Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

صاحب مجھے معاف کر دیں مجھ سے غلطی ہو گئی۔
جمشید جو گاؤں سے بھاگنے کے چکر میں تھا لیکن اسے ضرغام کے آدمیوں نے دبوچ لیا اور اب ضرغام کے قدموں میں لاکر پھینکا تھا۔
جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔
معافی؟
یہ تو تمہیں غلطی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔
لیکن تم نے ضرغام بدر خان کو دھوکا دیا؟
اور میں اتنا بھی رحم دل نہیں ہوں کہ تمھاری غلطی معاف کر دوں آج اگر تمھاری غلطی معاف کر دی تو کل کو اور لوگ بھی بغاوت پر اتر آئے گئے۔
اس لیے معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سہی کہہ رہا ہوں نا؟ ضرغام نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پرسرار لہجے میں کہا۔
جمشید خوف کے مارے کپکپا رہا تھا۔
اس نے سن رکھا تھا کہ ضرغام بدر خان ایک ظالم انسان ہے لیکن اسے نہیں معلوم تھا وہی اس کا شکار بن جائے گا۔
صاحب مجھے معاف کر دیں میں لالچ میں اندھا ہو گیا تھا،
جمشید کے ضرغام کے سامنے ہاتھ جوڑتے روتے ہوئے کہا۔
تم ابھی لالچ میں اندھے ہوئے تھے نا اب تمہیں میں سچ میں اندھا کروں گا۔
ضرغام کا لہجہ پل بھر میں سرد ہوا۔
اد نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا۔
جو جلدی سے ایک تیز دھار چاقو لے آیا تھا۔
چاقو کو دیکھتے جمشید کی آنکھیں باہر کو آ گئی تھیں۔
نہیں صاحب مجھے چھوڑ دیں۔
میں اب سے ایسا کوئی کام نہیں کروں گا۔
جمشید نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
ضرغام اس کے پاس آیا اور بالوں سے دبوچتے قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا۔۔
کس نے تمہیں یہ کام کرنے کے پیسے دیے تھے؟
ز زہاب صاحب نے جمشید نے خوفزدہ مگر تکلیف دہ لہجے میں کہا۔اسے لگ رہا تھا جتنی زور سے ضرغام نے اس کے بالوں کو کھینچتا ہے بالوں کے ساتھ اس کی سکن بھی اتر جائے گی۔
پیسوں کی خاطر تم فراموش کر بیٹھے کہ ضرغام بدر آخر ہے کون؟؟
تو یہ تمھاری غلطی ہے۔
ضرغام نے کہتے ہی چاقو کی نوک سے جمشید کی گال پر گہرا کٹ لگایا۔
جس کی درد ناک چیخیں پورے اڈے میں گونجی تھیں۔
ضرغام نے ایسے ہی کٹ اس کے ہاتھوں پر بھی لگائے۔
تو کیا خیال ہے تمھاری گردن پر بھی ایسا ہی ایک گہرا کٹ لگایا جائے لیکن اُس کے بعد تمھارے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جائے گئے۔
ضرغام نے تکلیف سے کراہتے ہوئے جمشید کو دیکھتے بےرحمی سے کہا۔
لیکن لیکن تمہیں میں اتنی آسان موت تو دینا نہیں چاہتا تمہیں میں سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑوں گا۔
ضرغام نے جمشید کے بالوں کو چھوڑتے سرد لہجے میں کہا۔
لے جاؤ اسے اور پانی کا ایک قطرہ بھی اسے ملنا نہیں چاہیے۔
ضرغام نے اپنے آدمیوں کو حکم دیتے کہا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
اس کے آدمی جمشید کو وہاں سے لے گئے تھے۔
جو خون میں لت پت زمین پر پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
اقبال کہاں تھے آپ؟ کل سے آپ غائب ہیں اور آپ کا نمبر بھی مسلسل بند جا رہا تھا۔
اقبال جو ابھی حویلی میں داخل ہوا تھا نازیہ نے اسے دیکھتے ہی سوالوں کی برسات کر دی لیکن اس کی زبان کو بریک پیچھے کھڑی حبہ کو دیکھتے لگی جس نے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی بچی کو پکڑا تھا جو شاید سو رہی تھی۔
اقبال نے سوچ لیا تھا کہ مزید وہ حبہ اور اپنی بیٹی کو چھپا کر نہیں رکھے گا،
اس لیے اُسے حویلی لے آیا تھا۔
اس نے نکاح کیا تھا اور نکاح کرنا کوئی گناہ نہی ہے،
ایسا اقبال نے سوچا اور دونوں کو یہاں لے آیا۔
اقبال یہ لڑکی کون ہے؟
نازیہ نے اقبال کے پاس آتے حیرانگی سے پوچھا اس کی چھٹی حس جس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
اُس پر وہ یقین نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
یہ حبہ ہے۔
اقبال نے حبہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کرتے کہا۔
یہ میری بیوی ہے اور یہ میری بیٹی ہے۔اقبال نے سنجیدگی سے نازیہ کو دیکھتے اس کے سر پر بم پھوڑا۔
جس کی یہ سنتے ہی آنکھیں بےیقینی سے پھیل گئی تھیں۔
حبہ کھڑی نازیہ کو دیکھ رہی تھی۔
آ آپ مزاح کر رہے ہیں نا؟ میں جانتی ہوں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔
نازیہ نے اقبال کے بازوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلاتے پوچھا۔
یہ سچ ہے حبہ میری بیوی ہے۔
بہت پہلے میں اس سے نکاح کر چکا تھا،
اور آج سے یہ بھی اسی حویلی میں رہے گی۔
اقبال نے نازیہ کو دیکھتے کہا۔
اتنے میں داؤد جو اپنے کمرے سے باہر آیا تھا۔
سامنے کا منظر دیکھ کر وہی رک گیا۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے دھوکا دینے کی؟ میرے ہوتے ہوئے آپ دوسری شادی کیسے کر سکتے ہیں؟
نازیہ نے غصے سے چیختے ہوئے اقبال کا گریبان پکڑتے پوچھا،
میں نے تمہیں کوئی دھوکا نہیں دیا۔
مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اگر میں نے نکاح کیا بھی ہے تو کوئی گناہ نہیں کیا۔
اور تمہیں میں چھوڑ نہیں رہا جو تم اتنا تماشہ لگا رہی ہو۔
اقبال نے نازیہ کے دونوں ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے جبڑے بھیجنے کہا۔
آپ کو کیا لگتا ہے جو آپ نے میرے ساتھ کیا اُس کے بعد خوشی خوشی میں آپ کے ساتھ رہو گی؟
ہرگز نہیں میں آج ہی اپنی امی کی طرف جا رہی ہوں۔
مجھے آپ جیسے دھوکے باز انسان کے ساتھ نہیں رہنا۔
نازیہ نے سرخ آنکھوں سے اقبال اور حبہ کو دیکھتے غصے سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی اقبال نے داؤد کی طرف دیکھا۔
شاید تم بھول رہے ہو کہ نکاح نامے پر نازیہ کے گھر والوں نے کچھ شرائط لکھی تھی۔اور تم نے کہا تھا مجھے منظور ہے۔اور اُس میں صاف لکھا تھا کہ نازیہ کے ہوتے ہوئے تم دوسری شادی نہیں کر سکتے۔
لیکن تم نے ہر ایک چیز کو اگنور کیا اور اب نتائج کے لیے بھی تیار رہنا۔
داؤد نے جانے سے پہلے اقبال کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
حبہ نے پریشانی سے اقبال کے چہرے کی طرف دیکھا۔
تم پریشان مت ہو میں سب سنبھال لوں گا۔
چلو میرے ساتھ اقبال نے نرم لہجے میں کہا اور حبہ کو لیے وہاں سے چلا گیا۔
ابھی تو جواد چوھدری حویلی میں نہیں تھا، ناجانے وہ آکر کیا کہتا۔
💜 💜 💜 💜
شکر ہے میرا بچہ ٹھیک ہو گیا۔
میں تمھاری وجہ سے کتنی پریشان ہو گئی تھی۔
حمیرا نے عرفان کے ماتھے کو چومتے ہوئے خوشی سے کہا۔
موم میں نے سنا کہ ضرغام نے آپ کو معافی مانگنے کا کہا۔
کیا آپ نے انوشے سے معافی مانگی؟
عرفان نے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا۔
انعم بھی وہی کھڑی تھی۔
حمیرا کا مسکراتا چہرہ سیریس ہوا تھا۔
اُس منحوس کا نام لینا ضرور تھا۔
میں نے اُس سے معافی نہیں مانگی نا مجھے ضرورت ہے۔
حمیرا نے نحوست سے کہا۔
موم اُس نے خود منع کر دیا ورنہ ہم دونوں کو اُس سے معافی مانگنی پڑتی۔
انعم نے منہ بسوڑتے کہا۔
تم اپنا منہ بند کرو۔
اور جاؤ بھائی کے لیے جوس لے کر آؤ کتنی گرمی پڑ رہی ہے۔
حمیرا نے گھورتے ہوئے کہا تو انعم بھی عرفان کو گھوری سے نوازتے وہاں سے چلی گئی۔
تم زیادہ مت سوچو بس آرام کرو،
حمیرا نے پیار سے کہا۔
لیکن عرفان کسی سوچ میں غرق ہو گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
انوشے آج اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔ابھی وہ واشروم سے باہر نکلی۔اور کمرے میں نظر دوہرائی۔
ضرغام دوبارہ اس کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔
جب اسے اپنے کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا۔
انوشے نے ارد گرد دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا پھر اسے کھڑکی کے پاس ایک عکس نظر آیا۔
انوشے اُس عکس کو دیکھتے خوفزدہ ہوئی۔
اس سے پہلے وہ خوف سے چیختی۔
زہاب چہرے پر مسکراہٹ لیے انوشے کے سامنے آیا۔
آ آپ؟ یہاں؟ انوشے کی زبان سے زہاب کو دیکھتے یہی نکلا تھا۔
ہاں میں ۔تم ٹھیک ہو ؟زہاب نے نرم لہجے میں پوچھا۔
آپ میرے کمرے میں کیسے آئے؟
انوشے نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
یہاں کھڑکی سے اور تمھارے کمرے میں آنا میرے لیے مشکل کام نہیں تھا۔
زہاب نے گہری نظروں سے انوشے کو دیکھتے کہا۔
لیکن حویلی میں اور بھی کمرے ہیں آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں اسی کمرے میں ہوں ؟انوشے نے تھوڑا اٹکتے ہوئے پوچھا۔
زہاب اس کی ذہانت پر مسکرا پڑا تھا۔
تم تو میری سوچ سے زیادہ سمجھدار ہو گئی ہو۔لیکن پہلے بھی اور اب بھی مجھے تم ہر حال میں قبول ہو۔
میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو میرے ساتھ
تمہیں میں یہاں کسی اور کی سزا بھگتنے نہیں دے سکتا۔
زہاب نے تھوڑا انوشے کے قریب آتے کہا جس نے بےساختہ اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے تھے۔
زہاب نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔جو انوشے نے اس سے پوچھا تھا۔
میرا نکاح ضرغام سے ہو چکا ہے۔
انوشے نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے کہا۔
میں اس نکاح کو نہیں مانتا کیا تم اس نکاح کو مانتی ہو؟
تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں پھر بھی تم یہ جواز دے رہی ہو؟ کیا پوری زندگی تم ضرغام کے رحم و کرم پر گزارنا چاہتی ہو؟ اُس کا ظلم برداشت کرنا چاہتی ہو؟
میں تمہیں یہاں سے دور لے جاؤں گا،
جہاں تمھارے اور میرے علاوہ کوئی نہیں ہو گا۔
زہاب نے اسے سمجھانا چاہا اور ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن انوشے نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
زہاب نے بھی نوٹ کیا۔
اس سے پہلے انوشے کوئی جواب دیتی اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔
انوشے نے خوفزدہ نظروں سے زہاب کی طرف دیکھا جو ابھی بھی مطمئن کھڑا تھا۔
آپ یہاں سے جائیں اگر ضرغام نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔
پلیز یہاں سے جاؤ۔
انوشے نے پریشانی سے زہاب کو دیکھتے کہا۔
تمہیں لیے میں یہاں سے کہی نہی جاؤں گا چلو میرے ساتھ زہاب نے ضدی لہجے میں کہا۔
آپ پلیز یہاں سے چلے جائیں انوشے نے بھاری لہجے میں کہا۔
کیونکہ آگے کا سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی۔۔
زہاب کو اس کی حالت پر ترس آگیا۔
ٹھیک ہے اس بار میں جا رہا ہوں لیکن اگلی بار تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا۔
زہاب نے سنجیدگی سے انوشے کو دیکھتے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی کھڑکی سے کود کر باہر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی انوشے نے سکون کا سانس لیا اور دروازہ کھولا۔
جہاں سامنے ضرغام ماتھے پر تیوری لیے کھڑا تھا،
دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی؟
ضرغام نے جانچتی ہوئی نظروں سے انوشے کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
جو گھبرائی ہوئی کھڑی تھی۔
وہ میں واشروم میں تھی۔
انوشے نے جلدی سے کہا۔
تم جھوٹ بول رہی ہو…..
ضرغام نے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
ن نہیں تو میں جھوٹ نہیں بول رہی۔
انوشے نے نفی میں سر ہلاتے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
اگر تم سچ بول رہی ہو تو تمھاری زبان کیوں لڑکھڑا رہی ہے؟
ضرغام نے کھڑکی کے پاس آتے باہر دیکھتے پوچھا۔
جہاں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا،
انوشے….. ضرغام نے مڑتے انوشے کے پاس آتے اس کا نام پکارا۔
انوشے پریشانی سے اپنے ہاتھوں آپس میں بھینچے کھڑی تھی۔
ضرغام انوشے کے بےحد قریب آیا اور اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کے چہرے کو خود کے قریب کیا۔
یہ مت سمجھنا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے
ضرغام بدر خان سب کچھ جانتا ہے اور اگر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی خاموش ہے سمجھ جاؤ یہ طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی ہے۔
ضرغام نے انوشے کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
لیکن انوشے نے محسوس کیا تھا اس بار ضرغام کی گرفت ہلکی تھی اور لہجہ بھی نارمل تھا۔
وہ کیوں تھا یہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
سمجھ گئی؟
ضرغام نے ایک آبرو اچکاتے پوچھا۔
انوشے نے جلدی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ضرغام نے اس کی گردن طسے ہاتھ نکالا اور رینگتا ہوا اس کے ہونٹوں تک آیا اور انوشے کے ہونٹ تلے تل کو انگوٹھے سے سہلایا۔
انوشے کا سانس اٹکا تھا۔
میری نظر اب سے ہمیشہ تم پر ہی رہے گی اس لیے سنبھل کر رہنا۔
ضرغام نے گہرے لہجے میں کہا اور پھر انوشے کو چھوڑے کمرے سے نکل گیا۔
انوشے نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود کو کمپوز کیا۔
ناجانے آج ضرغام کو کیا ہو گیا تھا۔
انوشے چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اور کونے میں بیٹھ کر فلحال زہاب کے بارے میں سوچنے لگی۔
اس کا دل کیوں نہیں مان رہا تھا کہ وہ زہاب کی بات مانے۔
کیا کرو میں انوشے نے دل میں سوچا۔
زہاب کے آنے کے بعد وہ پریشان ہو گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
سر یہ وہی لڑکی کی تصویر ہے جو اُس کلینک میں کام کرتی تھی،
جب آپ نے اُس کلینک کے بارے میں معلوم کرنے کا کہا تو اس لڑکی کی تصویر ہمیں باُس ڈاکٹر سے ملی۔
اور کلینک سے صرف ایک لاش ملی تھی۔
پھر ہم نے اس لڑکی کو تلاش کیا جسے ڈھونڈنے میں ہمیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔
ہم نے پہلے گاؤں کے آس پاس کے کلینک میں معلوم کیا اور وہ لڑکی ہمیں مل گئی جو دوسرے گاؤں کے ایک چھوٹے سے کلینک میں کام کر رہی تھی۔
داؤد کے آدمی نے تفصیل سے اسے بتاتے ہوئے کہا۔
اس لڑکی کو میرے پاس لے کر آؤ۔
داؤد نے سرد لہجے میں اپنے آدمی کو کہا اور ہاتھ میں پکڑی تصاویر غصے سے دیکھا،