Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

کھیتوں میں آگ کیسے لگ سکتی ہے اور اتنی زیادہ آگ کیسے پھیل گئی؟ تم سب لوگ کہاں تھے۔
کیا سو رہے تھے؟
ضرغام نے اپنے سامنے کھڑے آدمیوں کو دیکھ دھاڑتے ہوئے پوچھا۔
کھیت میں آگ کی وجہ سے ضرغام کو کافی نقصان پہنچا تھا۔
سر میں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شہر سے گاؤں واپس آیا ہوں۔
مجھے نہیں معلوم لیکن جمشید نے آکر اطلاع دی کہ کھیتوں میں آگ لگ گئی گی اور باقی کے جو دو امی تھے جو کھیتوں کی دیکھ بھال کرتے تھے وہ بےہوش پڑے تھے۔
اُن دو آدمیوں کے ساتھ جمشید بھی تھا لیکن وہ بےہوش نہیں تھا۔
اُس آدمی نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔
زہاب تم نے یہ اچھا نہیں کیا۔تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔
ضرغام نے جبڑے بھینچے کہا،. وہ سارا کھیل سمجھ گیا تھا۔
اُس جمشید کو ابھی اور اسی وقت میرے سامنے لے کر آؤ۔زہاب کا ساتھ دے کر اُس نے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔
ضرغام نے اپنے آدمیوں کو حکم دیتے کرختگی سے کہا۔
جو اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلے گئے۔
ضرغام کو جب کال آئی تو اس کے آدمی نے اسے آگ لگنے کی اطلاع دی۔
زہاب نے بڑی صفائی سے اپنا کہا سچ کر دکھایا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ ان کھیتوں میں ضرغام کی جان بستی ہے کیونکہ یہ کھیت ضرغام کی ماں کو بہت پسند تھے اور اس کی ماں نے کہا تھا کہ ان کا خیال رکھنا یہ کھیت میرے دل کے قریب ہیں۔
اور زہاب نے شیر کو للکارا تھا جس کا انجام اچھا نہیں ہونے والا تھا۔
زہاب نے جمشید کو پیسے دے کر خرید لیا تھا۔اور اُسی نے باقی دو آدمیوں کے کھانے میں بےہوشی کی دوا ڈال دی اور خود کھیتوں میں آگ لگا دی اور جب وہ زیادہ پھیل گئی تو پھر اس نے آگ لگنے کی. اطلاع دی اور بتانے کے بعد فرار ہو گیا۔
💜 💜 💜 💜
ارحہ کا نکاح داؤد سے ہوگیا تھا۔
ارحہ اب تھوڑی مطمئن تھی۔لیکن پھر بھی ایک خوف تھا کہ اگر وہ اس تک پہنچ گیا تو کیا ہو گا لیکن داؤد اس کے ساتھ تھا۔اس لیے اس حوصلہ تھا۔
نکاح کے بعد داؤد کمرے میں داخل ہوا جہاں ارحہ بیٹھی سامنے دیوار کو گھور رہی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔
اور داؤد کو دیکھتے اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
اب تم میرے ساتھ رہ سکتی ہو۔
داؤد نے ارحہ کے چہرے پر نظریں جمائے کہا۔
جس نے کچھ سیکنڈ ہی داؤد کی آنکھوں میں دیکھا لیکن پھر نظروں کا رخ تبدیل کر لیا۔
وہ زیادہ دیر تک داؤد کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی تھی۔
آپ کو کچھ چاہیے تھا؟
ارحہ کی زبان پر جو کچھ آیا بول کر اسے جب احساس ہوا تو زبان کو دانتوں تلے دبایا۔
نکاح کے بعد شوہر اپنی بیوی کے پاس ہی آتا ہے۔مسز داؤد
اور جانتی ہو وہ کیوں آتا ہے؟
داؤد نے تھوڑا ارحہ کے چہرے پر جھجکتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا۔
ک کیا؟ ارحہ نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا،
تاکہ اپنی بیوی کو مبارک باد دے سکے۔
داؤد نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
ارحہ کے لبوں پر بھی دھیمی سی مسکراہٹ آگئی تھی۔
میں نے جب تمہیں پہلی بار دیکھا تو اپنے دل پر تمھارا نام لکھ لیا۔تمہیں شاید یاد نہیں ہو گا۔لیکن گاؤں کی ایک شادی تھی اور تم نے بلیک کلر کا سوٹ پہنا تھا اور جب تم موبائل پر نظریں جمائے چل رہی تھی۔
آپ وہی پر تھے؟ اور آپ نے مجھے گرتے ہوئے بھی دیکھا؟ ارحہ نے اس کی بات کو کاٹتے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں میں وہی تھا اور تمہیں گرتے ہوئے بھی دیکھا اور پھر تم بچوں کی بیٹھ کت. رونے لگی تھی۔
داؤد نے ارحہ کے بالوں کی کٹ کو کھنچتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
ارحہ نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی تھیں۔
شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔تم روتے ہوئے بہت کیوٹ لگتی ہو۔
لیکن اس وقت میں تمہیں اپنے دل کی حالت سے آگاہ کر رہا ہوں تم سے نکاح کے لیے فوراً مان جانے کی وجہ یہی ہے۔
اور آج میں بہت خوش ہوں جہاں تک بات ہے تمھارے بھائی کی اُسے میں سنبھال لوں گا۔اور اب تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مجھے شہر کی ایک ضرور کام سے جانا ہے تم بھی میرے ساتھ آجاؤ واپس آکر باقی ساری صورتحال کو میں سنبھال لوں گا۔
داؤد نے ارحہ کے ماتھے پر جھکتے وہاں پر لب رکھتے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ ارحہ نے سرخ چہرہ اثبات میں ہلا دیا۔
داؤد ارحہ کا ہاتھ تھامے اسے وہاں سے لے گیا۔جو نظریں جھکائے چہرے ہر شرمیلی سی مسکراہٹ لیے اد کے ساتھ چل پڑی تھی۔
دونوں آگے آنے والے حالات سے ناواقف تھے۔لیکن ابھی فلحال دونوں خوش تھے۔
💜 💜 💜 💜
تو ارحہ میڈم داؤد کے پاس بھاگ گئی۔اُسے لگتا ہے کہ وہ انسان اُس کی مدد کر سکتا ہے؟
مقابل نے قہقہہ لگاتے تمسخرانہ انداز میں کہا اور اپنی انگلیوں میں دبائے سگریٹ کو سلگایا۔
داؤد پر نظر رکھو۔
اگر اُس کے ساتھ وہ لڑکی نظر آئے تو مار ڈالو۔اگر ضرورت پڑے تو داؤد کا کام بھی تمام کر دینا۔مقابل نے سنجیدگی سے کہا۔
اوکے سر آدمی نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
کب تک مجھ سے بھاگو گی۔
اگر بچ گئی تو تمھاری قسمت میں میرے پاس آنا ہی لکھا ہے۔
مقابل نے خود سے کہا۔
……
کچھ آدمیوں نے داؤد پر نظر رکھی تھی اور ساتھ ارحہ بھی تھی جو گاڑی میں بیٹھی اور داؤد نے اسے دیکھتے گاڑی سٹارٹ کی۔
تھوڑا آگے جا کر داؤد جو سکون سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا،
اسے کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا۔
اسے ایسا لگا جیسے کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے راستہ بھی سنسنان آیا تھا۔
کیا ہوا؟ ارحہ نے داؤد کو دیکھتے پریشانی سے پوچھا۔جو بار بار پیچھے دیکھ رہا تھا۔
شٹ….. اس سے پہلے داؤد کچھ کہتا گولی کی آواز پر گاڑی بےقابو ہوئی داؤد نے بمشکل سنبھالی تھی۔
گاڑی کے ٹائر پر گولی لگی۔
جس کی وجہ سے وہ بےقابو ہوئی۔
تم ٹھیک ہو داؤد نے فوراً ارحہ کو دیکھتے پوچھا۔
جو پیچھے دیکھ رہی تھی،
داؤد وہ لوگ یہی آ رہے ہیں۔ارحہ نے پریشانی سے کہا جس نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا اور پہلے اس نے ارحہ کی سیٹ بیلٹ کھولی اور پھر اپنے سیٹ بیلٹ کھلونے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑے گاڑی سے باہر نکلا۔
وہ لوگ زیادہ ہیں اور تمھاری موجودگی میں میں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس لیے جلدی سے یہاں سے جانا ہو گا۔
داؤد نے ارحہ کو دیکھتے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑے جھاڑیوں کی طرف چلا گیا لیکن پیچھے جو لوگ ان کے پیچھا کر رہے تھے۔
انہوں نے دونوں کو وہاں سے جاتے دیکھا تو گولیوں کی برسات کر دی۔
ارحہ آگے تھی داؤد نے اسے کور کیا ہوا تھا۔لیکن پھر بھی ایک گولی ناجانے کہاں سے آئی اور ارحہ کے بازوں کو چھوتے نکل گیا۔
آہ…. ارحہ تکلیف کے مارے کراہ پڑی
داؤد نے ارحہ کو دیکھا اور اسے بنا وقت ضائع کیے اسے گود میں اٹھائے وہاں سے لے گیا۔
بھاگ گئے دونوں وہاں موجود ایک آدمی نے غصے سے کہا۔
چلو یہاں اسے اور تم دونوں تلاش کرو جب تک وہ لوگ مل نہیں جاتے مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔
اَس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیتے کہا۔
اور خود وہاں سے چلا گیا۔
داؤد نے ارحہ کی طرف دیکھا جو خوف کے مارے بےہوش ہو گئی تھی اس کے بازو سے خون نکل رہا تھا۔
تمھاری تو میں جان لے لوں گا کمینے بس ایک بار تو میرے سامنے آجا۔
داؤد نے جبڑے بھینچے کہا۔
اور ارحہ کو پاس والے کلینک لے گیا وہ لوگ گاؤں سے زیادہ دور نہیں آئے تھے۔
اس لیے داؤد اسے سامنے چھوٹے سے بنے کلینک میں لے گیا۔
جو سڑک کے درمیان میں پڑتا تھا۔
کوئی ہے یہاں؟ داؤد نے چیختے ہوئے کہا اور ارحہ کو بیڈ پر لیٹایا۔
ایک کام والی جلدی سے وہاں آئی۔
چھوٹا سا کلینک تھا۔
صاحب ڈاکٹر ابھی نہیں آئی۔
کام والی نے جلدی سے آگے آتے کہا۔
وہ کب تک آئے گی؟ داؤد نے اپنی جیب سے رومال نکالتے ارحہ کے بازو پر رکھتے کہا۔
سر وہ تھوڑی دیر بعد آئے گی،
کام والی نے ارحہ کو دیکھتے کہا۔
ابھی اور اسی وقت ڈاکٹر کو فون کرو۔میری بیوی کو گولی لگی ہے۔
داؤد نے نرس کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
داؤد کو یہی لگ رہا تھا کہ ارحہ کو گولی لگی ہے لیکن وہ تو صرف چھو کر گزر گئی تھی۔
سر یہاں سنگل نہیں آتے اگر آپ کو برا نالگے تو کچھ فاصلے پر ہی اُن کا گھر ہے آپ اُنکو لے آئے۔
کام والی نے. مشورہ دیتے کہا۔
داؤد کو یاد آیا کہ کچھ فاصلے پر ایک گھر ضرور تھا۔
ٹھیک ہے میں اُن کو آتا ہوں۔
داؤد نے ملازمہ سے ڈاکٹر کا نام پوچھا اور ایک نظر ارحہ پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
داؤد کے نکلتے ہی وہی آدمی کلینک کے اندر آئے ہاتھ میں ان کے پٹرول تھا۔اور کلینک میں جھڑکنے لگے۔
کام والی ان ہٹے کٹے آدمیوں کو دیکھتے دیوار کے ساتھ لگ گئی۔
اگر اپنی جان پیاری ہے تو اس گاؤں سے دور بھاگ جاؤ۔اور اگر تم یہاں دوبارہ نظر آئی تو بنا کسی مقصد کے ماری جاؤ گی۔
آدمی نے دھمکی دیتے کہا تو کام والی بنا وقت ضائع کیے۔وہاں سے بھاگ گئ۔
ایک آدمی نے ارحہ کو اٹھایا اور باہر کھڑی گاڑی میں ڈالا اور کلینک کے اندر لیٹر جلا کر پھینک دیا۔
آگ ایک سیکنڈ میں پھیلی تھی۔
وہ آدمی بھی جلدی سے گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی چلائے ارحہ کو لیے وہاں سے چلے گئے۔
وہی دو آدمی جو داؤد کا پیچھا کر رہے تھے۔
ان کو داؤد نظر آگیا اور انہوں نے اپنے باس کو کال کی اور اُسے بتایا کہ داؤد اُس لڑکی کو ایک کلینک میں لے کر جا رہا یے پھر ان کے باس نے جیسا کہا اس کے آدمیوں نے ویسا ہی کیا۔
چھوٹا سا کلینک جو ایک کمرے میں مشتمل تھا آگ بہت زیادہ بھڑک پڑی تھی۔
داؤد جو ڈاکٹر کو لے کر واپس آیا تھا آگ کو دیکھ کر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
ارحہ…. داؤد چیختے ہوئے اندر کی جانب بڑھنے لگا۔
آج پی تو اد کا نکاح ارحہ سے ہوا تھا اور آج ہی وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی۔
ساتھ جو ڈاکٹر کھڑی تھیں۔اور چہرے پر بےیقینی تھی اس نے داؤد کو پکڑے روکا۔
کیا کر رہے ہیں آپ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔
اگر آپ اندر گئے تو آپ کی جان بھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر نے داؤد کو روکتے ہوئے کہا۔
لیکن اندر میری بیوی ہیں داؤد نا لہجہ بےبسی میں بھر آیا تھا عجیب سی اس پر بےبسی طاری تھی۔
داؤد بےبسی سے کھڑا آگ کو دیکھ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ارحہ کو ہوش آیا تو بازو میں اٹھتی تکلیف کی وجہ سے کراہ پڑی۔
اسے یاد تھا کہ آخری بار داؤد نے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا اور پھر یہ بےہوش ہو گئی۔
تمہیں ہوش آگیا؟
مقابل نے ارحہ کے سامنے آتے مسکرا کر کہا۔
ہاتھ میں اس نے وائن کی بوتل پکڑی ہوئی تھی۔
ت تم؟
تم مجھے اغوا کیے یہاں لائے ہو؟
تمھاری ہمت کیسے ہوئی جانتے بھی ہو میں کون ہوں؟ تو تم تھے اس سب کے پیچھے؟۔
ارحہ نے مقابل کو دیکھتے لہجے میں بےیقینی لیے چیختے ہوئے کہا،
بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم کون ہو اور شاید یہی تمھاری غلطی ہے۔کہ تم اُس انسان کے ساتھ جڑی ہو جسے دیکھتے ہی میرا دل کرتا ہے کہ میں اُس کی اُسی وقت جان لے لوں۔
مقابل نے سرد لہجے میں اُس لڑکی کے پاس آتے کہا۔
تم بہت بڑی غلطی کر رہے ہو مجھے چھوڑ دو۔
ورنہ تمھارا انجام اچھا نہیں ہو گا،
زمین پر بیٹھی بےبسی سے روتی ارحہ نے پیچھے کو کھسکتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں کہا۔سامنے کھڑے انسان کے ارادے اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
ارحہ کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کمر کے ساتھ رسی سے باندھا ہوا تھا۔
بکھیرے بال مرجھایا سا چہرہ اس وقت وہ قابلِ رحم لگ رہی تھی۔
مجھے کبھی انجام کی پرواہ نہیں رہی اس لیے تو تم میری قید میں ہو۔
اور آج رات جو ہو گا اُس کے بعد تمھارا مجھ سے الگ ہونا نامکمل ہے۔
مقابل نے بازو سے پکڑے اُسے اپنے قریب کرتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے سرد مہری سے کہا۔اور ہاتھ میں پکڑی وائن کی بوتل کو اس کے زخم پر ڈال دیا۔
ارحہ تکلیف کے مارے کراہ پڑی۔
اب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ آگے کیا ہو گا۔
تمہیں لگا کہ داؤد تمھاری مدد کر سکتا ہے۔
نہیں دیکھو آج تم میری قید میں ہو اور اب میرا جو دل کرے گا میں وہی تمھارے ساتھ کروں گا۔
مقابل نے آنکھوں میں خباثت لیے کہا۔
ارحہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔