Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

نازیہ میری بچی کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟
نازیہ جو روتی ہوئی ضرغام کی حویلی واپس آئی تھی۔
اس کی آواز سنتے باقی سارے لوگ بھی اپنے کمروں سے باہر نکل آئے۔
اتنی دیر بعد اگر نازیہ اپنی ماں سے ملی بھی تو اس حالت میں ملی۔
وہ صرف فون پر اپنی ماں سے بات کرتی تھی جب سے دونوں گاؤں والوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔
اُس وقت سے نازیہ اپنی فیملی سے ملی نہیں تھی۔کیونکہ اقبال نے اسے منع کیا تھا۔
نازیہ کیا ہوا؟ تم اتنے سالوں بعد حویلی آؤ ہو تو کیا ایسے ہم سب سے ملو گی؟
بڑی خانم نے نازیہ کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
نازیہ بڑی خانم کی طرف بڑھی اور ان کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
نازیہ اب تو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے کیا ہو گیا۔
حمیرا نے نازیہ کے پاس آتے پوچھا۔
امی اقبال نے مجھے دھوکا دیا۔
وہ بہت پہلے نکاح کر چکے تھے اور اب تو ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔
نازیہ نے روتے ہوئے اپنی ماں کو بتایا جس نے حیرانگی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔
وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے جب ہم نے شرط رکھی تو اُس نے بھی مانی تھی۔اور اب وہ کیسے ایسا کر سکتا ہے۔
حمیرا نے غصے سے کہا۔
حمیرا پہلے نازیہ کو پانی دو بعد میں اس بارے میں بات کرتے ہیں جاؤ اسے اندر لے کر جاؤ۔
بڑی خانم نے نازیہ کو دیکھتے کہا۔۔
چلو میرے ساتھ تم پریشان مت ہو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔
حمیرا نے نازیہ کو حوصلہ دیتے کہا۔
اور اسے لیے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
بڑی خانم نے دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا،
پہلے مسئلے کم تھے۔
جو اب مزید ایک اور مسئلہ سامنے آگیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
یہ لڑکی بےہوش کیوں ہے؟
داؤد نے اُسی کام والی کو دیکھتے سرد لہجے میں پوچھا۔
اگلے دو گھنٹے کے اندر اس کے آدمی اُسے یہاں لے آئے تھے۔
سر یہ ہمیں دیکھ کر بےہوش ہو گئی آدمی نے کہا۔
داؤد نے سامنے کھڑے ہٹے کٹے اپنے آدمیوں کو دیکھا۔جن کی شکل دیکھ کوئی بھی لڑکی بےہوش ہو سکتی تھی۔
تم لوگوں کو دیکھ کر اس کا بےہوش ہونا سمجھ میں آتا ہے۔
داؤد نے کہتے ہی رخ تبدیل کر لیا۔
جاؤ پانی لے کر آؤ میں اس کے ہوش میں آنے تک کا انتظار نہیں کر سکتا۔
داؤد نے کہا تو اس کا آدمی پانی لینے چلا گیا۔
لیکن اُس آدمی کے واپس آنے سے پہلے ہی اُس لڑکی کو ہوش آگیا۔
اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولے پہلے تو سب کچھ اسے دھندلا نظر آیا پھر جیسے ہی صاف نظر آیا سامنے رخ موڑے کھڑے شخص کو دیکھ کت اس کی آنکھیں پھیل گئی اسے لگا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کلینک میں آئے تھے۔
ک کون ہیں آپ لوگ؟ اُس لڑکی نے ہمت جمع کرتے پوچھا۔
آواز پر داؤد نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
لیکن داؤد کو دیکھتے لڑکی کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات آگئے،
وہ اسے پہچان چکی تھی تھی۔
آپ؟ اُس لڑکی نے حیرانگی سے کہا۔
اچھا ہوا کہ تم نے مجھے پہچان لیا۔
تو اب سیدھے مدعے کی بات پر آتے ہیں۔
داؤد کہتے ہی دو قدم آگے آیا۔
لہجہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
وہ لڑکی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔
جب میں اپنی بیوی کو وہاں چھوڑ کر گیا تو پیچھے کیا ہوا تھا؟ داؤ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ…. اُس لڑکی نے پریشانی سے کہا۔
تم. یہاں سیف ہو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔اس لیے بےفکر ہو کر میرے سوال کے جواب دو۔
داؤد سمجھ گیا تھا کہ وہ ڈری ہوئی ہے۔
وہ آپ کے جانے کے بعد کچھ لوگ آئے تھے انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر مجھے اپنی جان پیاری ہے تو میں وہاں سے کہی دور چلی جاؤں۔
میں کلینک سے باہر آگئ لیکن میں وہاں سے بھاگی نہیں تھی۔
ایک درخت کے پیچھے چھپ گئی۔
وہ لوگ آپ کی بیوی کو گاڑی میں ڈالے اپنے ساتھ لے گئے، اور کلینک کو بھی آگ لگا دی۔
لڑکی نے جو بھی دیکھا تھا وہ داؤد کو بتا دیا لیکن وہ یہ سنتے پتھر کا بن گیا تھا۔
اس کا مطلب کہ ہو سکتا ہے ارحہ زندہ ہو۔
اور اگر وہ زندہ ہے تو لاش کس کی تھی؟
داؤد نے اپنی کن پٹی دباتے سوچا۔
کیا سچ میں وہ لوگ ارحہ کو اپنے ساتھ لے گئے تھے؟
داؤد نے کنفرم کرنا چاہا۔
جی صاحب وہ آپ کی بیوی کو ساتھ لے گئے تھے اور جب کلینک کو آگ لگی تو یہ دیکھتے ہی میں وہاں سے بھاگ گئی تھی۔
اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی۔
لڑکی نے داؤد کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے تم جا سکتی ہو میرے آدمی تمہیں صحیح سلامت تم جہاں کہو گی چھوڑ دیں گئے۔
داؤد نے نرم لہجے میں کہا۔
اس لڑکی نے اسے بہت بڑی خوشخبری سنائی تھی۔دل کو کر رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو بتائے۔
وہ بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا خوش ہے۔
وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی۔
داؤد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
ارحہ آج مجھے تھوڑی سی امید ملی ہے۔کہ تم زندہ ہو۔
میں زمین اور آسمان ایک کر دوں گا تمہیں ڈھونڈ کر ہی دم لوں گا۔
یہ میرا خود سے وعدہ ہے اور جس نے بھی تمھارے ساتھ یہ کیا اُس کو تو میں نہیں چھوڑوں گا۔
داؤد نے اپنا موبائل نکالتے سرد لہجے میں کہا اور ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔لیکن اب اسے ایک بات کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ ارحہ آخر کہاں ہے اور کس حال میں ہو گی۔
💜 💜 💜 💜
یہ میری امی ہیں اور تمھاری ساسوں ماں
اقبال حبہ کو اپنی ماں کے کمرے میں لے آیا تھا۔
حبہ نے اپنی بیٹی کو صبا کے ساتھ لیٹا دیا جو سو رہی تھی۔
اقبال ان کا خیال کون رکھتا ہے؟
حبہ نے صبا کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
چاچو نے نرس رکھنے کا کہا تھا۔
وہ نرس جو ہیں کل تک آجائے گی۔
اقبال نے کہا۔
اقبال اب اس کی ضرورت نہیں ہے اب سے میں ان کا خیال رکھوں گی۔
میری ماں باپ تو بچپن میں ہی گزر گئے تھے ایسے مجھے بھی ان کی خدمت کرنے کا موقع مل جائے گا۔
حبہ نے صبا کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر کہا۔
کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟
اقبال نے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
کیونکہ اسے یاد ہے کہ نازیہ ایک بار بھی اس کمرے میں نہیں آئی تھی۔
اقبال کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی
اقبال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اقبال اب نازیہ کیا کرے گی؟ اُسے بہت تکلیف پہنچی ہے۔
آپ ایسا کریں اُس سے معافی مانگ لیں۔
مجھے نازیہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور جب آپ بھی پیار سے اُسے منا لیں گئے اور معافی مانگ لیں گئے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
حبہ نے اقبال کے سامنے کھڑے ہوتے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کہا۔
اقبال حبہ کی بات پر فقط مسکرا پڑا اور دوسرا اپنا ہاتھ حبہ کے ہاتھ پر رکھا۔
حبہ تمھاری سوچ کی میں دل سے عزت کرتا ہوں۔
تم اچھی ہو سب کے بارے میں سوچتی ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی سب بھی اچھے ہوں گئے۔
ابھی تم نازیہ کو جانتی نہیں ہو۔
اگر میں اُس سے معافی بھی معاف لوں تو بھی وہ اپنی ضد پر اڑی رہے گی۔
تم اس بارے میں زیادہ نا سوچو میں سب سنبھال لوں گا۔تم آؤ میں تمہیں کمرہ دکھا دیتا ہوں۔
اقبال نے حبہ کو دیکھتے کہا۔
اقبال میں تھوڑی دیر یہی امی کے پاس رکنا چاہتی ہوں اور دیکھیں نا ہماری گڑیا بھی اپنی دادی کے پاس سکون سے سو رہی ہے۔
حبہ نے مسکراتے ہوئے اپنی بیٹی کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے۔اپنا خیال رکھنا۔
اور تم یہی رہو میں آتا ہوں کچھ دیر میں اقبال نے کہا۔اور کمرے سے چلا گیا۔
حبہ چلتی ہوئی اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ گئی۔
اور مسکراتی نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھتے لگی۔
💜 💜 💜 💜
نازیہ اب تم کیا چاہتی ہو؟
حمیرا نے نازیہ کو دیکھتے پریشانی سے پوچھا۔
امی آپ ابھی اور اسے وقت انوشے کو اس حویلی سے نکال دیں۔
نازیہ نے سرخ آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
انوشے کو نکالنے سے کیا ہو گا؟
حمیرا نے حیرانگی سے پوچھا۔
کیونکہ اقبال اُسے حویلی میں داخل نہیں ہونے دے گا۔اور جب وہ در در بھٹکے کی تو مجھے بھی تھوڑا سکون ملے گا۔
نازیہ نے غصے سے کہا۔
لیکن آپی اس انوشے کو کیا لینا دینا؟
انعم کو ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ نازیہ کرنا کیا چاہتی ہے۔
تم. اپنی زبان بند کرو تمہیں اُس کی بہت فکر کھائے جا رہی ہے۔
جب میں اُس گھر میں نہیں ہوں تو وہ بھی یہاں نہیں رہے گی۔
میں یہاں اُس کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔
نازیہ کی باتوں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ انوشے سے بہت جلتی ہے بس اُس کا نقصان کرنا چاہتی ہے کسی نا کسی طرح۔
نازیہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے اس وقت انوشے کو نہیں بلکہ اقبال کے بارے میں سوچو۔
حمیرا نے بھی اسے سمجھانا چاہا۔
کیونکہ وہ بھی اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ ضرغام سے پنگا لینا ٹھیک نہیں ہے۔
لیکن نازیہ سمجھ پی رہی تھی۔
امی میں پہلے ہی پریشان ہوں اور آپ بھی اُس کی سائیڈ لے رہی ہیں وہ لڑکی یہاں خون بہا میں آئی ہے وہ جیے یا مرے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لیکن آپ سے بات کرنا بیکار ہے میں خود ہی
اُسے اس حویلی سے نکال دوں گی۔
نازیہ نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے غصے سے کہا اور بنا اپنی ماں اور انعم کا بات سنے وہاں سے چلی گئی۔
یہ لڑکی پاگل ہو گئی ہے۔انعم روکو اپنی بیوقوف بہن کو حمیرا نے پریشانی سے انعم کو دیکھتے کہا۔
جی امی انعم نے کہا اور نازیہ کے پیچھے بھاگی۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام اپنے کمرے میں ساری لائٹس بند کیے اپنی آرام دہ کرسی پر آنکھیں موندے بیٹھا ہوا تھا۔
ارحہ دیکھو تمھارے جانے کے بعد کیا کچھ ہو گیا۔
کاش کہ تم میرے پاس ہوتی۔
کیوں تم حویلی سے گئی؟آخر ایسی بھی کیا وجہ تھی۔
کیا سچ میں تم داؤد کو پسند کرتی تھی؟اگر کرتی تھی تو ایک بار تو مجھ سے بات کرتی۔
تاکہ کی تمھاری جان بچا سکتا اور آج تم میرے سامنے ہوتی۔ایک بار تو اپنے بھائی پر بھروسہ کرتی۔
جانتی ہو تمھارے جانے کے ضرغام بدر نے کیا کچھ کیا۔
جو وہ کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ضرغام آنکھیں موندے دماغ میں یہی سب باتیں سوچ رہا تھا۔
جب اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے انوشے کو روتا ہوا چہرہ آیا۔ضرغام نے فوراً آنکھیں کھول لی تھیں۔
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
ضرغام نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے کیوں میری آنکھوں کے سامنے اس لڑکی کا چہرہ آ رہا ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے اسے ناجانے کیوں بار بار انوشے کا خیال آ رہا تھا۔
لڑکی نہیں انوشے نام ہے
دل سے آواز آئی تھی۔
جسٹ شٹ آپ
ضرغام نے غصے سے اپنے دل کی آواز کو دبایا جب اسے اپنے کمرے سے باہر کچھ آوازیں سنائی دی اس کا دھیان فوراً ناچاہتے ہوئے بھی انوشے کی طرف گیا۔
ضرغام اپنی جگہ دے اٹھا اور اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے۔
…..
نازیہ کو کمرے کا معلوم نہیں تھا اس لیے اس نے ملازمہ سے پوچھا تو ملازمہ نے بتا دیا کہ ضرغام کے ساتھ والا کمرہ ہے۔
خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کو اتنی اچھی طرح رکھا جائے گا میں نے سوچا نہیں تھا۔
اس کی قسمت تو ہمیشہ سے ہی اچھی ہی رہی ہے۔نازیہ نے منہ پر بڑبڑاتے ہوئے غصے سے کہا اور زور سے انوشے کے کمرے کا دروازہ کھولا
انوشے جو اندر بیڈ پر بیٹھی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا اس سے پہلے وہ نازیہ کو دیکھتے حیران ہوتی کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے۔نازیہ نے اسے بالوں سے دبوچتے اسے کمرے سے باہر لے کر آئی۔
انوشے تکلیف کے مارے کراہ پڑی اور ساتھ چیخ بھی رہی تھی۔
انوشے نے اپنا پورا زور لگاتے اپنے بچاؤ کے لیے نازیہ کو پچھے دھکا دیا جو زور سے دیوار کے ساتھ جا لگی۔
تمھاری اتنی ہمت نازیہ نے آنکھیں پھاڑے غصے سے کہا۔
اور اپنے قدم انوشے کی طرف بڑھائے جس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔
نازیہ اس سے پہلے انوشے کے منہ پر تھپڑ مارتی اس کا ہوا میں بلند ہاتھ راستے میں ہی کسی نے پکڑ لیا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ ضرغام بدر تھا۔
انوشے آنکھیں میچے کھڑی تھیں۔
شور سنتے باقی سب بھی وہاں آگئے تھے۔
ضرغام بدر جو اپنے کمرے سے باہر آیا تھا نازیہ اور انوشے کو دیکھ چکا تھا۔
نازیہ نے اپنے ہاتھ کو پکڑنے والے کی طرف دیکھا۔
نازیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب کیا ہو گا۔