لیتے کہا.
لیکن اسے لگ رہا تھا جیسے ڈرائیونگ اس سے ٹھیک طرح سے نہیں رہی۔سٹیرنگ پر اس کی گرفت ہلکی ہوتی جا رہی تھی۔
ضرغام سنو میری بات اس وقت تم کہا پر ہو؟ کیا کر رہے ہوں؟
داؤد نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے پریشانی سے پوچھا۔
ڈرائیونگ کر رہا ہوں۔ضرغام کے جواب دیا۔
ابھی اور اسی وقت گاڑی روکو۔
داؤد کے ضرغام کو کہا۔
کیوں؟ ضرغام کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
فار گارڈ سیک ضرغام کبھی تو کسی کی بات مان لیا کرو۔
تم اتنے ضدی کیوں ہو؟
داؤد نے تقریباً دھاڑتے ہوئے کہا۔
لیکن دوسری جانب اسے دھماکے کی آواز آئی۔اور داؤد کو لگا سب ختم ہو گیا ہے اس کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
ضرغام……. داؤد منہ میں بڑبڑایا….
