Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

انوشے سرخ چہرہ لیا گاڑی سے باہر نکلی۔
سامنے ضرغام جسے اس نے کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا وہ کسی لڑکے کے ساتھ ہنس کر بات کر رہا تھا۔
یہ اس کے لیے ناقابلِ یقین کے ساتھ ناقابل بھی برداشت تھا۔
ضرغام یہ کون ہے؟ اُس لڑکی نے دانت پیستے کھڑی انوشے کو دیکھتے پوچھا۔
اس سے پہلے ضرغام کوئی جواب دیتا انوشے چلتی ہوئی ضرغام کے پاس آئی اور اسے بازو میں ہاتھ ڈالے اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔
میں ضرغام کی بیوی ہوں۔انوشے ضرغام بدر خان
انوشے کو خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے۔
لیکن اسے ضرغام کا کسی اور لڑکی کے ساتھ بات کرنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
ضرغام کے چہرے پت بےیقینی تھی۔. جو انسان آج تک کسی بھی بات پر اتنا حیران نہیں ہوا تھا جتنا انوشے کی اس حرکت پر بت بنا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اور حیران ہو رہا تھا۔
زمل اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں سرخ ہو گئی تھی۔
میں سمجھ گئی کہ تم ضرغام کی بیوی ہو۔
زمل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ضرغام لگتا ہے آپ گہرے صدمے میں چلے گئے ہیں۔
زمل نے مسکراہٹ دباتے ضرغام کو کہا۔
جو فوراً ہوش میں آیا تھا۔
اس کی نظر انوشے کے ہاتھ پر پڑی جس نے ابھی بھی ضرغام کے بازو کو پورے حق سے تھاما ہوا تھا جیسے اگر اُس نے چھوڑا تو ضرغام اس سے کہی دور بھاگ جائے گا۔
ہاں یہ میری مسز ہیں اور آج تو اس نے مجھ شوکڈ ہی کر دیا۔
ضرغام نے زمل کو دیکھتے بےیقینی سے کہا۔
اور ضرغام آپ میرا تعارف نہیں کروائے گئے؟ زمل نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
انوشے سر سے پیر تک زمل کا ایکس رے کر رہی تھی۔
جس نے گھٹنوں تک آتی فراک پہنی تھی۔
اور ساتھ کیپری میں گلے میں ڈوپٹہ ڈالے بالوں کی اونچی پونی کی ہوئی تھی جس میں وہ کیوٹ لگ رہی تھی۔
انوشے یہ ارحہ کی دوست ہے۔زمل اور میرے لیے بھی یہ ارحہ جیسی ہی ہے۔
پہلے یہ یہی گاؤں میں رہتی تھی پھر ان کی فیملی ملک سے باہر چلی گئی اور اب یہ اتنے سالوں بعد ملی ہے۔ضرغام نے تفصیل سے بتاتے کہا۔
اور تم مجھے بھائی کہا کرو۔
ضرغام نے گھورتے ہوئے زمل کو کہا۔
جو کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
اور بہن کے لفظ پر انوشے بھی پرسکون ہو گئی۔
انوشے نے جب محسوس کیا کہ وہ ضرغام کا بازو پکڑے کھڑی ہے تو جلدی سے بازو چھوڑے پیچھے کھڑی ہوئی۔
یہ بھی ٹھیک ہے اپنی مرضی ہو تو قریب آجاؤ اور جب دل کیا پیچھے ہٹ جاؤ۔
ضرغام نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ضرغام بھائی آپ کی وائف مجھ سے جیلس ہو رہی تھیں۔
زمل نے تھوڑا ضرغام کی طرف جھکتے راز دادی سے کہا۔
جیلس اور یہ؟ کبھی نہیں جو مجھ سے علیحدگی چاہتی ہے تو وہ جیلس کیسے ہو سکتی ہے ۔
یہ ضرغام نے دل میں سوچا۔
ضرغام بھائی….. اب ٹھیک یے؟ زمل نے بھائی پر زور دیتے کہا۔
تم لوگ کیا واپس آگئے ہو؟
ضرغام نے انوشے کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے پوچھا۔اور اس کی بات کو اگنور کیا۔
انوشے سرخ چہرہ جھکائے کھڑی تھی۔
جو اس نے جیلسی میں کیا اب وہ سوچ کر ہی شرمندہ ہو رہی تھی۔
میں یہاں اپنے منگیتر سے ملنے آئی ہوں۔
اور ہو سکتا ہے کہ جلدی شادی ہو جائے اور پھر مجھے واپس نا جانا پڑے۔
زمل نے خوشی سے کہا۔
اپنے منگیتر کی بات پر زمل کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
ضرغام نے بھی محسوس کیا تھا۔
تو تم نے منگنی کر لی بہت بہت مبارک ہو۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ دونوں نے کہا ساری باتیں یہی کھڑے ہو کر بات کرنی ہے یا کہی بیٹھ کر بات کریں؟ انوشے نے چہرہ اٹھائے زمل کو دیکھتے کہا۔
وہ فضول میں اس معصوم کو غلط سمجھ رہی تھی۔
میں ضرور دونوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی لیکن ابھی مجھے جانا ہے۔
آج صبح ہی تو میں واپس آئی ہوں۔
یہاں پر ایک ضروری کام تھا تو اب وہ کر لیا۔
اب میں اپنے منگیتر سے بات کرنے جاؤں گی۔
ارحہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لگتا ہے تمھارے منگیتر سے ملنا ہی پڑے گا جتنی تم اُس کی تعریف کر رہی ہو یقیناً وہ اتنا اچھا بھی ہو گا۔
ضرغام نے نرم لہجے میں کہا۔
جی بلکل… اور ضرغام بھائی آپ مجھے اپنا نمبر دے دیں میں بعد میں حویلی آؤں گی۔اور مجھے اپنی پیاری سی دوست ارحہ سے بھی تو ملنا ہے۔
اُسے بتا دینا کہ میں آؤں گی۔
زمل نے انوشے کے گلے لگتے لگا لیکن ارحہ کے نام پر ضرغام کے چہرے پر افسردگی چھا گئی تھی۔
بھابھی آپ بہت پیاری ہیں۔
جب بیوی اتنی پیاری ہو تو شوہر کہی اور دیکھنا پسند نہیں کرتا۔
اور شوہر بھی اگر ضرغام بھائی جیسا ہو تو بات ہی الگ ہے۔
زمل نے انوشے کے کان کے پاس جھکتے شرارتی لہجے میں کہا۔
انوشے نے سرخ چہرہ لیے زمل کی طرف دیکھا۔
اوکے بائے زمل نے ایک آخری بار دونوں کی طرف دیکھا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
یہ سب کیا تھا؟ زمل کے جانے کے بعد ضرغام نے انوشے کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
ک کیا ؟انوشے جانتی تھی کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے لیکن پھر بھی انجان بنتے ضرغام سے پوچھا۔
جوبھی چاہتی ہو مجھے صاف صاف بتا دو۔
ایسا نا ہو بعد میں ہم دونوں کو پچھتانا پڑے۔
اور چلو اب جو لینا ہے جلدی سے لے لو۔
ضرغام نے انوشے کا ہاتھ پکڑتے کہا اور اسے لیے اندر کی جانب بھر گیا۔
انوشے نے اپنا ہاتھ واپس لینے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اور مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑی۔
💜 💜 💜 💜
زمل خوشی خوشی ہشام کے گھر پہنچی تھی
وہی تو اس کا منگیتر تھا۔
جس پر زمل دل و جان سے فدا تھی۔
ایک سال پہلے اس کی منگنی ہشام سے ہوئی تھی۔
ہشام کی ایک بہن تھی جس کی دیتھ ہو گئی اب وہ اکیلا تھا۔
اس کی ماں کی دیتھ ہو چکی تھی اور باپ نے مرنے سے پہلے ہشام کی منگنی اپنے دوست کی بیٹی زمل سے کرا دی تھی۔
زمل تو پہلے سے اس پر مر مٹی تھی۔
ہشام کی خاطر ہی تو اس نے اس کے آفس تک میں کام کیا۔
لیکن پھر ہشام نے اپنا کام پاکستان میں سیٹل کر لیا تھا۔
باپ کی وفات کے بعد وہ دوبارہ واپس دوسرے ملک جانا نہیں چاہتا تھا۔
ہشام اپنے کمرے میں تھا.. ارحہ کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا.
جب ملازم نے آکر زمل کے آنے کی اطلاع دی۔
کون آیا ہے؟ ہشام جو موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔
اس نے ملازم کی طرف دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
اس سے پہلے ملازم کچھ کہتا۔
زمل اندر داخل ہوئی۔
سرپرائز…….
زمل نے لہجے میں خوشی لیے کہا اور وہاں کمرے میں داخل ہوئی۔
ہشام نے سرد نظروں سے زمل کو دیکھا ۔
اور ملازم کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟واپس کب آئی؟
ہشام نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا۔
آپ مجھے دیکھ کر خوش نہیں ہوئے؟ میں اتنی دور سے صرف آپ سے ملنے آئی ہوں اور آپ نے ہی تو کہا تھا کہ کوئی ضروری بات کرنی ہے۔
زمل نے ہشام کے قریب آتے خوشگوار لہجے میں کہا۔وہ کافی تھکی ہوئی تھی لیکن پھر بھی چہرے ہر مسکراہٹ لیے ہشام کے سامنے کھڑی تھی۔
میں تم سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن تمھیں آنے سے پہلے اطلاع دینی چاہیے تھی۔
ہشام کا لہجہ ابھی بھی سرد تھا۔
آپ نے بات کیا کرنی تھی؟
زمل نے بھی سنجیدگی سے پوچھا۔اس کی خوشی ایک سیکنڈ میں ہوا ہوئی تھی۔
ہمشیہ ہشام ایسا ہی کرتا آیا تھا۔
اپنے لفظوں سے اتنے گہرے وار کرتا کہ زمل کا خوشگوار لہجہ اور موڈ ایک سیکنڈ میں تبدیل ہو جاتا۔
مجھے تمھاری یہی عادت بہت اچھی لگتی ہے بنا کسی فضول بات کے سیدھے مدعے کی بات پر آتی ہو۔
ہشام نے زمل کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔وہ جانتا تھا کہ جو بات وہ کرنے جا رہا ہے۔
اس سے زمل کو کتنی تکلیف پہنچنے والی تھی۔
چلیں میری کوئی عادت تو آپ کو اچھی لگی۔
زمل کا لہجہ طنزیہ تھا۔
تم بھی جانتی ہو کہ میرے ڈیڈ چاہتے تھے کہ میں تمھارے ساتھ شادی کروں اسی لیے انہوں نے ہم دونوں کی منگنی کر دی۔
ہشام نے رخ موڑے کہا۔
اس کی بات سنے زمل کی دل کی دھڑکنیں مدھم ہوئی تھیں۔
لیکن میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔اس لیے اس رشتے کو بھی ختم کرنا چاہتا ہوں۔
ہشام نے مڑتے زمل کو دیکھتے کہا۔لیکن اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا زمل کی آنکھوں سے نکلتے آنسو کو دیکھتے اس نے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
کیا آپ کسی اور کو پسند کرتے ہیں؟ زمل نے اپنے دل پر پتھر رکھتے یہ سوال پوچھا تھا۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔
فلحال میرا ارادہ شادی کرنے کا نہیں تھا۔ہشام نے اس کے چہرے سے نظریں چراتے کہا۔
لیکن میں نے کب کہا کہ مجھے جلدی شادی کرنی ہے۔
جب آپ چاہیں گئے ہم تب ہی شادی کریں گئے۔
اگر آپ پوری زندگی بھی ایسے ہی گزرنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
بس میں چاہتی ہوں کہ آپ کے ہاتھ میں ہمشیہ میرے نام کی انگوٹھی ہو۔
میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔
زمل نے ہشام کا ہاتھ پکڑتے بےبسی سے کہا۔
جس کی انگلی میں ابھی بھی اسی کے نام کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔
ہشام نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی اسے اتنا کیوں چاہتی ہے۔
زمل کو اس سے بہتر بھی مل سکتا تھا لیکن وہ ہشام کے پیچھے پاگل تھی۔۔
مجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا زمل تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟
ہشام نے اس کا ہاتھ جھٹکتے تھوڑا غصے سے کہا۔
اسے زمل کے آنسو اس وقت بہت برے لگ رہے تھے۔
کیوں؟ کیا میں اتنی بری ہوں؟
آخر مجھ میں برائی کیا ہے؟
کیوں آپ مجھ سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتے ؟
زمل نے بےبسی سے روتے ہوئے پوچھا۔
فار گارڈ سیک رونا تو بند کرو۔
ہشام نے اس کے آنسو کو دیکھتے دھاڑتے ہوئے کہا۔
زمل ایک دم خوف سے کپکپا گئی ۔اور ہشام سے ایک قدم پیچھے کھڑی ہوئی۔
میں نے کہا نا کہ مجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا تو نہیں رکھنا بات ختم۔
میں اس رشتے کو آج اور ابھی ختم کرتا ہوں۔
ہشام نے اپنی انگوٹھی اتار اسے ٹیبل پر رکھتے کہا۔
میں آپ سے محبت کرتی ہوں ہشام۔
زمل نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو روتے بھاری لہجے میں کہا۔
چہرہ اس کا سرخ ہو گیا تھا۔
لیکن میں تم سے محبت نہیں کرتا نا ہی کبھی کروں گا۔
اس لیے واپس چلی جاؤ اور اپنے لیے بہتر ہمسفر کو تلاش کرو۔
ہشام نے رخ موڑے کہا۔
میں آپ کے بغیر مر جاؤں گی۔
زمل نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا زمل
کچھ دن لگے گئے پھر تم بھی سنبھل جاؤ گی۔ہشام نے سرد لہجے میں کہا۔
میں سچ کہہ رہی ہو ہشام
میں مر جاؤں گی۔
یہ بات زمل نے آہستہ آواز میں کہی۔
ہشام جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔
گرنے کی آواز پر اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا لیکن زمل کو زمین پر گرے دیکھ حیرانگی سے اس کی آنکھیں پھیل گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
اقبال ضرغام کی غیر موجودگی میں وہ حویلی آیا تھا۔
نازیہ تیار کھڑی تھی لیکن ابھی بھی اس کا منہ پھولا ہوا تھا اگر اس کی ماں نا کہتی تو وہ کبھی بھی واپس نا جاتی۔
بڑی خانم اقبال کے پاس آئی۔
اقبال تمہیں نہیں لگتا کہ تم کے جو کیا وہ غلط تھا؟ جبکہ اس بات کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا پھر تم دوسرا نکاح کیسے کر سکتے ہو؟
بڑی خانم نے تحمل سے اقبال کو دیکھتے پوچھا۔
خانم میں جانتا ہوں کہ میں نے شرط کو توڑا ہے۔لیکن اس میں برا بھی کچھ نہیں ہے۔. اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔
اور میں نے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ میں نازیہ کے حقوق پورے نہیں کروں گا۔آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ملے گی۔
اقبال نے بڑی خانم کو دیکھتے کہا۔
مجھے تم سے یہی امید ہے اب تم جا سکتے ہو۔
بڑی خانم نے سنجیدگی سے کہا اور پھر نازیہ سب سے ملی اور آخر میں اپنی ماں کے گلے لگی۔
تم جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا۔
سمجھ گئی؟ حمیرا کے نازیہ کے کان میں سرگوشی کرتے کہا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اس کے بعد نازیہ اقبال کے ساتھ چلی گئی۔
حمیرا عرفان کہاں ہے؟ نظر نہیں آ رہا؟ بڑی خانم نے حمیرا کو دیکھتے پوچھا۔
وہ تو اپنے کسی دوست کی شادی میں شہر گیا ہے کچھ دن وہی رہے گا۔
حمیرا نے جلدی سے کہا۔
اچھا ٹھیک ہے بڑی خانم کہتے ہی وہاں سے چلی گئی۔
حمیرا نے گہرا سانس لیا تھا اور خود بھی انعم کے کمرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام نے انوشے کے منع کرنے کے باوجود اسے بہت سارے سارے ڈریس لے دیے تھے۔
اور بھی بہت سی اس کی ضرورت کی چیزیں اسے لے دی تھیں۔
کچھ اور لینا ہے؟ ضرغام نے انوشے کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں جو کچھ آپ جے لے کر دیا وہ بھی بہت زیادہ ہے مجھے ان کی ضرورت نہیں تھی۔
انوشے کے ضرغام کو دیکھتے کہا۔
کچھ کھاؤ گی؟ ضرغام نے اس کی بات کو اگنور کیے پوچھا۔
جب انوشے کی نظر کافی مشین کی طرف پڑی۔
مجھے کافی پینی ہے۔
انوشے نے ضرغام کو دیکھتے کافی کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
تمہیں کافی پسند ہے؟ ضرغام نے حیرانگی سے پوچھا۔
نہیں مجھے پسند نہیں ہے لیکن مجھے ایک بار پینی ہے۔
لیکن میں نے سنا ہے یہ والی کافی اتنی کڑوی نہیں ہوتی۔
انوشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے چلو ضرغام نے کہا اور پھر انوشے کے لیے کافی لیے دونوں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
انوشے کافی پرجوش تھی۔ آج پہلی بار وہ کافی پینے لگی تھی۔اس کے گھر میں بھی کوئی نہیں پیتا تھا لیکن ایک بار اس نے تھوڑی سی ٹیسٹ کی جو بہت زیادہ کڑوی تھی۔
اُس کے بعد اس نے نہیں پی۔
میں نے کبھی کسی کو کافی پینے کے لیے اتنا پرجوش نہیں دیکھا۔
ضرغام نے سیٹ بیلٹ باندھتے کہا۔
اگر یہ بھی کڑوی ہوئی تو؟
انوشے نے معصومیت سے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
یہ تو جب تک پیو گی پھر ہی پتہ چلے گا۔
ضرغام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
آپ تو کافی پیتے ہیں۔
آپ کو کڑوی نہیں لگتی؟
انوشے نے کافی کے کب کو لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
ضرغام اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
انوشے نے کپ لبوں سے پیچھے کیا اور عجیب کا چہرہ بنائے ضرغام کی طرف دیکھا۔
یہ تو میری سوچ سے زیادہ کڑوی ہے۔
انوشے نے منہ بسوڑتے کہا۔
ضرغام اس کی بات سنتے قہقہہ لگائے ہنس پڑا۔
آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔
خود ٹیسٹ کر لیں۔
یہ سچ میں کڑوی ہے۔
انوشے کے کافی طکا کب اس جے آگے بڑھاتے کہا۔
ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو میں ٹیسٹ کر لیتا ہوں۔
ضرغام نے اس کے ہونٹوں پر نظریں جمائے ذومعنی لہجے میں کہا۔
لیکن انوشے نے اس کی بات کو نوٹ نہیں کیا۔لیکن آنکھیں تو اس کی اس وقت پھیلی جب ضرغام نے اس کی گردن پر ہاتھ ڈالے اسے خود کے قریب کیا۔