No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
ہشام زمل کو واپس اُسی فلیٹ میں لے آیا تھا۔
واپسی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
دونوں نے کوئی بات نہیں کی۔
ہشام کے دماغ میں زمل کی باتیں چل رہی تھیں۔
زمل کچن میں گئی اسے بھوک لگی تھی۔ارد گرد دیکھا لیکن کچھ نظر نہیں آیا لیکن اسے تو کچھ بنانا بھی نہیں آتا تھا۔
اور ہشام کو وہ کہنا نہیں چاہتی تھی۔
اُس سے تو وہ سخت والی ناراض تھی۔
زمل نے فریزر کو کھولا تو اندر
ساری چیزیں موجود تھیں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اسے بنانا کچھ بھی نہیں آتا تھا۔
زمل نے فریزر سے کچھ سبزیاں نکالی اور ان کو ٹیبل پر رکھتے کاٹنے کی کوشش کرنے لگی۔
لیکن زمل میڈم نے تو کبھی سبزی کاٹی نہیں تھے۔
میں کیا بناؤں؟
بنانا تو مجھے کچھ آتا نہیں ہے اور میں نے سبزی کیوں نکالی؟
انسان مارکیٹ لے کر گیا تو کھانا ہی کھلا دے لیکن نہیں کھڑوس انسان کو سوائے غصے کے کچھ اور تو آتا ہی نہیں ہے۔
زمل نے غصے سے کہا اور ہاتھ میں پکڑے چاقو کو زور سے پیار پر مار۔
لیکن وہ اس کی انگلی پر لگ گیا اور وہاں سے خون نکلنے لگا۔
آہ….. زمل کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی ہشام جو اپنے ماتھے کو دباتے وہی بیٹھا تھا زمل کی چیخ سنے جلدی سے کچن کی طرف بھاگا۔
زمل اپنی انگلی پکڑے بھیگی آنکھوں سے خون کو نکلتے دیکھ رہی تھی۔
زمل کیا ہوا تمہیں؟
تم ٹھیک ہو ؟
ہشام نے لہجے میں بےتابی لیے فوراً اس کے پاس آتے فکرمندی سے پوچھا۔
جب اس کی نظر زمل کی انگلی پر پڑی۔
تمھارا دھیان کہاں تھا؟ دیکھ کر کام نہیں کر سکتی تم؟ دیکھو کیا کر دیا تم نے ۔
خون نکل رہا ہے۔
ہشام نے پریشانی سے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
زمل سو سو کرتی ہشام کے پریشان چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
مجھے چوٹ لگی ہے اور آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔
زمل نے روتے ہوئے ہشام ہو دیکھتے کہا۔
جس نے نظریں اٹھائے زمل کی طرف دیکھا۔
ہشام کی نظریں اس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے اس کے سرخ ہونٹوں پر آکر ٹھہر گئی۔
میرے ساتھ چلو.
ہشام نے نظریں چراتے کہا اور اسے کچن سے لیے چلا گیا روم میں جاتے ہی اس نے زمل کی انگلی پر بینڈیج لگائے اس کے سامنے بیٹھا۔
ابھی تک زمل کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہی تھا جو سر جھکائے بیٹھی سو سو کر رہی تھی۔
تمہیں کھانا بنانا آتا ہے؟
ہشام نے نرم لہجے میں زمل کو دیکھتے پوچھا جس نے نفی میں سر ہلایا۔
تو پھر کچن میں کیا لینے گئی تھی؟ ہشام کے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
ڈانس کرنے گئی تھی میں وہاں
زمل نے غصے سے کھڑے ہوتے اپنا ہاتھ جھٹکتے کہا۔
آپ مجھے مارکیٹ لے کر گئے تو یہ آپ کا کام تھا کہ مجھے کسی ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے کر جاتے اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں مجھے کھانا بنانا نہیں آتا تو میرے کھانے کا انتظام آپ نے کیوں نہیں کیا۔
میں آپ کی بیوی ہوں اور یہ آپ کا فرض ہے۔
زمل نے غصے سے ہشام کو دیکھتے کہا۔
جس کے چہرے پر حیرانگی کے ساتھ مسکراہٹ بھی آ گئی تھی۔
ہشام اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اور زمل کو کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا۔
ریلیکس زمل
ہشام نے اس کے سر کو ہولے سے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
میں جانتا ہوں کہ تم میری بیوی ہو اور یہ میرا فرض ہے۔
سوری مجھے اس بات کا خیال نہیں رہا۔
میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو بنا کر لاتا ہوں۔
ہشام نے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
وہ آپ کھانا بنائے گئے؟
زمل نے اپنے گردن پر محسوس کرتی ہشام کی گرم سانسوں سے گھبرا کر پیچھے ہوتے پوچھا۔
ظاہر سی بات ہے جب بیوی کو کھانا بنانا نہیں آتا تو شوہر کو ہی بنانا پڑے گا۔
ہشام نے کندھے اچکاتے کہا،
میں کھانا بنانا سیکھ لوں گی۔
زمل نے شرمندہ لہجے میں کہا۔
ہشام اس کا سرخ چہرہ دیکھ مسکرا پڑا۔
اور اس کے قریب آتے ہاتھ آگے بڑھاتے اسے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔.اور اپنی گہری آنکھیں اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں میں ڈالی۔
زمل کا دل ناجانے کیوں اتنے زور سے دھڑک رہا تھا۔
ہشام تھوڑا سا زمل کے چہرے پر جھکا اور اس کے ہونٹوں کی نرمی کو محسوس کرنے لگا۔
زمل کی آنکھیں حیرانگی سے پھیل گئی تھیں۔
اسے امید نہیں تھی کہ وہ ایسی کوئی حرکت کرے گا۔
کچھ دیر بعد ہشام پیچھے ہوا۔
اور زمل کے سرخ پڑتے چہرے ہو دیکھتے مسکرا پڑا۔جو اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
تم یہی بیٹھو میں تمھارے لیے کھانا بنا کر لاتا ہوں۔
ہشام نے اس کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
زمل ہونق بنی ہشام کو جاتے دیکھا۔
ابھی تک وہ بت بنی کھڑی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
بڑی خانم ارحہ سے ملنے کے بعد واپس حویلی آگئی تھی اور ان کے ساتھ انوشے بھی تھی جس نے کچھ ضروری سامان حویلی سے لینا تھا۔
ضرغام سو رہا تھا۔
کیونکہ اس کی دوائی میں نیند کی گولی شامل تھی۔
اس لیے انوشے نے اس کی نیند میں خلل ڈالنا بہتر نہیں سمجھا اس لیے بڑی خانم کے ساتھ حویلی چلی گئی۔
ارحہ کو لیے داؤد پہلے ہی جا چکا تھا۔اور اج ارحہ بہت خوش تھی۔
لیکن انوشے نہیں جانتی تھی کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکی ہے۔
سر جس لڑکی کی آپ کو تلاش ہے،
وہ ہشام کے ساتھ ہے اور اُس کے ساتھ ہوتے ہوئے ہمارا اُس لڑکی تک پہنچنا نا ممکن ہے۔
آدمی نے زہاب کو دیکھتے کہا۔
ہشام کو میں بعد میں دیکھ لوں گا۔
ابھی میرے لیے ضروری انوشے ہے۔
وہ خانم کے ساتھ حویلی آئی ہے اب میرا کام آسان ہو جائے گا۔
سب سے پہلے میں اُسے اپنا بناؤں گا۔
پھر میں اُس ضرغام کو درد ناک موت دوں گا۔
زہاب نے کھڑے ہوتے سرد لہجے میں کہا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
انوشے بڑی خانم کے ساتھ حویلی پہنچی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اسے جو چیزیں چاہیے تھی وہ اس نے لی اور خانم کو بتانے کے بعد حویلی سے نکلی۔
وہ ڈرائیور کے ساتھ نکلی تھی۔
جب آدھے راستے گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔
انوشے جو باہر دیکھ رہی تھی گاڑی رکنے پر چونکی۔
کیا ہوا؟ انوشے نے پوچھا۔
بی بی جی سامنے کچھ گاڑیاں راستہ روکے کھڑی ہیں۔
ڈرائیور نے کہا۔
تو انوشے نے دیکھا سامنے زہاب کھڑا تھا۔
ارحہ کے ساتھ زہاب نے کیا کیا وہ اسے معلوم نہیں تھا۔
زہاب….. انانوشے نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولے باہر نکلی۔
زہاب نے انوشے کو دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے گلاسز اتاری اور چلتا ہوا۔
انوشے کے پاس آیا۔
پیچھے کھڑے آدمیوں کو دیکھ انوشے پریشان ہوئی تھی۔
کتنے دنوں بعد میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔
زہاب نے نرم لہجے میں انوشے کو دیکھتے کہا۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
انوشے نے اس کی بات کو اگنور کیے پوچھا۔
تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں.
یاد یے نا تمھاری منگنی مجھ سے ہوئی تھی۔
زہاب نے انوشے کے تاثرات دیکھتے اسے بتایا جس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے۔
زہاب میری اب شادی ہو چکی ہے اور میں خوش ہوں۔
آپ پلیز اب اس سے پہلے انوشے کچھ کہتی زہاب نے غصے سے اسے بازو سے کھینچے خود کے قریب کیا۔
تم صرف میری ہو۔
سمجھی تم کیسے اس نکاح کو قبول کر سکتی ہو؟
زہاب نے غصے سے انوشے کو دیکھتے کہا۔
جو ایک دم گھبرا گئی تھی۔
زہاب کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے۔
انوشے نے خود کو آذاد کروانے کی ناکام کوشش کرتے کہا۔
اور تم جاکر ضرغام کو بتا دینا زہاب اپنی محبت کو تم سے بہت دور لے گیا ہے۔
زہاب نے کہا اور انوشے کو کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
ڈرائیور نے زہاب کے آدمیوں کو دیکھا اور گاڑی سے باہر نہیں نکلا۔
انوشے چیخ رہی تھی۔
لیکن زہاب اس کی چیخوں کو اگنور کیے گاڑی تک لے کر گیا اور اسے اندر ڈالے گاڑی سٹارٹ کی۔
زہاب آپ کیوں یہ سب کر رہے ہیں۔
پلیز مجھے جانے دیں۔
انوشے نے بےبسی سے روتے ہوئے کہا۔گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے کہا۔
زہاب نے گاڑی جھٹکے سے روکی اور دروازہ کھولے پیچھے کی طرف آیا ل۔ انوشے نے خوفزدہ چہرے سے زہاب کو دیکھا۔اور پیچھے دروازے کے ساتھ جا لگی۔
تم نہیں جانتی کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔
زہاب نے اس کے قریب آتے اس کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کمر کے ساتھ لگاتے پرسرار لہجے میں کہا۔
اور جو رسی وہ پڑی کر لایا تھا اس سے اس نے انوشے کے دونوں ہاتھوں کو باندھ دیا۔
اس طرح کی چیزیں اس کی گاڑی میں موجود ہوتی تھیں کسی بھی وقت اسے ضرورتوں پر سکتی تھی۔
انوشے کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی۔
زہاب نے گہرے لہجے میں اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے انوشے کے سرخ ہونٹوں کو چھوتے ہوئے کہا۔
انوشے کی آنکھوں میں پھر سے ایک بار بےبسی سے آنسو آ گئے تھے۔
تم بہت خوبصورت ہو زہاب نے گہری نظروں سے انوشے کو دیکھتے کہا۔
اور انوشے کے ہونٹوں پر جھکا لیکن اس سے پہلے ہی انوشے کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہی بےہوش ہو گئی۔
زہاب نے اس کی بند آنکھوں کو دیکھا تو پیچھے ہو گیا۔
ابھی گھر چلتے ہیں۔
زہاب نے مسکراتے ہوئے کہا اور انوشے کو آرام سے لیٹانے کے بعد خود آکر آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
