Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

تم ٹھیک ہو ؟ہشام نے داؤد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔
جو ارحہ کے سونے کے بعد کمرے سے باہر آگیا تھا جو اب پرسکون سی سو رہی تھی۔
اور اپنا سر جھکائے ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا۔
اس کے پکارنے پر داؤد نے اپنا سر اوپر کیے ہشام کی طرف دیکھا۔
جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
ہشام آج پہلی بار داؤد کو روتے ہوئے دیکھ بےیقینی کے عالم میں کھڑا تھا۔
داؤد تم مجھے اس حالت میں بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔
ہمت رکھو۔وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔اس وقت تمہیں خود کو. سنبھالنا ہو گا۔
بھابھی تمہیں مل گئی ہیں اور اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے؟
ہشام نے بمشکل لفظ تلاش کیے تھے تاکہ داؤد کو حوصلہ دے سکے۔
ورنہ الفاظ اس کے پاس بھی نہیں تھے۔
اس وقت میں خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا ہوں۔
کتنا کمزور بےبس انسان ہوں کہ اپنی بیوی کی حفاطت بھی نہیں کر سکا۔
داؤد نے بھاری لہجے میں کہا۔
اس میں تمھاری غلطی نہیں ہے۔
اور حادثہ تو کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے۔
آگے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ہم میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا۔
اگر انسان کو معلوم ہو تو وہ پہلے سے ساری تیاری کرکے رکھے۔
لیکن اگر تمہیں لگتا ہے کہ بھابھی کے ساتھ جو بھی ہوا وہ تمھاری وجہ سے ہوا تو یہ سوچ تمھاری سراسر غلط ہے۔
ہشام نے اس کے پاس بیٹھتے کہا۔
ارحہ تو معصوم تھی۔
اُسے کس بات کی سزا دی گئی؟
وہ بےقصور ہوتے بھی سزا بھگت رہی ہے۔
لیکن جس نے بھی یہ سب کیا میں اُسے جان سے مار ڈالوں گا۔
داؤد نے آخری بات غصے سے کہی۔
تم نے بھابھی سے بات کی؟ اُن سے پوچھا؟
ہشام نے گہرا سانس لیتے پوچھا۔
وہ ابھی اس حالت میں نہیں ہے کہ اُس سے کوئی سوال جواب کیا جائے۔
داؤد نے سامنے دیوار کو دیکھتے کہا۔
ضرغام کو بھی تو بتانا ہے۔
اُسے کب تک بتانے کا ارادہ ہے؟
ہشام نے داؤد کو دیکھتے پوچھا۔
پہلے ارحہ تھوڑی بہتر ہو جائے پھر میں خود ضرغام کو بتا دوں گا۔
لیکن اُس سے پہلے مجھے اُسے کسی طرح ہسپتال لے کر جانا ہے۔
داؤد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
تمہیں اُس کی فکر ہو رہی ہے؟ ہشام نے حیرانگی سے پوچھا،
میں نہیں چاہتا کہ اُس کے مرنے سے انوشے بیوہ ہو۔اور وہ بےقصور مارا جائے۔
داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
اچھی بات ہے فکر ہونی چاہیے تمھارا تو اُس سے ڈبل رشتہ بنتا ہے۔
ہشام نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے بات بدلتے کہا تاکہ داؤد کا موڈ بھی بہتر ہو۔
داؤد نے اسے گھوری سے نوازہ تھا۔
ارحہ یہی رہے گی۔جب تک میں معلوم نہیں کر لیتا کہ اس سب کے پیچھے کون ہے۔اور ویسے بھی تمھاری منگیتر اُس کی دوست ہے وہ بھی تو یہی ہے،
داؤد نے بھی کھڑے ہوتے کہا یہ بات ہشام نے ہی اسے بتائی تھی۔
منگیتر ہے نہیں تھی۔
میں نے منگنی توڑ دی ہے۔
ہشام نے سنجیدگی سے کہا۔
منگنی توڑنے سے کیا ہو گا جب تمھارے دل میں وہ بسی ہے۔. داؤد نے عام سے لہجے میں کہا جیسے وہ اس کے دل کے راز سے اچھی طرح واقف ہو۔
تمہیں کس نے کہا کہ وہ میرے دل میں بسی ہے؟ ہشام نے جلدی سے کہا۔
تم اگر کسی کا قتل بھی کر دو نا تو یہ بات بتاتے ہوئے بھی تمھاری زبان کبھی نا لڑکھڑائے جیسے ابھی لڑکھڑائی ہے۔
خود کو اور اُسے تکلیف دینا بند کرو۔
ایسا نا ہو جب تمہیں احساس ہو تو وہ تم سے دور جا چکی ہو۔
اُس کے جذبات کی قدر کرو۔داؤد نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا اور کندھے کو تھپتھپاتے وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے ہشام کو زمل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ضرغام حویلی واپس آگیا تھا اس کا ارادہ داؤد کو کال کرنے کا تھا لیکن شاید ہمت نہیں تھی۔
عرفان کے سچ بولنے کے بعد تو کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی تھی۔
اس کا مطلب تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی چال تھی داؤد کو وہاں سے بھیجنا۔
کسی اور لڑکی کی لاش رکھنا۔
اور الزام داؤد پر آنا اور دونوں خاندانوں کے درمیان مزید دشمنی کا جنم لینا۔
کون تھا ایسا جو یہ سب چاہتا تھا۔
ضرغام یہی سب سوچتے چل رہا تھا۔جب سامنے سے آتی انعم کے ساتھ اس کا ٹکراؤ ہوا۔
ضرغام تو اپنے خیالوں میں گم تھا لیکن انعم اسے دیکھ چکی تھی اور جان بوجھ کر اس کے ساتھ ٹکرائی۔
ضرغام نے اسے کمر سے تھاما اور گرنے سے بچایا۔
انعم نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے اس کی گردن میں ہاتھ اس انداز سے ڈالا کہ ایسا لگے اس نے ضرغام کا سہارا لیا ہے۔
لیکن دور کھڑی انوشے جو یہ سارا ڈرامہ دیکھ چکی تھی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
ضرغام نے پہلے انعم کو دیکھا پھر اس کی نظر آنکھوں میں چنگاریاں لیے کھڑی انوشے پر پڑی تو ضرغام نے فوراً انعم کو چھوڑ دیا جو سیدھا زمین پر جا گری تھی۔
آہ….. یہ کیا کیا آپ نے؟ انعم نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے کراہتے ہوئے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔جو اسے نظر انداز کیے فوراً انوشے کی بڑھا۔
جو دوبارہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔
انعم نے غصے سے ضرغام کو جاتے ہوئے دیکھا اور پھر خود وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
ضرغام کمرے میں داخل ہوا تو انوشے منہ پھولائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
ضرغام اس کا چہرہ دیکھتے مسکرا پڑا۔
اور چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔
تمھارا چہرہ کیوں سرخ ہو رہا ہے؟
ضرغام نے ہاتھ آگے بڑھاتے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑے کرتے پوچھا۔
نہیں تو میرا چہرہ سرخ نپی ہو رہا۔
انوشے نے سنجیدگی سے کہا۔
ضرغام نے بنا کچھ کہے اس کا رخ آئینے کی طرف موڑا اور خود اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔
انوشے نے سامنے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا جو سچ میں سرخ ہو رہا تھا پھر اس کی نظریں پیچھے کھڑے ضرغام کے چہرے پر پڑی جو اسے ہی گہری نظروں سے تک رہا تھا۔
ناجانے کیوں انوشے کو ضرغام کا کسی اور کو چھونا اچھا نہیں لگایا تھا۔
اس لیے غصے سے وہ کمرے میں آگئی۔
تم جیلس ہو رہی تھی؟
ضرغام نے تھوڑا آگے آتے انوشے کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود کے قریب کیا۔
انوشے ضرغام کے ساتھ جا لگی تھی۔
ن نہیں تو میں کب جیلس ہوئی انوشے نے بوکھلائے انداز میں پوچھا۔
تمھارا جیلس ہونا جائز ہے میں تمھارا شوہر ہوں۔
بے شک ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے والے ہیں لیکن فلحال تو دونوں میاں بیوی ہی ہیں نا۔
ضرغام نے آئینے میں انوشے کے تاثرات دیکھتے کہا جس کا کھلا چہرہ ایک دم مر جھا سا گیا تھا۔
لیکن ضرغام کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔یہی چیز تو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔
اگر تم چاہو تو ہم ہمشیہ کے لیے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
ضرغام نے انوشے کے کان کے پاس جھکتے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
بات کرتے ہوئے اس کے ہونٹ انوشے کے کانوں سے ٹچ ہو رہے تھے۔
اور ضرغام کے لمس پر انوشے پوری طرح کپکپا گئی تھی۔
ضرغام نے جو ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھا تھا اُس پر دباؤ ڈالے مزید قریب کیا۔
آ آپ کیا کر رہے ہیں؟
انوشے ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
تمھارے بالوں سے خوشبو بہت اچھی آ رہی ہے۔
ضرغام نے گہرا سانس لیتے اس کے بالوں کی مہک کو اندر اتارتے کہا۔
تو آپ بھی میرے والا شیمپو استعمال کر لیں۔
انوشے نے فوراً کہا۔
اور اس کی بات سنتے ضرغام قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
مجھے تمھارا شیمپو نہیں چاہیے مجھے وہ چاہیے جو یہ شیمپو استعمال کرتی ہے۔
ضرغام نے مسکراتے انوشے ک رخ خود کی طرف کرتے کہا۔بڑی خوبصورتی سے وہ اپنی خواہش ظاہر کر چکا تھا۔
یہ شیمپو تو بہت سی لڑکیوں استعمال کرتی ہیں۔
کیا آپ کو وہ سارہ لڑکیاں چاہیے؟ انوشے کے لہجے میں حیرانگی تھی۔
تم سچ میں معصوم ہو۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا اور جھک کر اس کے ناک کو لبوں سے چھوا۔
جاؤ اور میرے لیے کھانا لے کر آؤ۔
ضرغام نے انوشے سے پیچھے ہوتے کہا۔
جس کا دل ایک سو چالیس کی سپیڈ میں دھڑک رہا تھا فوراً سے پہلے کمرے سے نکل گئی۔
ضرغام اس کی پھرتی دیکھ مسکرا پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
انوشے کمرے سے باہر آئی اور اپنی دل پر ہاتھ رکھے اس کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئی۔
اور پھر اس نے ہولے سے اپنے ناک کو چھوا اور کچن کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔
لیکن اس سے پہلے وہ کچن میں داخل ہوتی اس نے اُسی ملازمہ کو دیکھا۔
جو کھانے میں کچھ ملا رہی تھی۔
انوشے کی بےیقینی سے آنکھیں پھیل گئی۔
اُس ملازمہ نے دیکھ لیا تھا کہ ضرغام حویلی واپس آگیا ہے اور اگر اُسکے کھانا کھانا ہو تو وہ یہ والا کھانا کھائے۔
ملازمہ جب اپنا کام کرکے پیچھے ہوئے تو اُس وقت انوشے کچن میں داخل ہوئی۔
بی بی جی آپ بڑے صاحب کے لیے کھانا لینے آئی ہیں میں نے ٹرے تیار کر دی ہے۔
آپ یہ لے جائیں۔
ملازمہ نے شیریں لہجے میں کہا۔
انوشے نے بنا کچھ کہے ٹرے کو پکڑا اور کچن سے باہر لے گئی۔
وہ کھانے میں کیا ملا رہی تھی؟
اور جب وہ پانی کا گلاس نیچے گرا تو اُس وقت بھی ملازمہ کے چہرے کے تاثرات انوشے کو کچھ ٹھیک نہیں لگے تھے۔
انوشے کمرے میں داخل ہوئی تو ضرغام کا دھیان موبائل کی طرف تھا۔
ض ضرغام انوشے کے ٹرے ٹیبل پر رکھتے تھوڑا جھجھکتے ہوئے اسے پکارا۔
ضرغام نے موبائل سے نظریں ہٹائے انوشے کی طرف دیکھا۔
وہ…. انوشے کو سمجھ نہیں آئی کہ کیسے کہے۔
ضرغام نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جو اس کی گود میں آکر بیٹھ گئی اور ایک دم سٹپٹا کر اس نے ضرغام کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
ضرغام نے نرم لہجے میں اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے پوچھا۔
ک کیا ہم لوگ باہر چل کر کھانا کھا سکتے ہیں؟
انوشے نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
کیونکہ اسے نہیں معلوم تھا کہ ضرغام آگے سے کیسا جواب دے گا۔
ضرغام کو اس کی بات سنتے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
میں کہی خواب تو نہیں دیکھ رہا؟
ضرغام نے لہجے میں حیرت لیے پوچھا۔
بلکل مسز نے کہا ہے میں اُس کا حکم کیسے ٹال سکتا ہوں۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں چادر لے کر آتی ہوں انوشے نے کہا اور جلدی سے ڈریسنگ روم کی طرف بھاگ گئی۔
ضرغام ابھی بھی حیران تھا۔
لیکن اسے اچھا بھی لگا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ہشام رات میں اُس کمرے میں داخل ہوا جہاں اس نے زمل کو بند کیا تھا۔
ملازمہ نے کھانے کی ٹرے کو ٹیبل پر رکھا اور وہاں سے چلی گئ۔
زمل چہرے پر سرد مہری لیے بیڈ پر بیٹھی تھی۔
کھانا کھا لو۔
ہشام نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے نہیں کھایا اور مجھے یہاں سے جانا ہے۔
زمل نے ضدی لہجے میں کہا۔
اگر تم واپس جانا چاہتی ہو تو جا سکتی ہو ورنہ نہیں
ہشام نے صاف لفظوں میں انکار کرتے کہا۔
آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟
زمل نے غصے سے بیڈ سے اٹھتے ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
جب آپ ہم. دونوں کے درمیان رشتے کو ختم کر چکے ہیں تو اب میں چاہے بھاڑ میں جاؤں آپ کو اس سے کیا مطلب؟ زمل نے سرد لہجے میں پوچھا۔
تمھاری کوئی بھی بات مجھ پر اثر نہیں کرے گی۔
اس لیے فضول کی ضد چھوڑو اور کھانا کھا لو۔
ہشام کہتے ہی جانے کے لیے مڑا جب زمل نے اس کے ہاتھ کو پکڑا۔
اس کے لمس پر ہشام ایک پک کے لیے پتھر کا بنا تھا۔
کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا؟زمل کی بےبس سی آواز نے ہشام کو تڑپا دیا تھا۔
یہ سب میں تمھاری بھلائی کے لیے کر رہا ہوں۔اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔
ہشام نے اس بار آرام سے اپنا ہاتھ زمل کے ہاتھ سے الگ کیا اور کمرے سے نکل گیا۔
زمل بےبسی سے رونے لگی تھی۔