No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ہیلو انوشے تم ٹھیک ہو ؟
داؤد نے پریشانی سے پوچھا۔
انوشے کی طرف سے خاموشی چھا گئی تھی۔
دوسری جانب تو انوشے بت بنی زمین پر بےیقینی کی کیفیت میں بیٹھی ہوئی تھی۔
داؤد میرے ساتھ چلو ہشام نے وہاں آتے سنجیدگی سے کہا۔
کیا ہوا؟ داؤد نے کال بند کرتے ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
کیونکہ مزید برا سننے کی اد میں ہمت نہیں تھی۔
ہشام بنا کچھ کہے اس کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لیے ایک کمرے میں داخل ہوا۔
جہاں اسٹریچر پر ایک باڈی کو سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔
ت تم مجھ یہاں کیوں لائے ہو؟ میرے میں ابھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ ضرغام کو اس حالت میں دیکھ سکوں۔
داؤد نے اپنے قدم پیچھے کی طرف لیتے بےبسی سے کہا۔
ہوسپٹل والوں نے کہا کہ ایک بار شناخت کے بعد ہم ضرغام کو لے جا سکتے ہشام نے ڈیڈ باڈی کہنے سے پرہیز کیا تھا۔
وہ خود شناخت کر لیتا لیکن اس نے ضرغام کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن کبھی دیکھا نہیں اس لیے داؤد کو یہاں لایا۔
داؤد نے اپنے قدم آگے بڑھائے۔
لیکن ایک قدم بھی آگے بڑھانا اسے دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔ہشام نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
جس نے قدم آگے بڑھائے اور اسٹریچر کے پاس جاتے اس نے کانپتے ہاتھوں سے چادر کو پیچھے کیا۔
لیکن مقابل کا چہرہ دیکھ داؤد وہی بت کا بنا۔چہرے پت بےیقینی در آئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
انوشے اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
اسے ضرغام کے الفاظ یاد آئے جو اس نے جانے سے پہلے کہے تھے۔کیا وہ سچ میں جانتا تھا کہ وہ جانے والا ہے؟
ضرغام آپ ایسے نہیں جا سکتے آپ مجھے اکیلا چھوڑ نہیں کر نہیں جا سکتے۔
انوشے نے بسی کے مارے روتے ہوئے کہا۔لیکن کسی بھی طر اس کا دل مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔
نہیں مجھے اس بات پر یقین کیوں نہیں آ رہا۔
مجھے چاچو سے بات کرنی ہے۔
مجھے پورا بھروسہ ہے ضرغام زندہ ہیں چاچو کو غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
انوشے نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑتے خود سے کہا۔
اس کے ہاتھ اس قدر کپکپا رہے تھے کہ نمبر بھی ڈائل نہیں ہو رہا تھا۔
جو خبر اسے سننے کو ملی تھی وہ اس کے لیے ناقابلِ یقین تھی۔
وہ کیسے بڑی خانم کو اس بارے میں بتائے گی وہ خود ضرغام کے بغیر کیا کرے گی؟
یہ سب سوچتے ہی اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
اسے لگا کہ اس کا سانس اکھڑ رہا ہے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کب اس قدر ضرغام کو پسند کرنے لگی۔
لگاؤ تو کسی سے بھی ہو جاتا ہے۔
اور ضرغام تو اس کا شوہر تھا۔
جسے وہ پسند کرنے لگی تھی۔
تو کیسے وہ اُس کی موت کی خبر کو برداشت کر سکتی تھی۔
زرنین کو لگا جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔
موبائل ہاتھ سے چھوٹا اور وہی بےہوش ہوئے زمین پر گر گئی۔اتنا بڑا صدمہ وہ برداشت نہیں کر پائی اور وہی بےہوش ہو گئی ۔
💜 💜 💜 💜 💜
کچھ سال پہلے…….
ندا جیسا چاہتی تھی ویسا ہو گیا تھا۔
آگ وہ لگا چکی تھی اب اسے دیکھنا تھا کہ یہ آگ کہاں تک پھیلنی تھی۔
اُس دن جواد چوھدری اقبال اور ندا کے ساتھ ضرغام کی حویلی گیا تھا۔
عاصم اور نبیل، جواد چودھری کے ساتھ ندا کو دیکھتے حیران ہوئے تھے۔
ندا کا بیٹا ساتھ نہیں آیا تھا۔
ندا نے ہی اسے ساتھ آنے سے منع کر دیا۔
کیا ہوا جواد سب خیریت ہے؟
عاصم نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ اس کے چہرے کے تاثرات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
عاصم نبیل نے میری بہن کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا۔
مجھے اُس سے ایسی امید نہیں تھی۔
وہ اتنا گھٹیا نکلے گا۔
جواد نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا۔
انکل اس وقت آپ ہماری حویلی میں کھڑے ہیں اور کوئی میرے چاچو کے بارے میں کچھ بھی کہے بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا۔
ضرغام جو خاموش کھڑا تھا اس نے سنجیدگی سے کہا۔
اور تم جانتے ہو تمھارے چچا نے کیا کیا؟
پوچھو اس سے کہ یہ لڑکی اس کی کیا لگتی ہے کیا اس نے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش نہیں کی؟ پھر اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اس سے نکاح کیا؟
اور مطلب پورا ہونے کے بعد طلاق بھی دے دی؟ جواب نے کرختگی سے کہا۔
نبیل نے آنکھیں پھاڑے اس شاطر عورت کو دیکھا تھا جس نے اسکی مدد کے لیے نکاح کیا اور وہ اسی پر الزام لگا رہی تھی۔
حمیرا نے بےیقینی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔
اس کا شوہر نکاح کر چکا تھا اسے یقین نہیں آیا ضرغام کی ماں کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔
تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تمھاری بہن سچ بول رہی ہے؟ عاصم نے سرد لہجے میں پوچھا۔کیونکہ ساری صورتحال سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔
میری بہن جھوٹ نہیں بول سکتی مجھے اسکی بات پر پورا بھروسہ ہے۔
جواد نے دانت پیستے کہا۔
تمھاری بہن جھوٹ بول رہی ہے میں نے ا سکی مدد کرنے کے لیے اس سے نکاح کیا اور یہ عورت مجھ پر الزام لگا رہی جس کا خود کا کردار ٹھیک نہیں ہے۔اس لیے میں نے اسے طلاق دی تھی۔
نبیل نے غصے سے ندا کو دیکھتے کہا جو کھڑی نقلی آنسو بہا رہی تھی۔
بس بہت ہو گیا۔. اپنی بہن کے بارے میں میں کچھ نہیں سنو گا۔
ہم دونوں خاندانوں کے درمیان جو بھی رشتہ ہے آج سے وہ ختم میں تم لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا جس نے میری بہن کی زندگی خراب کی ہو۔
جواد چودھری نے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔اس نے اقبال کو بھی کہہ گیا تھا اگر نازیہ اپنے ماں باپ سے ملنا چاہتی ہے تو بےشک اُسے طلاق دے دو۔لیکن اقبال نے کہا کہ وہ اپنے ماں باپ سے نہی ملے گی۔. جواد چودھری غصہ کا بہت تیز تھا کچھ جو ندا نے کہانی سنائی اُس کے بعد جذباتی ہو گیا تھا۔
چچا کیا یہ سچ ہے؟ یہ عورت آپ کی بیوی تھی؟
جواد چودھریوں کے جانے کے بعد سب ایک دوسرے کی شکلوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔جب اس خاموشی کو ضرغام نے آگے بڑھتے توڑا۔
نبیل نے ایک نظر حمیرا کو دیکھا اور ساری حقیقت وہاں کھڑے لوگوں کو بتا دی۔
اس کا مطلب کہ وہ عورت آپ سے بدلہ لے رہی ہے۔کہ آپ نے اُسے کیوں طلاق دی؟
اور آپ نے بہت اچھا کیا جو اُس عورت کو طلاق دے دی ۔
ضرغام نے سنجیدگی سے کہا اسے اپنے چچا پر پورا بھروسہ تھا۔
لیکن جواد کیسے سارے رشتے ختم کر سکتا ہے؟
نبیل نے نازیہ کی وجہ سے پریشانی سے کہا۔
ہمیں بھی ضرورت نہیں ہے۔
وہ شخص صرف ندا پر یقین کرتا ہے اس لیے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اگر وہ ان سب میں نازیہ کو لائے تو پھر دیکھ لیں گئے کہ کیا کرنا ہے عاصم کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
حمیرا بھی غصے سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئ۔
نبیل نے اسے جاتے ہوئے دیکھ گہرا سانس لیا۔
اسے اب اپنی بیوی کو منانا تھا۔جو اس کے لیے مشکل ہونے والا تھا۔اسے لگا سارا معاملہ ختم ہو گیا ہے۔لیکن ایسا نہیں تھا۔
اس کے بعد دونوں خاندانوں نے ملنا جُلنا بند کر دیا۔
لیکن ندا اس پر بھی خوش نہیں ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
حال……
ی یہ تو ضرغام نہیں ہے۔ داؤد نے ہشام کی طرف دیکھتے حیران کن لہجے میں کہا۔. جو فوراً آگے بڑھا تھا۔
اور اُس آدمی کو دیکھا۔
جیسا ہشام نے ضرغام کے بارے میں سنا تھا اسے دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ یہ انسان ضرغام بدر خان ہو سکتا ہے۔
داؤد وہی زمین پر اپنا سر پکڑے بیٹھ گیا۔
درد کیا ہوتا ہے آج اس نے اچھے سے محسوس کر لیا تھااور خوشی کیا ہوتی اس کے معنی بھی آج اسے صحیح لفظوں میں سمجھ آئے تھے۔
داؤد……
ہشام نے اسے پکارا۔جس نے کھڑے ہوتے ا سکی طرف دیکھا۔
یہ لاش کسی اور آدمی کی تھی۔
اگر یہ ضرغام نہیں ہے تو ا سکا مطلب ہے کہ وہ زندہ ہو سکتا ہے اور اسی ہسپتال میں ہو گا۔
داؤد نے خوشی سے ہشام کے گلے لگتے کہا۔
اور فوراً باہر کی طرف بھاگا۔
وہ کتنا خوش تھا بتا نہیں سکتا تھا۔
ڈاکٹر وہ جس آدمی کی دیتھ ہوئی وہ میرا بھائی نہیں ہے۔
اس ہسپتال میں اُس آدمی کے ساتھ کسی دوسرے انسان کو بھی لایا گیا تھا؟ داؤد کو وہی ڈاکٹر نظر آیا تو اس کے پاس آتے بےتابی سے پوچھا۔
اوہ تو آپ دوسرے پیشنٹ کے بھائی ہیں۔ اُن کا آپریشن چل رہا ہے۔
اُن کی حالت بھی بہت خراب تھی۔
آپ دعا کریں اللہ بہتر کرے گا۔
ڈاکٹر نے داؤد کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
داؤد اور ہشام آپریشن ٹھیٹر کی طرف بڑھ گئے تھے۔اور دونوں باہر بےتابی سے چکر لگانے لگے۔
اس وقت ان کو تھوڑی بہت ہی سہی لیکن امید تو تھی۔
ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو گا اللہ پر بھروسہ رکھو ہشام نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
جس نے اپنے سر کو خم دیا تھا۔
وہ لاش اُس انسان کی تھی جس کی گاڑی ضرغام کی گاڑی سے ٹکرائی تھی۔
اور اُس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
ضرغام کو بھی شدید چوٹیں آئی تھیں اور اسے فوراً ہسپتال پہنچا گیا۔
لیکن جس آدمی نے ضرغام کا موبائل پکڑا اُسے لگا یہ موبائل اُس آدمی کا ہے جس کی موت ہو گئی۔
ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا۔
جسے دیکھتے داؤد کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں،
وہ کچھ بھی برا نہیں سننا چاہتا تھا۔
آپ پیشنٹ کے رشتے دار ہیں؟ ڈاکٹر نے داؤد اور ہشام کو دیکھتے پوچھا۔
جی ہم ہیں ہے اور اب ضرغام کیسا ہے؟ ہشام نے آگے آتے پوچھا۔
اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔
آپ کو اُس انسان کا شکر ادا کرنا چاہیے جو وقت ضائع کیے بنا اُن کو یہاں لے آیا ورنہ جتنا اُن کا خون بہہ چکا تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
ڈاکٹر نے دونوں کی طرف دیکھتے کہا۔
تھینک یو ڈاکٹر اُسے ہوش کب تک آئے گا؟ داؤد نے خوشی سے پوچھا۔
رات تک یا کل صبح تک اور آپ لوگوں سے مجھے پیشنٹ کے بارے میں ایک اور بات بھی کرنی تھی۔
پیشنٹ کو زہر دیا جا رہا تھا۔
یہ بچ اس لیے گئے شاید پیچھلے ایک ہفتے سے ان کو وہ زہر دیا نہیں گیا جس سے انسان تھوڑا تھوڑا مرنا شروع کر دیتا ہے۔
ہم نے علاج شروع لر دیا ہے۔
اللہ نے چاہا تو وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گئے۔
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا اور ایک دو اور ہدایات دینے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
اس انسان نے مجھے بہت تنگ کیا ہے ایک بار یہ جاگ جائے پھر اس سے سارے حساب لوں گا داؤد نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد اپنے چہرے ہر. ہاتھ پھیرتے دانت پیستے کہا۔
ہشام اد کی بات پر مسکرا پڑا۔
شٹ داؤد کو جب انوشے کا یاد آیا تو اس نے فوراً کہا۔
کیا ہوا؟ ہشام نے حیرانگی سے پوچھا۔
میں. نے انوشے کو بتا دیا تھا ناجانے وہ کیسی ہو گی مجھے اُسے کال کرنی ہے داؤد نے کہا اور اپنا موبائل نکالے انوشے کا نمبر ڈائل کرنے لگا،
جیسا ڈاکٹر نے کہا داؤد کو شک ضرور تھا کہ اسے زہر دیا جا رہا ہے اور اب جبکہ ضرغام صحیح سلامت تھا تو وہ خود سب سنبھال لے گا۔
بس داؤد کا کام اسے بتانا تھا،
