Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 07)
Rate this Novel
Hayat (Episode 07)
Hayat by Ain Noon Alif
بیوی، بیوی! آج پہلی بار وہ اسے اتنے غصہ میں پکار رہا تھا کہ پورے گھر میں آواز گونج رہی تھی۔
بی۔۔۔۔ سامنے سے آتی حیات کو دیکھ کر باقی کا لفظ منہ میں ہی رہ گیا تھا۔
وہ بڑے جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھا تھا۔ اس کو اس طرح دیکھ کر حیات کے دل میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی۔
ججی۔۔۔۔ فرمائے۔۔ دور سے ہی بولنے کی کوشش کی تھی۔ جب نوفل احمد خان نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر قریب کیا تھا۔ انداز جارحانہ تھا۔
آپ ہ-ہاتھ چھ-چھوڑ کر بھی بات کر سکتے ہیں۔ کتنی زور سے پکڑا ہے آپ کو معلوم ہے۔۔۔
منال کیوں بھاگی تھی بیوی؟ لہجہ سادہ مگر سخت تھا۔
بھ-بھاگی نہیں تھیں وہ۔ کتنی بار بولوں۔۔
اس وقت کہاں ہے وہ کس کے ساتھ ہے بتاؤ؟؟
یا اللہ! آپ کو یقین کیوں نہیں آتا۔ اگر جب یقین کرنا ہی نہیں ہے تو پوچھتے کیوں ہیں؟؟ اور ہاتھ چھوڑیں پلیز درد ہونے لگا ہے اب ہاتھوں میں۔۔ اور ہاں آپی اکیلی باہر گئی تھیں۔ کسی کے ساتھ نہیں۔
“بتاؤ کہاں ہے تمھاری با کردار سوکالڈ بہن۔۔؟؟” اب کے وہ پھر چلایا تھا۔
“مجھےنہیں پتہ کہاں ہے، جو پتا تھا وہ بتا دیا” لہجہ اب کے کمزور ہوا تھا۔
“جھوٹ!”۔۔ اس کے مضبوط ہاتھوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا مگر اسے پرواہ ہی نہیں تھی کوئی نازک جان کس قدر تکلیف میں ہے۔
پندرہ دن بعد آپ کو اب کیوں یاد آ رہا ہے۔۔؟؟
“کیوں جاننا چاہتے ہیں آپ وہ کہاں ہیں۔۔؟؟۔۔ محبت سے تو شادی نہیں کر رہے تھے آپ ان سے۔۔؟؟۔۔ غرض تھی آپ کی کوئی شادی کرنے کی، اب وہ کسی بھی لڑکی سے پوری ہوتی۔ کر تو لی ناں آپ نے تو اب کیوں ان کے پیچھے پڑے ہیں۔۔؟؟۔۔ چھوڑیں ان کا پیچھا جہاں بھی ہوں وہ”۔۔ ہمت کر کے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے۔ جو اس نے دوبارہ دبوچ لیے تھے۔ اور اس شدت اتنی تھی کہ اس کی سسکی نکل گئی تھی۔
“نہ بیوی نہ نوفل احمد خان کو دھوکہ دینے والے سکون سے رہیں یہ تو نوفل خان ہونے نہیں دے سکتا۔۔ نہ۔ تم خود آرام سے بتا دو ہوسکتا ہے سزا میں ترمیم کردوں۔ اگر میں نے خود ڈھونڈا تو تمہاری بہن کو کس زمین نے نگلا کبھی نہیں جان پاؤگی”
“آپ نے شادی کرنی تھی ناں۔۔؟؟۔۔ تو ہو گئی ناں۔۔ تو اب کیوں آپی کو مارنا چاہتے ہیں۔۔؟؟۔۔ مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہیں۔۔ مگر وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں ہے”
“جو لڑکی اپنے نکاح سے بھاگ جائے وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں۔۔؟؟۔۔ کتنی بھولی ہو تم بیوی۔ مگر اپنی بہن کا پتا چھپانے میں تمہیں سزا تو بھگتنی ہوگی نا”۔۔ جھٹکے سے اسے قریب کیا تھا کہ اسکی گرم سانسیں اس کے چہرے کو جھلسانے لگی تھیں، آنکھوں میں بڑھتا خوف اور بہتے آنسو کانپتا جسم بھی اس کے غصہ میں کمی نہیں لایا تھا۔ غصہ میں اس معصوم چہرے پر لکھی تحریر پڑھنے سے قاصر رہا تھا۔
“کک۔۔کیسی سزا ج۔جج۔۔ جب مم۔۔ میں نے کک۔۔ کوئی غل۔۔غلطی کی ہی نہیں تو پپھ۔۔ پھر کیسی سس۔۔سزا۔۔؟؟”۔۔ اب کی بار وہ مارے خوف کے ہکلائی تھی۔۔
“اف بیوی تمھارے الفاظ تو ابھی سے پیرالائز ہو گئے ہیں جب سزا ملےگی تب تمھارا کیا حال ہوگا۔۔؟؟”۔۔ خوفناک لہجے نے اسکی رہی سہی ہمت بھی ختم کردی تھی۔
اللہ کی قسم! آپی نہیں بھاگی تھیں۔ ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ چار دن وہ اسپتال میں رہیں تھیں بےہوش، ایک ایس پی صاحب نے بچایا تھا انہیں اور جب ہوش آیا تب گھر لے آئے۔ بڑا ایکسیڈنٹ تھا ابھی تک چل پھر نہیں پا رہی ہیں وہ۔ اور آپ انہیں مارنے کی بات کر رہے ہیں۔۔ میں نے آپ سے اسی لیے چھپایا تھا۔۔ ہم لوگ زیادہ بڑی فیملی نہیں ہیں۔ دو ہی بہن، دو ہی بھائی۔ آپ نے کہا تھا آپ سیریل کلر ہیں۔ آپ آپی کو مار دیتے تو میں اکیلی بہن بچتی۔ بچوں کی طرح زور و شور سے روتے ہوئے پوری بات بتاتی وہ نوفل احمد خان کے غصہ کو کم کر گئی تھی۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے اپنے غصہ سے باہر اتنا کچھ خراب کر کے آیا تھا، جو حیات کو غداری کے سزا دینے کے ارادے سے آیا تھا۔۔۔۔ اپنی بیوی کے پل پل بدلتے روپ سے خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا۔
تو تمھیں لگ رہا تھا میں منال کو جان سے مار دونگا۔۔
ہاں۔ زبان کے ساتھ گردن بھی زور سے ہلائی تھی۔
آپ کو اتنا غصہ آتا ہے۔ ٹیبل بھی پٹخ دی تھی کھانے سمیت، جب کہ آپ کو پتا ہونا چاہئے رزق کی بےحرمتی کبیرہ گناہ ہے، اور صبح مجھے پٹخنے کا ارادہ تھا وہ تو میں آپکی ہی گود میں گر گئی، پھر روم میں بند ہو گئی نہیں تو آپ مجھے بھی مارتے۔۔۔۔ حیات صاحبہ اس کے غصہ میں کمی دیکھ کر شکایت کرنا نہیں بھولی تھیں۔
واٹ! پندرہ دن سے یہاں اکیلی ہو میرے ساتھ، ایک بار بھی مارا تمھیں۔۔۔ صبح کی اس کی بےاختیاری کو وہ مارنے کا نام دے رہی تھی۔۔ اتنی بڑی اور گہری باتیں کتنے والی سے اس معاملے میں ایسی بیوقوفی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔
وہ میں نے آپ کو غصہ نہیں دلایا۔ “دادی نے کہا تھا کہ آپ کو کچھ بھی نہیں بولنا ہے ورنہ آپ مجھے مارنے سے بھی گریز نہیں کریں گے” اس لیے میں سیف ہوں۔
گریٹ بیوی! تم نے واقعی ایک عظیم گناہ کرنے سے بچا لیا۔ ورنہ میں تو عورتوں کی تکہ بوٹی کر کے کتوں کو کھلاتا ہوں۔ حیات کے اپنے بارے میں خیال جان کر اسے تپ ہی تو چڑھ گئی تھی۔
اور وہ جو پہلے سے ہی پریشان تھی نوفل احمد کی پیشن گوئی سے بے طرح رو دی۔ اور یہ رونا اس کے خوف سے تھا یاکچھ اور وجہ تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ بس اسے موقعہ ملا تھا دل کا غبار نکالنے کا۔
اور نوفل احمد خان جو اتنے غصہ میں تھا۔۔۔ اس کا رونا دیکھ کر کون سا غصہ کہاں کا غصہ۔
بیوی! اسٹاپ اٹ نہیں مار رہا میں تمھیں۔۔۔ عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا میں، سمجھی!۔ اس کے بازوؤں کی پکڑ میں نرمی آئی تھی۔۔ اسے افسوس ہوا تھا کہ ایک تو اتنے پتلے نازک سے ہاتھ اوپر سے پکڑ اتنی سخت۔ اور یہ نوفل احمد خان کی دوسری بےاختیاری تھی۔ جن ہاتھوں کو سختی سے پکڑا تھا اب انہیں نرمی سے سہلا رہا تھا جیسے مرہم لگا رہا ہو۔ وہ جانتا تھا اس کے نازک ہاتھوں پر اس کی سختی کے نشان پڑ گئے ہوں گے، شدت ان ہاتھوں کو دیکھنے کی خواہش جاگی تھی۔
سچ میں نہیں ماریںگے؟ رونا ایکدم بند ہوا تھا۔۔۔ بڑی بڑی آنکھوں میں موٹے موٹے رکے ہوئے آنسو۔۔۔ امید و یاس بھرا لہجہ۔۔۔۔ نوفل احمد خان کے دل میں ہل چل مچا گیا تھا۔ اس نے اس کے پوچھنے پر گردن نفی میں ہلائی تھی۔۔
اور پہلے دن سے ہی ایسا ہو رہا تھا وہ چاہ کر بھی اس پہ غصہ نہیں کر پاتا تھا، اور وہ ایسی ایسی باتیں کرتی کہ وہ بےخود ہوکر اس کو الجھاتا چلا جاتا۔صحیح کہہ رہی تھی وہ پندرہ دنوں میں ایک بار بھی اس کو منال بھولے بھٹکے سے بھی یاد نہیں آئی تھی۔ اور آج جو ہوا وہ یاور قریشی کا کیا دھرا تھا۔ اور اب بھی تو بھول چکا تھا کہ وہ یہاں منال کے بارے میں جاننے آیا تھا۔ مگر اس میں الجھ کر پھر سے بھول گیا تھا۔ تو کیا نوفل احمد خان بدل رہا تھا۔۔ بغیر کسی محنت، بغیر کسی وجہ کے۔ بغیر کچھ خاص ہوئے۔
**********
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا یاور قریشی! تم توڑنے گئے تھے نوفل احمد خان کو اور ٹوٹ کر آ رہے ہو خود۔۔
اتنا مت ہنسو مانیہ چودھری زمین کی دھول تو وہ تمھیں بھی اچھی خاصی چٹا چکا ہے۔ یاور قریشی نوفل سے مار کھا کر اپنے گھر کے بجائے مانیہ چودھری کے گھر آیا تھا۔ جو اسے دیکھ کر اس پر نہ صرف ہنس رہی تھی بلکہ اس کا اچھا خاصا مذاق اڑا تہی تھی۔ جب یاور قریشی نے بھی اسے پچھلا کوئی حوالہ دیا تھا جو واقعی مانیہ چودھری کو خاموش کر گیا تھا۔
نتاشہ بتا رہی تھی کہ آج نوفل احمد خان کوئی سرپرائز دینے والا ہے۔ یاور قریشی کی مرہم پٹی کرتے ہوئے مانیہ چودھری نے اسے بتایا، تھا۔
جو آج میں اسے بول کر آیا ہوں اس سے وہ پارٹی میں تو کیا اگلے ایک ہفتہ تک بھی سیٹ کا رخ نہیں کرےگا۔
تو پھر تم نوفل احمد خان کو نہیں جانتے۔۔ وہ لوگوں کی رکاوٹوں کو پیرو تلے روندتا ہوا اپنا کام کرتا ہے سمجھے۔۔۔ وہ جس کام کا کہہ دے پھر چاہے کسی کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو نوفل احمد خان وہ کام کر کے رہتا ہے۔۔ ایسی بارہا مثالیں تم دیکھ چکے ہو۔ پھر بھی اسے ہلکا لے رہے ہو۔۔ مانیہ چودھری نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا تھا۔
مانیہ ڈیر تو پھر منال کے غائب ہونے کے بعد اس نے شادی کیوں نہیں کی۔۔۔ شادی کرنے گیا تھا کر کے آیا کیوں نہیں؟؟ اور کیا پتا کر چکا ہو۔۔۔ اور کسی کو نہ بتا رکھا ہو، بقول تمھارے وہ جو کرنے جاتا ہے کر کے ہی آتا ہے۔
میں اس کی شادی کسی سے ہونے ہی نہیں دوںگی۔۔۔ وہ صرف مانیہ چودھری کا ہے۔۔۔ اور جو بھی لڑکی اس کی زندگی میں آنے کی کوشش کرےگی اس کا حال بھی۔۔۔۔۔۔ کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔۔ جس کا مطلب یاور قریشی باخوبی سمجھا تھا۔۔۔۔
کسی بھی طرح شام تک خود کو فٹ کرو۔۔ نوفل احمد خان نے ہم دونوں کو آج کی پارٹی میں آنا الاؤ نہیں کیا۔۔۔ میں نے نتاشہ کے ذریقہ ایک کپل اینٹری پاس لیا ہے۔۔۔۔ تو تھوڑا ڈسگائز ہو کر جانا پڑےگا۔۔۔۔۔ جتنے بڑے بجٹ کی فلم ہے اس سے بڑا اس کا سرپرائز ہے۔۔۔ اور مانیہ چودھری مس کر دے ہو نہیں سکتا۔۔۔۔
کمینی تو بہت بڑی والی ہو تم۔۔۔ اپنی ماں سے بھی دس قدم آگے۔۔۔۔ یاور قریشی نے جیسے اسے آئینہ دکھایا تھا۔۔۔۔
اپنے بارے میں کیا خیال ہے، تمھارا تو باپ بھی کمینہ اور ماں بھی۔۔۔ اور تم ان دونوں کا مکسچر۔۔۔۔ یعنی مہا کمینے۔۔۔۔
اس بات کو چھوڑو! “یہ بتاؤ اگر آج نوفل احمد خان کا سرپرائز اس کی واقعی کوئی “بیوی” ہوئی تو۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یاور قریشی کے کہنے پر مانیہ چودھری نے اشتعال سے اس کا ہاتھ دبایا تھا۔۔۔ جس سے اس کے حلق سے زوردار چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔۔
بہت ہی بڑی کوئی کمینی چیز ہو یار۔۔۔۔ مذاق کر رہا تھا۔۔۔
اگلی بار یہ ہاتھ جسم سے الگ کر دوںگی ایسے بد ترین الفاظ منہ سے نکالے تو۔۔۔۔ اول تو جو تم نے کیا وہ سچ ہوگا نہیں، اور اگر ہوا تو نوفل احمد خان کو کچھ نہیں ہوگا مگر اس کی بیوی نوفل احمد خان کے لائق نہیں رہےگی۔۔۔ نوفل صرف مانیہ کا ہے مانیہ کے پاس ہی اسے آنا ہے۔۔۔ اور اس نتاشہ کو بھی سبق سکھانا ہے جس نے میرے نوفل کو سوچنے کا گناہ کیا۔۔ یاور قریشی کو اندازہ تھا کہ مانیہ چودھری سائیکو کیس ہے۔۔
دونوں شام میں پارٹی میں جانے کی پلاننگ کرنے لگے تھے۔۔۔ کون جانے یہ پارٹی کیا رنگ دکھانے والی تھی۔
**********
گرے پینٹ پر سمپل لائٹ پنک کلر کی شرٹ پہنے، اسی کلر کا کیپ پہنے اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح رومال باندھے وہ ممبئی کے، فائو اسٹار ہوٹل میں داخل ہوا تھا۔اور پہلے سے انتظار کرتے شخص کی طرف گرمجوشی سے بڑھا تھا۔
کیسے ہو ایس پی؟
تم سے کم ہینڈسم، مگر تم سےزیادہ اچھا، کم ایروگنٹ، کم روڈ، کم غصہ والا۔۔۔۔ مقابل کے شوخ لہجہ پر وہ بےساختہ مسکرایا تھا۔
رائٹ! تم نوفل احمد خان سے زیادہ اچھے ہو۔۔۔ آئی اگریڈ۔
کیا تم یہاں بھی ایسے ہی بیٹھے رہوگے؟ ایس پی کا اشارہ اسکے ڈھکے چہرے پر تھا۔
یو نو ویری ویل۔۔۔۔
تو یار کیا بھوکا ماروگے۔۔ یعنی اتنے بڑے ہوٹل میں ہم صرف بات کرنے آئے ہیں؟
کھائیںگے بےصبرے انسان۔۔اگر تم اپنی بےہودگی سے باز رہو۔۔۔ اس کا اشارہ اسکا چہرہ کھولنے کی طرف تھا، جو ایس پی ہر بار کرنے کی کوشش کرتا تھا مگر ناکام رہتا تھا۔
ویسے بھی کامیاب نہیں ہوتا میں۔۔۔
ہمم۔ اب بتاؤ کیا رپورٹ رہی؟
تمھارا شک صحیح تھا نوفل۔۔۔ نتاشہ اور مانیہ دونوں نے تمھارے لالچ میں برائیوں کی حدیں پار کردی۔۔۔۔ اب تم بتاؤ ان دونوں میں کس کو شرف قبولیت بخشنے والے ہو۔۔۔ وہ پھر شوخ ہوا تھا۔۔
معاملہ چاہے جتنا بھی سیریس ہو مگر ایس پی الحان سبحانی اپنے انٹرٹینمنٹ کا سامان کر ہی لیتے ہیں۔ مگر الحان ہی کیا جو کسی کے طنز پر باز آجائے۔۔۔
ہی ہی ہی۔۔۔ اب اگلا آرڈر کرو۔۔۔
ہممم! تم شام میں آ رہے ہو آج کلپنا میں۔۔ اوکے
میں وہاں کیا کروں گا۔۔
سب کے ساتھ تمھارے لیے بھی سرپرائز ہے۔۔۔ وہ مسکرایا تھا، ایک بھیگا معصوم سا چہرہ پردہ پر لہرایا تھا۔۔۔۔ جو اس کی آنکھوں میں ایک خماری بخش رہا تھا۔۔۔۔ جو الحان کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہیں رہ سکا تھا۔
تو یہ بات ہے۔۔۔؟ ایس پی نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تھی۔۔۔
بتاؤ جلدی کون ہے۔۔۔؟ وہ بضد ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا نوفل احمد خان کے پرسنل تک پہنچنا آسان نہیں، اگر اسے نہیں بتانا ہوتا تو مقابل جو چاہے کر لے وہ جان نہیں پاتا۔
کہا تو شام میں سب پتا چل جائے گا۔ اور اب تمھارا کام یہ ہے کہ دو کتوں کو ذرا زنجیر سے باندھنا ہے۔۔۔۔ تیسرے کا ذرا مشکل ہے کیونکہ وہ فلم کے سیٹ پر ہی ہوگا۔۔۔ اس کے بعد اس کا بھی لیسن پڑھانا ہے۔۔۔
یاور اور مانیہ۔۔؟
ہمم! صبح کی تمام باتیں وہ اسے بتا چکا تھا۔
اتنی دھلائی کے بعد مجھے نہیں لگتا وہ آئےگا۔۔۔
تم اسے نہیں جانتے ایس پی نوفل احمد خان کے کسی کام میں وہ رکاوٹ پیدا کرنے نہ آئے تو اس کے فرض خراب ہو جائیں گے۔۔ اور مانیہ چودھری کو نتاشہ انفارم کر چکی ہوگی۔۔ کیونکہ وہ پروڈیوسر سے بات کرتے سن چکی تھی۔
تو تم ڈر رہے ہو یاور قریشی سے؟
ڈرتا رو میں اس کے باپ اسے بھی نہیں۔۔ شیروں کو کتے نہیں ڈراتے ایس پی۔۔ میں آج ان دونوں کی طرف سے کوئی بدمزگی ہمیں چاہتا۔۔۔ صبح سے جتنا ہو چکا، انف ہے۔۔
اوکے باس ڈن۔۔۔ تمھارے ان پالتو کتوؤں کی آج نو اینٹری۔۔۔
اور کتنی ہی دیر وہ دونوں باتیں کرتے رہے تھے۔۔۔ نوفل احمد خان کا ایک اور رشتہ۔۔۔ جو اس کے بےحد قریب تھا۔
***********
وہ ابھی ابھی مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔۔ اور اب قرآن پڑھ رہی تھی۔۔ جب نوفل احمد اس کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔ اس کا چہرہ اتنا پرنور لگ رہا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ روازانہ کی سورہ پڑھنے کے بعد وہ دعا مانگ کر اٹھی تو اپنے شوہر کو یک ٹک خود کو دیکھتے پاکر پزل ہوئی تھی۔۔۔
اسکے متوجہ ہونے پر بڑی مشکل سے وہ اس پر سے نظریں ہٹا پایا تھا۔۔
یہ آج کے فنکشن کا لباس۔ تیار ہو جاؤ۔۔ آدھے گھنٹہ میں نکلنا ہے۔۔ اسکی طرف ایک بڑا سا پیکیٹ بڑھاتے ہوئے اسے انفارم کیا تھا۔۔
کیا ہوا؟۔۔۔ اسے پیکیٹ پکڑے ایسے ہی کھڑے دیکھ کر اسنے دریافت کیا تھا۔۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ اکیلے چلے جائیں۔۔ مجھے بہت عجیب سی فیلنگ آ رہی ہیں جانے کا سوچ کر۔۔۔ پیکیٹ پر اپنی پکڑ سخت کرتی وہ اچھی خاصی الجھی ہوئی تھی۔۔ آواز ابھی بھی بھیگی ہوئی تھی۔
ڈونٹ وری بیوی، آئی نو تم پہلی بار جا رہی ہو۔۔۔ آئ ول بی دیئر، کچھ نہیں ہوگا۔۔ اسنے گویا تسلی دی تھی۔۔
نہیں پلیز۔۔۔ مجھے سچ میں نہیں جانا۔۔ آپ غصہ نہیں کرنا۔۔ مگر میں سوچ بھی رہی ہوں نا تو ڈر لگ رہا ہے۔۔ جیسے جا کر غلط ہوگا۔۔ آپ ایسے ریسیپشن کر لیں۔ ساتھ مشورہ بھی حاضر تھا۔
ویری گڈ بیوی! مجھے تو پتا ہی نہیں تھا “بیوی کے بغیر بھی ریسیپشن ہو سکتا ہے”۔۔۔
دیکھیے اگر کسی کا کہیں جانے دل نہ کرے تو نہیں لے کر جانا چاہئے۔۔ کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے خیال ہوتا ہے۔۔ دادی کہتی ہیں جس کام کے خلاف تمھارا دل ہو اس کام کو نہ کرو کیونکہ اس کام میں شر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تمھارے دل میں اس کے خلاف بیزاری ڈال کر تمھیں انفارم کرتا ہے۔۔ معصومیت سے نرم آواز میں کہتی وہ اتنی اچھی لگی تھی کہ اس کا دل چاہا واقعی اسے اس دنیا میں نہ لے کر جائے۔۔ مگر وہ نوفل احمد خان تھا حیا اور بےحیائی کے سبق سے کوسوں دور۔۔
بیوی پچیس منٹ باقی ہیں اتنے میں ہی اب تیار ہونا ہے۔۔۔ تمھاری بات کسی اور دن مان لی جائے گی۔۔ اوکے گو ناؤ۔۔ واشروم کی طرف اشارہ کرتا وہ باہر جانے کو تھا جب اس کی آواز پر رکا تھا۔۔
اللہ کو معلوم ہے میں اپنی مرضی سے نہیں جا رہی اگر کچھ غلط ہوا نا تو گناہگار بھی آپ اور سزوار بھی۔۔ نروٹھے پن سے کہتی وہ کپڑے نکال کر دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور وہ جو اس کی باتوں کا مطلب سمجھ رہا تھا اس کے چیخنے پر چونکا تھا۔۔۔۔
اللہُ اللہ!ُ یہ پہن کر جاؤںگی؟؟ وہ ریڈ اینڈ گولڈن گاؤن کو ہاتھ میں لیے حیرت زدہ سی کھڑی تھی۔۔ جس کا گلا اچھا خاصا ڈیپ تھا اور بیک پر بھی آٹھ نو انچ تک صرف ڈوریاں تھیں۔ سلیوز فل تھیں شاید اسی کے حساب سے لایا تھا۔وہ اس کا گریز سمجھ چکا تھا۔۔۔ جو اس کے سامنے ابھی تک ننگے سر نہیں آئی تھی اس طرح کا لباس۔۔۔
تم اسکارف سے کور کر لینا سارے لباس اس سے بھی زیادہ ماڈرن تھے۔۔ بٹ اب جلدی ریڈی ہو جاؤ۔۔۔ نو آرگیو۔۔۔ ورنہ! اس ورنہ میں چھپی دھمکی سے وہ خاموش ہوئی تھی۔۔۔
یا اللہ! اگر میں ضد کرتی نا تو یہ کیا پتا کل مجھے جانے ہی نہ دیتے۔۔۔ اور پھر کب تک مجھے یہاں رکھتے۔۔۔ اس لیے میں ان کی بات مان رہی ہوں، تو ناراض نہیں ہونا۔۔۔ کیونکہ ابھی بھی میرا دل سوچ سوچ کے وائبریٹ ہو رہا ہے۔۔۔وہ آنسو پونچھتی، جو آج بلا وجہ ہی آئے جا رہے تھے واشروم کی طرف بڑھ گئی تھی۔
جاری ہے۔
