No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ضرغام تم ٹھیک ہو ؟داؤد نے اسے کندھے سے پکڑے پوچھا۔
جو اب گہرے سانس لے رہا تھا۔چہرے کا رنگ بھی اس ک پیلا پڑ گیا۔
داؤد جلدی سے پانی کا گلاس لایا۔ جسے ضرغام نے ایک ہی سانس میں سارا پی لیا۔
پانی پینے کے بعد وہ کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا لیکن درد ابھی بھی ویسا ہی تھا۔
میں ٹھیک ہوں۔
ضرغام نے زمین پر بیٹھتے آہستگی سے کہا۔
اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی۔
میرے خیال سے تمہیں ہسپتال جانا چاہیے۔. داؤد نے اس کی صورتحال دیکھتے کہا۔
تمہیں میری فکر ہو رہی ہے؟
ضرغام نے تکلیف دہ لہجے کے باوجود مسکراتے ہوئے پوچھا۔
تمھاری فکر مجھے کیوں ہونے لگی۔
میں نہیں چاہتا انوشے اتنی کم عمر میں بیوہ ہو جائے۔
داؤد نے اس کے پاس بیٹھتے کہا،
فکر مت کرو اُس کی جان میں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا۔
ضرغام نے آنکھیں موندے کہا۔
داؤد اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ضرغام ہسپتال چلے جاؤ اس سے پہلے تمھاری لاش کو ہسپتال لے جانا پڑے۔
داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
میں اب ٹھیک ہوں۔اور اگر مجھے کچھ ہو بھی جاتا ہے مجھے نہیں لگتا میرے جانے سے کیسی کو فرق پڑے گا۔اس لیے مجھے پرواہ نہیں ہے۔
ضرغام نے دیوار کا سہارا لیتے کھڑے ہوتے کہا۔
تم کتنے ٹھیک ہو صاف نظر آ رہا ہے۔
داؤد نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
ضرغام خاموش رہا اور کچھ دیر بعد بولا۔
طنز کے تیر چلانا بند کرو،
اور تم نے کہا تھا کہ ارحہ زندہ ہے تو کیا تم نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی؟۔
ضرغام نے گہرا سانس لیتے پوچھا۔
اب وہ بہتر محسوس کر رہا تھا،
اس کے سینے کا درد تو دن با دن بڑھتی جا رہا تھا۔لیکن ضرغام کو شاید پرواہ نہیں تھی۔کہ اس کی جان خطرے میں تھی۔
میں کوشش کر رہا ہوں۔لیکن تم نے کیا مجھ پر یقین کر لیا؟
حیرت ہے تم تو مجھے حیران کر رہے ہو۔
داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تم نے مجھے امید دلائی ہے داؤد کہ ارحہ زندہ ہے۔
کوشش کرنا میری امید نا ٹوٹے۔
اور عرفان دنیا کے جس بھی کونے میں چھپا ہو گا میں اُسے ڈھونڈ نکالو گا۔
وہی اصل مُہرہ ہے۔بس ایک بار میرے ہاتھ لگ جائے۔
ضرغام نے غصے سے کہا۔
تو پھر اُسے تلاش کرو۔
وہی بتا سکتا ہے کہ ارحہ کہاں ہے۔
داؤد نے جلدی سے کہا۔
بہت جلد وہ میری قید میں ہو گا۔
ضرغام نے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑا۔
لیکن ناجانے کیوں ضرغام کو آج پہلی بار داؤد سے بات کرکے اچھا لگا تھا۔
اس کا کوئی دوست نہیں تھا نا اس نے کبھی کسی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اور لوگ اس سے ڈرتے بھی تھے اس لیے دور رہتے تھے۔
ہسپتال چلے جانا داؤد نے اسے ایک بار پھر سے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
ضرغام بھی چہرے پر مسکراہٹ لیے وہاں سے چلا گیا اور ملازمہ کو اس نے کہا کہ انوشے کو بلا کر لائے جو انوشے کو لے آئی ساتھ اس کے حبہ بھی تھی۔
انوشے حبہ کے گلے لگی اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
حبہ کو ملنے کے بعد اسے ایک بات کا یقین ہو گیا تھا کہ وہ اس کی ماں کا خیال رکھے گی۔لیکن صبا کی وجہ سے وہ پریشان بھی تھی۔
💜 💜 💜 💜
کہاں ہے وہ لڑکی؟
مقابل نے اُس عورت کو بالوں سے دبوچتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا۔
جب وہ واپس آیا تھا ارحہ وہاں سے بھاگ چکی تھی،
میں نے اُسے یہاں سے بھاگا دیا۔
اب تمھارے جیسا درندہ اُس تک نہیں پہنچ سکتا۔اُس عورت نے نے پختہ لہجے میں کہا۔
سامنے موت کھڑی تھی لیکن پھر بھی اسے پرواہ نہیں تھی۔
تو تم یہ بھی جانتی ہو گی کہ اب تمھارے ساتھ کیا ہو گا،
یہاں میں نے تمہیں اس لیے نہیں رکھا کہ تم میرے شکار کو بھگا دو۔
لیکن اب تمھارا وقت ختم ہو گیا اُس لڑکی کو تو میں ڈھونڈ نکالوں گا۔
لیکن ابھی مرنے کی باری تمھاری ہے۔
مقابل نے کہتے ہی گن کو اُس عورت کے ماتھے کے بیچو بیچ رکھا۔
اُس عورت کی آنکھوں میں ابھی بھی خوف نہیں تھا وہ مطمئن تھی کہ اُس نے ارحہ کی مدد کی۔
گڈ بائے مقابل نے کہتے ہی گن کا ٹریگر دبا دیا۔
ٹھاہ…… گولی کی آواز وہاں گونجی اور وہ عورت وہی زمین پر گر گئی۔
مجھے دھوکا دینے والے کا یہی انجام ہو گا۔
مقابل نے کہتے اپنی گن کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کسی کی بھی جان لینا اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم نے مجھے اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا سب خیریت ہے؟
ہشام نے داؤد کے سامنے بیٹھتے پوچھا۔
ہشام داؤد کا دوست تھا جو ایک سال پہلے پاکستان واپس آیا تھا۔
اس نے داؤد کی بزنس میں کافی مدد بھی کی تھی دونوں یونیورسٹی فرینڈز تھے۔اور ایک دوسرے کے بارے میں جانتے بھی تھے۔
مجھے تم سے تمھارے اُس مینجر کے بارے میں پوچھنا تھا۔
داؤد نے ہشام کو دیکھتے کہا۔
وہ منیجر جس کی دیتھ ہو گئی تھی؟
ہشام نے اپنے دماغ پر زور ڈالتے پوچھا۔
ہاں وہی میں نے ایک بار اُس کی حالت دیکھی تھی۔
اُس کے سینے میں بھی درد رہتا تھا نا؟
داؤد نے ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں اور پھر اُس کی ہارٹ اٹیک سے موت ہو گئی۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ ینگ تھا فٹ تھا نااُسے کوئی پریشانی تھی۔پہلے سینے میں کچھ دنوں تک درد رہا پھر اُس کی موت ہو گئی۔حیرت کی بات تھی۔
ہشام نے تفصیل سے بتاتے کہا۔
لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟
ہشام نے حیرانگی سے پوچھا۔
داؤد سوچ میں پڑ گیا تھا۔
جو ضرغام کے ساتھ ہوا ویسا ہی تو اُس مینجر کے ساتھ ہوا تھا۔
جیسا اُس میجر کے ساتھ ہوا ویسا ہی ضرغام کے ساتھ ہو رہا ہے مطلب کہ وہ فٹ ہے۔لیکن جیسے اُس کے سینے میں درد ہوا وہ دیکھ کر مجھے تمھارا مینجر یاد آیا۔
داؤد نے پن کو انگلیوں میں گھوماتے ہوئے کہا۔
ضرغام بدر خان کی بات کر رہے ہو؟
کیا تم دونوں کے درمیاں سب ٹھیک ہو گیا؟ وہ تو اپنی بہن کا قاتل تمہیں ہی سمجھتا تھا نا؟ ہشام نے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
حقیقت اُس کے سامنے آگئی ہے۔
دل کا برا وہ بھی نہیں ہے لیکن جب بہن کی لاش کو کوئی بھی بھائی دیکھے گا تو وہ اُس کے قاتل سے محبت بھری باتیں تو کرے گا نہیں۔
داؤد نے پیچھے کرسی سے ٹیک لگاتے کہا۔
ہاں یہ تو ہے لیکن تم لوگوں کی فیملیز میں بھی تو کوئی مسئلہ چل رہا تھا۔
ہشام نے پانی کا گلاس پکڑتے کہا۔
اس بارے میں مجھے بھی آج تک پتہ نہیں چلا کہ بھائی نے زہاب کی خاطر اُن سے دشمنی کیوں مول لی۔
اور نا ہی مجھے جاننے میں دلچسپی ہے۔
داؤد نے گہرا سانس لیتے کہا۔
تمہیں ضرغام کو مشورہ دینا چاہیے کہ ایک بار اپنا چیک اپ کروا لے۔
ہشام نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ ضدی انسان اپنی مرضی کا مالک ہے۔
خیر تم بتاؤ کیا پیو گئے؟
داؤد نے ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
شکر ہے تمہیں خیال تو آیا لیکن مجھے ابھی ایک ضروری کام سے جانا ہے۔
اس لیے میں نکل رہا ہوں۔
ہشام نے گھورتے ہوئے کہا۔داؤد ہلکا سا مسکرا پڑا۔
تم میرا ایک کام کر دو گئے؟
داؤد نے لہجے میں امید لیے پوچھا۔
تمہیں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
کیا کام ہے؟ ہشام نے پوچھا۔
ایک لڑکے کے بارے میں معلوم کروانا ہے ضرغام بھی اُس کی تلاش میں ہے لیکن تم جو کام کرتے ہو تمھارے لیے آسانی ہو گی۔
تم اُسے ڈھونڈ سکتے ہو۔
داؤد نے کھڑے ہوتے اس کے پاس آتے پوچھا۔
ٹھیک ہے میں اُس کے بارے میں معلوم کروایا ہوں۔
اور میں پوری کوشش کر رہا ہوں۔
تمھاری مسز بھی بہت جلد تمھیں مل جائے گی۔
ہمت مت ہارنا۔
ہشام نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
میں اُس کی حفاظت نہیں کر پایا۔
ناجانے وہ کس حال میں ہو گی۔اب تو میری بھی امید ٹوٹی جا رہی ہے۔
داؤد نے بےبسی سے کہا۔
ہشام نے ارحہ کو نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ گواہ کے طور پر داؤد کے نکاح میں شامل ہوا تھا لیکن اس نے دیکھا نہیں اسے اس لیے اسے معلوم نہیں تھا کہ جو لڑکی اس کے اپنے گھر میں ہے وہی اس کے دوست کی بیوی ہے جسے وہ ہر جگہ تلاش کر رہا ہے۔
💜 💜 💜 💜
حمیرا نے اقبال کو کال کی۔پہلے تو اسے اچھی خاصی سنائی اور اقبال کو شرم دلانی چاہی لیکن وہ بھی اقبال تھا۔
خاموشی سے حمیرا کی بات سنتا رہا۔
تو کب لینے آ رہے ہو نازیہ کو؟ جو ہونا تھا ہو گیا۔لیکن تم میری بیٹی کو اُس کے حقوق سے محروم نہیں کرو گئے،
حمیرا نے کہا۔
ٹھیک ہے میں آ رہا ہو نازیہ کو لینے۔
اقبال نے کہتے ہی فون بند کر دیا،
حمیرا نے حیرانگی سے موبائل کی طرف دیکھا تھا،
اقبال کے تو تیور ہی تبدیل ہو گئے ہیں،
نازیہ تمہیں سنبھل کر رہنا ہو گا۔
حمیرا نے نازیہ کو دیکھتے کہا۔
جو اس کے پاس بیٹھی بےچینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی۔
وہ اقبال کی باتیں سن چکی تھی۔
امی دیکھا نا آپ نے؟ ان کو زرا بھی پرواہ نہ ہے۔جو بھی اقبال نے کیا عہ غلط ہے لیکن پھر بھی ان ہو احساس نہیں ہے۔
نازیہ نے منہ بسوڑتے کہا۔
میں نے کہا تھا کہ جو بھی کرنا ہے وہاں جا کر کرنا۔
وہاں جاکر تم اسے سیٹ کرنا اور اب تیار ہو جاؤ وہ حویلی آ رہا ہے۔
حمیرا نے نازیہ کو دیکھتے کہا۔
ساتھ جانے لے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔
نازیہ نے غصے سے کہا۔اور وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
ضرغام گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔
انوشے خاموشی کے ساتھ بیٹھی باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ضرغام حویلی جانے کی بجائے گاؤں سے باہر جو مارکیٹ تھی وہاں اسے لے آیا۔
مارکیٹ کے پاس گاڑی رکتی دیکھ انوشے نے حیرانگی سے ضرغام کی طرف دیکھا۔
ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟
انوشے نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہم یہاں مووی دیکھنے آئے ہیں۔
ضرغام نے سنجیدگی سے کہا۔
یہاں کیا کوئی مووی بھی لگنے والی ہے؟. انوشے نے دلچسپی سے پوچھا۔
ضرغام نے انوشے کی طرف دیکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
تم معصوم ہو یا جان بوجھ کر ایسی باتیں کرتی ہو؟
ضرغام نے انوشے کی آنکھوں میں دیکھتے گہرے لہجے میں پوچھا۔
آ آپ نے ہی تو کہا ہم یہاں مووی دیکھنے کے لیے آئے ہیں۔. انوشے نے کپکپاتے لہجے میں کہا ضرغام کی گرم سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔
معصوم ہو…… ضرضرغام کہتے ہی اس سے پیچھے ہو گیا۔
ہم یہاں مارکیٹ آئے ہیں تاکہ تم اپنے لیے کچھ ڈریس لے سکو۔
ضرغام نے اپنی سیٹ بیلٹ کو کھولتے ہوئے کہا۔
لیکن میرے پاس کپڑے ہیں۔
انوشے کے لہجے میں ابھی بھی حیرانگی تھی۔
ناجانے ضرغام کو کیا ہو گیا تھا جو وہ اس کی پرواہ کر رہا تھا۔اور اس کا انوشے کی پرواہ کرنا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
وہ سارے کپڑے ارحہ کے ہیں۔
جو تم استعمال کر رہی ہو۔
ضرغام نے اس کی طرف دیکھتے کہا۔
لیکن آپ تو مجھے بہت جلد چھوڑ دے گئے نا آپ نے ہی کہا تھا تو پھر ان سب چیزوں کا کیا فائدہ؟ انوشے نے ضرغام کو دیکھتے پوچھا۔
جس کے چہرے پر تکلیف دہ مسکراہٹ آکر مدھم ہوئی تھی۔
تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں طلاق دے دوں؟ضرغام نے بنا اسے دیکھے پوچھا۔
آپ نے کبھی مجھے اپنی بیوی تسلیم نہیں کیا۔
اور میں ویسے بھی خون بہا میں آئی تھی یہ تو آپ کا احسان ہو گا اگر آپ مجھے طلاق دے دء گئے ورنہ خون بہا میں آئی لڑکیوں کے جنازے ہی اُس گھر سے باہر نکلتے ہیں جس گھر میں وہ خون بہا کے طور پر جاتی ہیں۔
انوشے نے باہر دیکھتے دھیمے لہجے میں کہا۔
اس کی بات سنتے دونوں کے درمیان کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
ٹھیک ہے میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔
لیکن جب تک میرے نام کے ساتھ جڑی ہو تب تک تمھاری ضرورتوں کا خیال رکھنے کی کوشش کروں گا۔
ضرغام نے گاڑی سے باہر نکلتے کہا۔
انوشے ابھی بھی بیٹھی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ضرغام آخر چاہتا کیا ہے۔
وہ بھی تو یہی چاہتی تھی کہ اس قید سے آذادی حاصل کرے لیکن اب طلاق کے نام پر اس کا دل بےچین کیوں ہو گیا تھا۔
لیکن آنکھیں باہر تو انوشے کی باہر کے منظر کو دیکھ کر آئی۔
