Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ڈاکٹر چیک کرتے جا چکی تھی۔
صبا اب ٹھیک تھی۔
اقبال نے اپنی ماں کو حبہ اور اپنی بیٹی کا بتایا۔
صبا بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔اسے اقبال کی دوسری شادی سے مسئلہ نہیں تھا۔
گڑیا اس کی گود میں تھی۔اسے سب یاد آگیا تھا کہ ان کے ساتھ نازیہ نے کیا کیا۔لیکن فلحال وہ خاموش تھی۔
نازیہ اپنے کمرے میں گئی اور پریشانی سے اپنی ماں کا نمبر ڈائل کرنے لگا جو بزی جا رہا تھا۔
امی کال اٹھائے اب میں کیا کروں؟
اب تو مجھے لگ رہا ہے اقبال سچ جاننے کے بعد مجھ چھوڑ دے گا۔
نازیہ نے پریشانی سے ٹہلتے ہوئے کہا۔
دوسری جانب جواد چوھدری کو بھی خبر مل گئی تھی کہ صبا کو ہوش آگیا ہے اور وہ فوراً کمرے میں آیا۔اور صبا کو دیکھتے خوش ہوا تھا۔
حبہ بھی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
اللہ کا شکر ہے کہ تمہیں ہوش آگیا۔
جواد چوھدری نے صبا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
صبا پھیکا سا مسکرا پڑی تھی۔
اقبال نازیہ کہاں ہے؟
صبا نے اقبال کو. دیکھتے پوچھا۔
وہ اپنے کمرے میں ہو گی۔
جاؤ نازیہ کو بلا کر لاؤ۔
اقبال نے ملازمہ کو دیکھتے کہا جو سر اثبات میں ہلائے وہاں سے چلی گئی۔
نازیہ اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔جب ملازمہ نے آکر کہا کہ اقبال اسے صبا کے کمرے میں بلا رہا ہے۔
مجھ بلایا ہے؟
نازیہ نے پریشانی سے خود کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
جی آپ کو بلایا ہے ملازمہ نے کہا۔
ٹھیک ہے میں آتی ہوں۔
نازیہ نے تھوک نگلتے کہا۔
اقبال تم. جانتے ہو میری حالت کس وجہ سے ہوئی؟ صبا نے اقبال کو دیکھتے پوچھا۔
امی نازیہ نے یہی بتایا کپ غلطی سے آپ گر گئی تھیں۔
اقبال نے ناسمجھی سے اپنی ماں کو. دیکھتے بتایا۔
اتنے میں چہرے پر خوف لیے نازیہ بھی کمرے میں داخل ہوئی،
صبا نے آنکھوں میں نفرت لیے اس کی طرف دیکھا۔
امی آپ کو ہوش آگیا؟ نازیہ نے چہرے پر مصنوعی خوشی لیے ان کی طرف بڑھنا چاہا جب صبا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہی روک دیا تھا۔
باقی سے صبا کی طرف دیکھ رہے تھے۔
اقبال اس لڑکی نے انوشے کو کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافی کی۔
جانتے ہو اس نے وہ تصاویر انوشے کی ضرغام کے ساتھ جوڑی اور اُسے بدنام کرنا چاہا کیونکہ یہ انوشے سے جلتی تھی اور جب مجھے حقیقت پتہ چلی تو اس نے مجھے دھکا دیا اور میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔
صبا نے سرد لہجے میں کھڑے ہوتے ہیں سب کو حقیقت سے آگاہ کیا۔
اقبال نے بےیقینی سے نازیہ کی طرف دیکھا جس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
جواد کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔
تم نے انوشے کو ہماری نظروں میں گرانا چاہا اور تمھاری وجہ سے امی کی جان بھی جا سکتی تھی۔
اقبال نے نازیہ کے بازو کو دبوچتے سر لہجے میں پوچھا۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
اس نے تو انوشے کو ہی غلط سمجھا اور اب جب حقیقت سامنے آئی تو اسے شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔
وہ اقبال…. نازیہ سے کوئی بات نہیں بن پا رہی تھی۔
مجھے ہاں یا نا میں جواب چاہیے تم نے یہ سب کیا یا نہیں؟ اقبال نے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔
نازیہ ا سکی دھاڑ پر ایک دم کانپ سی گئی تھی۔
م میں نے ہی کیا پلیز مجھے معاف کر دو۔اقبال مجھ سے غلطی ہو گئی۔
نازیہ نے جلدی سے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
اقبال نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔
معاف؟ تمھاری غلطی معافی کے قابل نہیں ہے تم نے میری بہن پر گھٹیا الزام لگایا اور میری ماں کی جان لینے کی کوشش کی اور تم کہہ رہی ہو تم سے غلطی ہو گئی؟ اقبال نے غراتے ہوئے کہا۔
تمھارے جیسی عورت کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
کل کو تم پھر سے اپنی اصلیت دکھا سکتی ہو۔
اور میں نہیں چاہتا میری فیملی کو تمھاری وجہ سے کوئی بھی نقصان پہنچے اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اقبال چوھدری تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں۔
طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں ۔
اقبال نے نازیہ کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔ جو آنکھیں پھیلائے اقبال کو دیکھ رہی تھی۔
حبہ نے منہ پر بےیقینی سے ہاتھ رکھا،
جواد اور صبا نے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
شاید اقبال بھی کچھ ایسا ہی چاہتا تھا وہ نازیہ سے تنگ آگیا تھا۔
جسے صرف اپنی پرواہ تھی۔اور اب جب اسے موقع ملی تو اس نے نازیہ کو طلاق دے دی۔
دوبارہ مجھے اپنی شکل منت دکھانا۔
اقبال نے سرد مہری سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نازیہ بت بنی ابھی بھی وہی کھڑی تھی۔
حبہ نے اپنی ساس کی طرف دیکھا۔
حبہ اسے کہو یہاں سے چلی جائے۔
صبا نے دروازے ہی طرف اشارہ کرتے کہا۔
تو نازیہ ہوش میں آئی اور بھیگی آنکھوں میں نفرت لیے اس نے صبا کو دیکھا اور وہاں سے بھاگ گئی۔
جواد بھی چہرے پر شرمندگی لیے وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
داؤد آپ نے تو کہا کہ بھائی مجھ سے ملنے کے لیے آئے گئے؟تو وہ آئے کیوں نہیں؟ ارحہ نے داؤد کو دیکھتے پوچھا۔
ارحہ میں نے اُسے کال کی لیکن وہ دوسروں شہر ہے تین دنوں بعد واپس آئے گا۔
میں اُسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اس لیے. تمھارا نہیں بتایا۔
تم فکر مت کرو تین دن بعد وہ یہ آئے گا۔
داؤد نے اس کی گال پر. ہاتھ رکھتے مسکرا پر کہا۔
جی ٹھیک ہے۔
ارحہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ارحہ…… تھوڑی دیر بعد داؤد نے ارحہ کا نام پکارا۔
جس نے نظریں اٹھائے داؤد کی طرف دیکھا۔
کیا میں. تم سے کچھ پوچھ سکتا ہوں؟ داؤد نے ارحہ کے چہرے کے تاثرات دیکھتے اجازت چاہی۔
جی آپ کو کیا پوچھنا ہے؟ ارحہ نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
کس نے تمہیں اغوا کیا تھا؟
داؤد نے پوچھا تو ارحہ کا چہرے پر خوف کا سایہ لہرایا جسے داؤد نے بھی محسوس کیا۔
کیا آپ میری بات پر یقین کریں گئے گئے؟
ارحہ نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔
بلکل کروں گا.
داؤد جو ارحہ کے پاس بیٹھا تھا اس نے ارحہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے پیار سے کہا۔
ارحہ نے خود میں ہمت پیدا کرتے داؤد کی طرف دیکھا۔
ز زہاب نے مجھے اغواء کیا تھا۔ارحہ نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
داؤد کے چہرے پر یہ سنتے سکتہ طاری ہو گیا۔۔
کیا کہا تم نے؟ زہاب نے تمہیں اغواء کیا داؤد نے اس کے چہرے سے ہاتھ پیچھے کرتے تھوڑی دیر بعد پوچھا۔
میں س سچ بول رہی ہوں داؤد وہ زہاب ہی تھا جس نے میرے ساتھ غلط کیا۔. ارحہ نے بھیگی آنکھوں سے داؤد کو دیکھتے کہا۔
ارحہ نے اقبال کی شادی میں زہاب کو دیکھا تھا لیکن عہ اس کے چہرے کو اچھی طرح پہچانتی تھی۔
زہاب……
زہاب تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔
داؤد نے کرخت لہجے میں کہا۔
زہاب نے ایسا کیوں کیا اب وہ وجہ اچھے سے سمجھ گیا تھا۔
میں وعدہ کرتا ہوں خود سے زہاب دیکھنا اب میں تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔
داؤد نے سرخ آنکھوں سے خود سے عہد کرتے کہا۔
ارحہ میں تمھارے ساتھ ہوں تم فکر مت کرو۔
اور تمھارے ملزم کو سزا تو ضرور ملے گی۔
سزا ایسی کہ وہ اپنے پیدا ہونے پر پچھتائے گا۔
داؤد نے ارحہ کی آنکھوں می دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
داؤد وہ بہت خطرناک ہے۔
اگر اُس نے آپ کر ساتھ کچھ کر دیا تو؟
ارحہ کے لہجے میں بےبسی تھی۔
مجھے کچھ نہیں ہو گا،
تم میری فکر مت کرو۔
تمھارا شوہر اتنا کمزور نہیں ہے جو خاموشی سے بیٹھا رہے۔زہاب کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔
اور ایسی ملے گی کہ وہ پوری زندگی یاد رکھے گا.
داؤد نے ارحہ کا سر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔
ارحہ نے داؤد کی شرٹ کو زور سے پکڑے بیٹھی تھی۔جب داؤد نے اس کے خوف کو محسوس کیے اس کے نازک ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
ارحہ آنکھیں بند کیے داؤد کی دھڑکنوں کو محسوس کرنے لگی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
زہاب کہاں ہے؟
داؤد جو ابھی حویلی آیا تھا اس نے اپنے جواد کو دیکھتے پوچھا۔چہرے کے تاثرات غضبناک حد خطرناک لگ رہے تھے۔
کیا ہوا داؤد؟ صبا کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا۔جو داؤد کی آواز سنتے یہاں آئی تھی۔
بھابھی آپ کو ہوش آگیا؟ اب کیسی ہیں آپ؟ داؤد نے لہجے میں خوشی لیے پوچھا۔ایک سیکنڈ میں اس کا لہجہ تبدیل ہوا تھا۔
ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں۔لیکن تم زہاب کا کیوں پوچھ رہے ہو؟
صبا نے نرم لہجے میں پوچھا۔
جواد بھی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
زہاب نے جو کیا وہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔
لیکن ابھی وہ کہاں ہے؟ داؤد نے سرد لہجے میں پوچھا۔
وہ ملک سے باہر گیا ہے۔
جواد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
لیکن ہوا کیا ہے؟ جواد نے آگے آتے پوچھا۔
آپ نے اپنی بہن کی مدد کی تھی نا؟ اُسی کی سزا اب ہمیں مل رہی ہے، دونوں ماں بیٹے ایک جیسے ہیں۔
وہ انسان ایک بار میری آنکھوں کے سامنے آجائے اپنے ہاتھوں سے اُس کی جان لوں گا۔
وہ ایک گھٹیا اور کمینہ مرد ہے۔
داؤد نے سرد لہجے میں کہا۔
صبا اور جواد حیران کھڑی تھے۔داؤد کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
صبا تم جاؤ اور آرام کرو۔
جواد نے صبا کو دیکھتے کہا جو اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
اب میں واپس حویلی نہیں جاسکتا۔
اب تک تو داؤد کو میرے بارے میں پتہ چل گیا ہو گا۔
زہاب نے شراب کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
مجھے اُسی دن ارحہ کو جان سے مار دینا چاہیے تھا۔
مجھ سے ہی غلطی ہوئی لیکن انوشے وہ صرف میری ہے میں اُسے لیے میں ملک سے باہر چلا جاؤں گا۔
اگر کسی کو میرے بارے میں پتہ چلتا بھی ہے تو مجھے پرواہ نہیں ہے۔
میں وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔
اور دل میں تو میرے انوشے بسی ہے۔
آہستہ آہستہ شراب کا نشہ اس پر اثر کر رہا تھا۔
اسنے وائن کے کلاس کو اٹھائے دیکھا جس میں اسے انوشے کا مسکراتا ہوا چہرہ اسے نظر آیا۔
تم صرف میری ہو جانم…. اگر میں یہاں ہوتا تو کبھی بھی تمھارا نکاح ضرغام سے نا ہونے دیتا۔زہاب نے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھولتے کہا۔
اس نے کچھ بڑا سوچا تھا۔
جو انوشے کے لیے اچھا ثابت نہیں ہونے والا تھا۔
کچھ دیر تصویر میں انوشے سے باتیں کرتے وہ وہی صوفے پر بےہوش ہو گیا۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام کے کہنے پر انوشے اس کے ساتھ فلیٹ پر آ گئی تھی۔
ابھی وہ حویلی نہیں جانا چاہتا تھا۔
انوشے اس کا بہت اچھے سے خیال رکھ رہی تھی۔اور بڑی خانم دوبارہ حویلی آگئی تھیں۔
ضرغام آپ یہ سوپ پی لیں۔
انوشے نے کمرے میں داخل ہوتے سوپ کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتے کہا۔
لیکن میرے ہاتھ میں تو درد ہے۔
ضرغام نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے کہا جہاں کچھ زخم موجود تھے۔
اوہ کوئی بات نہیں میں آپ کی مدد کرتی ہوں۔
انوشے نے کہا اور ضرغام کے سامنے سوپ لیے بیٹھی جو گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
ضرغام مجھے ایسے مت گھوریں انوشے نے نظریں اٹھائے کہا۔
کیسے؟ ضرغام نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
ایسے…. جیسے دیکھ رہے ہیں۔
انوشے کے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
اسے گھورنا نہیں پیار سے دیکھنا کہتے ہیں۔
ضرغام نے ذومعنی لہجے میں کہا۔میرے نزدیک اسے گھورنا کہتے ہیں۔
انوشے نے ضدی لہجے میں کہا اور چمچ کو ضرغام کے ہونٹوں کے قریب لے کر گئی۔
انوشے…… ضرضرغام نے سوپ کو پینے کے بعد چہرے کے تاثرات تبدیل کرتے اس کا نام پکارا۔
کیا ہوا؟ گرم ہے؟ انوشے نے پریشانی سے پوچھا۔
اس میں نمک بہت زیادہ ہے۔
ضرغام نے انوشے کو دیکھتے کہا۔
کیا سچ میں؟ لیکن میں نے چیک کیا تھا نمک ٹھیک تھا۔
انوشے نے حیرانگی سے کہا۔
خود چکھ کے دیکھ لوں۔
ضرغام نے شرارتی نظروں سے انوشے کو. دیکھتے کہا اس سے پہلے وہ چکھتی ضرغام نے اس بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی ضرغام اس کہ بولتی بند کر چکا تھا۔
پہلے تو انوشے کو کچھ سمجھ نہیں آئی پھر ضرغام کی چالاکی سمجھ گئی۔اور ضرغام کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کیا۔
آپ بہت برے ہیں۔
انوشے نے سرخ چہرے سے ضرغام کو دیکھتے شرمیلے لہجے میں کہا۔
نمک تیز ہے نا؟ ضرغام نے ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے پوچھا۔
بلکل بھی نہیں انوشے نے گھورتے ہوئے کہا۔
اور اب آپ کے ہاتھ میں درد نہیں ہو رہا؟
انوشے نے ہاتھ کی طرف دیکھتے پوچھا۔
ضرغام نے اُسکے ہاتھ سے کھنچتے انوشے کے خود کو قریب کیا۔اور اس کا سر اپنے سینے ہر ہاتھ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
تمھارے لیے میں کوئی بھی تکلیف برداشت کر سکتا ہوں بس میرے پاس رہنا۔
ضرغام نے انوشے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
انوشے نے مسکرا کر آنکھیں موندے لی تھیں۔
میں آپ کو چھوڑ کر کہی نہیں جاؤں گی۔
انوشے نے آہستگی سے کہا لیکن ضرغام سن چکا تھا۔
ضرغام نے اد نے بالوں پر لب رکھے اسے کمرے سے پکڑ کر مزید خود کے قریب کیا۔
اور پیچھے بیڈ سے ٹیک لگا لی۔
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے۔لیکن ان کی خوشیوں کو نظر لگنے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜