No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
آ آپ کو ہوش آگیا م میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتی ہوں انوشے نے سرخ چہرہ لیے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
اس سے پہلے وہ یہاں سے جاتی ضرغام نے اس کی نازک کلائی پکڑے اسے کھینچنا جو اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور ضرغام کے سینے پر جا گری۔
جس نے تکلیف کے مارے آنکھیں زور سے میچی تھیں جس سے اس کے ماتھے پر بل بھی نمودار ہوئے۔
لیکن پٹی کی وجہ سے نظر نہیں آئے۔
س سوری آپ کو درد ہو. رہا ہے سو سوری انوشے نے ضرغام کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پریشانی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
جس نے آنکھیں کھولے انوشے کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا۔اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں حائل کیا۔
تم میری بےہوشی کا فائدہ اٹھا رہی تھی؟ضرغام نے آہستگی سے کہا مگر اس کی آواز وزنی تھی۔
اور دونوں کے چہروں کے درمیان فاصلہ بھی زیادہ نہیں تھا۔
انوشے تو ضرغام کی اس قدر قربت پر گھبرا رہی تھی۔
ن نہیں تو میں نے تو کچھ نہیں کیا۔
انوشے نے نظریں چراتے کہا۔
شوہر ہوں تمھارا تم نظریں کیوں چرا رہی ہو؟
ضرغام نے انوشے کے سرخ چہرے پر نظریں جمائے کہا۔
پلیز مجھے چھوڑیں آپ کو درد ہو رہا ہو گا
۔. انوشے نے بات کو تبدیل کرتے اٹھنا چاہا جب ضرغام نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ لاتے تھوڑا سا سر اس کا نیچے کی طرف کیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے۔
انوشے نے آنکھیں بند کیے ضرغام کے لمس کو محسوس کیا تھا۔
اسے خود بھی پتہ نہیں چلا کب ایک موتی اس کی آنکھ سے نکل کر ضرغام کی گردن پر گرا۔
تم رو رہی ہو؟ ضرغام کے لہجے میں حیرت واضح تھی۔
انوشے جلدی سے اس کے اوپر سے اٹھی۔
نہیں تو انوشے نے کہتے بھیگی آنکھوں سے ضرغام کو دیکھا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری موت سے کسی کو اتنا فرق پڑے گا۔
اگر یہی جذبات تم مجھ پر پلے عیاں کر دیتی تو باخدا اپنی جان کی حفاظت بہت اچھے سے کرتا۔
ضرغام نے گہرے لہجے میں انوشے کو دیکھتے کہا۔
انوشے ضرغام اسکے جواب پر لاجواب ہائی ہوئی تھی۔
آپ کو گاڑی دھیان سے چلانی چاہیے۔
انوشے سے جب بات کوئی نہیں بن پائی تو اس نے ضرغام کو دیکھتے اسے ٹھیک سے ڈرائیونگ کرنے کا مشورہ دیا۔
جیسا آپ کا حکم۔اب سے ضرغام بدر خان آنکھیں کھول کر گاڑی چلائے گا۔
ضرغام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
ضرغام پہلے کیا آپ آنکھیں بند کیے گاڑی ڈرائیو کرتے تھے؟ انوشے نے لہجے میں بےیقینی لیے معصومیت سے پوچھا۔
ضرغام نے آنکھیں کھولے انوشے کے معصوم چہرے کو دیکھا۔
انوشے کیا تم نے اپنی عقل کسی کو بیج دی تھی؟ ضرغام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نہیں تو….. انانوشے کی زبان سے بےساختہ نکلا لیکن جب اس نے ضرغام کی بات پر غور کیا تو دانت پیستے ضرغام کو دیکھا جو ہولے سے مسکرا رہا تھا۔
خانم کیسی ہیں؟ ضرغام نے بڑی خانم کے بارے میں پوچھا۔
تو انوشے اسے پوری بات بنانے لگی کہ کیا کچھ ہوا تھا۔
مجھے یہاں کیا داؤد لایا؟ ضرغام نے انوشے کی بات ختم ہونے کے بعد پوچھا۔
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
کیا وہ ابھی بھی یہی ہے؟ ضرغام نے پوچھا اسے حیرت ہو رہی تھی آجکل کل کے زمانے میں کوئی اپنا بھی اتنی مدد نہیں کرتا جتنی وہ کر رہا تھا۔
جی وہ باہر ہی ہیں۔
میں اُن کو بلا کر لاتی ہوں۔
انوشے نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو ساتھ بڑی خانم اور ان کے پیچھے داؤد بھی تھا۔
بڑی خانم تو ضرغام کو اس حالت میں دیکھ ٹرپ پڑی تھیں۔
شکر ہے اللہ کا ضرغام کہ تم ٹھیک ہو ورنہ تم نے تو میری جان نکال دی تھی خانم نے پریشانی سے ضرغام لے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا۔
جب تک آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں مجھے کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور اب میں ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہو۔
ضرغام نے نرم لہجے میں کہا۔
داؤد خاموش کھڑا تھا۔تمھاری اس حالت کی ذمہ دار تمھاری چچی ہے وہ تمھارے کھانے میں زہر ڈال کر تمہیں دے رہی تھی۔
بڑی خانم نے یاد آنے پر غصے سے ضرغام کو بتایا.
جس کا چہرہ سنجیدہ ہوا تھا۔
آپ کو پورا یقین ہے کہ وہی مجھے زہر دے رہی تھیں؟ ہو سکتا ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو؟
ضرغام نے سنجیدگی سے کہا۔
ڈاکٹر نے بتایا ہے اور انوشے نے خود ملازمہ کو تمھاری چچی کے ساتھ بات کر تے سنا۔
تمھارے سینے میں بار بار درد کا ہونا اسی وجہ سے تھا۔
خانم نے تفصیل سے اسے بتاتے کہا۔
دولت کی خاطر انسان اپنوں کی بھی جان لے سکتا ہے۔
خیر میں دیکھ لوں گا۔ضرغام نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
خانم کیا میں کچھ دیر ضرغام سے بات کر سکتا ہوں اکیلے میں؟ داؤد جو خاموش کھڑا تھا اس نے خانم کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل بیٹا بڑی خانم نے جلدی سے کہا۔
اس شخص کی وجہ سے آج ان کا پوتا زندہ تھا اور وہ داؤد کی شکر گزار تھیں۔اب تو ان کو بھی لگ رہا تھا کہ ارحہ کی موت میں داؤد کا ہاتھ نہیں تھا۔
بڑی خانم نے کہا اور انوشے کو لیے کمرے سے چلی گئی۔
اب ضرغام اور داؤد ہی کمرے میں موجود تھے۔
دونوں کے درمیان خاموشی حائل تھی۔
کیا میں وجہ جان سکتا ہوں کہ تم مجھ ہر اتنے مہربان کیوں ہق رہے ہو؟ میں تو تمہیں اپنا دشمن سمجھتا تھا پھر بھی تم نے میری مدد کی؟
ضرغام نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے پوچھا۔
تھا……. تم مجھے اپنا دشمن سمجھتے تھے ضرغام بدر خان لیکن اب جب حقیقت آہستہ آہستہ تمھاری آنکھوں کے سامنے آ رہی ہے تو اب تم مجھے اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔
اور جہاں تک بات ہے مہربان ہونے کی تو تمھارے ساتھ میرے دو دو رشتے بنتے ہیں۔
ایک تم میری بھانجی کے شوہر ہو دوسرا تم میری بیوی کے بھائی ہو اور اُن دونوں کو تم بےحد عزیز ہو تو اگر تمہاری مدد نا کرتا تو اُن کو کیا جواب دیتا۔
داؤد نے سنجیدگی سے ضرغام کو دیکھتے کہا۔
کیا تمہیں ارحہ مل گئی ہے؟ ضرغام نے داؤد کو دیکھتے بےیقینی سے پوچھا۔
تمھاری یہی بات مجھے پسند ہے۔
تمھیں سمجھانا نہیں پڑتا اور تم بات کو سمجھ جاتے ہو۔
اور ہاں تم نے ٹھیک کہا۔
ارحہ کو میں نے ڈھونڈ لیا وہ اب ٹھیک ہے۔
تمہیں کال اسے لیے کی تھی تاکہ تم اُس سے مل سکو۔
داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن ضرغام کے چہرے پر ابھی بھی بےیقینی تھی۔
تم سچ کہہ رہے ہو؟ ضرغام نے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
بلکل تم پہلے تھوڑے بہتر ہو جاؤ پھر اپنی بہن سے مل لینا۔
داؤد نے گہرا سانس لیتے کہا.
ضرغام کو تو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔
اس کی بہن زندہ تھا اور اب صحیح سلامت اپنے شوہر کے پاس تھی۔
کیا میں ابھی اُس سے نہیں مل سکتا۔
ضرغام نے بےتابی سے پوچھا۔
وہ تمہیں اس حالت میں دیکھ کر پریشان ہو جائے گی۔میں نہیں چاہتا میری بیوی کسی قسم کی ٹینشن لے اس لیے پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔
داؤد نے سنجیدگی سے کہا تو ضرغام نے گھوری سے اسے نوازہ جو ہولے سے مسکرا پڑا۔
تم نے ٹھیک کہا تھا داؤد کہ ایک دن میں تم سے معافی مانگو گا اور شاید وہ دن آج کا ہی ہے۔
ضرغام نے آنکھیں بند کیے گہرا سانس لیتے کہا۔
میں غلط تھا۔میں نے جو بھی کیا وہ غلط تھا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
ضرغام نے آنکھیں کھولے داؤد کو دیکھتے کہا۔
جس کا سچا لہجہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ سچ میں شرمندہ ہے۔
میں ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ تم مجھ سے معافی مانگو بس اتنا چاہتا تھا کہ تم حقیقت سے آگاہ ہو جاؤ۔
تمہیں تصویر کا جو رخ دکھایا گیا تم نے اُس پر یقین کیا اور تمھاری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔
اس میں تمھاری غلطی نہیں ہے۔لیکن ایک بار مجھے وہ انسان مل جائے جس نے یہ سارا کھیل کھیلا اُس کی جان تو میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا داؤد نے غصے سے کہا۔
چھوڑوں گا تو میں بھی اُسے نہیں۔ ضرغام نے دل میں سوچا۔
اب میں چلتا ہوں میں نے احتیاط کے طور پر دو گارڈ تمھاری حفاظت کے لیے باہر کھڑے کروا دیے ہیں۔
اور اب تو تم ہوش میں آ چکے ہو اور اپنی حفاظت خود کر سکتے ہو۔اس لیے میں چلتا ہوں۔
داؤد نے ضرغام کو دیکھتے کہا۔اسے پورا یقین تھا کہ جاگتے ہوئے ضرغام ہر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔
تم نے جو مجھ پر احسان کیے اُن کو میرا نہیں خیال کہ میں اتار سکتا ہوں پھر بھی یہ کہنا چاہتا ہوں۔
تمھارا بہت بہت شکریہ ضرغام نے دل سے تشکرانہ لہجے میں کہا۔
میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا جو کیا اپنوں کی خاطر کیا اور بدقسمتی سے اب تم بھی میرے اپنوں میں آتے ہو۔داؤد نے ضرغام کو دیکھتے کندھے اچکاتے کہا۔اور کمرے سے چلا گیا پیچھے ضرغام کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
ارحہ کا سن کر وہ خوش ہونے کے ساتھ مطمئن بھی تھا لیکن اس کے ساتھ کیا ہوا وہ داؤد نے اسے نہیں بتایا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
حبہ صبا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب ان کی انگلیوں میں حرکت ہوئی۔ حبہ کی نظر پڑی تو وہ خوشی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
امی؟ حبہ نے خوشی سے ان کو پکارا۔
مجھے لگتا ہے کہ اقبال کو بتانا چاہیے۔
حبہ نے کہا اور کمرے سے باہر کی طرف بڑھی۔
اقبال اپنی بیٹھی کے ساتھ کھیل رہا تھا جب حبہ کمرے میں داخل ہوئی۔اقبال مجھے لگتا ہے امی کو ہوش آ رہا ہے آپ جلدی سے ڈاکٹر کو کال کریں۔
حبہ نے اقبال کو دیکھتے بتایا۔
کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟اقبال خوشی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور جلدی سے اس نے ڈاکٹر کو کال کی۔
اقبال نے اپنی بیٹی کو حبہ کے حوالے کیا اور اپنی ماں کے کمرے کی جانب بڑھا۔
حبہ کے جانے کے بعد صبا نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی اور اوپر چھت کی طرف دیکھنے لگی ابھی اس کا دماغ ماؤف تھا۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
وہ کہاں ہے؟ اس کے ساتھ کیا ہوا اسے ابھی کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔
اقبال کمرے میں داخل ہوا اور اپنی ماں کی کھلی ہوئی آنکھوں کو. دیکھ جلدی سے ان کی جانب بڑھا امی آپ کو ہوش آگیا۔
میں بہت خوش ہوں۔
اقبال نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا۔
آنکھیں اس کی خوشی سے بھیگ گئی تھیں۔
صبا نے اقبال کی طرف دیکھا تو اسے کچھ کچھ یاد آنے لگا۔
ا اق اقبال……
صبا کے ہونٹ حرکت کیے اور بمشکل اقبال کا نام پکارا۔
جی امی میں اقبال ہوں آپ کا بیٹا۔
اقبال نے جھک کر اپنی ماں کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا۔
حبہ بھی دونوں ماں بیٹے کا پیار بھیگی آنکھوں سے کھڑی دیکھ رہی تھی۔
اس نے تو کبھی ماں باپ کے پیار کو محسوس نہیں کیا تھا۔یہ منظر اس کے لیے بہت حسین تھا۔
دوسری جانب جب ڈاکٹر حویلی میں آئی تو
نازیہ نے ڈاکٹر کو دیکھا۔
یہ حویلی میں لیا لینے آئی ہے؟ کہی کوئی مر تو نہیں گیا؟ نازیہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور ڈاکٹر کے پیچھے بڑھ گئی۔
لیکن جب اس نے ڈاکٹر کو صبا کے کمرے میں جاتے دیکھا تو اس کے پیر وہی تھمے تھے۔
کہی امی کو ہوش تو نہیں آگیا؟ نازیہ نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
اور کمرے کے اندر جانے کی بجائے باہر ہی کھڑی کان لگائے اندر کی باتیں سننے لگی۔
لیکن اندر بسے آتی آوازوں سے اسے اتنا تو پتہ چل گیا تھا کہ صبا کو ہوش آگیا ہے۔
امی کو ہوش آگیا اب میرا کیا ہو گا؟ اگر انہوں نے سچ بتا دیا تو؟نازیہ نے پریشانی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اور اپنے کمرے کی طرف بھاگی تاکہ اپنی ماں کو کال کر سکے۔
💜 💜 💜 💜 💜
مجھے انوشے کسی بھی حال میں چاہیے وہ میری ہے۔میں اُسے ضرغام کے حوالے نہیں کر سکتا۔
زہاب نے غصے سے ہاتھ میں پکڑ شراب کی بوتل کو زمین پر پھینکتے ہوئے کہا۔
اس کے آدمی اپنے باس کی دھاڑ پر خوفزدہ ہو گئے تھے۔
کمینوں تم لوگ کسی کام کے نہیں ہو۔
پہلے وہ لڑکی بھاگ گئی اور اب تم لوگ انوشے کو اغوا کرنے میں ناکام رہے۔
تم سب کو میں ابھی اور اسی وقت مار ڈالوں گا۔
زہاب نے اپنے آدمیوں کو دیکھتے غصے سے کہا۔
نہیں باس ہمیں آخری موقع دے دیں۔
اس بار ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گئے۔
بس ایک موقع دے دیں۔
ایک آدمی نے نظریں جھکا کر کہا۔
آخری موقع تم سب لوگوں کو دے رہا ہوں۔
اُس لڑکی کو تلاش کرکے ختم کر دو اور انوشے کو میرے پاس لاؤ اگر نہیں لائے تو سب کو. مار ڈالوں گا۔
زہاب نے انگلی اٹھائے سرد مہری سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
