No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔
خود ٹیسٹ کر لیں۔
یہ سچ میں کڑوی ہے۔
انوشے کے کافی کا کب اس کے آگے بڑھاتے کہا۔
ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو میں ٹیسٹ کر لیتا ہوں۔
ضرغام نے اس کے ہونٹوں پر نظریں جمائے ذومعنی لہجے میں کہا۔
لیکن انوشے نے اس کی بات کو نوٹ نہیں کیا۔لیکن آنکھیں تو اس کی اس وقت پھیلی جب ضرغام نے اس کی گردن پر ہاتھ ڈالے اسے خود کے قریب کیا۔
انوشے کی حیرانگی کے مارے آنکھیں پھیل گئی۔
آپ اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی ضرغام اس کے ہونٹوں پر جھک چکا تھا۔
اور انوشے کی بولتی کو اس نے اپنے انداز میں بند کیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ خود یی پیچھے ہو گیا اور انوشے کے سرخ چہرے کو دیکھا جو آنکھیں میچے سانس روکے بیٹھی ہوئی تھی۔
ضرغام اس کے چہرے ہو دیکھ کر مسکرا پڑا۔
اس نے ابھی جو کیا اُس پر پشیماں تو بلکل بھی نہیں تھا۔
کیا ہوا؟ میں نے تو بس کافی ٹیسٹ کی ہے۔لیکن یہ کڑوی تو بلکل بھی نہیں ہے۔
ضرغام نے ہاتھ آگے بڑھاتے اس کے ہونٹ کے نیچے والے تل کو اپنے انگوٹھے سے چھوتے ہوئے مزید کہا۔
انوشے نے آنکھیں کھولے ضرغام کو دیکھا اس کا چہرہ اس قدرت سرخ ہو رہا تھا جیسے ابھی اس سے خون نکل آئے گا۔
ضرغام نے پیچھے تو ہو گیا تھا لیکن اتنا بھی نہیں ہوا تھا اب بھی دوس کے چہرے قریب تھے۔
جانتی ہو آج کی کافی کا ٹیسٹ کچھ الگ سا تھا۔ماور ایسے ٹیسٹ والی کافی میں نے کبھی نہیں پی۔
اس کے لیے تو میں تمھارا شکر گزار ہوں۔
کیا ایسی کافی مجھے روزانہ مل سکتی؟
ضرغام نے آنکھوں میں خمار لیے انوشے کو. دیکھتے پوچھا۔
ض ضرغام م مجھے آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔. انوشے نے کپکپاتے لہجے میں ضرغام کے چہرے سے نظریں چراتے کہا۔
لیکن ماتھے پر پسینہ تو تمھارے چمک رہا ہے تو مجھے لگتا ہے تمھاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔
ضرغام نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے مصنوعی پریشانی سے کہا۔
انوشے کا دل فل سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔
ضرغام اس کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔لیکن وہ تو اس سے نفرت کرتا تھا تو پھر وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا۔
یہی بات انوشے کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
وقت کے ساتھ سب کچھ سمجھ میں آجائے گا۔
اس لیے زیادہ اپنے دماغ پر زور نا ڈالو ضرغام جو ا سکے چہرے کے تاثرات پڑھ چکا تھا اس نے انوشے سے پیچھے ہوتے کہا۔
انوشے نے حیرانگی کے مارے منہ کھولے ضرغام کی طرف دیکھا اسے کیسے پتہ چل جاتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے،
انوشے نے ہوش میں آتے پہلے سامنے کی طرف دیکھا پھر شیشے سے باہر کی طرف دیکھنے لگی۔
ابھی بھی اس کا چہرہ سرخ تھا۔
لیکن ہونٹوں میں انجانے سی مسکراہٹ بھی تھی جس کے بارے میں اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
انوشے یے ساتھ ہوتے اسے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور وہ آج پہلی بار خوش بھی تھا۔اسے انوشے کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
زمل بیڈ پر بےہوش لیٹی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر نے کہا تھا کہ مسئلے کی بات نہیں ہے۔ٹینشن کی وجہ سے وہ بےہوش ہو گئی،
ہشام صوفے پر جھک کر بیٹھا اپنے دونوں ہاتھوں کو گھور کر دیکھ رہا تھا لیکن وہ کسی سوچ میں گم بیٹھا تھا۔
زمل…… زمل
ہشام نے سرد لہجے میں اس کا کا نام پکارا۔
اور سرخ آنکھوں سے اپنے بیڈ پر لیٹی زمل کی طرف دیکھا۔
تم میرے لیے مشکلات کھڑی کر رہی ہو۔
تمہیں یہاں سے جانا ہو گا۔اگر تم نہیں گئی تو تم میرا وہ روپ دیکھو گی جو میں تمہیں اپنا دکھانا نہیں چاہتا۔ہشام کے زمل کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا.
جب اس کی باڈی میں حرکت ہوئی اسے ہوش آ رہا تھا۔
زمل نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی۔
اور پہلے انجان نظروں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔
یہ اس کا کمرہ نہیں تھا۔لیکن پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو پاکستان ہشام سے ملنے آئی تھی پھر اُس کے انکار کر دیا اور وہ بےہوش ہو کر وہی گر گئی۔
زمل فوراً اُٹھ کر بیٹھی۔
کالے ریشمی بال کچھ پیچھے کمرے پر اور کچھ دائیں کندھے پر پڑے تھے۔
آنکھیں سرخ تھیں۔
جب اس کی نظر خود کو گھورتے ہشام پر پڑی۔جو اسے اٹھتا دیکھ بڑے بڑے ڈھاگ بڑھا اس کی طرف بڑھا تھا۔
اور اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کا چہرہ خود کے قریب لایا۔
تم آج کی فلائٹ سے واپس چلی جاؤ گی۔
اور مجھے اپنی بات دوبارہ نا دہرانی پڑے۔
ہشام نے اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے حکم صادر کیا۔
اس کی گردن پر گرفت مضبوط تھی۔
لیکن زمل خاموش نظروں سے اسے تکتی رہی۔
کیا کچھ نہیں تھا ان خوبصورت آنکھوں میں سب سے بڑھ کر شکوہ تھا۔
ہشام نظریں چرانا چاہتا تھا لیکن ایسا کر. نہیں سکا وہ زمل کے سامنے کوئی بھی ایسا تاثر دینا نہیں چاہتا تھا جس سے اسے چھوٹی سی بھی امید ملے۔
آپ نے کہا کہ آپ منگنی کو. ختم کر چکے ہیں تو اب کس حق سے میں آپ کی بات مانو؟ زمل نے ہشام کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔اور ہشام کو اپنی بات سے لاجواب کیا تھا۔
تم. یہاں مجھ سے ملنے آئی ہو تمھارے ماں باپ تو یہی جانتے ہیں اگر تمہیں کچھ ہو جاتا ہے تو وہ میرا گریبان پکڑے گئے۔
ہشام کے سرد لہجے میں کہا۔. فکر مت کریں۔
کوئی بھی آپ سے کچھ نہیں پوچھا گا۔. اگر میں یہاں مر بھی جاتی ہو تو بھی میرے گھر والے آپ کو کچھ نہیں کہے گئے۔
زمل نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
فضول گوئی سے پرہیز کرو۔
میرا ڈرائیور تمہیں ائرپورٹ چھوڑ دے گا۔
ہشام نے پیچھے ہوتے کہا۔
اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود چلی جاؤں گی اور میری مرضی میں جتنا میرا دل چاہے گا میں یہی رہو گی۔
زمل نے بھی ضدی لہجے میں کہا۔
اور بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
لیکن اس کی ہٹ دھرمی پر ہشام کے ماتھے ہر بل پڑے تھے۔
ہشام نے مڑ کر زمل کو دونوں بازوں سے دبوچتے خود کے قریب کیا۔
آہ زمل تکلیف کے مارے کراہ پڑی۔
تمہیں ایک بار میری پل بات سمجھ میں نہیں آ رہی؟
ہشام کا لہجہ کرخت تھا۔
ماتھے پر تیوری لیے وہ زمل کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
زمل نے خود میں ہمت جمع کرتے کچھ بولنے کے لیے اپنی لب وا کیے۔
چ چھوڑیں مجھے زمل نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
لیکن ہشام نے اس کی بات کو اگنور کیا۔
میں نے کہا چھوڑیں مجھے ….
اس بات زمل نے اپنا پورا زور لگاتے ہشام کو پچھے دھکا دیا تھا۔
بےبسی سے آنکھوں آنکھوں سے نکلنے لگے تھے۔
ہر بار میں ہی کیوں سمجھوں؟
آپ کیوں نہیں سمجھ رہے میرے جذبات کو؟
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں اُس کے باوجود ہمشیہ آپ نے مجھ سے سرد لہجے میں بات کی۔
میرے احساسات میرے جذبات کی توہین کی۔
آپ کا مجھے اگنور کرنا۔ٹھیک سے بات نا کرنا۔
ان سب کے بعد میں ناجانے میں اتنی ڈھیٹ کیوں ہوں جو ابھی تک آپ ہے پیچھے بھاگ رہی ہوں۔
لیکن یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔
اگر میرے اختیار میں ہوتا تو آپ جیسے خودغرض انسان کی طرف دیکھنا بھی میں گوارہ نا کرتی لیکن اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔
زمل نے روتے ہوئے ہشام کو دیکھتے کہا۔
جس نے ہاتھ کی مٹھی بنائے اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا۔
آج کے بعد میں کبھی بھی آپ کے راستے میں نہیں آؤں گی۔اور آپ بھی میرے معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گئے زمل نے اپنے آنسو صاف کرتے بھاری لہجے میں کہا۔
اور کمرے سے باہر بھاگ گئی۔
لیکن پیچھے ہشام کو بےچین کر گئی تھی۔
زمل روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل اور اس کا ارحہ کے زبردست تصادم ہوا۔
دونوں زمین پر جا گری۔
💜 💜 💜 💜 💜
اقبال نازیہ کو حویلی لے آیا تھا۔
جس نے آتے ہی حبہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
حبہ نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا۔
نازیہ کی نظروں سے اسے خوف محسوس ہوا تھا۔
اس لیے اپنی بیٹی جو لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وی صبا کا بھی بہت اچھی طرح خیال رکھ رہی تھی۔
نازیہ اپنے کمرے میں گئی۔ماور غصے سے بیڈ پر بیٹھی۔
سب سے پہلے تو میں تمھاری بیٹی کو تم سے دور کروں گی۔
اب دیکھنا کیسا میں تمھاری زندگی حرام کرتی تم نے میرے شوہر سے نکاح کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔
نازیہ نے پختہ لہجے میں کہا۔
اس کے ارادے خطرناک تھے۔
جو حبہ اور اس کی بیٹی کے لیے اچھے نہیں تھے۔
رات کھانے کے وقت نازیہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی۔
اقبال حویلی میں نہیں تھا۔
اور داؤد بھی شہر چلا گیا تھا۔
نازیہ باہر آئی تو اسے حبہ کی بیٹی نظر آئی جو صوفے پر لیٹی تھی اور ملازمہ اس کے پاس بیٹھی اس سے کھیل رہی تھی حبہ کچن میں تھی۔
جب نازیہ وہاں آئی اس کے چہرے پر سرار سی مسکراہٹ آگئی۔
جاؤ اور میرے لیے پانی لے کر آؤ۔
نازیہ نے ملازمہ کو. دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
جی بی بی جی ملازمہ کہتے ہی گڑیا کو اٹھانے لگی جب نازیہ نے منع کر دیا۔
اسے یہی رہنے دو کھا نہیں. جاؤں گی میں اسے نازیہ نے کہا تو مجبوراً گڑیا کو وہی چھوڑے ملازمہ کو وہاں سے جانا پڑا۔
نازیہ گڑیا کے پاس بیٹھی جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے نازیہ کو دیکھ رہی تھی۔
کیوں نا میں تمھارا کام آج ہی تمام کر دوں؟
نازیہ نے گڑیا کو دیکھتے کہا اور پاس پڑے تکیے کو پکڑے گڑیا کے چہرے کے قریب لائی۔
اس وقت وی نفرت کی. آگ کی اس قدر اندھی ہو گئی تھی کہ اسے معصوم سی جان پر بھی
ترس نہیں آ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ضرغام اور انوشے ایک اچھی شام ساتھ گزرانے کے بعد واپس آگئے تھے۔
بڑی خانم نے دونوں کو ساتھ دیکھا تو مسکرا پڑی۔
انوشے بڑی خانم کو دیکھتے ان کی جانب بڑھ گئی۔
انوشے بیٹا تم تو اپنی ماں سے ملنے گئی تھی نا وہ کیسی ہے؟ بڑی خانم نے نرم لہجے میں اسے دیکھتے پوچھا۔
تو انوشے افسردگی سے صبا کی حالت کے بارے میں بتانے لگی۔
تم فکر مت کرو ان شا اللہ وہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی.
خانم نے اسے حوصلہ دیتے کہا۔
ضرغام ان کے سامنے ہی بیٹھ گیا تھا اور اس نے ملازمہ کو پانی لانے کا کہا اور خود موبائل پر بزی تھا۔
ملازمہ پانی کا گلاس ٹرے میں رکھے لائی اور مسکراتے ہوئے ضرغام کے سامنے پیش کیا۔
اس سے پہلے ضرغام وہ پانی کا گلاس تھامتا انوشے جو اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور ضرغام کے پاس پڑے شاپنگ بیگ اٹھانے لگی تاکہ بڑی خانم یو اپنی شاپنگ دکھا سکے اس ک ہاتھ لگا اور پانی کال گلاس زمین پر گرتے چکنا چور ہو گیا۔
یہ آپ نے کیا کر دیا؟ ملازمہ غصے سے انوشے کو دیکھتے بولی۔
لیکن جیسے ہی اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا تق فوراً کہا۔
میرا مطلب ہے کہ اگر آپ کو لگ جاتا تو ملازمہ نے کہا تو انوشے نے غور سے اسے اس کی. طرف دیکھا تھا۔
اس کو جلدی سے صاف کرو اور ضرغام کو پانی لا کر دو۔
خانم نے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔
نہیں رہنے دو۔
خانم میں شہر جا رہا ہوں کل تک واپس آجاؤں گا۔
ضرغام نے انوشے کو دیکھتے بڑی خانم کو کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا دھیان سے جانا بڑی خانم نے کہا تو ضرغام ایک آخری نظر انوشے پر ڈالنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
ملازمہ کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
اور وہاں حمیرا پہلے سے موجود تھی۔
تم اپنا کام ٹھیک سے کیوں نہیں کر رہی؟ ابھی تک ضرغام زندہ سلامت ہے۔
حمیرا نے دھیمے لہجے میں اُس ملازمہ کو دیکھتے کہا۔
بی بی جی وہ زیادہ تر حویلی میں ہوتے نہیں ہیں کب آتے ہیں کب جاتے کسی کو پتہ نہیں چلتا لیکن. مجھے جیسا ہی موقع. ملتا ہے میں اُس کی کافی یا کھانے میں آپ کی دی ہوئی دوائی ڈال دیتی ہوں۔
ملازمہ نے بھی آہستگی سے کہا۔
ٹھیک ہے تم اپنا کام جاری رکھو حمیرا نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
Kesi lagi epi? Or kia kare gi nzaia? Zamal irha ko pehchan le gi? 🤭🤭
💜 💜 💜 💜 💜
My new ebook novel…. شور کرو گی؟
“چلو چیخنا چلانا شروع کرو۔
میں بھی دیکھتا ہوں کون آتا ہے۔”
ضوریز نے چیلنجنگ انداز میں مزید بیلا کے قریب آتے کہا۔
جو پیچھے دروازے کے ساتھ جا لگی تھی۔
چہرے پر خوف اور آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔
ضوریز نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور اس کا چہرہ خود کے قریب کیا۔
جس کی آنکھیں خوف کے مارے پھیل گئی تھیں۔
“تم معصوم ۔بےحد معصوم۔۔لیکن فکر مت کرو میں تمھاری معصومیت کا صرف تھوڑا سا ناجائز فائدہ اٹھاؤں گا۔کیونکہ یہ میں حق بجانب سمجھتا ہوں۔۔”
ضوریز نے بیلا کی آنکھوں میں دیکھتے گھمبیر لہجے میں کہا۔
اور دوسرے ہاتھ میں پکڑے سفید رومال کو بیلا کے منہ پر رکھ دیا۔
جسے زرا سا بھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔
اور وہ وہی بےہوش ہو گئی۔
اس سے پہلے اس کا سر پیچھے شیشے کے ساتھ لگتا ضوریز نے دوبارہ اسے تھام لیا تھا اور پھر اس کی بند آنکھوں کو دیکھنے لگا۔
“ہمیشہ بڑوں کے لیے کی سزا چھوٹوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔
تمھارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو گا۔”
ضوریز نے سنجیدگی سے کہا
