Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

زمل ہشام کے گھر سے بھاگ تو گئی تھی۔
اب اسے سمجھ نہیں آئی کہ کہا جائے کیونکہ یہاں وہ ہشام کے علاوہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔
حسینہ کہاں جا رہی ہو؟
شام کے سائے ڈھل رہے تھے۔
جب زمل کو اپنے پیچھے کسی کی آواز سنائی دی۔ زمل کے قدم یہ سنتے ہی مزید تیز ہوئے۔
ماتھے پر اس کے پسینہ چمکنے لگا۔
کیا میں نے اکیلے گھر سے نکل کر غلطی کی؟
زمل نے خود سے سوال کرتے دل میں سوچا۔
حسینہ رک تو۔
ایک لڑکے نے لوفرانہ انداز میں کہا۔
زمل اس وقت پوری طرح ڈر گئی تھی۔
اور بنا پیچھے دیکھے وہاں سے بھاگنے لگی۔
لیکن اس کی شاید قسمت خراب تھی۔
زمل کا پیر پتھر کے ساتھ زور سے لگا اور پیر مڑنے کی وجہ سے وہ ایک زور دار چیخ کے ساتھ زمین پر اوندھے منہ جا گری۔
اس کے دونوں بازو پر رگڑ لگی تھی۔اور پاؤں میں بھی شاید موچ آگئی۔
کہا تھا رک جاؤ دیکھو اب چوٹ لگ گئی نا۔
دو لڑکے جو مٹر گشت کر رہے تھے اکیلی لڑکی کو دیکھتے اسے تنگ کرنے لگے۔
زمل جو اس وقت بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی اور گرنے کی وجہ سے تکلیف میں تھی اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کرے۔
ک کون ہو تم لوگ ؟
زمل نے سیدھا ہوتے اُن دو لڑکوں کو دیکھتے پوچھا۔ جو کھڑے گندی نظروں سے زمل کو دیکھ رہے تھے۔
لڑکی تو کمال ہے۔
پہلے لڑکے نے دوسرے کو دیکھتے کمینگی سے کہا۔
زمل آنکھوں میں خوف لیے پیچھے کو کھسکنے لگی۔
اور گھر سے نکل کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی اب اسے احساس ہو رہا تھا۔
دیکھو مجھے جانے دو پلیز زمل نے روتے ہوئے کہا۔
ہم نے تو ابھی تک تمہیں ہاتھ بھی نہیں کھایا اور تم جانے کی بات کر رہی ہو؟ پہلے لڑکے نے قہقہہ لگائے کہا۔
اگر تم دونوں نے اسے زرا سا بھی چھوا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گئے۔
پیچھے سے آتی سرد اور گھمبیر آواز نے دونوں لڑکوں کو پیچھے مڑنے پر مجبور کیا۔
جہاں ہشام اپنے آدمیوں کے درمیان کھڑا تھا۔چہرے پر کرختگی چھائی ہوئی تھی۔
دونوں لڑکے جو خود کمزور سے تھے۔
ہشام کو دیکھتے ان کی ساری بہادری ہوا کی طرح اڑ گئی۔
کیا بول رہے تھے تم لوگ؟ ہشام نے اپنے قدم لڑکوں کی طرف بڑھاتے کہا۔
زمل نے ہشام کو دیکھا تو اس کی سانس میں سانس آئی تھی۔
سوری سر لڑکوں نے ہشام کی شاندار پرسنیلٹی دیکھ کر معافی مانگی اور وہاں سے بھاگ گئے۔
ہشام کے آدمیوں نے اُن لڑکوں کے پیچھے جانا چاہا لیکن ہشام نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔
جاؤ یہاں سے ہشام نے سرد لہجے میں کہا تو اس کے آدمی وہاں سے چلے گئے۔
زمل نے ہشام کے چہرے پر چھائی سرد مہری دیکھی تو اس نے اپنا حلق تر کیا۔
تمہیں منع کیا تھا نا؟
کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا؟
ہشام نے پرسرار لہجے میں کہا اور چلتے ہوئے زمل کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھتے اس کے بازو کو پکڑا۔
زمل تکلیف کے مارے کراہ پڑی تھی۔
آہ زمل کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی۔
ہشام نے اس کے بازو کو دیکھا اور جبڑے بھینچے۔
اور اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔
چلو میرے ساتھ
ہشام نے کھڑے ہوتے کہا۔
زمل نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن پیر میں ہوتی درد کی وجہ سے کراہ کر دوبارہ زمین پر گر گئی۔
ہشام نے اسے مڑ کر دیکھ اور دو قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور جھک کر اسے گود میں اٹھایا۔
زمل نے بھیگی آنکھوں سے ہشام کو دیکھا جو چہرے پر پتھریلے تاثرات لیے اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا۔
زمل نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو روکا تھا۔
مولوی صاحب میرے فلیٹ پر دس منٹ کے اندر پہنچ جانے چاہیے۔
ہشام نے موبائل کان سے لگاتے ارد لہجے میں کہتے کال بند کر دی۔اور گاڑی سٹارٹ کی۔
ک کس کا نکاح؟
زمل نے تھوک نگلتے پوچھا۔
ہشام تیز تم ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
اس نے زمل کی بات کو اگنور کیا۔
اور کچھ دیر بعد جھٹکے سے گاڑی روکی۔
تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی نا؟
ہشام نے زمل کی طرف دیکھتے جبڑے بھینچے کہا۔
زمل کے چہرے پر خوف کا سایہ لہرایا تھا۔
زمل کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا تھا۔
آج تمھارا میں یہ شوق بھی پورا کر دیتا ہوں ۔
ہشام نے سرد لہجے میں کہا اور دوسری جانب آتے دروازہ کھولے زمل کو بانہوں میں اٹھائے اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
ہشام….. زمل نے کچھ کہنا چاہا جب ہشام نے اسے صوفے پر پھینکا۔
جو تکلیف کے مارے کراہ پڑی تھی۔
تمھارے چھوٹے سے دماغ میں میری بات نہیں پڑی۔
منع کیا تھا نا؟ ہشام نے اسے زمل کو بالوں سے پکڑے سرد لہجے میں پوچھا۔
زمل کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے چہرے کو بھگونے لگے تھے۔
وہ اس وقت ہشام سے اس قدر خوفزدہ ہو گئی تھی۔
کہ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
جانتی ہو تمھارے ساتھ کیا ہو سکتا تھا؟
تمہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا تھا۔اور باہر کہتے بھیڑیے بیٹھے ہیں کیا تم نہیں جانتی؟ دودھ پیتی بچی ہو؟ جس کام سے منع کیا تم نے ضد میں آکر وہی کام کرنا ہوتا۔ہشام نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
زمل نے آنکھیں زور سے بند کر لی تھیں۔
ہشام مجھے درد ہو رہا ہے۔
زمل نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
ہشام نے اس کے کپکپاتے ہونٹوں کی طرف دیکھا۔
اور اس کے بال چھوڑے پیچھے کھڑا ہو گیا۔
مولوی صاحب آتے ہوں گئے تمھارا نکاح ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ ہو گا۔
ہشام نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
لیکن مجھے آپ سے اب نکاح نہیں کرنا۔
زمل نے کہتے ہی اٹھنا چاہا لیکن پیر میں آئی موچ کی وجہ وہ دوبارہ صوفے پر گر گئی۔
کیوں اب پیار کا بھوت اتر گیا دماغ سے؟ ہشام نے دانت پیستے پوچھا۔
اس وقت اسے زمل پر شدید غصہ آ رہا تھا۔
دل تو کر رہا تھا اس کا گلہ دبا دے۔
یہی سوچ اس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی کہ اگر وہ کسی غلط انسان کے ہاتھ لگ گئی تو کیا ہو گا۔
اور ایک تو اس کا دل الگ بےچین ہو رہا تھا۔
آپ مجھ پر اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں؟ ایک تو پہلے ہی مجھے درد ہو رہا ہے اور ایک آپ مجھ پر غصہ کر رہے ہیں۔
زمل نے روتے ہوئے چھوٹے بچوں کی طرح ہشام کو شکایت لگاتے کہا۔
جس کا اس وقت غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا تھا۔
زمل کی معصوم چہرہ اور بات سن کر ناچاہتے ہوئے بھی اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے جسے اس نے فوراً چھپا لیا۔
ہشام زمل کی طرف جھکا۔جو بروقت تھوڑا پیچھے کو کھسکی ورنہ دونوں کے چہروں میں فاصلہ نا. ہونے کے برابر تھا۔
جو تم نے حرکت کی اُس کے بعد بھی تم نے سوچا میں پیار سے تمہیں دیکھ شاباشی دوں گا؟
کہ زمل میڈم گھر سے بھاگ کر آپ نے بہت اچھا کام کیا۔
ہشام نے ایک آبرو اچکاتے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
جو بھی ہے ۔
زمل نے اپنی غلطی کو اگنور کیے جلدی سے کہا۔
لیکن مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا۔
پہلے آپ نے ہمیں دھتکارا اب میں انکار کرتی ہوں مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا۔
زمل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
زمل اگر تم گھر سے نا بھاگی ہوتی تو زہاب کو تمھارے بارے میں پتہ نا چلتا۔
غلطی تم نے کی ہے۔
اور ابھی بھی تم ضد کر رہی ہو۔
میرا تو دل کر رہا ہے تمھاری جان لے لوں۔
ہشام نے زمل کو گھورتے ہوئے کہا۔ جو ہشام کی بات سنتے سہم گئی تھی۔اور زہاب کون تھا یہ اسے معلوم نہیں تھا۔
زہاب کے آدمیوں نے زمل کی تصاویر لی تھیں اور اب زہاب اسے دیکھ چکا تھا۔
مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا تو نہیں کرنا۔
زمل نے ضدی لہجے میں کہا۔
تم چاہتی ہو میں تمھارے ساتھ زبردستی کروں؟
ہشام نے سرد لہجے میں پوچھا۔
اس سے پہلے زمل کچھ کہتی دروازے پر بل ہوئی۔
ہشام ایک نظر زمل پر ڈالنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
زمل نے بےبسی سے اپنے پیر کو دیکھا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
انوشے اب ضرغام کیسا ہے؟
داؤد نے موبائل کان سے لگائے پوچھا۔
چاچو اب وہ ٹھیک ہیں۔. انوشے نے مسکراتے ہوئے بتایا۔انوشے ساتھ تھی تو ضرغام جلدی ٹھیک ہو رہا تھا۔
یہ تو اچھا ہے تم اُس کا خیال رکھو اور اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو بتا دینا۔. داؤد نے کال بند کرنے سے پہلے کہا۔
اور موبائل بند کیے جب وہ پیچھے مڑا تو ارحہ کھڑی تھی۔
جو سب سن چکی تھی۔اُس کے چہرے سے تو یہی لگ رہا تھا۔
بھائی کو کیا ہوا ہے؟ اور پلیز مجھے سچ سننا ہے۔
ارحہ نے آگے آتے پریشانی سے پوچھا۔
ارحہ وہ اُس کا چھوٹا س ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا لیکن اب وہ ٹھیک ہے۔
داؤد نے ارحہ کو دیکھتے بتایا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ سب سن چکی ہے، تو جھوٹ بولنا بیکار ہے۔
کیا؟ بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا؟آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ ارحہ نے بےتابی سے پوچھا۔
ارحہ میں نے کہا نا اب وہ ٹھیک ہے اور ہم کل اُس سے ملنے چلے گئے۔. ٹھیک ہے ؟
داؤد نے ارحہ کو کندھوں سے پکڑتے کہا۔
لیکن… اعارحہ نے کچھ کہنا چاہا جب داؤد نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے خاموش کروایا۔
میں نے کہا نا کہ تم اب آرام کرو ضرغام ٹھیک ہے اور ہم کل اُس سے ملنے چلے گئے۔
داؤد نے پیار سے ارحہ کو دیکھتے کہا۔
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا اور کمرے کی طرف چلی گئی۔
داؤد نے گہرا سانس لیا اور گھر سے نکل گیا۔
اور ضرغام کو ساری حقیقت بتانی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
داؤد ضرغام کے فلیٹ پہنچا تو انوشے اسے دیکھ حیران ہوئی۔
چاچو آپ یہاں؟ انوشے نے پوچھا،
ہاں وہ میں کے ضرغام سے بات کرنی تھی۔. داؤد نے جواب دیا تو انوشے اسے کمرے میں ہے آئی اور خود چائے بنانے چلی گئی۔
خیریت تم اس وقت یہاں؟ ضرغام نے داؤد کو دیکھتے پوچھا۔
ارحہ کو تمھارے ایکسیڈنٹ کا پتہ چل گیا ہے۔
وہ تم سے ملنا چاہتی ہے اور اُسے میں کل لے کر آؤں گا۔
لیکن اُس سے پہلے مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
ضرغام اسے دیکھ رہا تھا۔
ارحہ کو اغوا زہاب نے کیا تھا۔
اور اُسے اپنی درندگی کا. نشانہ بھی بنایا۔
داؤد نے بتایا تو ضرغام بت بنا داؤد کو دیکھ رہا تھا۔۔
کیا کہا تم نے؟ ارحہ کو اغوا زہاب نے کیا تھا؟
ضرغام کے لہجے میں بےیقینی تھی۔
ہاں وہی بےغیرت انسان تھا ایک بار بس ایک بار وہ میرے ہاتھ آجائے ایسے اُسے تڑپا ؤں گا کہ موت کی بھیگ مانگے گا،.داؤد نے سرد لہجے میں کہا۔
میری وجہ سے میری بہن کے ساتھ یہ سب ہوا۔
وہ تو بےقصور تھی پھر اُسے کس بات کی سزا ملی؟ ضرغام نے اپنے اپنے پر ہاتھ رکھے پر ڈھ سا گیا۔
تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا ضرغام
وہ ایک درندہ ہے۔
مجھے تو حیرت ہو رہی ہے میرے ہی گھر میں وہ اتنے سالوں سے رہ رہا تھا اور مجھے اُس کی حقیقت پتہ نہیں چلی۔
میری بیوی کو جو اس نے تکلیف دی اُس کی سزا تو اُس گھٹیا انسان کو ضرور ملے گی داؤد نے سرد لہجے میں کہا۔
ضرغام نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
اس کی بہن نے اتنا کچھ برداشت کیا اور اس نے ایک بار بھی اُسے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔
لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہے،. اگر معلوم ہوتا تو ضرور اُسے تلاش کرتا۔
زہاب اب کہاں ہے؟
تھوڑی دیر بعد خاموشی کو تھوڑتے ہوئے ضرغام نے پوچھا۔
وہ حویلی سے جا چکا ہے اور اب تک تو اسے پتہ چل گیا ہو گا کہ ہمیں حقیقت پتہ چل گئی ہے اب وہ واپس نہیں آئے گا۔
داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ جہاں کہی بھی چھپ جائے میں اُسے ڈھونڈ نکالوں گا۔
اُس کمینے کی ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو تکلیف پہنچانے کی۔
ضرغام نے کرخت لہجے میں کہا۔
آنکھیں اس کی سرخ ہو رہی تھی۔
اس کی بہن معصوم تھی پھر بھی اُسے یہ سب بھگتنا پڑا۔
زہاب تم نے اب حد پار کر دی۔
ضرغام نے جبڑے بھینچے کہا۔