Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

بڑی خانم پہلے انوشے کا کمرے میں انتظار کرتی رہی جب وہ واپس نہیں کمرے آئی تو خود اُٹھ کر اُس کے کمرے میں آئی اور انوشے کو زمین پر بےہوش پڑے دیکھ انہوں نے جلدی سے پریشانی سے ملازمہ کو آواز دی۔
انوشے میری بچی کیا ہو تمہیں ؟
بڑی خانم نے اسکے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے بےتابی سے پوچھا۔
اتنے میں ملازمہ وہاں آگئی جسے خانم نے ڈاکٹر کو لانے کا کہا۔
ملازمہ ڈاکٹر کو فون کرکے واپس کمرے میں آئی اور دوسری ملازمہ کے ساتھ مل کر انوشے کو بیڈ پر لیٹایا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے آکر چیک کیا اور خانم کو بتایا کہ ٹینشن کی بات نہیں ہے۔
شوکڈ کی وجہ سے وہ بےہوش ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد ان کو ہوش آجائے گا۔
ڈاکٹر نے کہا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
خانم چہرے پر حیرانگی لیے چلتی ہوئی انوشے کے پاس آکر بیٹھی۔
تم تو ضرغام کو کال کرنے آئی تھی۔
تو تمہیں شوکڈ کس بات کا لگا؟
ضرغام؟ کیا وہ ٹھیک ہے؟ بڑی خانم نے انوشے کو دیکھتے پریشانی سے کہا۔
ابھی وہ بیٹھی یہی سوچ رہی تھیں جب انوشے نے تھوڑا کسمکانے کے بعد آنکھیں کھولی۔
اور پاس بیٹھی بڑی خانم کو دیکھتے فوراً اُٹھ کر بیٹھی ان کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
انوشے کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ اب تو میرا دل بھی بیٹھا جا رہا ہے۔خانم نے پریشانی سے انوشے کے سر پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔
خانم….. انوشے نے ہچکی لیتے کہا۔
ہاں کیا ہوا؟ تم ضرغام کو کال کرنے آئے تھی نا؟ کیا ہوا؟ اُس سے بات ہوئی؟
خانم نے بےتابی سے پوچھا۔
انوشے نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
تو پھر؟ کیا ہوا؟ تم بےہوش کیوں ہو گئی؟ خانم نے پوچھا۔
ضرغام کا نمبر بند جا رہا تھا۔
تو میں نے چاچو کو کال کی۔
انوشے نے سرخ آنکھوں سے بڑی خانم کو دیکھتے اٹکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
اچھا پھر؟ بڑی خانم نے پوچھا۔
انوشے کو سمجھ نہیں آئی وہ کس طرح بڑی خانم کو بتائے وہ بس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔
انوشے اب تم مجھے پریشان کر رہی ہو بیٹا بتاؤ کیا ہوا؟ خانم نے بےچینی سے پوچھا۔. انوشے کی باتوں سے لگ رہا تھا ضرور کچھ نا کچھ برا ہوا ہے اس سے پہلے انوشے کچھ کہتی اس کا موبائل رنگ ہوا۔جو سائیڈ ٹیبل پر پڑا تھا۔
بڑی جانم نے موبائل پکڑا جس پر چاچو لکھا آ رہا تھا۔
تمھارے چاچو کی کال ہے۔
بڑی خانم نے کہا تو انوشے نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔
انوشے تم ٹھیک ہو ؟داؤد نے جلدی سے پوچھا۔
چاچو وہ ضرغام؟ انوشے کہتے پھر سے رونے لگی تھی۔
وہ ٹھیک ہے۔
انوشے ہمیں غلط فہمی ہوئی تھی وہ ٹھیک ہے۔
داؤد نے بتایا تو انوشے کو لگا کسی نے اس کے مردہ جسم میں جان ڈال دی ہو۔
آ آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ انوشے نے لہجے میں بےیقینی لیے پوچھا۔
میں سچ کہہ رہا ہوں۔لیکن اُس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور اب وہ خطرے سے باہر ہے۔
کس ہسپتال میں ہیں؟
انوشے نے بےچینی سے پوچھا تو داؤد نے اسے ہسپتال کا بتاتے کال بند کر دی۔
انوشے کیا ہوا؟
خانم جو انوشے کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھیں انہوں نے پوچھا۔
تو انوشے نے پہلے والی بات نہیں بتائی بس یہی بتایا کہ ضرغام کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا لیکن اب وہ ٹھیک ہے اور ہمیں ہسپتال جانا ہے وہ پہلے والی بات بتانا نہیں چاہتی تھی۔
ہمیں ہسپتال جانا چاہیے تم جلدی سے آجاؤ ناجانے میرا بچہ کس حالت میں ہو گا۔
بڑی جانم نے پریشانی سے کھڑے ہوتے کہا۔
اور کمرے سے باہر چلی گئی۔اُن کو لگا شاید انوشے اسی خبر کو سننے کے بعد بےہوش ہو گئی ہو گی۔
انوشے ابھی بھی وہی بیٹھی تھی۔
وہ اللہ کا جتنا شکر ادا کرتی اتنا ہی کم تھا۔
اسے لگا کسی نے اس کی زندگی اسے واپس لوٹا دی ہو۔
اس لیے اپنی جگہ سے اٹھتے چادر لیے وہ بھی باہر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
کچھ سال پہلے…..
داؤد جب واپس آیا تو جو کچھ اُسے سننے کو ملا اسے تو یقین نہیں آیا۔
لیکن وہ ان معاملات میں پڑنا نہیں چاہتا تھا اور ناجانے کیوں ندا پر اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہ پہلی ایک دو بار ضرغام سے مل چکا تھا۔
اسے وہ اچھا بھی لگا تھا۔لیکن اس کے بعد اتفاقاً دونوں کی جب ملاقات ہوئی تو بدقسمتی سے وہ اچھی نہیں تھی۔
جس میں دونوں کا فضول کا جھگڑا ہوا۔
بات کوئی نہیں تھی۔
لیکن دونوں اپنی فیملی کے بارے میں برا نہیں سن سکتے تھے اس لیے لڑ پڑے۔
نازیہ اقبال کے کہنے پر دوبارہ اپنے ماں باپ سے ملنے نہیں گئی۔
بڑی مشکل سے نبیل نے حمیرا کو منا لیا تھا۔
لیکن ندا کو شاید ابھی بھی سکون نہیں ملا تھا۔
وہ ہر وقت اپنے بیٹے کے سامنے دکھی رہتی جسے پہلے ہی نبیل اور عاصم پر غصہ تھا۔
پھر ندا کے بیٹے نے غلط راستے کا انتخاب کیا اور غلط لوگ کے ہاتھ چڑھ گیا.
لیکن اس نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ نبیل اور عاصم کا پراپر پلاننگ کے ساتھ ایکسیڈنٹ کروا دیا۔
جو شہر جا رہے تھے لیکن ساتھ ضرغام کی ماں بھی تھی۔
تینوں کی موت کی وجہ سے حویلی میں سناٹا چھا گیا۔
بڑی خانم جو دوسرے شہر رہتی تھیں۔
اپنے شوہر کی دیتھ کے بعد وہ اکیلا رہنا پسند کرتی تھیں۔
اپنے دو بیٹے اور بہو کی موت کے بعد واپس حویلی آگئی۔
اُس وقت نازیہ اپنے باپ کی دیتھ پر حویلی آئی۔
سب کو لگا کہ یہ ایک حادثہ ہے۔لیکن یہ حادثہ نہیں تھا۔
ضرغام نے اپنے باپ کی جگہ کو سنبھال لیا۔
اور وقت گزرتا گیا۔
اور ندا اس کی موت کی خبر سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔
لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ہر گناہ کی سزا انسان کو ملتی ہے اور وہ تو بہت سے گناہ کر چکی تھی۔
لیکن ابھی لاپرواہ تھی بہت جلد اسے اپنے کیے کی سزا ملنے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
حال…..
ہشام نے اپنا موبائل آون کیا جو زمین پر گرنے کی وجہ سے بند آف ہو گیا تھا۔
اس کا گلاس ٹوٹ گیا تھا لیکن پھر بھی اون ہو گیا۔
ٹھیک سے اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اپنے پرسنل گارڈ کا نام اسے نظر آگیا جس کی شاید کافی کالز آئی ہوئی تھیں۔
داؤد میں تمھارا موبائل یوز کر سکتا ہوں؟ ہشام نے داؤد کے پاس آتے پوچھا۔
ہاں کیوں نہیں داؤد نے کہتے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔
ہشام کو اس گارڈ کا نمبر یاد تھا۔
اس نے اُسے پہلے میسج کیا پھر کال کی۔
جس نے میسج پڑھنے کے بعد پہلی ہی بیل پر کال اٹینڈ کر لی تھی۔
کیا ہوا؟ تمھاری کافی کالز آئی تھیں۔
گھر میں سب ٹھیک ہے؟ ہشام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
سر زمل میڈم گھر بسے جا چکی ہیں۔
اُن کہا کہنا تھا کہ اُن کو ایمرجنسی میں ہسپتال جانا ہے اُن کی دوست وہاں پر ہے۔
میں نے آپ کا نمبر ڈائل کیا لیکن وہ بند جا رہا تھا۔انہوں نے کہا وہ آپ سے بات کر چکی ہیں،
اس لیے وہ چلی گئی کہہ رہی تھیں اگر ان کو جانے نہیں دیا تو اُن کی دوست کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
گارڈ نے تفصیل سے بتاتے کہا۔
ہشام جبڑے بھینچے بات سن رہا تھا۔
اُسے گھر سے نکلے کتنا وقت ہوا ہے؟ ہشام نے کرختگی سے پوچھا۔
سر اُن کو پندرہ ہو چکے ہیں۔
گارڈ نے بتایا۔
کچھ گارڈ کو اُس کے پیچھے بھیجو اور اُسے اگر کچھ کچھ ہوا تو تم لوگوں کی خیر نہیں ہشام نے کہتے ہی کال کاٹ دی۔
زمل تم نے بہت بڑی غلطی کر دی اگر تمھارے ساتھ کچھ بھی برا ہوا تو سب سے پہلے میں اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دباؤں گا۔
ہشام نے غصے سے کہا۔
اور مڑتے ہوئے موبائل کو داؤد کی طرف بڑھاتے کہا۔
داؤد مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔
تم یہاں سب سنبھال لو گئے؟ ہشام نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ہاں تم جا سکتے ہو۔
اور سب خیریت ہے نا؟ داؤد نے موبائل پکڑتے پوچھا۔
ہاں سب ٹھیک ہے۔
ہشام نے کہا پھر وہاں سے نکل گیا۔
ارحہ سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تو زمل اکیلی بیٹھی تھی جب اس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔اور کوشش کرنے میں کیا برائی تھی اس لیے وہ گیٹ کے پاس گئی جہاں گارڈ کھڑے تھے۔
زمل نے اپنی دوست کی کہانی بنا کر گارڈ کو. سنائی کہ وہ ہسپتال میں ہے اور اس کا جانا ضروری ہے۔
گارڈ پہلے تو انکار کرتے رہے لیکن زمل نے بھی ہمت نہیں ہاری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے کہا کہ اپنے سر سے پوچھ لو میری اُن سے بھی بات ہو چکی ہے۔
جبکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر گارڈ نے ہشام کو کال کی تو وہ پکڑی جائے گی۔پھر بھی پر اعتماد کھڑی تھی۔
اور گارڈ نے اسے دیکھتے ہشام کا نمبر ڈائل کرتے موبائل کان سے لگایا۔
زمل سانس روکے کھڑی تھی۔
لیکن شاید زمل کی قسمت اچھی تھی کہ ہشام کا نمبر بند جا رہا تھا۔
سر کا نمبر بند جا رہا ہے۔گارڈ نے اسے بتایا تو زمل نے اپنا روکا ہوا سانس بحال کیا۔
دیکھو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔
اس لیے میں جا رہی ہوں۔
زمل نے کہتے ہی گیٹ کو عبور کیا۔
اسے لگا وہ اسے روکے گا لیکن جتنا یقین زمل اسے دلا چکی تھی اُس کے بعد گارڈ بھی کنفیوز ہو گیا۔
اس لیے اسے جانے دیا۔
زمل کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔
اور وہاں سے بھاگ گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
خانم اور انوشے ہسپتال پہنچی تع داؤد ان کو نظر آگیا تھا۔
چاچو ضرغام کیسے ہیں؟ انوشے نے بےتابی سے پوچھا۔
وہ ابھی بےہوش ہے لیکن خطرے دے باہر ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کل تک اُسے ہوش آجائے گا۔
داؤد نے بڑ خانم کے سامنے جھکتے ہوئے کہا جنہوں نے اس کے سر پر پیار دیا تھا۔
اللہ کا شکر ہے کہ میرا بچہ ٹھیک ہے۔
لیکن وہ تو بہت احتیاط سے گاڑی چلاتا ہے۔ایکسیڈنٹ کیسے ہو گیا۔
خانم نے حیرانگی سے پوچھا۔
خانم ضرغام کو زہر دیا جا رہا تھا۔اور یہ سب اُسی کی وجہ سے ہوا۔گاڑی چلاتے ہوئے وہ بےہوش ہو گیا۔
داؤد نے سنجیدگی سے بتایا۔
خانم نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
حمیرا نے اچھا نہیں کیا اس کی وجہ سے میرے بچے کی جان جا سکتی تھی۔
خانم جے غصے سے کہا اور داؤد سمجھ گیا تھا کہ یہ کس کا کام یے لیکن پھر بھی خاموش رہا۔
چاچو کیا میں ضرغام سے مل سکتی ہوں؟
انوشے نے بےتابی سے پوچھا۔
بلکل وہ سامنے والے کمرے میں ہے۔
لیکن ایک وقت میں ایک فرد کو اجازت ہے۔
داؤد نے کہا تو انوشے نے بڑی خانم کی طرف دیکھا۔
تم. پہلے مل آؤ میں بعد میں اپنے بچے سے مل لوں گی خانم نے کہا تو انوشے اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلی گئی۔
انوشے نے کانپتے ہاتھوں سے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے ہی ضرغام سفید پٹیوں میں جگڑا لیتا ہوا تھا۔
سر پر. سفید پٹی بندھی تھی۔
دائیں گال پر بھی زخم تھا۔
کچھ ایسے زخم اس کے ہاتھوں اور گردن پر بھی تھے۔
انوشے کو رونا آیا تھا اس نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ضرغام کو اس حالت میں دیکھے گی۔
آہستہ سے اپنے قدم آگے بڑھاتے وہ. مزید ضرغام کے قریب آئی۔
اور اس کے مضبوط ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
آپ کو اس حالت میں دیکھنا ناجانے میرے لیے اتنا تکلیف دہ کیوں ہیں۔
میں تو آپ سے علیحدہ ہونا چاہتی تھی ۔
پھر مجھے آپ تکلیف سے فرق کیوں پڑ رہا ہے؟ انوشے نے بھاری لہجے میں ضرغام کی بند آنکھوں کو دیکھتے کہا۔
آنسو ابھی بھی لگاتار بہہ رہے تھے۔
آپ بہت برے ہیں کیوں اپنا خیال نہیں رکھتے؟ انوشے نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا۔
آپ نے میری میرا مطلب ہے ہم سب کی جان نکال دی تھی۔
انوشے نے جلدی سے اپنے جملے کی درست کرتے کہا جیسے ضرغام سن رہا ہو۔
اب میں چلتی ہوں بڑی خانم نے بھی آپ سے ملنا ہے۔. انوشے نے کہا اور آگے کو جھک کر ضرغام کے ماتھے پر بندھی سفید پٹی پر لب رکھ دیے۔
آج پہلی بار اس نے خود ضرغام کی طرف اپنے قدم بڑھائے تھے وہ اس کا شوہر تھا اسے افسوس نہیں تھا۔
انوشے جب پیچھے ہوئی تو ضرغام کی کھلی آنکھیں دیکھ اس کی اپنی حیرانگی سے آنکھیں پھیل گئی۔