Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

زمل نے اپنی آنکھوں سے نکلتے آنسو کو صاف کیا اور ارحہ کی طرف دیکھا جس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو کسی انجان کمرے میں پایا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا اُس کے بعد تو اسے ہر چیز سے ڈر لگ رہا تھا اسے لگا کہ وہ انسان بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کرے گا جیسا پہلے نے کیا اس لیے خود میں ہمت جمع کرتے کمرے سے باہر آئی لیکن سامنے سے آتی زمل کے ساتھ اس کا زور دار ٹکراؤ ہوا اور دونوں زمین بوس ہو گئی۔
زمل نے کھڑے ہوتے ارحہ کی طرف دیکھا جو ابھی بھی آنکھ بند کیے زمین پر پڑی تھی۔
کمزوری کی وجہ سے اُس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔
لیکن زمل ایک سیکنڈ سے پہلے اسے پہچان گئی گئی۔
ارحہ بڑی ضرور ہوئی تھی لیکن اس کا چہرہ ویسا ہی تھا۔
ارحہ……
ارحہ یہ تم ہی ہو نا؟ زمل کے لہجے میں بے یقینی لیے کہا۔
اور جلدی سے ارحہ کے پاس بیٹھی جس نے آنکھیں کھولے زمل کی طرف دیکھا۔
وہ بھی اسے پہچان گئی تھی۔
ز زمل ؟ارحہ کے کپکپاتے لہجے میں اس کا نام لیا۔
ہاں میں ہی ہوں لیکن تمہیں کیا ہوا اور تمھاری یہ حالت کس نے کی؟ زمل نے پریشانی سے ارحہ ہو دیکھتے پوچھا اور اسے سہارا دیتے کھڑا کیا۔
زمل تم مجھے بھائی کے پاس لے جاؤ گی پلیز۔
ارحہ نے بےبسی سے روتے ہوئے کہا۔
ہاں میں تمہیں لے جاؤ گی پہلے رونا بند کرو مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔
زمل نے ارحہ کے آنسو صاف کرتے کہا۔
اتنے میں ہشام بھی باہر آگیا تھا۔
اور دونوں کو دیکھتے حیران ہوا۔
تم دونوں ایک دوسرے کو جانتی ہو ؟
ہشام نے دونوں کے پاس آتے حیرانگی سے پوچھا۔
جی اور یہ آپ کے گھر کیا کر رہی ہے؟ زمل نے ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
میں نے صرف ان کی مدد کی تھی اور یہ بےہوش ہو گئی تو میں ان کو گھر لے آیا اور ابھی ان کو ہوش آیا۔ہشام نے تفصیل بتاتے کہا ناجانے کیوں اس کے دل نے صفائی دینے کو کہا تھا کہی زمل اسے غلط نا سمجھے۔
لیکن تم دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتی ہو؟ اور زمل یہ کون ہے؟
ہشام کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
آپ کو یاد ہو گا۔
میں اکثر آپ سے بات کرتی تھی اپنے گاؤں کی وہ الگ بات ہے آپ نے کبھی میری بار کو غور سے نہیں سنا اس لیے آپ کو کیسے یاد ہو گا۔
ناچاہتے ہوئے بھی زمل کا لہجہ طنزیہ ہو گیا تھا۔
مجھے سب یاد ہے اب بتاؤ کون ہے یہ ہشام نے دانت پیستے کہا۔
میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میری ایک دوست ہے ارحہ خان
یہ وہی ہے اور اس کے بھائی کا نام ضرغام بدر خان ہے۔
زمل نے ہشام کی طرف دیکھتے اسے بتایا۔
ہشام کے بےیقینی سے ارحہ کی طرف دیکھا تھا۔
معجزے آج بھی ہوتے ہیں ہشام کو اس بات پر یقین آگیا تھا۔
آپ ضرغام بدر خان کی بہن اور داؤد کی وائف ہیں نا؟ ہشام کے لہجے میں بےیقینی تھی۔
ارحہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ. زمل کے سہارے کھڑی تھی۔
زمل ان کو کمرے میں لے جاؤ ہشام نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
زمل خاموشی سے اسے لیے کمرے لی طرف بڑھ گئی۔
لیکن اس کے دل میں سوال مچل رہا تھا کہ ہشام کو کیسے پتہ کہ ارحہ داؤد نامی انسان کی بیوی ہے۔
لیکن اس وقت وہ ارحہ کو لیے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
کچھ ماہ پہلے……..
داؤد جب جلتے ہوئے گھر کو دیکھ رہا تھا تو اس کا موبائل رنگ ہوا۔
اس کے سیکرٹری نے بتایا کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی ہے۔وہ بھی اس کے گھر کے پاس ہی رہتا تھا۔
داؤد کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔
سامنے جس کلینک میں آگ لگی۔
اُس میں اس کی بیوی ہے اور گھر میں ملازمین جو شاید زندہ بھی تھے۔
اور داؤد نے ہی ان کا. خرچہ اٹھانا تھا اس لیے ایک نظر کلینک پر ڈالے اپنی گاڑی کی. طرف بڑے گیا۔آنکھوں بھیگی ہوئی تھیں۔
وہ. اس امید سے شہر گیا کہ ارحہ کو تو بچا نہیں سکا لیکن جو لوگ ابھی زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں لیکن حالت بری ہے اُن کو بچا سکے۔
اس لیے وہاں سے چلا گیا۔
پچھے عرفان جس نے اپنے باس کے کہنے پر ان پر نظر رکھی تھی۔
داؤد کے جانے کے بعد ایک لڑکی کی جلی ہوئی لاش اُس کلینک میں لاکر رکھ دی اور اس کے ہاتھ میں ارحہ کا بریسلٹ پہنا دیا۔
اور داؤد کے گھر بھی آگ ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ وہ یہاں سے جا سکے اور سارا الزام اس پر لگایا جا سکے۔
آگے کا کام عرفان نے کیا تھا اُس نے ضرغام کو کال کی اور جھوٹی کہانی بنا کر کسی طریقے سے ضرغام کو مطمئن کر دیا کہ داؤد نے ارحہ کی جان لی اور خود بھاگ۔
اور آخر کا وہ ضرغام کو یقین دلانے کیلئے کامیاب بھی ہو گیا کہ یہی ارحہ ہے اور پھر ضرغام کے دل کی داؤد کے لیے نفرت پیدا ہوئی اور اس نے خون بہا کے بدلے انوشے سے نکاح کیا۔
عرفان یہ سب کس کے کہنے پر کر رہا تھا۔
یہ تو بعد میں پتہ چلنا تھا۔
داؤد کا تقریباً پورا گھر جل گیا تھا۔
اس وقت ہشام نے اس کی مدد کی۔
اور جتنے بھی ملازمین آگ کا شکار ہوئے تھے وہ سارے زندہ تھے اور داؤد کے لیے یہی کافی تھا۔
ملازمہ نے بتایا کہ کچن میں آگ لگی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ ہر طرف پھیل گئی.
ہشام سب معلوم کروانا چاہتا تھا لیکن داؤد نے منع کر دیا۔
ہشام کو پتہ چل گیا تھا کہ داؤد اس وقت کس طرح کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
اس نے اپنی بیوی کو کھویا ہے۔
اور انہی سب میں کچھ دن داؤد کو شہر میں لگ گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜 💜
جس لڑکی کو میں گھر لایا وہی میرے دوست کی بیوی ہے۔
اور وہ انسان پاگلوں کی طرح اسے ہر جگہ تلاش کر رہا ہے۔
ہشام نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا اور اپنا موبائل پکڑے داؤد کا نمبر ڈائل کیا جس کا نمبر بند جا رہا تھا۔
اس کمینے کا نمبر بھی اب ہی بند جانا تھا۔
ہشام نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اس کے گھر کے لینڈ لائن پر کوشش کی۔
اور خوش قسمتی سے داؤد نے فون اٹھایا تھا۔
ہیلو کون؟ داؤد کی آواز سنتے ہی ہشام کو غصہ چڑھا تھا۔
اگر تو نے موبائل بند ہی رکھنا ہوتا ہے تو اُسے کہی پھینک دے،
ہشام کی غصے سے بھری آواز سپیکر میں گونجی تو داؤد حیران ہوا۔
کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے؟ اور موبائل میرا آف ہو گیا تھا۔. داؤد نے کہا۔
ابھی تم. شہر میں ہو نا؟ ہشام نے جلدی سے پوچھا۔
ہاں داؤد نے ناسمجھی سے کہا۔
گریٹ……
ابھی اور اسی وقت میرے گھر آؤ۔
ہشام نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
اسے کیا ہوا؟
داؤد نے فون رکھتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اور اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کتنا بڑا سرپرائز ملنے والا ہے…