No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
کیوں مجھے پل پل تکلیف دے رہے ہیں؟ اگر آپ کو اپنی بہن کا بدلہ مجھ سے لینا ہے تو ایک بار میں ہی مجھے مار کیوں نہیں دیتے؟
انوشے نے روتے ہوئے ضرغام کو دیکھتے کہا۔جو اسے دھمکی دینے کے بعد گہرے سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے لگا تھا۔
غصے میں وہ سب بول گیا تھا۔
ضرغام نے مڑ کر انوشے کی طرف دیکھا جس کا چہرہ کچھ ہی دنوں میں مرجھا سا گیا تھا۔
گہری آنکھیں اس وقت ویران سی لگ رہی تھیں۔بےشک سامنے کھڑی لڑکی بےحد خوبصورت تھی۔
آج پہلی بار ضرغام نے اس کو غور سے دیکھا تھا۔لیکن اس کے سر پر بدلے کا بھوت سوار تھا۔
موت تمہیں اتنی آسان لگتی ہے؟ نہیں موت مانگنا آسان ہے۔لیکن اگر ایسا ہوتا کہ کوئی بھی زبان سے موت مانگتا تو اُسے آجاتی تو آدھی دنیا اس وقت اوپر پہنچ چکی ہوتی۔
اور جانتی ہو کبھی کبھار موت سے زیادہ دردناک زندگی ہو جاتی ہے۔اور میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔
تم زندہ رہو گی۔تاکہ تکلیف کو. اچھے سے محسوس کر سکو۔
اور آج سے تم ساتھ والے کمرے میں رہو گی۔
جاؤ یہاں سے ضرغام نے رخ موڑے سرد لہجے میں کہا۔
انوشے خاموشی سے کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔
اسے تو لگا تھا کہ ضرغام غصے میں کچھ کرے گا لیکن یہاں تو وہ اسے کمرے میں جانے کا کہہ رہا تھا۔
مجھے ایک بار امی سے ملنا ہے پلیز مجھے اُسے ملنے دیں۔
انوشے نے بےبسی سے کہا وہ جانتی تھی کہ کہنا بیکار ہے لیکن کوشش کرنے میں کیا برائی تھی،
جاؤ یہاں سے ضرغام نے اس کی بات سنتے کرختگی سے کہا۔
تو ناچاہتے ہوئے بھی انوشے کو وہاں سے جانا پڑا۔
ضرغام نے سرخ آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا۔
اور جاکر کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا۔جہاں سے ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
تو تم کہہ رہی ہو ضرغام کے منع کرنے کے باوجود انوشے حویلی سے باہر گئی؟
لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ضرغام کی مرضی کے بغیر اُس کا باہر جانا ناممکن ہے۔
حمیرا کو انعم کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
عرفان جو خاموش بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا نفی میں سر ہلاتے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور چلتا ہوا دونوں کے پاس آیا،
آپ دونوں اتنی بیوقوف کیسے ہو سکتی ہیں؟
اگر انوشے ضرغام کے حکم کے بغیر حویلی سے باہر نہیں جا سکتی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ضرغام کے حکم پر ہی حویلی سے باہر گئی،
وہ چاہتا تھا کہ وہ ہسپتال جائے اس لیے تو کسی گارڈ نے آگے بڑھ کر اُسے روکا نہیں۔
عرفان نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے کہا۔
کیا مطلب ہے تمھارے کہنے کا؟
ضرغام خود انوشے کو لے کر آیا ہے اور انعم بتا تو رہی ہے کہ وہ کس قدر غصے میں تھا مجھے تو لگتا ہے آج وہ انوشے کو ویسے ہی جان سے مار دے گا۔ حمیرا نے عرفان کو دیکھتے آنکھیں چھوٹی کرتے کہا۔
آپ دونوں سمجھدار بننے کی کوشش کرتی ہیں۔لیکن ہیں نہیں اب بس آگے دیکھو ہوتا ہے کیا،. عرفان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
اس کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم بیوقوف ہیں؟
انعم نے عرفان کے جاتے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا،
مطلب نہیں وہ ہمیں بیوقوف ہی کہہ کر گیا ہے ماں کو بیوقوف بول کر گیا اس کی تو میں بعد میں کلاس لیتی ہوں۔
لیکن تم انوشے اور ضرغام پر نظر رکھو کیونکہ مجھے عرفان کی بات ٹھیک لگی ہے،
حمیرا نے سنجیدگی سے کہا،
انعم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
انوشے اُس کمرے میں گئی اور بیڈ پر بیٹھے رونے لگی تھی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کے بھائی کو ہو کیا گیا ہے۔
وہ جانتی تھی کہ اقبال اسے پسند نہیں کرتا لیکن وہ اس سے اتنی نفرت کرتا ہے وہ اسے پتہ نہیں تھا۔
کہ اسے صبا کو دیکھنے تک نہیں دیا۔
بےشک وہ اقبال کی سگی بہن نہیں تھی لیکن وہ تو اسے دل سے اپنا بھائی مانتی تھی،
پھر بھی پتہ نہیں اُسے کیا ہو گیا تھا،
انوشے یہی سب سوچتے ہوئے آنکھیں موندے بیڈ سے سر ٹکائے بیٹھ گئی رونے کی وجہ سے اسکا سر درد کر رہا تھا۔
ٹھیک سے اس نے صبح کا کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔جس کی وجہ سے اسے کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی۔
اس لیے وہی بیٹھ گئی ہولے ہولے اس کا جسم بھی کپکپا رہا تھا۔
انوشے صبا اور جواد چوھدری کی سگی بیٹی نہیں تھی۔
جب وہ چار سال کی تھی تو اکثر وہ اپنی ماں کے ساتھ حویلی آتی تھی۔
اس کی ماں صبا کی بہت اچھی دوست تھی،
اور دو گاؤں چھوڑ کر وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی،. انوشے کا باپ ایک غریب کسان تھا جس کی ایک حادثے میں موت ہو گئی۔
انوشے کی ماں صبا کے کہنے پر حویلی آتی تھی اسے انوشے بہت اچھی لگتی تھی اس نے اس بارے میں جواد چوھدری سے بات بھی کی۔
پھر ایک دن پتہ چلا کہ کچھ ڈاکوؤں انوشے کے گھر میں گھسے اور اس کی ماں کا قتل کر دیا۔
انوشے بہت چھوٹی تھی اور اُس دن وہ حویلی میں صبا کے پاس ہی رک گئی تھی،. یا تو یہ سچ میں ایک حادثاتی موت تھی یا کسی کی سازش لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں تھا،
انوشے کو پھر صبا نے گود لے لیا اور صبا نے اسے بہت محبت سے پالا اور انوشے جواد کو بابا اور صبا کو امی کہنے لگی۔
لیکن اقبال کو وہ اتنی اچھی نہیں لگی تھی۔
ایسے ہی وقت گزرتا گیا پھر ایک دن اس کے باپ نے اسے خون بہا میں ضرغام بدر کے حوالے کر دیا۔
وہ کون سی ان کی سگی بیٹی تھی جو جواد کو اس کا احساس ہوتا۔جو اب انوشے کو اچھے سے معلوم ہو گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
آدھی رات میں پیاس کی شدت سے انوشے کی آنکھ کھلی اس نے ارد گرد دیکھا ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
اور سر میں الگ سے درد ہو رہا تھا رونے کی وجہ سے آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں،
ساتھ درد الگ
انوشے اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے کا دروازہ کھولے اس نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے حویلی میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
ناجانے اسے اتنی بڑی حویلی میں کچن ملنا بھی تھا یا نہیں
ابھی وہ ارد گرد دیکھتے چل رہی تھی۔
جب کسی نے اس کے ہاتھ کو پکڑا۔
ڈر کے مارے انوشے جلدی سے پیچھے کی جانب مڑ کر. دیکھا جہاں عرفان آنکھوں میں چمک لیے کھڑا گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
سامنے عرفان کو دیکھتے انوشے پوری طرح خوف کے مارے کپکپا پڑی تھی۔
چھوڑو میرا ہاتھ انوشے نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
بھابھی جی کیسے چھوڑ دوں ابھی تو موقع ملا ہے۔اور میں موقعے کو ضائع بلکل نہیں کرتا۔عرفان نے لہجے خباثت لیے کہا۔
انوشے اس قدر ڈر گئی تھی کہ اسے سمجھے نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔
اس سے پہلے عرفان مزید کچھ کہتا ایک مضبوط ہاتھ اسے اپنے کندھے پر محسوس ہوا تھا اس نے پیچھے مڑ دیکھا جہاں ضرغام بدر چہرے پر غضبناک تاثرات لیے کھڑا تھا،
ضرغام بدر تھوڑی دیر بعد ہی حویلی سے باہر نکل گیا تھا۔اور ابھی واپس آیا اور وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔اب عرفان کو ضرغام کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔
بھائی آ آپ؟
عرفان نے فوراً انوشے کا ہاتھ چھوڑا اس کی زبان کپکپائی تھی۔
انوشے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی تھی۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی اُسے ہاتھ لگانے کی؟
ضرغام نے عرفان کا گریبان پکڑتے ایک زور دار مکا عرفان کے جبڑے پر مارتے دھاڑتے ہوئے کہا۔کچھ ملازمین بھی آواز سنتے وہاں آگئے اور پوری حویلی کی لائیٹ اون کی۔
ابھی عرفان اس مکے سے ہی نہیں سنبھلا تھا کہ عرفان کے اس کے جبڑے پر دوبارہ مکا مارا جو اوندھے منہ زمین پر جا گرا۔
منہ سے اس کے خون نکلنے لگا تھا۔آوازیں سن کر باقی سب لوگ بھی باہر آگئے۔
رات کا پہر تھا۔
انوشے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ لگے اپنے ڈوپٹے کو زور سے پکڑے آنکھیں پھیلائے کھڑی تھی۔
ضرغام تم یہ کیا کر رہے ہو؟
میرا بچہ مر جائے گا،
حمیرا نے تکلیف دہ لہجے میں کہتے عرفان کی طرف اپنے قدم بڑھانے چاہے لیکن ضرغام بدر کی سرد اور سرخ آنکھیں دیکھتے اس نے اپنے قدم وہی روک لیے تھے۔
عرفان زمین پر پڑا کراہ رہا تھا جب ضرغام نے آگے بڑھتے اس کے پیٹ میں زور دار ٹھوکر دے ماری۔
آہ عرفان کے منہ سے تکلیف کے مارے چیخ نکلی تھی۔
خانم روکیں نا ضرغام کو عرفان مر جائے گا کتنی بے دربدری سے وہ میرے بچے کو مار رہا ہے۔
حمیرا نے بڑی خانم کے پاس آتے روتے ہوئے کہا۔
ضرغام کیوں تم عرفان کو مار رہے ہو کیا کیا اس نے ایسا جو تم اتنا بھڑک رہے ہو؟
بڑی خانم نے ضرغام بدر کے پاس آتے سنجیدگی سے پوچھا۔
یہ لڑکی خون بہا میں یہاں آئی ہے اس کے ساتھ وہی سب کچھ ہو گا جو ایک ونی میں آئی لڑکی کے ساتھ ہوتا لیکن اگر کوئی اس کی عزت کے ساتھ کھیلنا چاہے گا تو اس کی جان میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا اور آپ کے بیٹے نے اسے ہاتھ لگا کر بہت بڑی غلطی کی۔
اس کی جان آج ہی میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا تاکہ دوبارہ ہاتھ لگانا تو دور یہ انوشے کی طرف دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔۔ضرغام نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
جب سے ضرغام کا نکاح انوشے کے ساتھ ہوا تھا اس نے آج پہلی بار اس کا نام لیا تھا۔
یہ جھوٹ ہے عرفان ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔
یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔
تم اس کی بات پر یقین کیسے کر سکتے ہو؟
تم تو عرفان کو اچھی طرح جانتے ہو۔
اور ہمیں کیا پتہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہے ہو سکتا ہے یہ ایسے ہی اپنی اداؤں سے بھولے اور معصوم لڑکوں کو پھنساتی ہو۔
اور……
حمیرا کی زبان پر غصے میں جو کچھ آ رہا تھا بولتی جا رہی تھی۔
اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی ضرغام بدر نے جھکتے ہوئے عرفان کا وہی ہاتھ پکڑا جس سے اس نے انوشے کا ہاتھ پکڑا تھا اور اُسی ہاتھ کو اتنی زور سے مڑوڑا کہ عرفان کی دلخراش چیخیں وہاں گونجی۔
انعم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔اس نے سنا تھا کہ ضرغام بدر بہت خطرناک انسان یے لیکن آج اس نے دیکھ بھی لیا۔
خبردار اگر کسی نے بھی اس کے کردار پر انگلی اٹھائی۔
آپ تو صحیح سے اپنی بیٹی تک کو نہیں جانتی تو اس لڑکی کے بارے میں اتنے بڑے اور اہم انکشاف کیسے کر سکتی ہیں؟
اس حویلی میں اگر کوئی مجھ سے اونچی آواز میں بات کرے مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے۔
آئندہ اگر کسی نے بھی کچھ ایسا کرنے کی کوشش کی جوکہ میری نظروں میں سراسر غلط ہے تو اُس کے ساتھ میں کیا کروں گا ابھی بتا کر کسی کو ڈرانا نہیں چاہتا۔اس لیے سب سنبھل کر رہیں۔
ضرغام نے سب کے چہروں کی طرف دیکھتے دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتے کہا۔خاص طور پر اس کا اشارہ حمیرا کی طرف تھا جو اچھے سے سمجھ گئی تھی۔
ضرغام چلتا ہوا انوشے کی طرف آیا اور اس کی کلائی کو پکڑے گھسیٹتے ہوئے اسے وہاں سے لے گیا۔
بڑی خانم خاموش کھڑی تھیں۔
اور حمیرا ملازمین کی مدد سے عرفان کو ہسپتال لے گیا تھا۔
جس کے ہاتھ کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
💜 💜 💜 💜
مجھے دوبارہ گاؤں جانا چاہیے، کافی فن ہو. گئے ہیں۔
ناجانے پیچھے کیا حالات ہوں گئے۔
داؤد نے کافی کا مگ لبوں سے لگاتے ہوئے پر سوچ لہجے میں کہا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے پیچھے سارے حالات کیسے بدل گئے ہیں اور اس کے کیے کی سزا کسی دوسرے معصوم کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔
لیکن داؤد تو ہر ایک چیز سے ناواقف تھا واپس جانے پر اس پر بہت سے انکشاف کھلنے والے تھے۔
