Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Last Episode)

Hayat by Ain Noon Alif

دادی ان لا آپ لوگ رسم وغیرہ نہیں کرتے شادی میں، بیوی سے تو میں نے گن پوائنٹ پر شادی کی تھی تو کوئی رسم نہیں ہوئی۔۔ مگر منال اور آذر کی بھی ایکدم سمپل۔۔۔ ریزن بتائیں۔۔ کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ شادی کا گھر ہے۔ صرف عزیز و اقرباء کے علاوہ کوئی نہ تھا جو صرف پندرہ بیس لوگوں پر مشتمل تھے۔ “گانا بجانا تو حرام ہے” مگر کوئی اور رسم کا بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اور یہ پوائنٹ نوفل احمد خان جاننے کا خواہاں تھا۔

بات یہ ہے بچے!۔۔ “نکاح سنت ہے”۔ اور “سنتیں رسم و رواج کے ساتھ ادا نہیں ہوتی”، “سنت تو بس نبی کے طریقہ پر چلنے کا نام ہے” جو سادگی پر منحصر ہے، جو لوگوں کے لیے آسان ہے۔ اور جو مشکل ہو جائے وہ سنت ہوگی ہی نہیں پھر۔ اور نبی کا طریقہ نکاح کی سنت کا بس یہ ہے کہ کم سے کم خرچ ہو، عزیز و اقرباء کو دعوت دو کہ خوشی کا موقع ہے۔ اور بس۔ رسم کا تو نام ہی نہیں۔ تو پھر نکاح میں رسم کو بڑھانا سنت تو نہیں کہلائےگا۔ یہ تو ‘بدعت’ ہو جائے گی اور بدعت ‘شرک’ کا دوسرا نام ہے۔ ‘منہ دکھائی’ جسے لوگ رسم کہتے ہیں یہ رسم نہیں سنت ہے۔ وہ بھی اسلیے کہ ایک لڑکی اپنی سب سے قیمتی چیز تمہیں سونپتی ہے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ “تم بھی اسے کوئی قیمتی چیز تحفہ میں دو”۔

مگر اس کے علاوہ سب کچھ حرام ہے۔ اگر ایک دس منٹ کے حلال کام میں دس دنوں کے حرام کام شامل ہو جائیں تو کیا وہ حلال نظر آئے گا۔ کیا وہ شادی پھر کامیاب ٹھہرےگی۔

میرے بچوں آج طلاقیں کیوں ہو رہی ہیں؟، میاں بیوی ایک دوسرے سے بیزار کیوں ہیں۔؟ بچوں کی پرورش اچھی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اولاد نافرمان کیوں پیدا ہو رہی؟ گھر کے گھر تباہ کیوں ہو رہے ہیں؟؟

صرف اسلیے کہ “اس بلڈنگ (یعنی شادی) کی بنیاد ہی کیچڑ سے رکھی گئی ہے اور کیچڑ کی بلڈنگ کو گرنے میں وقت نہیں لگتا”

“جس سنت کو میرے رب نے اپنی نشانیوں میں سے ایک کیا ہے جو مومن کا نصف ایمان ہے اس میں لوگوں نے حرام کی آمیزش کردی ہے”۔ اور یہی چیز انکی زندگی کو جہنم بنانے کے لیے کافی ہے۔ “‘نکاح’ میرے اللہ نے حرام سے بچنے کے لیے قرار دیا ہے مگر آج نکاح کو ہی لوگوں نے گناہ بنا ڈالا، ایسی منحوسیت نکاح میں شامل کردی کہ نہ مرد حرام سے محفوظ ہے نہ عورت”

آج مسلمانوں کی شادی اور غیر مسلموں کی شادی میں کیا فرق ہے؟ صرف یہی کہ وہ پھیرے لیتے ہیں اور ہمارا مولوی نکاح پڑھاتا ہے۔ باقی تو رسم وہی ان کی وہی مسلمانوں کی۔۔

تو کیا کبھی حرام اور حلال ایک ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں؟ یہ دونوں کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔ ان میں سے ایک آئےگا تو دوسرا چلا جائےگا۔

گریٹ دادی ان لا۔ “اللہ سارے مسلمانوں کو اس سنت کی سمجھ دے”۔ اور شکر ہے اس کا میری شادی میں کوئی بدعت نہیں ہوئی۔ اور وہ واقعی اللہ کا شکر گزار ہوا تھا۔ اور اسے سمجھ آیا تھا اسکا رشتہ اتنا کامیاب کیوں تھا۔

اسلیے ہمارے یہاں کوئی رسم و رواج کا عمل دخل نہیں کسی بھی کام میں۔ اللہ کا یہ بڑا احسان ہے۔

کیا بات ہے بیوی؟ تم کیوں خاموش ہو؟ نوفل احمد خان نے حیات کی طرف دیکھا جو دادی کی بات غور سے سن رہی تھی مگر بالکل خاموش تھی۔۔ اس کے پوچھنے پر دادی، رابعہ بیگم اور فائزہ بیگم بھی متوجہ ہوئی تھیں۔

آپ نے مجھے منہ دکھائی نہیں دی۔۔ اور ایسے ہی۔۔۔۔ اگلی بات نوفل احمد خان کے ہاتھ نے روک دی تھی جو اس کے منہ پر ٹکا تھا۔

مل جائےگا بیوی ذرا صبر۔۔ نوفل احمد خان کی جھینپ اور حیات کی سب کے سامنے کی گئی بےوقوفی پر وہ تینوں سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ روکنے لگی تھیں۔ اتنا بےباک انسان اپنی بیوی کی کسی نہ کسی بات پہ سب کے سامنے پزل ہو جاتا تھا۔

تو کب دیں گے۔۔؟ میں پھر سے دلہن بنتی ہوں پھر دینا۔ آپکی یہ سنت رہ گئی ہے نا ادا کرنے سے۔۔

بالکل بیوی۔ یہ سنت ہم بھی ادا کریں گے مگر اپنے گھر جاکر۔ ابھی سب کے سامنے ایسی بات نہیں بولتے۔ اس کے کان میں سرگوشی کر کے اسے سمجھاتا دیکھ وہ تینوں ہنسنے لگی تھیں جو نوفل احمد خان کی جھینپ کا ہی سبب تھی۔

مغرب بعد نکاح ہو گیا تھا۔ مہمان کھانا کھا کرخصت ہو رہے تھے۔ دونوں نکاح ایک ساتھ ہوئے تھے۔ اور اب یہ لوگ اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

میں رک جاؤں کیا پلیز۔۔ ؟ سب لوگ تھوڑے سینٹی ہیں۔۔ جاتے وقت وہ اب رکنے کے لیے زور دے رہی تھی۔ اسکے چہرے پر موہوم سی امید دیکھ کر اس نے اپنے دل کو خاموش کروا کر جو اس کے رکنے کا سن کر پھڑپھڑا رہا تھا۔ اسے اجازت دے دی۔

جزاک اللہ! آپ سچ میں بہت اچھے ہیں۔ خوشی سے کہتی وہ اندر چلی گئی اپنی خوشی میں وہ اسکی اداسی محسوس ہی نہیں کر پائی اور وہ اپنے اداس دل کو دیکھتا باہر نکل گیا جہاں الحان منال کو لانے کی تیاری میں تھا۔ اسکی گاڑی بھی الگ تھی۔ جس میں وہ دونوں اکیلے جا رہے تھے۔

****************

نوفل بھائی کو کیا ہوا؟ ایکدم سے اتنے اپ سیٹ۔۔ احمد کی آواز پر جوس پیتی حیات اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ دل ایکدم پریشان ہوا تھا۔

اوہ اب سمجھا! ان کی بیوی جو یہاں قیام فرما رہی ہیں۔ تو جناب اداس ہیں۔

کیا زیادہ اداس تھے۔۔؟

بہت زیادہ، لبوں کو بھینچ کر احمد نے اسکی رونی شکل دیکھ کر اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔

دادی۔۔۔ اسکے منمنانے پر دادی مسکرائی تھیں۔

اگلے ہفتہ تین دن کی جماعت میں جائےگا تب آجانا۔ ابھی چلی جا۔ اور یہاں رکنے پر جتنی خوش تھی واپس اہنے شوہر کے پاس جانے اس سے بھی زیادہ خوش تھی۔

ہا ہا ہا ہا دادی یہ اپنی حیات بدل نہیں گئی۔۔ نوفل بھائی کے آگے تو اس کو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

میں نہیں بدلی۔۔ مگر انہوں نے کھانا نہیں کھایا اور اب آپ بتا رہے ہیں وہ اداس ہیں تو اب کھائیں گے بھی نہیں۔ اور صبح میں پھر آفس بھی ایسے ہی چلے جائیں گے۔ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاتے اتنی فکر کرتے ہیں اگر میں نہیں کروں گی تو اللہ ناراض ہوگا نا۔۔

ہے نا دادی؟ اس کے معصومیت سے کہنے پر دونوں نے اس کے لیے نظر بد سے حفاظت کی دعا پڑھی تھی۔

ہاں میری بچی، تو جا، اللہ برکت دے تمہارے رشتہ میں بھی اور زندگی میں بھی عافیت کے ساتھ۔

تو میں بتا دوں نوفل بھائی کو کہ اداس نہ ہوں آپکی خوشی آ رہی ہے۔۔۔؟

نہیں نہیں بھائی۔۔ آپ الحان بھائی سے کہیں کہ میں ان کی گاڑی میں جاؤنگی۔ انہیں پتا نہ چلے۔۔۔ اس کے بچوں جیسے انداز میں دونوں مسکرائے تھے۔ پھر احمد نے کس سے کیا کہا۔۔۔ وہ الحان کی گاڑی میں مکمل چھپ کر بیٹھی تھی منال بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی کیونکہ وہ حد درجہ نروس تھی اور اس کا ساتھ پاکر انتہائی خوش تھی۔

*******************

حیات منال کو اس کے روم میں اچھے سے بٹھا کر اپنے گھر جا چکی تھی۔ اب ایک دروازہ باہر سے بھی ہو گیا اور اندر سے بھی۔ وہ کافی نروس تھی۔ اپنی دعا کی قبولیت سے مارے تشکر کے بار بار اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ وہ بیڈ پر انتظار کرنے کے بجائے ونڈو میں آسمان میں نظریں جمائے شاید اپنے رب سے محوِ گفتگو تھی جب ایس پی الحان اندر آیا تھا۔

کچھ دعائیں ایسے ہی مستجاب ہوتی ہیں۔ اتنے امتحانوں کے بعد میرے رب کا مرہم عظیم ہے۔ بولتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں شاید ماں باپ کی دائمی جدائی اور ان کی زندگی میں شادی نہ کر پانے کا بھی دکھ تھا۔

مجھ سے محبت کروگی منال۔۔۔؟ اس کی خاموشی پر الحان نے پوچھا تھا۔

بولو نا منال، کیا مجھ سے محبت کروگی، میری طرح؟ اب کے اس کا چہرہ اونچا کیا تھا۔

منال نے اس کی طرف نظر کی تھی جس کی آنکھوں میں نمی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اور وہ دلہن بنی منال کو عقیدت سے دیکھ رہا تھا۔ اور محبت تو وہ چھ مہینوں سے اس سے کرتا آیا تھا۔ جس کی خبر اسکے رب اور نوفل احمد خان کے سوا کسی کو نہیں تھی۔ خود وہ بھی اس محبت کو چھپا کر رکھتا کہیں نامحرم سے ہونے کی وجہ سے وبال نہ ہو جائے اور شاید اسکے رب کو اس کی یہی ادا بھائی تھی۔ اس نے جس حرام سے خود کو بچایا اللہ نے وہی حلال کر کے اسے دیا۔۔ ان دونوں کا ایک جیسا ہی حال تھا۔ منال کو یہ بات حیات بتا چکی تھی کہ ایس پی الحان اسے چھ مہینوں سے چاہتے آ رہے ہیں۔

میں آپ سے محبت نہیں کروں گی۔۔ منال کے کہنے پر اس نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا اندر بہت ہی کچھ تھم سا گیا تھا۔ کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھنے کے بعد وہ گویا ہوا تھا۔

اوکے! بہت تھک گئی ہوگی۔۔ چینج کر کے ریسٹ کریں۔۔ بمشکل کہتا وہ پلٹا تھا۔ جس سے اتنی محبت کی وہ اسے اس کی محبت کے بغیر چھونا نہیں چاہتا تھا۔ اس رشتہ کی تکمیل میں اسے منال کی مکمل محبت چاہیئے تھی جس میں شاید اس کی نظر میں وقت درکار تھا۔

میں آپ سے محبت نہیں کروں گی۔۔۔۔ ایک پھر کہہ خاموش ہوئی تھی اور الحان کو پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دے گئی تھی۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچی تھیں غم زدہ تو وہ پہلے سے ہی تھا اب اور ہو گیا تھا۔ ڈھائی مہینوں سے جو وہ دونوں بہن. بھائی ایک دوسرے سے غموں کو چھپاتے ہوئے اندر ہی اندر گھٹ رہے تھے آج شدت سے انہیں ان غموں کو بانٹنے کے لیے سہارا چاہئے تھا۔

میں آپ سے محبت نہیں کروں گی۔۔۔ کیونکہ اب کی بار بڑھتے قدم اس کی کیونکہ سے رکے تھے۔۔ شاید وہ محبت نہ کرنے کی وجہ. جاننا چاہتا تھا۔

کیونکہ مجھے آپ سے جو ہوا ہے وہ محبت سے بھی آگے کی چیز ہے۔ عشق سے کم محبت سے زیادہ۔ میں نے آپ کو دعاؤں میں نہیں مانگا کہ اللہ کے سامنے ایک نامحرم کو مانگنے کی ہمت نہیں تھی۔ شرم آتی تھی بےحیائی سے۔۔ اور اس اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی بندی کو ایک محافظ سے محبت و عقیدت ہو گئی ہے۔ نظریں ابھی بھی آسمان میں ٹکی ہوئی تھی مگر الفاظ اور لہجہ بتا رہا تھا محبت کمال ہے۔

اور الحان کو محسوس ہوا تھا ” کسی نے اس کے دل کو چاک کر کے اس میں سے سارے غموں کو دھو دیا ہے” اس کی محبت یک طرفہ نہیں تھی۔ اور دونوں ہی نے اپنے رب کی محبت کو ایک دوسرے پر فوقیت دی تھی۔ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی رضا سے منہ موڑا تھا تو اللہ نے ان کہ رضا کو اپنی رضا سے پورا کیا تھا اور وسیلہ بنایا تھا نوفل احمد خان کو۔

اتنی خاموشی سے کیوں جا رہے تھے، اگر میں نہیں کہتی تو۔ اسکے سینے سے لگی وہ شکوے کر رہی تھی اور الحان تو بس اپنی محبت کی تکمیل میں سرشار تھا۔

کیونکہ اللہ نے قرآن میں فرما دیا ہے۔”عورتوں کے معاملے میں مجھ سے ڈرو”۔ ممکن ہے میرے خود کے تم پر مسلط کرنےسے تمہیں تکلیف پہنچتی تو میں اپنے رب کو کیا جواب دیتا جب وہ پوچھتا “کیا میں اتنا نفس پرست تھا”؟ حالانکہ میں حق پر تھا۔ مگر پھر بھی میں اپنے رب کے لیے تم سے عقیدت رکھتا ہوں۔

بہت اچھے ہیں آپ۔۔۔

اونہہ۔۔۔ یہ تفسیر سن کر ہوا ہوں۔ جو جناب نوفل احمد خان نے کل ہی مسجد میں کی۔ تب میرے رب نے مجھے اس کی سمجھ دی۔

نماز شکر ادا کریں۔۔۔ جھجکتے ہوئے منال نے پوچھا تھا جسے سن الحان اسے اور شدت سے گلے لگا گیا تھا۔۔۔ ہم اپنے رب کے لیے ایک دوسرے کو چاہیں گے۔ اللہ نے اپنی محبت دکھا دی ہمیں پاک نکاح میں دیا جس میں حرام کی آمیزش بالکل بھی نہیں ہے۔ اب ہماری باری ہے۔

اور پھر دونوں اپنے رب کا شکر ادا کر کے اس کی نعمتوں سے سےخود کو سیراب کرنے لگے تھے۔ کیونکہ یہ انکے رب کی طرف سے ان کے لیے انعام تھا۔

*********************

نوفل احمد خان سیدھا اپنے روم میں گیا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ کھانا نہیں کھائےگا۔ اسے تو یہاں حیات کی موجودگی کی بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔ وہ ابھی بھی نقاب میں تھی اور اسکی وجہ نوفل احمد خان کے سامنے ہی عیاں ہونے والی تھی۔ اس نے فائزہ بیگم کا پیک کیا ہوا کھانا اوون میں گرم کیا اور اچھی طرح دسترخوان پر لگا کر اپنے روم کی طرف گئی تھی۔ اب تک نوفل احمد خان اسے زیادہ خوش رکھتا آیا تھا۔ آج اسکے لیے سرپرائز پلان کرنے پر وہ حددرجہ مسرور تھی۔

بیوی، یار کیوں رک گئی ہو وہاں، جانتا ہوں ان لوگوں کا بھی حق ہے۔ مگر گھر پہ ہوتا ہوں تو آنکھوں سے اوجھل بھی تم برداشت نہیں ہوتی۔ افسردہ سی آواز دروازے میں کھڑی حیات کانوں میں پہنچی تھی اور تعوذ پڑھتی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی نوفل احمد خان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔ اتنے ڈھلیلے نقاب میں بھی وہ چھوٹی ہی دکھائی دیتی تھی۔

اپنے آپ کو کسی حصار میں دھیرے دھیرے قید ہوتے دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔ اور لمس کو پہچانتے ہی وہ جھٹکا کھا کر پلٹا اور حیات کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا اور جتنا حیران ہوا تھا اتنی شدت سے اس کے گرد حصار قائم کیا۔

بیوی، کیا سچ میں ہو۔۔۔ یقین کرنے لیے اپنی بے بہا شدتوں کا استعمال کیا تھا اور پھر وہ اسے ایسے گود میں اٹھا کر گھومنے لگا۔

کیا کر رہے ہیں چکر آ جائے گا۔اسکے بوکھلانے پر رکا تھا مگر اسے نیچے نہیں اتارا۔

کیسے آئی، اور جب رکنا تھا تو پھر۔۔۔۔۔

احمد بھائی نے کہا کہ آپ بہت سیڈ لگ رہے تھے تو بس پھر میرا نہیں دل کیا رکنے کا۔۔ اس کے گلے میں اپنے ہاتھوں کو ڈالے وہ معصومیت سے بتا رہی تھی۔

بیوی، بیوی، یار کیا ہو تم، کتنا اور ایڈکٹ کروگی اپنا۔ اور میرے ہی ساتھ کیوں نہیں آئی۔۔۔؟

آپ کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ اس کے سر جھکا کر کہنے پر وہ مسرور ہو کر اسے دیکھنے لگا تھا۔

تو کرو پھر خوش۔۔۔

نیچے تو اتاریں تبھی تو کروں گی۔

ہاہاہا اوکے اب کرو۔۔۔

نیچے اترتے ہی اس نے برقہ نکالنا شروع کیا۔ اور پھر نوفل احمد خان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔ اسے اس کی دو مہینوں پہلی خواہش یاد آئی تھی۔ (بیوی کیا میرے لیے ساڑی پہنوگی۔۔۔۔۔ اور حیات نے کہا تھا کہ یہ شریف لباس نہیں ہے) مگر آج وہ پہنے کھڑی تھی وہ بھی مکمل سج دھج کے ساتھ جس میں نوفل احمد خان اس کی رعنائیوں کو بغیر کسی احساس کے بھی محسوس کر سکتا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر حیات کو ہنسی تو بہت آئی مگر کنٹرول کر گئی۔

بیوی، یہ تم ہو۔۔ وہ اب تک شاکڈ تھا۔

جی میں۔۔۔۔ میں نے دادی سے پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا کہ شوہر کے لیے صرف اس کے سامنے چاہے جیسے رہو۔

اوہ۔۔۔ اور جو شیاطین اور جنات گھر میں ہوئے تو۔۔۔۔

کوئی بھی اس وقت گھر میں موجود نہیں ہے کیونکہ میں نے تقریباً اکیس مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر ان سب کو بھگا دیا ہے۔ ایک بار پڑھنے پر حفاظت ہو جاتی ہے تو پھر اکیس بار پر اللہ کیسے ہمارے گھر میں شیطانوں کو داخل ہونے دےگا۔ اسکے معصومیت سے بتانے نوفل احمد خان نے اسے کمر سے پکڑ زمین سے اوپر بچوں کہ طرح اٹھایا اور خود پر جھکا لیا۔

اب کھانا کھائیں، ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔ جب کافی دیر بعد بھی اسکی شدتوں میں کمی نہیں آئی تو وہ زبردستی اسے پکڑ کر کھانے پر لائی۔ جہاں نوفل احمد خان اسے پھر اپنی گود میں بٹھا چکا تھا۔ اور اب تو حیات بھی شان سے بیٹھتی تھی۔

کس نے باندھی یہ ساڑی۔

میں نے۔۔۔ پھوپھو سے سیکھ کر۔

ان سے ہی بندھوا لیتی۔

اونہہ۔۔ آپ کو نہیں پتا عورتوں کو عورتوں کے سامنے بھی کپڑے تبدیل نہیں کرنے چاہیے تو پھر ان سے پہن کیسے سکتے ہیں۔

میری پیاری بیوی اللہ کی لاڈلی بندی۔۔۔ اس معاملہ میں بہت توپ ہو۔

ایک بات بتاؤ تم نیچے مدرسہ میں عورتوں کے سامنے بھی چہرہ نہیں کھولتی۔۔ کیوں؟ اسکے منہ میں لقمہ ڈالتے ہوئے نوفل احمد خان نے پوچھا حیات حیرت سے اسکی طرف مڑی۔۔۔

آپ کو کیسے پتہ؟

مسٹر عادل نے بتایا ان کی بیوی بھی آتی ہے نا پڑھنے تو وہ کہہ رہے تھے کہ عورتوں کے سامنے چہرہ تو کھول ہی سکتے ہیں۔ تو بتاؤ کیوں نہیں کھولتی۔۔۔؟

اسی لیے۔۔ یہی وجہ ہے نہ کھولنے کی۔ نپے تلے لہجہ میں جواب دیا۔

کیا مطلب؟ وہ حیران ہوا تھا۔

مطلب یہی کہ میرے چہرہ نہ کھولنے کی بات بھی مردوں میں پہنچ رہی ہے تو کھلے چہرے کی بات کیسے نہ پہنچے گی۔ وہ عورتیں بہت شوق اور محبت سے میری بات سنتی ہیں، پسند کرتی ہیں اور جوش میں آکر بیشک ان کی نیت بری نہ ہو مگر وہ اپنے مردوں سے اس کا ذکر کریں گی، اگر ان کے مرد یہ پوچھنے لگیں کہ دیکھنے میں کیسی ہے تو پھر وہ میری بناوٹ ان پر ظاہر کردیں گی۔ اسلیے سختی سے حکم ہے دونوں کے لیے کہ اپنے مرد و عورت کے سامنے تم غیر مرد و عورت کا تذکرہ نہ کیا کرو۔عورتوں کی سب سے بری عادت یہی ہے کہ وہ اپنے مردوں کو دوسری عورتوں کی بابت بتاتی ہیں جس وجہ سے ان کے مرد ان اندیکھی صرف سنی ہوئی عورتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔۔ یعنی بہت سی عورتیں اپنے مردوں کو گناہ پر خود لگاتی ہیں اور ان کے مردوں کا ایمان اتنا کمزور ہوتا ہے کہ گناہ میں پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ اللہ کے نبی نے منع فرمایا۔ یعنی عورتوں کو حکم دیا کہ عورتوں کے سامنے بھی اپنی زیب و زینت کو نہ کھولا کرو۔ اور مرد مار یعنی مردوں کی طرح مقابلہ کرنے والی بازاروں میں مردوں کی طرح لڑنے جھگڑنے والی عورت سے ایسا ہی پردہ ہے جیسا مرد سے۔

مجھے سمجھ میں نہیں آتا بیوی، کس طرح تمہارا احترام کروں جتنا کرتا ہوں ہر بار اتنا ہی کم لگتا ہے۔ میرا اللہ ہی کروا سکتا ہے بس۔

اونہہ۔ بس دعا کیا کریں اللہ ہمیں ایسے ہی احترام والا رکھے۔ کیونکہ استقامت اصل ہے۔ نیکی کرنا کمال نہیں ہے اس پر ٹکے رہنا کمال ہے۔

اور وہ بھی کمال ہے بیوی جو نوفل احمد خان اپنی بیوی پر کرتا ہے۔۔

میری منہ دکھائی۔۔ آپ نے بغیر گفٹ کے منہ دیکھا میرا۔۔۔ اب دیں۔۔ منہ پھلا کر اس کی طرف سے رخ پھیرا اور نوفل احمد خان تو بس اس کے پل پل بدلتے روپ میں جیتا تھا۔

بیوی منہ دکھائی تو میں ایک مہینہ پہلے دے چکا ہوں۔۔۔ لبوں کا کونہ دانتوں میں دبا کر بولا۔۔

کب دیا، میں نے تو دیکھا بھی نہیں اور میرے ہاتھ میں بھی نہیں دیا۔۔۔ منہ ہنوز پھولا ہوا تھا۔

دیا ہے بیوی، ہاتھ میں نہیں دیا مگر۔۔۔۔۔۔

پھر کس میں دیا ہے۔۔۔

تمہارے اس چھوٹے سے پیارے سے اسٹمک میں۔۔۔

آپ بہت۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ اسے کتنی دیر تک ہنساتا رہا تھا۔ ان کا رب ان پر حد درجہ مہربان تھا۔

***********************

یہ۔یہ۔ منہ دکھائی ہے۔۔۔۔؟ وہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ٹکٹس کو دیکھ کر شاکڈ تھی۔

یس مائے جان بیوی۔ یہ تمہاری منہ دکھائی جو بالکل تمہارے شایانِ شایان ہے، اسکے گرد حصار باندھتا وہ اسکی حیرت کو انجوائے کر رہا تھا۔

مگر پانچ۔۔ اپنے ہاتھ میں حج کے ٹکٹ کو پکڑے وہ اب بھی حیارے میں تھی۔ اسکی دعا قبول ہوئی تھی۔

جی ہاں، دادی ان لا، سسرجی، مدر ان لا، نوفل احمد خان اور اسکی بیوی۔اور یہ بیوی کی آخری دعا بھی پوری ہو گئی۔ ہم ٹھیک ایک ہفتہ بعد نکل رہے ہی

اور حیات فرطِ جذبات سے اس سے لپٹ گئی تھی آنکھوں سے اشک بہنے لگے تھے ایسا بہت کم کرتی تھی وہ جب عقیدت سے اس میں سماتی تھی۔ اور نوفل احمد خان تو بس اسکے ایک ایک عمل سے بہک جاتا تھا جیسا اب ہوا تھا۔

************************

آپ لوگ بھی چلتے نا آپی تو سب کتنا اچھا ہوتا۔

ہم بھی ان شا اللہ تم لوگوں کے آنے کے بعد عمرہ کے لیے جائیں گے۔

الحان کا یہ بہت اہم مشن ہے۔ انشاءاللہ اللہ اس میں کامیاب کرے پھر عمرہ۔ پھر ہم بھی ساری فیملی جائیں گے۔

چلو ہو گئی تمہاری پوری پیکنگ، اور اب میں نکلتی ہوں، آذر ویٹ کر رہا ہے۔ وہیں سے سب کو سی آف کروں گی۔ اور مما کی طبیعت بھی خراب ہے۔ اور تم اپنا بہت خیال رکھنا۔ اسکے گلے مل کر اسے بہت سی ہدایت دیتی وہ آذر کے ساتھ نکل گئی۔

سنیے، فائل چیک کرتا نوفل احمد خان کی اسکی آواز پر متوجہ ہوا تھا۔ جو اب سلام کر کے اسے دودھ کا گلاس دے رہی تھی۔ اور روزانہ کی طرح اس سے گلاس لے کر سائڈ میں رکھا اور اسے اپنے قریب کیا۔

نام لو میرا۔۔آج پھر اسے اپنا نام بلوانے کا دورہ پڑا تھا۔ اس کا کہنا تھا وہ بھی اس کا نام لیا کرے جیسے منال لیتی ہے، ایمن لیتی ہے، اور دوسری عورتیں ۔

آپ کیوں کرتے ہیں ایسا۔ میں نہیں لے سکتی آپ کا نام۔ وہ پھر منمنائی تھی۔

کیوں؟

کیونکہ آپ بڑے ہیں نا، اور بس مجھ سے نہیں لیا جاتا۔۔۔ میں ایسے ہی بولوں گی۔ اور پھر اس کو کنوینس کرنے کے لیے اسی میں پناہ لے لی پھر تو نوفل احمد خان کو کنوینس ہونا ہی تھا اور ویسے بھی وہ اس کا یہ انداز بہت انجوائے کرتا تھا۔ ایک عجب سا لطف محسوس ہوتا تھا اسے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ویسے ہی نوفل احمد خان کے عشق میں اضافہ ہو رہا تھا۔

***********************

دس سال بعد۔

آج اسکے بیٹے کی قرآن حفظ کی دستار بندی تھی۔ اسی کے مدرسہ میں جو اسنے اپنی ماں کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر بنوایا تھا جس کا نام ‘دار الفلاح’ رکھا تھا اور اسی کے ساتھ ایک ہاسپٹل جو خاص عورتوں کے لیے تھا جو اسنے اپنی بیوی کے لیے بنوایا تھا۔ جہاں کی ڈاکٹرز مسلمان تھیں اور باپردہ بھی۔ اور یہ اس نے اسی وقت بنوانا شروع کر دیا تھا جب اسکی بیوی نے کنسیو کیا تھا۔ اور اسی کے آدھے ادھورے بنے ہوئے ہاسپٹل میں اسکے بچے کی ولادت ہوئی تھی۔ جہاں اس نے اپنی بیوی کی بے پردگی فی میل ڈاکٹرز کے سامنے بھی نہیں ہونے دی تھی۔ وہ ہر پل اس کے ساتھ موجود رہا تھا۔ کیونکہ یہ اسکی بیوی کی چاہت تھی جسے اس نے اپنے رب کے لیے پورا کیا تھا۔

اور آج اسی کے مدرسہ میں اسی کے بیٹے کی سب سے پہلی دستار بندی تھی جہاں وہ چیف گیسٹ بھی تھا اور وہاں کا مالک بھی۔

اللہ نے مردوں کو پہلے پیدا کیا پھر ان کی پسلی سے اپنی ایک قیمتی نعمت پیدا کی جو مردوں سے بھی عزت میں بلند مرتبے والی ہے اور پھر اسے اس مرد کے ہاتھوں میں سونپ کر کہا کہ یہ میری امانت ہے اسکی حفاظت کرنا۔ اسے ایک محافظ بنایا۔

اور پھر وہ محافظ لٹیرا بن گیا، اس نے اپنے رب کی اس نعمت میں خیانت کی۔ اسے ذلیل کیا جس کی عزت مرد پر فرض کی۔ اسے پیر کی جوتی سمجھا جسے اللہ نے اپنے گھر یعنی دل کے قریب رکھنے کا حکم دیا۔

آج ایک لڑکی کو شادی کے بعد سسرال کے معاملات میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ اسے اپنے بچوں کو دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ پھر وہ بچے دوسروں کی دیکھا دیکھی سیکھ کر نافرمان بن جاتے ہیں۔ اور اس پر اس عورت کو طعنہ مارا جاتا ہے کہ بچوں کی پرورش اچھی نہیں کی۔ وہ کیسے کرے جب تم اسے پرورش کا وقت دیتے ہی نہیں ہو۔ اور اس کا شوہر اس کے لیے سایہ دار شجر نہیں بلکہ تپتا صحرا بنا رہتا ہے اور تمہارا یہ غلط قدم نسل کی نسل تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ اور پھر تمہارا یہ ظلم تمہاری بیٹیوں کا نصیب بن جاتا ہے۔

تمہاری ایک غلط نظر کی وجہ سے عورت کی آنکھ میں آنے والے ایک آنسو کا بھی اس اللہ نے حساب لینا ہے، تو تمہارے تھپڑ کی وجہ سے آنے والے آنسوؤں کے حساب کا عالم کیا ہوگا۔ اور جو جاہل مرد بےدریغ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں انکے لیے اللہ کا غضب اور اسکا حساب کتنا سخت ہو گا۔

یہ مرد کی سب سے بڑی توہین ہے کہ اپنی بیوی کو پیر کی جوتی سمجھتا ہے اور اس کا مطلب وہ بےوقوف مرد نہیں سمجھتا کہ وہ اپنی بیوی کو پیر کی جوتی کہہ کر خود کو پیر بنا رہا ہے۔ اپنی بیوی کو آرام دینا، اسے ایک پرورش کے لیے تیار کرنا مرد کا کام ہے۔ مگر مردوں نے بس اپنے مرد ہونے کے زعم میں اپنی نسلوں کو تباہ کر دیا ہے اور الزام دیا اپنی بیوی کو۔ کیا اللہ یہ نہیں دیکھ رہا ہے۔؟ اور کیا اللہ اس کمزور قوم پر ہونے والے ظلم پر تمہیں بخش دےگا؟۔

جب تم اپنی عورتوں کی ناقدری کرتے ہو تو اللہ تم پر رزق کی تنگی کر دیتا ہے کیونکہ ایک بیوی کے طفیل اللہ اسکے خاوند کو رزق دیتا ہے۔

میرے نبی نے فرما دیا: ” تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کا معاملہ اسکی بیوی سے بہترین ہو” ۔ اور دوسری جگہ فرما دیا: ” کسی مرد کی اچھائی یا برائی دیکھنی ہو تو اس کا معاملہ اس کے گھر والوں کے ساتھ دیکھ لو۔

نکال کر دیکھو حدیثوں کو میرے نبی کے معالمات کیسے تھے اپنی بیویوں سے۔ جو اٹھتے بھی ایسے تھے کہ بیوی کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے۔ جنہوں نے اپنی بیوی کے لاڈ بچے کی طرح اٹھائے ہیں۔

اور کیا اللہ کا فرمان نہیں: “عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو”۔ عورتوں پر ظلم کرنے والے پر اللہ کی پکڑ سخت ہوگی۔۔۔ کیونکہ تمہاری سختی اور ظلم کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی بہترین پرورش کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ نکاحی زندگی حسین سے حسین تر ہے جو صرف تمہارے عمل پر ٹکی ہوئی ہے۔ چاہو تو اس کوجنت بنا لو چاہو تو جہنم۔

اللہ نے اگر مرد میں اپنی چند صفتیں ڈال کر اسے مجازی خدا بنایا ہے۔ تو عورت کو اپنی بس ایک صفت دے کر اس مرد کے برابر کر دیا ہے۔ اور اسکی وہ صفت ہے تخلیق کی یعنی پیدا کرنے کی۔ تو پھر تم اسے حقیر کیسے سمجھ سکتے ہو۔

سارے لوگ اس کا بیان سن کر دنگ تھے۔ اور یقیناً انکے دلوں پر اس کی بات اثر کر رہی تھی۔ جبھی سب اپنے اپنے محسابوں میں لگے ہوئے تھے۔

اللہ نے اسی لیے عورت پر کام کا بھی بوجھ نہیں ڈالا یہ بھی شوہر کی ہی ذمہ داری کہ وہ گھر کے کام کاج کا انتظام کروائے تاکہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکے۔ مگر پھر بھی یہ بیوی کا شوہر پر احسان ہوتا ہے کہ وہ اسکے گھر کے کام کاج بھی کرتی ہے بچوں کی تربیت بھی کرتی ہے۔ اگر ہم سنت نبویہ کو کھول کر پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ اللہ نے عورت پر کوئی بوجھ ڈالا ہی نہیں ہے سوا تخلیق کے جو انہیں مرد کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔ اور پھر جس جنت کے لالچ میں ہم لوگ اللہ کو راضی کرتے ہیں، اپنا لہو بہاتے ہیں، وہ اللہ رب العزت نے اٹھا کر اسی عورت کے قدموں کے نیچے ڈال دی ہے جسے مرد حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

توبہ کرو! بیشک اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اور اپنی ازدواجی زندگی کو بہترین بنا کر بہترین لوگوں کو وجود میں لائیے جنہیں اسلام کے شہزادت ہونے کا شرف حاصل ہو ناکہ شیطان کے چیلے۔

تو آپ کا جو سوال تھا۔ میرے بچہ کی ساڑھے نوسال کی عمر میں ہی کیسے دستار بندی ہو رہی ہے۔ اور یہ اتنے بہترین کیسے ہیں؟؟ تو وجہ ہے میری بیوی اور اسکے بعد میرا تعاون، میں اپنی بیوی کو گھر کے بس اتنے ہی کام کرنے دیتا ہوں جتنے میں وہ بالکل بھی نہ تھکے وہ بھی اسکے زبردستی کرنے پر تاکہ وہ اپنا اور بچوں کا خیال میرے پیچھے رکھ سکے، اور پھر جب میں اپنے گھر جاتا ہوں تو ان لوگوں کو دیکھ کر دن بھر کی ساری تھکن بھول جاتا ہوں کیونکہ میری بیوی نے ہمارے بچوں کو اسلام کے شہزادے اور شہزادیوں کی طرح بنایا ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہیں۔ اور پھر ان لوگوں کا خیال رکھ کے میں اپنا فرض ادا کرتا ہوں جس میں میرے لیے سکون ہے بیزاری نہیں۔

اور دوسرا سوال جو آپ لوگوں کا ہے کہ مجھے اپنے بچوں سے زیادہ محبت ہے یا اپنے کام سے؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ مجھے اپنے رب کے بعد اپنی بیوی سے محبت ہے اس کے بعد اپنی بچوں سے۔ اور لوگ اس کامیاب بزنس مین کا جواب سن کر ہی دنگ رہ گئے تھے۔

اسکے سسرالی اور اسکا دوست نوفل احمد خان پر فخر کر رہے تھے۔ جو اللہ نے ان کے لیے نعمت بنا کر بھیجا تھا۔

دعا پڑھ کر اس نے تمام لوگوں کو سلام کیا تھا اور مصافحہ کرتا لوگوں کے جوابات دیتا وہ اب اپنے گھر اپنی جنت میں جا رہا تھا۔ جہاں اللہ نے اس کے لیے بےشمار نعمتیں اتاری تھیں۔ دس دن سے وہ جماعت میں تھا اور سیدھا اپنے سسر کے ساتھ یہیں آیا تھا۔ اپنی بیوی کو دیکھنے کی چاہ بڑھی تو قدموں میں تیزی آ گئی تھی ۔

وہ لوگوں کے لیے مشعل راہ بن رہا تھا تو اسکی بیوی عورتوں کی ہدایت کا ذریعہ بن رہی تھی اور بلا شبہ اللہ نے انہیں اپنے دین پر محنت کے لیے پسند فرما لیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے ہر چیز سے بڑھ کر اپنے رب اور رسول سے محبت کی تھی۔

**********************

امی جان آپ ابھی زمین پر پیر نہ رکھیں فرش ٹھنڈا ہے آپ کو تکلیف پہنچےگی۔ میں آپکی سلیپر لاتا ہوں۔ اس کا دوسرا آٹھ سالہ بیٹا قاسم اپنی ماں کو بغیر سلیپر کے صوفہ سے اترتے دیکھ کر دوڑ کر آیا تھا۔

اوہ میری جان کچھ نہیں ہو گا۔ اسنے اس کے دونوں گالوں پر پیار کرتے ہوئے کہا۔

نہیں امی جان، آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ یہ پہن کر اتریں اور بتائیں کہاں جانا ہے آپ کو؟

ابو جان نے کہا تھا آپکو کوئی کام نہیں کرنا ہے۔ خالدہ آنٹی کام کر دیں گی۔

صحیح کہہ رہا ہے قاسم بیٹا حیات، نوفل کو پتا چلا کہ بخار میں تم نے کام کیا ہے تو وہ پھر ناراض ہو جائے گا۔ فائزہ بیگم نے بھی نواسے کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ ابراہیم نوفل احمد خان کی آج دستار بندی تھی جسکی وجہ سے سارے لوگ آئے ہوئے تھے۔

اسکی طبیعت خراب تھی آج صبح سے ہی جس کی وجہ سے سارا کھانا بھی منال، رابعہ پھوپھو اور فائزہ بیگم نے مل کر بنایا تھا۔ پانچ سال قبل دادی کا انتقال ہو چکا تھا۔ جو آج بھی سب کی باتوں میں اول روز سے ایک نیکی طرح زندہ تھیں۔

ان دس سالوں میں جہاں اللہ نے اسے چار بچوں سے نوازا وہیں منال کے بھی چار ہی بچے تھے اور آزر کے بھی بس احمد کے ابھی دو ہی تھے۔ اور ان کے بچوں کی تربیت میں بچپن سے ہی ایسی پختگی تھی کہ وہ لوگ اپنے ماں باپ کو بادشاہ اور ملکہ کہ طرح ٹریٹ کرتے تھے۔ اور ان بچوں میں نوفل احمد خان اور حیات کے بچے نہایت ہی نمایاں تھے۔ بیٹے بالکل نوفل احمد خان کی طرح ہی اس کا خیال رکھتے تھے۔ ایک جنت تھی ان کی یہ جو اللہ نے ان کے لیے زمین پر بھی اتار دی تھی۔

اور پھر بہت ہی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ نوفل احمد خان نے سب لوگوں میں اپنی بیوی کی غیر موجود گی شدت سے محسوس کی تھی۔

اسکی طبیعت کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی اس لیے وہ آرام کر رہی ہے۔ اسکی بےچینی اسکی ساس محسوس کر چکی تھیں۔ حیات کے لیے اسکی شدت سے سبھی واقف تھے۔

صحیح سے کیوں نہیں کھا رہے ہو۔۔ الحان نے اسکی غائب دماغی نوٹ کر لی تھی۔

میری بیوی بیمار ہوئی اور اسنے مجھے بتایا نہیں۔۔

اتنی زیادہ نہیں ہے بتایا تھا مجھے منال نے۔

ابو جان میں امی کے پیروں پر زیتون آئل لگا کر آیا ہوں زبردستی ان کے پیر بہت ٹھنڈے ہو رہے ہیں نا۔ قاسم کے بتانے پر وہ اور بےچین ہوا تھا۔ وہ آج بھی ایسا ہی تھا اپنی بیوی کا عاشق۔

چلو بھائی اب آرام کرو سب، کافی رات ہو گئی ہے۔ فرحان صدیقی بھی داماد کی پریشانی محسوس کر گئے تھے جو اب مروت میں ان سب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔

ابو جان میں نانا جان کے ساتھ سوؤں گا۔ عبد اللہ (الحان کا بیٹا) کے کہنے پر قاسم بھی آگے آیا تھا۔ اور ان کی دیکھا دیکھی اسکی بیٹیاں بھی۔

بالکل بچوں چلو سب۔

جب بھی بچوں کے نانا نانی آتے تو سارے بچے ہی ان کے گرد ہو جاتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کا کھانا لے کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔

****************

وہ روم میں داخل ہوا تو حیات ابراہیم کو گود میں لئے بیٹھی تھی اور اس سے اس کی ساری روداد سن رہی تھی۔ اور ابراہیم ساتھ ہی ساتھ اسکا سر بھی دبا رہا تھا۔ وہ بلا شبہ نوفل احمد خان کی کاپی تھا۔

ابو جان امی کے قدموں کی نیچے جنت ہے نا؟

ہاں بیٹا۔ اتنا سنتے ہی ابراہیم حیات کے قدموں میں جھکا تھا اور اسکے پیروں کو بوسہ دیا تھا۔ اور حیات اسے روک بھی نہیں پائی تھی۔ نوفل احمد خان نے مسکرا کر بیٹے کو دیکھا تھا۔

مولان نے کہا تھا کہ جنت کی خوشبو وہی سونگھ سکتا ہے جو اپنے والدین کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ اور میں نے ابھی وہی خوشبو سونگھی۔ ابو جان میں فرماں بردار ہوں نا؟ اس میں رب کی ناراضگی کا خوف بالکل حیات جیسا تھا۔

ہاں میرے لال تم فرماں بردار ہو۔ اور اب جاؤ ورنہ نانا جان کے قصہ سننے نہیں ملیں گے۔ اسکے کہنے پر وہ دونوں کو سلام کرتا اور ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا چلا گیا۔

ناراض ہیں؟ اسکے خاموشی سے کھانا رکھنے پر وہ گویا ہوئی تھی۔

خیال کیوں نہیں رکھا اپنا، قاسم بتا رہا تھا تم ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتی تھیں۔ وہ آج بھی ویسی ہی تھی وزن بس اب پچاس کلو ہو گیا تھا۔

آپ کھلائیں۔ اسکے کہنے پر وہ اس کے قریب بیٹھ کر اسے کھلانے لگا تھا۔ مگر بات اب بھی نہیں کی تھی۔ وہ بھی خاموشی سے کھاتی رہی۔ اسے کھلا کر روم سے ملحق گیلیری میں چلا گیا تھا۔

میں نے خیال رکھا مگر جو عادت آپنے ڈالی ہوئی ہے وہ تھوڑا ادھورا کر جاتی ہے آپ کی غیر موجود گی میں۔ اور یہ مجھے تکلیف نہیں دیتی بلکہ ہر پل آپکی یاد دلاتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہے۔ اب آپکی بیوی اتنی بھی کمزور نہیں رہی۔ اسکی پشت سے حصار قائم کیے وہ اسے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ننگے پیر اٹھ کر کیوں آئی ہو۔۔۔ اسے گود میں لیے واپس اندر آیا تھا ناراض وہ اس سے رہ ہی نہیں سکتا تھا۔

تاکہ آپ خیال رکھیں اب۔

آپکو پتا ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں۔

جانتا ہوں۔ اور تم بلا شبہ ایک بہترین ماں ہو۔ اور ہم بھی اب جنت کے تاج کے حقدار ہو گئے ہیں۔ اسے اپنی گود میں بٹھائے اور مضبوط حصار قائم کیے اب وہ اپنی تھکن اتار رہا تھا۔

آج مجھے دادی بہت یاد آئیں تھیں۔ اور نوفل احمد خان اسکی بیماری کی وجہ پا گیا تھا۔ اسکی دادی سے انسیت سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔

وہ آج ہمارے بچوں کو دیکھتیں نا تو بہت خوش ہوتیں اور مجھے یقین ہے اللہ نے انہیں ابھی بھی بہت خوش رکھا ہوگا۔

اس بار کتنے لوگوں کو حج پر بھیج رہے ہیں؟ اسکے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

چار۔

اس بار جماعت میں کیا کر کے آئے ہیں۔؟

ایک گاؤں میں ایک مسجد اور وہاں پانی کا انتظام کروایا ہے۔ اور یہ وہ کام تھے جن کی خبر اس کے رب کے بعد اسکی بیوی کو تھی۔

میں نے بہت مس کیا آپ کو۔۔

اور پھر تم نے میری شرٹ پہنی ہو گی۔

جی۔ مگر صرف سوتے وقت۔

اس بار ہم بھی حج پر جا رہے ہیں بیوی۔ امی کے نام کا ایک اور حج کرنا چاہتا ہوں۔ اسکی بات پر اس نے اس کے مضبوط حصار میں اپنی شدت بھی شامل کی تھی۔

آپ کو پتا ہے۔ پاہا اور بھائی کہہ رہے تھے کہ آپ سارے مردوں کو اچھا شوہر بنا کر چھوڑیں گے۔

بیوی میں تمہارے ساتھ جنت میں نہیں جانا چاہتا۔۔۔

اس کی بات پر اسنے سوالیہ نظریں اسکی طرف کی تھیں۔

کیونکہ میں تمہارے ساتھ تمہارا ہاتھ پکڑ کر اپنے رب کے سامنے جانا چاہتا ہو۔ اللہ جب ہمارا حساب لے تو ہم دونوں کو ساتھ رکھے۔ اپنی خواہش کا اظہار کرتا وہ اسے حدت پہنچا رہا تھا۔

میں بھی۔ آپ کو معلوم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے اچھا ہو” اور آپ وہ بہترین مرد ہیں۔

میں آپ سے راضی ہوں، میرا رب بھی آپ سے راضی ہے، کیا آپ مجھ سے راضی ہیں؟ آواز میں نمی تھی۔

میں تم سے راضی ہوں میرا رب بھی تم سے راضی ہے اور تم بھی مجھ سے راضی ہو جانا۔ کہنےکے ساتھ ہی وہ اس پر چھاتا چلا گیا تھا۔

اور ان کا پیار بالکل ایسا ہی رہنا تھا۔ کیونکہ وہ دونوں اپنے رب سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ اللہ کی رضا کو مقدم جاننے والے تھے تو ان کا رب بھی ان سے راضی تھا۔ اور ہمیشہ راضی رہنے والا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *