Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ارحہ نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔
جہاں ضرغام کھڑا تھا سر پر ابھی بھی اس کے پٹی بندی ہوئی تھی چہرے کے زخم اور باقی بھی کافی حد تک ٹھیک ہو چکے تھے،
ضرغام نے ارحہ کو دیکھا اور اس کے قدم وہی جم گئے۔جس کا چہرہ کافی مرجھا سا گیا تھا چہرے سے رونق ختم ہو گئی تھی۔
ارحہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
وہ جلدی سے اپنے بھائی کے پاس گئی اور اس کے سینے سے جا لگی۔
ضرغام نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے تھپتھپایا۔
جو اب خاموشی سے رو رہی تھی۔
انوشے اور داؤد دونوں کو دیکھ کر مسکرا پڑے۔
مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے میں آتا ہوں۔
داؤد نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
انوشے بھی کچن کی طرف بڑھ گئی تاکہ دونوں بہن بھائی بات کر سکیں۔
ارحہ گڑیا کیسی ہو تم؟
ضرغام نے نرم لہجے میں ارحہ کو دیکھتے پوچھا،
بھائی میں ٹھیک ہوں۔
آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو؟
ارحہ نے بھاری لہجے میں ضرغام کو دیکھتے کہا،
جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔
ابھی بھی ارحہ کو خود سے زیادہ اپنے بھائی کی فکر تھی۔
میں ٹھیک ہوں۔
لیکن شرمندہ بھی ہوں۔
کہ میں اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر سکا۔
ضرغام نے لہجے میں شرمندگی لیے کہا۔
بھائی اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔اور یہ سب میری قسمت میں لکھا تھا۔
ارحہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
بھائی بڑی خانم کیسی ہیں؟
ارحہ نے پوچھا۔
وہ ٹھیک ہیں۔
اور تمہیں دیکھ بہت خوش ہوگی۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بھائی آپ کو نہیں لگتا کہ آپ نے بھابھی کے ساتھ غلط کیا؟ میرا مطلب ہے کی بنا کسی جرم کے آپ نے اُن کو سزا دی؟
ارحہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے پوچھا۔
ضرغام کا مسکراتا چہرہ سنجیدہ ہوا تھا۔
میں جانتا ہوں کہ میں نے اُس کے ساتھ بہت غلط کیا۔
لیکن اُس وقت صورتحال ہی کچھ ایسی تھی۔
میں نے وہی کیا جو مجھے بہتر لگا لیکن اب احساس ہوا کہ میں سراسر غلط تھا۔
لیکن جس نے ہماری زندگیوں کو خراب کیا اُسے میں نہیں چھوڑوں گا۔
ضرغام نے سرد لہجے میں کہا۔
بھائی آپ کو داؤد سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ یا ہمارے نکاح سے؟
ارحہ نے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
میرا نہیں خیال کہ داؤد سے بہتر تمہیں کوئی اور مل سکتا ہے ارحہ جو خود سے زیادہ تمھاری پرواہ کرتا ہو۔
میں تم دونوں کے لیے خوش ہوں۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارحہ بھی مسکرا پڑی تھی۔
ضرغام….. انوشے نے کچن سے باہر آتے ضرغام کو پکارا۔
ارحہ نے بھی مڑ کر انوشے کے گھبرائے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟ ضرغام نے پریشانی سے پوچھا۔
وہ ضرغام کچن میں چھپکلی ہے۔
انوشے نے اپنے ہاتھوں کو مڑوڑتے ہوئے ضرغام کو بتایا۔
داؤد جو واپس آیا تھا انوشے کی بات پر ہنس پڑا۔
اب ضرغام بدر خان چھپکلی بھی مارے گا یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا تو جہاں ضرغام نے اسے گھور کر دیکھا وہی ارحہ نے اپنی مسکراہٹ کو چھپایا تھا۔
بھائی جائیں نا آپ کی بیوی کو آپ کی ضرورت ہے۔
ارحہ نے ضرغام کو دیکھتے کہا۔
ہاں چھپکلی مارنے میں ضرورت ہے۔
ضرغام نے منہ بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اور کچن کی طرف بڑھ گیا۔
انوشے بھی اس کے پیچھے ہی تھی۔
داؤد چلتا ہوا ارحہ کے پاس آیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے خود کے قریب کیا۔
تمہیں بھی چھپکلی سے ڈر لگتا ہے؟ داؤد نے مسکراہٹ دباتے ارحہ کو دیکھتے پوچھا۔
چھپکلی سے ڈر کسے نہیں لگتا داؤد
ارحہ نے منہ بسوڑتے کہا تو داؤد اس کا چہرہ دیکھتے مسکرا پڑا۔
اور جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔
ارحہ بھی ہولے سے مسکرا پڑی تھی۔
دوسری جانب ضرغام کچن میں داخل ہوا۔
بیگم صاحبہ کہاں ہے چھپکلی؟ ضرغام نے ارد گرد دیکھتے پوچھا۔
ضرغام آپ نے آنے میں اتنی دیر لگا دی وہ یہی پر تھی اب وہ دوبارہ واپس آئے گی۔
انوشے نے پریشانی سے ارد گرد دیکھتے کہا۔
جب وہ واپس آئے گی پھر میں اُس سے مل لوں گا۔
ضرغام نے مڑتے انوشے کو دیکھتے دانت پیستے کہا۔
لیکن اب میں کچن میں کام کیسے کروں گی؟
انوشے نے نچلے ہونٹ کو بچوں کی طرح فولڈ کرتے کہا۔
ضرغام کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔
وہ آگے بڑھا اور انوشے کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کے ہونٹوں پر جھکا۔
ضرغام انوشے نے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا۔
آپ کہی بھی شروع ہو جاتے ہیں۔
انوشے نے دانت پیستے کہا۔
تم اس طرح سے میرے سامنے آؤ گی تو میرا ایمان تو ڈگمگائے گا نا۔
ضرغام نے گہرے لہجے میں انوشے کو دیکھتے کہا جس نے شرما کر نظریں جھکا لی تھیں۔
آپ باہر جائیں ارحہ آپ کا انتظار کر رہی ہو گی،
انوشے نے شرمیلے لہجے میں کہا۔
تم بھی جلدی آ جاؤ۔
ضرغام نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
انوشے نے پھر سے ارد گرد دیکھا لیکن کہی بھی اسے چھپکلی نظر نہیں آئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
زمل کو ہوش آیا تو کندھے پر ہوتی درد کی وجہ سے کراہ پڑی۔
آہ…. زمل کہتے ہی اپنے کندھے پر ہاتھ رکھتے اُٹھ بیٹھی۔
آنکھیں اس کی سرخ ہو رہی تھیں۔
سر الگ درد سے پھٹ رہا تھا۔
زمل ابھی پیچھے ٹیک لگائے بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کر اس نے دروازے کء طرف دیکھا جہاں ہشام کھڑا تھا۔
ہاتھ میں اس کے کھانے کی ٹرے پکڑی تھی۔
اور چلتا ہوا زمل کے پاس آکر بیٹھا۔
زمل نے کچھ نہیں کہا تھا۔. بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
کھانا کھا لو۔
ہشام نے زمل کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔
زمل نے بھاری آواز میں کہا۔
لیکن ہشام نے اس کی بات کو اگنور کیے نوالہ بنا کر زمل کے ہونٹوں کے قریب لے کر گیا جس نے آنکھوں میں شکوہ لیے ہشام کو دیکھا۔
ایسے مجھے مت دیکھو زمل……
ہشام نے نظریں چراتے کہا۔
لیکن جب زمل نے نوالہ کھا لیا ہشام کو حیرانگی ہوئی تھی۔
اس بار زمل نے کوئی ضد نہیں کی۔
وہ تو شاید ہشام سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔
خاموشی سے زمل نے کھانا کھایا۔
اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
ہشام چاہتا تھا کہ وہ اس سے بات کرے بےشک بحث کرے لیکن کچھ ن کچھ کہے لیکن وہ خاموش ہو گئی تھی۔
زمل تم یہی رہو گی اور میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلو گی۔
ہشام نے اسے دیکھتے کہا۔
زمل نے اس کی سوچ کے برعکس اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہشام نے دانت پیسے تھے۔
زمل میں تمھاری زبان سے سننا چاہتا ہوں۔
ہشام نے زمل کو دیکھتے کہا۔
م میں ن نہیں جاؤں گی۔
زمل نے کپکپاتے لہجے میں فوراً جواب دیا۔
ہشام سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی ہے۔
ہشام نے گہرا سانس لیتے زمل کے جھکے چہرے کی طرف دیکھا۔
پھر اُٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
زمل ابھی بھی نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
ماضی……
ندا بہت خوش تھی۔
جیسا وہ چاہتی تھی ویسا ہو چکا تھا۔
وہ اب زہاب کے ساتھ سکون بسے رہتی تھی۔. اسے اپنے کیے پر زرا بھی پچھتاوا نہیں تھا۔
بیٹا کیا کام کرتا ہے اسے اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔
ایک دن زہاب نے کہا کہ وہ ضروری کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہوں تو آپ اپنا خیال رکھنا۔
زہاب کہتے ہی گھر سے نکل گیا۔
ندا گھر میں اکیلی تھی۔
رات کھانے کے بعد ملازمہ گھر سے چلی گئی۔
ندا اپنے کمرے میں تھی۔
پورے گھر میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
جب کچھ لوگ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوئے۔
ندا تو آرام سے سو رہی تھی۔
جو آدمی گھر میں داخل ہوئے انہوں نے پورے گھر پر پٹرول چھڑک دیا،
اور جیسے آئے ویسے وہاں سے چلے گئے۔
اور باہر جاتے ہی گھر کو آگ لگا دی۔
یہ آدمی زہاب کے دشمن کے تھے اُن کو یہی لگا زہاب گھر میں ہے۔لیکن گھر میں وہ نہیں تھا۔
آگ پورے گھر میں پھیل گئی۔جب ندا کی آنکھ دھوے کی وجہ سے کھلی پورے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔
ندا نے ارد گرد دیکھا۔
اسے کچھ صاف نظر بھی نہیں آ تیا تھا اور زور سے کھانسنے لگی۔
ندا بیڈ سے اٹھی اور سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا۔جہاں سے اسے موبائل مل گیا تھا۔
ندا نے موبائل پکڑا اور باہر کی طرف بھاگی لیکن دروازہ کھولتے ہی بھڑکتی آگ نے اس کا استقبال کیا۔
ندا کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی باہر ہر طرف آگ پھیلی ہوئی تھی۔ ندا کی آنکھیں باہر کو گئی اسے سمجھ نہیں آئی کہ کس طرح باہر نکلے۔
بوکھلاہٹ میں اس نے زہاب کا نمبر ڈائل کیا جس نے پہلی ہی بل میں ہی کال اٹینڈ کر لی تھی۔
زہاب گھر میں آگ لگ گئی ہے پورا گھر جل رہا ہے۔
ندا نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
آگ؟ آگ کیسے لگ گئی اور آپ ٹھیک ہیں؟ زہاب نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے پریشانی سے پوچھا۔
مجھے یہ کام ضرغام کا لگ رہا ہے اُسی نے بدلہ لیا ہے۔ندا نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے کہا۔
موم اُسے میں بعد میں دیکھ لوں گا آپ گھر سے فوراً باہر نکلیں۔. زہاب نے جلدی سے کہا۔
زہاب آگ ہر طرف پھیل گئی ہے اور اب کمرے میں بھی پھیلتی جا رہی ہے۔
ندا نے آگ کے شعلوں کو دیکھتے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
وہ پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔
اور موبائل فون چھوٹ کر ہاتھ سے گر گیا۔
موم آپ مجھے سن رہی ہیں؟ دوسری جانب زہاب چیخ رہا تھا۔
لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
زہاب جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا۔
آگ مزید پھیلتی جا رہی تھی۔
اور ندا کے قریب آتی گئی۔
جو خوف سے چیخنے لگی تھی۔
اس کی چیخیں موبائل سے زہاب بھی سن رہا تھا۔
ندا کو اس وقت اپنے سارے گناہ یاد آنے لگے جو اس نے کیے تھے۔
آہستہ آہستہ آگ نے اسے اپنے لپٹ میں لے لیا۔
زہاب اس وقت جس قدر خود کو بےبسی محسوس کر رہا تھا وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔
اپنی ماں کی دلخراش چیخیں وہ سن رہا تھا۔جو اب سنائی نہیں دے رہی تھی۔
زہاب نے فوراً جواد چودھری کی کال کی جو زہاب کے کہنے پر ندا کے گھر پہنچا جو پورا جل چکا تھا۔
فائر بریگیڈ کو بلایا گیا۔اور آگ کو بجھایا گیا۔
اور ندا کی لاش کو باہر لایا گیا جو دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی۔
جواد چودھری جو اقبال کے ساتھ آیا تھا۔
ندا کی حالت دیکھ وہ گرنے لگا جب اقبال نے اسے سہارا دیا۔
زہاب فوری طور پر واپس آیا تھا۔
ندا کی لاش کو جواد اپنی حویلی لے گیا۔زہاب وہی آیا اور اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ بےبسی سے اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا وہ یہی سمجھا تھا کہ ضرغام نے یہ سب کروایا ہے۔
اسکی نظروں میں ضرغام برا بن گیا تھا۔کیونکہ اس کی ماں نے اسے کہا تھا۔
جواد نے زہاب کو حوصلہ دیا۔
اور ندا کو دفنانے کے بعد اُس نے زہاب کو یہی رہنے کا کہا۔
جو اس وقت غصے میں تھا۔
اگر ضرغام اس وقت اس کے سامنے ہوتا تو اس کی جان لے لیتا۔
لیکن فلحال وہ خاموش تھا۔
لیکن جواد کو سمجھ نہیں آئی کہ گھر میں آگ کیسے لگ گئی۔
زہاب نے بھی کچھ نہیں بتایا۔
اس کے بعد زہاب نے سارا پلان بنایا۔اور ضرغام کو تکلیف دینے کے لیے اس نے ارحہ کو اغوا کیا۔
وہ کیا کام کرتا تھا کسی کو معلوم نہیں تھا۔
ندا اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔
جل کر مرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ موت ندا کے لیے ثابت ہوئی تھی۔
ایسے ہی وقت گزرتا گیا۔
اور پھر زہاب نے انوشے سے منگنی کی انوشے کو وہ پسند کرنے لگا تھا۔