Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 16,17)

Hayat by Ain Noon Alif

وہ ایک گھنٹے بعد حیات کے روم کی طرف آیا تھا۔ وہ مصلہٰ پر سجدہ کی حالت میں تھی۔ وہ بھی اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔

بیوی! اس کے سجدہ میں رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔ تب اسے کرنٹ لگا تھا۔ اس کا بخار بڑھ گیا تھا۔ اس نے فوراً ڈاکٹر عائشہ کو کال کی تھی۔ وہ ابھی تک نہیں آئی تھیں۔ مگر اسے انسٹرکشنز دے چکی تھیں۔ وہ اس کو اٹھا کر ہال میں لایا تھا اور صوفے پر لٹا کر اس کے ماتھے پر آئس پیڈ رکھا تھا۔ ہاتھوں اور پیروں کو الگ الگ ٹھنڈے پانی کے باؤل میں ڈالا۔ بیس منٹ بعد وہ اس کے لیے صحت مند ناشتہ تیار کر چکا تھا۔ جو شاید پھلوں کی کھیر پر مبنی تھا۔

بیوی چلو اٹھو اب، بہت آرام ہو گیا۔ جلدی ناشتہ کرو بخار کم ہو گیا ہے۔ وہ اسے اٹھا کر اس کا کچن میں ہی ہاتھ منہ دھلوا کر لایا۔ اور اسکی مزاحمت کی پروا کیے بغیر اس کو اپنے بالکل پاس بٹھایا۔

یہ آپ نے بنایا۔ آواز میں کافی نقاہت تھی۔

نہیں بیوی! تمہارے شوہر کو کچھ بھی پکانا نہیں آتا۔ یہ تو اس گھر میں تمہارے ساتھ آنے والے والے فرشتوں نے بنایا ہے۔ اس کی بات پر اس کے پزمزدہ چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی اور اسے مسکراتے دیکھ کر وہ خود بھی مسکرانے لگا تھا۔

چلو منہ کھولو۔۔ وہ چمچ اس کے منہ قریب لا کر بولا تھا۔

میں خود کھا لوں گی۔۔ اس کے ہاتھ سے چمچ لینے کی کوشش کی تھی۔

بیوی میں کچھ چیزوں میں تمہاری کیا اپنی بھی نہیں سنوں گا۔۔ بس اتنا جان لو جو کروں گو اللہ کے لیے کروں گا اور وہ ہم میں بالکل جائز ہوگا۔ تو تمہیں میری کچھ ڈمانڈز بغیر آرگیومنٹ کے ماننی ہوں گی۔ مانوگی نا؟

جی۔ دادی نے کہا تھا شوہر کی ہر جائز بات ماننا فرض ہوتا ہے۔ اور نہ ماننے پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اس کے بتانے پر ایک محفوظ مسکراہٹ اس کے چہرے کا احاطہ کر گئی تھی۔ اور پھر اس کی اس معصومیت کا فائدہ اٹھا کر وہ اسے پورا ایک پیالہ کھیر کھلا چکا تھا۔ اس شرط پر کہ وہ دو پیالے خود کھائےگا۔ کیونکہ وہ اس سے زیادہ موٹی نہیں ہونا چاہتی تھی۔

میں اتنا نہیں کھاتی۔ اب موٹی ہو جاؤں گی۔ لہجہ میں ناراضگی تھی۔

موٹا تو تمہیں کرنا ہے بیوی۔ ابھی بچی لگتی ہو، جبکہ نوفل احمد خان کی بیوی کو لڑکی لگنا چاہیئے۔

مطلب ابھی میں لڑکی نہیں لگتی۔۔ اور کس بچہ کا وزن 44kg ہوتا ہے۔ اس کے منہ پھلا کر کہنے پر اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

پھر میں نے صحیح گیس کیا۔۔ اب تمہیں بڑا ہونا پڑےگا۔ کم از کم 50kg ہونے تک تمہاری ڈائٹ میں ڈسائڈ کروں گا۔ اس میں تمہاری کوئی مرضی نہیں۔ 78kgکے نوفل احمد خان کی بیوی کو 50kg کا ہونا ضروری ہے۔ ایک سبجیکٹ میں تم میری ٹیچر اور دوسرے سبجیکٹ (ازدواجی زندگی کی ضروریات) کا میں تمہارا ٹیچر۔ اوکے۔ اس کے سیریس دو ٹوک انداز پر اسے ہاں کرتے ہی بنی تھی۔

مجھے موٹا نہیں ہونا آپکی طرح، آپ انکل لگتے پھر میں بھی انکل لگوں گی۔۔ وہ اب بھی منہ پھلا کر بیٹھی تھی۔

ہاہاہاہاہا بیوی تم انکل نہیں آنٹی۔ انکل کی بیوی آنٹی ہوتی ہے۔بٹ ڈونٹ وری میں تمہیں آنٹی نہیں لگنے دونگا۔اور وہ اسے باتوں میں لگا کر اس کا دھیان بٹا رہا تھا۔ رات کی کسی بھی بات کی طرف اس کا دھیان اس نے جانے ہی نہیں دیا تھا۔

کافی کم ہو گیا ہے بخار پھر بھی یہ دوائی لے کر تھوڑا آرام کرو۔

مگر اس دوائی سے نیند آتی ہے بہت۔ کوئی سیرپ دے دیں۔ اس دوائی کو دیکھ کر اس نے منہ بنایا تھا۔

ابھی یہ لے لو بعد میں سیرپ۔ گولیاں اس کے منہ میں ڈالتا وہ پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگا گیا تھا۔ جس سے اسے دوائیاں نگلنی ہی پڑیں۔

اونہہ، یہ میں اٹھا لوں گا اب تم آرام کرو۔ اسے دسترخوان سمیٹتا دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔

اگر بیماری میں کام کو بالکل اگنور کرتے ہیں تو بیماری زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہلکے پھلکے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اس سے جسم سست نہیں ہوتا۔ رسانیت سے کہتی وہ سامان اٹھا کر کچن میں رکھ آئی تھی۔ اتنے تیز بخار کے بعد صرف ایک گھنٹے کی اس کی محنت سے اس کی بیوی کی پزمزدگی کسی حد تک کم ہو گئی تھی۔

ہر چیز کا علم ہے بیوی تمہیں، مگر شادی شدہ زندگی کے تقاضوں سے بالکل ہی انجان ہو۔ اس کے بارے سوچتا وہ اس کے پیچھے ہی کچن تک آیا تھا۔جہاں وہ اب کچن کا یٹ فارم صاف کر رہی تھی۔ کمزوری ابھی بھی اسے کافی تھی۔

جی۔ اور اب میں جاؤں نیند آ رہی ہے۔ اتنی بدتمیز یہ دوائی ہے دس پندرہ منٹ بعد ہی نیند آنے لگتی ہے۔ آپ کو پتا ہے ایک ہفتہ سے کھا رہی ہوں ایک دم سست فیل کر رہی ہوں۔ اب بالکل نہیں کھاؤں گی۔ بوجھل آواز سے کہتی وہ اس کا جواب سنے بغیر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ کتنے ہی پل اس کی معصومیت پر مسکراتا رہا تھا۔ پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اب اس کے زخموں میں اکڑ پیدا ہو رہی تھی۔

********************

کچھ ہی دیر ہوئی تھی اسے لیٹے ہوئے جب اچانک اسے رات کا ایک اذیت ناک منظر یاد آیا تھا۔ اور وہ بغیر سوچے سمجھے نوفل احمد خان کے کمرے کی طرف بھاگی تھی، دوائی کے اثر سے قدموں میں استقامت نہیں تھی پھر بھی وہ اس کے روم میں داخل ہو گئی تھی۔

بیوی! سب ٹھیک ہے۔۔؟ اپنے کمر اور سینے پر آئنمنٹ لگانے کی کوشش کرتا وہ اسے دیکھ کر ٹھٹھکا تھا۔۔ اس کے خیال سے وہ اب تک پھر سے سو چکی ہوگی، کیونکہ اس کی دوائی کے ساتھ ساتھ وہ اسے آدھی نیند کی ٹیبلیٹ بھی دے چکا تھا تاکہ وہ پانچ چھ گھنٹے آرام سے سو سکے، کیونکہ وہ خود بھی سونا چاہتا تھا۔

ی۔یہ وہ اس کے سینے اور کمر کے سرخ نشانوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی، آنسو پھر بہنے لگے تھے۔تکلیف کی شدت سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔

لگا دو بیوی، لگ ہی نہیں رہا ہے۔ وہ ٹیوب اس کی طرف بڑھا کر بولا تھا۔ کچھ توقف کے بعدحیات وہ ٹیوب لے کر لگانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔چار پانچ بیلٹ کے نشان تھے جو کافی سرخ ہو رہے تھے جیسے ان سے ابھی خون چھلکنے لگےگا۔

آپ کو درد ہو رہا ہے۔۔ آواز کی لرزش واضح تھی۔ اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ وہ بغیر دیکھے محسوس کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر عائشہ نے بتایا تھا اسے وہ فزکلی کافی کمزور تھی۔ اس لیے بہت سی چیزیں اس سے برداشت نہیں ہوتی تھیں جو بےہوشی یا بیماری کی صورت اختیار کر جاتی تھیں۔ آٹھ دن میں وہ اور بھی کمزور ہو گئی تھی، مگر اب نوفل احمد خان کو اسے فزکلی پریپئر کرنا تھا۔ اور مینٹلی بھی۔

درد نہیں ہے بیوی، جلن ہو رہی ہے بس۔ درد تو بس پہلی بار ہوا تھا۔

آپ نے ایسا کیوں کیا تھا؟ ۔۔

تاکہ مجھے بھی سزا مل جائے۔ جانتی ہو نا کسی کو بےحجاب کرنا اس کی چادر اتارنا بڑا گناہ ہے۔ اور اس لڑکی چادر اتارنا جو شرعی پردہ کرتی ہے تو اور بھی بڑا گناہ ہے۔۔۔ ہے نا؟ آخر میں اسی سے سوال کیا تھا۔ جو اب اس کے سینے پر کریم لگا رہی تھی۔ اس کے پوچھنے پر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔

مگر پھر بھی آپ کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مجھے بچا کر آپ اپنی غلطی سدھار چکے تھے۔ اور اب آپ سوئیں گے کیسے۔ دونوں طرف سے زخمی ہیں۔ اسے واقعی اس کی فکر ہو رہی تھی۔

تم سلاؤگی نا تو سو جاؤں گا۔ اس کی فکر پر وہ نہال ہو رہا تھا۔

میں کیسے سلاؤں گی۔۔۔؟ وہ حیران ہوئی تھی۔

جیسے میں نے سلایا تھا۔

مگر میں زخمی نہیں تھی آپ کو بہت پین ہوگا سونے میں۔۔

تمہیں میری فکر ہو رہی ہے؟ اس کے پوچھنے پر اثبات میں سر ہلایا تھا۔ اور نوفل احمد خان اس کے جواب پر آنکھیں بند کر گیا تھا۔

کیا ہوا۔ بہت درد ہو رہا ہے۔ اس کے زور سے آنکھیں میچنے پر اسے رونا آیا تھا۔ اگر اتنے زخم اسے لگتے تو وہ درد سے ہوش میں بھی نہیں آتی۔ اس کے آنسو اس کے ہاتھ پر گرے تو وہ آنکھیں کھول اسے تکنے لگا تھا جو اس کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی شاید اس کے شرٹ لیس ہونے سے۔

بیوی یقین کرو مجھے یہ زخم تکلیف نہیں دے رہے مگر تمہارے آنسو جان لیوا ہیں یار۔ اس کا گیلا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا وہ خود بھی تکلیف میں تھا۔ اس نے ابھی تک اسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ جب سے اس کی زندگی میں آئی تھی رونا ہی رونا نصیب ہوا تھا۔

وہ اب اس کی کمر پر لگا رہی تھی جب لگاتے لگاتے اس کی کمر پر ہی سر ٹکاکر آنکھیں موند گئی تھی۔ ٹیوب ہاتھ سے گر گئی تھی اور ہاتھ ایکدم ڈھیلے پڑ گئے تھے دوائی نے اپنا کام کر دکھایا تھا۔

دل اور جسم کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں بیوی جب تم پاس ہوتی ہو۔ تمہارے ساتھ ان زخموں کے ساتھ بھی نوفل احمد خان سکون سے سو سکتا ہے۔ اسے صحیح سے لٹانے کے بعد اس نے ایک پین کلر لی تھی اور پھر اس کے پاس آکر لیٹ گیا تھا۔ ان زخموں کے ساتھ وہ اسی طرح اس کی نرمیوں کے خمار کے ساتھ ہی سو سکتا تھا۔

*******************

نوفل احمد خان نے اپنے قریب سوئی اپنی متاع کو دیکھا تھا۔ اس کے سر پر نرمی سے بوسہ دے کر اس کا بخار چیک کیا جو اب قدرے کم تھا۔ اٹھ کر بیٹھنے سے اس کے پورے جسم میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔ وقت دیکھا تھا تو دو بج رہے تھے۔

بیوی اب اٹھ جاؤ لنچ ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔ اس کے چہرے پر انگلیاں پھیرتا وہ اسے اٹھا گیا تھا۔ نیند میں ڈوبی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور نیند کے نشہ میں ڈوبا معصوم چہرہ نوفل احمد خان کو بہکا گیا تھا۔ دل کی آواز پر لبیک کہتا وہ اس کا نشہ بھک سے اڑاتا واشروم چلا گیا تھا۔

یا اللہ، اپنے دل پہ ہاتھ رکھے وہ اپنی دھڑکن کو قابو کر رہی تھی جس کی اسپیڈ اسے پسینہ پسینہ کر رہی تھی۔ اس کے روم میں خود کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔

یا اللہ دو بج گئے۔ فوراً بیڈ سے اتری تھی اور نوفل احمد خان کے لیے چادر کو مصلہ کی طرح بچھا رہی تھی جب وہ باہر آیا۔

کیا کر رہی ہو بیوی! اس کی آواز سن کر وہ اچھلی تھی اس کی کچھ دیر پہلے کی گستاخی اس کے چہرے کا رنگ بدل گئی تھی۔

و۔وہ مم۔میں آپ کی نماز کے لیے چادر بچھا رہی تھی اور آپ کو جھکنے میں تکلیف ہو تو کھڑے کھڑے ہی نماز پڑھ لیجیے۔ اس کی طرف سے رخ موڑے موڑے ہی جواب دیا تھا۔

تھینکس۔۔ مگر کیا تمہیں یقین تھا میں نماز پڑھوں گا۔۔۔ وہ اب شرٹ لے کر مصلہ پر کھڑا ہو چکا تھا۔ واقعی وہ خود بخود وضو کر آیا تھا۔ مگر پھر بھی اس سے پوچھنا ضروری سمجھا۔

دادی کہتی ہے عمل کے لیے نصیحت عملاً کرو تاکہ سامنے والا بنا شرمندہ ہوئے نیکی کر لے۔ یہ باتیں وہ بہت کانفیڈنٹ سے بولتی تھی۔

اور آپ پلیز شرٹ نہیں پہنے اس سے جلن ہوگی۔۔ اسے شرٹ پہنتے دیکھ کر وہ ٹوک گئی تھی۔

تو پھر کیسے پڑھوں نماز۔۔ سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں جو اب بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ چہرے کا رنگ ابھی بھی اس کی حالت بیان کر رہا تھا۔

اس کے روم میں کوئی بھی ہلکا کپڑا موجود نہیں تھا۔

آپ پلیز آنکھیں بند کریں۔۔۔ وہ زبردستی اس کی آنکھیں بند کروا گئی تھی۔ پھر تعوذ پڑھ کر اپنا دوپٹہ اس کے ہاتھوں میں تھمایا اور بغیر اس کو دیکھے وہ اس کے روم سے نکلتی چلی گئی تھی اس کی حالت دیکھ کر اس نے بھی اسے روکنے کی کشش نہیں کی۔ اور کچھ دیر اس کی بیوی کے وجود کو چھپانے والا پردہ اب اسے چھپا گیا تھا۔ اور اسے محسوس ہوا تھا جیسے اس نے حیات کو اپنے گرد لپیٹ لیا ہو۔ اس کے حصار سے خود آزاد کرتا وہ نماز کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔

اور آنے والے دنوں میں دونوں میں کسی حد تک بے تکلفی ہو گئی تھی۔ وہ اسے اب اپنے ہی روم میں شفٹ کر چکا تھا۔ وہ بھی اب اس کی عادی ہوتی جا رہی تھی یا پھر نوفل احمد خان خود کا عادی بنانا جانتا تھا۔ وہ اس کے کھانے پینے کا اتنا خیال رکھنے لگا تھا کہ دو ہفتوں میں ہی اس کا وزن دو کلو بڑھ چکا تھا۔ اپنے ساتھ ساتھ اس کی بھی ورزش کرواتا۔ کبھی اپنی شدتوں سے اسے سرخ کر دیتا کبھی ا سے معنی خیز باتیں کر کر کے زچ کرتا۔۔ جس سے وہ بھی اب کسی حد تک اس رشتہ کو سمجھنے لگی تھی۔ وہ اسی کے ساتھ نماز کی پابندی کرنے لگا تھا۔ روزانہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا۔ پندرہ سال پہلے جو سبق اس کی ماں نے پڑھایا تھا سب پھر سے ازبر ہو گیا تھا۔ مگر آج بھی وہ اپنی ماں کا نام نہیں لیتا تھا۔ حیات کے آنے سے اس کی زندگی صحیح ٹریک پر آ گئی تھی مگر دونوں کے رشتہ میں دوری ابھی بھی تھی۔ وہ اس کی معصومیت کو برقرار رکھتے ہوئے دھیرے دھیرے اس رشتہ کے قریب لا رہا تھا۔ اور آجکل وہ نیا بزنس کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

ان دونوں میں کوئی اظہار نہیں تھا پھر بھی دونوں مطمئن تھے۔ ایک کو اس کا عشق مجازی روک رہا تھا تو دوسرے کو اس کا عشق حقیقی۔ اور یہ ملن تبھی واقع ہونا تھا جب ان کا عشق ایک ہوتا جس کے لیے ابھی وقت درکار تھا۔

Episode 17

اللہ اللہ! ایسے اپنی ٹیچر کو گود میں بٹھا کر کون پڑھتا ہے۔۔؟ آپ بالکل بھی اچھے اسٹوڈنٹ نہیں ہیں۔ وہ نوفل احمد خان کے زبردستی خود کو اس کی گود میں بٹھانے پر چڑ بھی رہی تھی اور بوکھلا بھی رہی تھی۔

تمہارا شوہر بیوی۔۔ اس سے شرارت کرتا آج وہ اسے بوکھلائے دے رہا تھا۔

ایسے کیسے پڑھاؤں گی۔۔ مجھ سے نہیں ہوگا پلیز۔۔ وہ منمنائی تھی۔ مگر وہ اسے اپنے جال میں الجھانا جانتا تھا۔

پڑھانا تو پڑےگا بیوی۔۔ اور تم تو اچھی بیوی ہو اللہ کو راضی کرنے والی۔۔ اس کے روہانسے انداز پر اس کی ناک دباتا وہ اسے اسی طرح قائل کرتا تھا۔

اللہ پوچھے گا نا مجھ سے کہ گود میں بیٹھ کر کون پڑھاتا ہے۔۔ تو میں کہہ دوں گی آپ نے زبردستی بٹھایا تھا۔۔ آپ کو قرآن پڑھا رہی ہوں پھر بھی بچوں کی طرح گود میں بٹھاتے ہیں۔

ہاہاہاہاہا بٹ میں بچی سمجھ کر نہیں اپنی بیوی سمجھ کر بٹھاتا ہوں۔ دور سے مجھے آواز نہیں آتی ہے نا تمہاری اس لیے قریب کرنا پڑتا ہے۔

چلو! اب پڑھاؤ مجھے۔ اتنے دن سے پڑھا رہی ہو یہ تو بتایا ہی نہیں کہ تجوید یہ مخارج وغیرہ ضروری کیوں ہیں۔۔؟ اب وہ سوال کر کے اس کا ذہن اس طرف سے ہٹانے کی کوشش میں تھا۔

بتاؤ بیوی۔ کیا تمہیں نہیں پتا۔۔ اس کی کنفیوزن سمجھتا وہ اسے اکسا رہا تھا۔

الحمد لله پتا ہے مجھے۔ سب سے پہلے ہمیں یہی بتایا گیا تھا۔

چلو پھر شروع ہو جاؤ۔ اس کے کہنے پر وہ اسے بتانے لگی تھی۔

کیونکہ اللہ نے قرآن میں ہی فرما دیا “قرآن کو اس کی ترتیل کے ساتھ پڑھو”۔ قرآن کو اس طرح پڑھو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ یعنی اللہ نے جیسا اتارا ویسا ہی پڑھنا فرض ہے۔ آپ کو پتا ہے بغیر مخرج نکالے قرآن پڑھنا گناہ ہے، کیونکہ اس سے قرآن کے معنی بدل جاتے ہیں، اور قرآن میں تبدیلی بڑا گناہ ہے۔ اور آج ہم یہی کر رہے ہیں۔

قرآن کو جاہلوں کی طرح پڑھتے ہیں جیسے۔ ‘ح’ کی جگہ ‘ہ’ ، ‘ص’ کی جگہ ‘س’، ‘ذ’ کی جگہ ‘ز’ اب بتائیں اس سے معنی بدلےگا یا نہیں۔۔ ‘الحمدلله’ کا مطلب ہے “تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں” مگر بہت سے پڑھنے والے پڑھتے ہیں “الہمداللہ” یعنی ” تمام برائیاں یا کچرا اللہ کے لیے ہیں”. نعوذ باللہ اللہ معاف فرمائے۔ وہ اسے حرف کی ادائیگی کے ساتھ سمجھا رہی تھی بالکل ایک استاد کی طرح۔ اور وہ ایک ٹک اس پر نظریں جمائے بہت غور سے سن رہا تھا۔ اور جب وہ اس کو بتاتی تھی تب وہ اسے نہیں الجھاتا تھا اتنا لحاظ اسے بھی تھا۔

ایسے پندرہ حروف ہیں جن کی مشق بہت ضروری ہے۔ ورنہ ایک دوسرے کی جگہ پڑھ کر ہم پورے قرآن کے معنی کو بدل دیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم تو قرآن پڑھتے ہیں مگر کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ معنی تبدیل کر کے جیسا پڑھتے ہیں اللہ ویسا ہی تو دیتا ہے۔ اپنے استاد کی بات اسنے ہو بہو اس کو بتائی تھی۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی بہت کوشش کے بعد بھی یہ الفاظ نہیں نکلتے ان پر کوشش کرنا فرض ہے ورنہ گناہگار ہوں گے اور پھر بھی نہ نکلے تو لاچاری ہے۔ اللہ پوری امت کو توفیق دے قرآن کو صحیح پڑھنا سیکھنے کی۔ یہی تو بہترین عادت تھی اس کی ہر اچھی بات بتانے کے بعد وہ پوری امت کے لیے دعا کرتی تھی۔

اور نوفل احمد خان تو بس اس کو سنتے رہنا چاہتا تھا۔ تمام تر بچوں جیسی عادتوں کے باوجود دینِ علم میں اس کا انداز دل میں اترنے والا ہوتا تھا۔

آپ سے ایک بات کہوں۔۔ امید بھری نظریں اس پر ٹکی تھیں۔

جتنی ہیں سب بولو بیوی، ساری اجازتیں ہیں تمہیں اپنے شوہر کو کچھ بھی کہنے کی پوچھنے کی۔۔ اس کے معاملے میں ایسا ہی تو ہو گیا تھا وہ۔۔

آپ ایک ناظرہ قرآن کسی اچھے قاری کے سامنے کر لیں۔ ان شاء اللہ پھر کوئی دکت نہیں رہےگی۔

ان شاء الله۔ اس کو اپنے حصار میں قید کرتا وہ اس کے کندھے پر سر ٹکا گیا تھا جس سے حیات اور نروس ہو رہی تھی مگر کچھ کر نہیں سکتی تھی اس معاملے میں وہ اپنی ہی منواتا تھا۔

اور دوسرا حکم بیوی۔ اس کے سوال پر اس نے کچھ دیر سوچا تھا اور یاد آتے ہی اس نے فوراً پوچھا تھا۔

آپ کی عمر کتنی ہے۔۔؟ اس کے سوال پر حیران ہوتا وہ اسے جواب دے گیا تھا۔

27 سال۔

آپ نے کتنی عمر تک مکمل پانچ وقت کی نماز پڑھی۔

بارہ سال۔ اور پورے پندرہ سالوں تک میں نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اب کے لہجے میں کچھ شرمندگی تھی۔

ہمم۔۔ اس کی گود میں بیٹھی وہ اب اس کے فون میں نمازوں کا حساب لگا رہی تھی۔

32850 نمازیں آپکی باقی ہیں۔ اگر روزانہ ایک ایک دن کی قضا کریں گے تو پورے پندرہ سالوں میں ادا ہونگی، دو دو کریں گے تب بھی سات آٹھ سال لگیں گے اور زندگی کا بھروسہ ایک پل کا بھی نہیں، ایک نماز بھی باقی رہ گئی تو بھی اس کے لیے جہنم میں دو کروڑ اٹھاسی لاکھ برس جلنا پڑےگا۔ اور اللہ معاف کر دے تو اس کا کرم۔۔ مگر ہمیں اس کو پورا کرنے کی کشش کرنا ضروری ہے۔ اب وہ مکمل اس کی استانی بنی ہوئی تھی۔ اور وہ واقعی خود کو اس کا اسٹوڈنٹ سمجھ رہا تھا۔

اور ان نمازوں کا فدیہ ہوتا ہے پندرہ لاکھ۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی۔۔

آپ کے پاس پندرہ لاکھ روپے ہیں؟؟؟ اب کے چہرہ اس کی طرف کر کے سوال کیا تھا۔

اس وقت میرے پاس دس کروڑ روپے ہیں بیوی۔ اس کے بتانے پر وہ آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہی تھی۔

دس کروڑ۔۔ مگر اس میں فلموں کے کتنے ہیں۔۔۔؟ وہ اس کا حساب کتاب بالکل بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ لیکن جواب اسی کی طرح دے رہا تھا۔

یہ سارے فلموں کے ہی ہیں بیوی۔۔ اور ان نمازوں کا یہ فدیہ میں پندرہ کیا تیس دے دونگا۔

نہیں آپ ان پیسوں کا فدیہ نہیں دے سکتے۔ انفیکٹ آپ یہ پیسے ثواب کی نیت سے استعمال بھی نہیں کر سکتے۔۔ کبھی کسی کو حرام کام میں ثواب ملتے دیکھا ہے۔

واٹ۔۔ تو ان پیسوں کا کیا ہوگا بیوی۔۔ کیا سیریسلی تم یہ یوز نہیں کرنے دوگی۔۔۔؟ وہ شاکڈ ہوا تھا اس کے بتانے پر۔

نہیں آپ ان کو اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے۔ مگر ان کو پھینک بھی نہیں سکتے۔

تو کیا کریں گے بیوی اب وہ اس کی عقل پر ماتم کر رہا تھا۔۔

ہمم۔۔ کچھ دیر اس نے اپنی شہادت کی انگلی کو اپنے ہونٹوں پر ٹیپ کرتے سوچا تھا اور جیسے مسئلہ یاد آنے پر چہکی تھی۔

آپ کسی ہندو سے دس کروڑ قرض لیں اور اس کو اپنی فلموں کے پیسے واپس قرض کی ادائیگی میں دے دیں۔ اس طرح ان شاء اللہ پھر آپ کی یہ رقم حلال ہو جائے گی۔ لہجہ پرجوش تھا اور نوفل احمد خان جو سوچ رہا تھا کہ اتنی بڑی رقم اس کے لیے حرام ہو جائےگی تو وہ بالکل فقیر ہو جائےگا۔ مگر جس کی بیوی “حیات” تھی تو اللہ اسے کیسے فقیر ہونے دیتا۔ اپنی ایک بہترین نعمت دے کر تو وہ نوفل احمد خان کو دونوں جہاں میں غنی کر گیا تھا۔

تو پھر نوفل احمد خان کیسے نہ عشق کرے اپنی بیوی سے جو اسے قطرہ قطرہ جوڑ رہی تھی۔ وہ اگر اس کے معاملے صبر کر رہا تھا تو اس سے اس صبر سے کئی گنا بڑی نعمت حاصل کر رہا تھا۔

سنیے۔۔ وہ کچھ پوچھنے والی تھی جب اس کے فون پر دادی کی کال آئی تھی۔ اس کا سوال ادھورا رہ گیا تھا۔ جو نوفل احمد خان کو یاد رہنے والا تھا وہ جب تک پوچھتا نہیں تھا۔ کیونکہ اس کی بیوی کا ہر سوال گہرے مسائل میں ڈوبا ہوا ہوتا تھا۔

************

تم کچھ پوچھنے والی تھی بیوی دادی کے فون پر بات ادھوری رہ گئی تھی۔ اسے اپنے ساتھ لٹاتا وہ اس کا ادھورا سوال پوچھ رہا تھا۔

تھوڑی دیر غور کرنے پر اسے یاد آ گیا تھا۔

اوہ۔۔ وہ میں پوچھ رہی تھی کہ یہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں کن پیسوں کا ہے۔۔؟

اور اس کا سوال سن کر وہ کچھ دیر ہنستا رہا تھا۔

بیوی جو سوال تمہیں شادی کے دن ہی کرنا چاہئے تھا جب کھانے کی بات کی تھی۔۔ دو مہینے مہینہ لگا دیے یہ پوچھنے میں تم نے۔۔

تو اب بتا دیں۔ وہ اس سے تھوڑا فاصلہ رکھنے کی کوشش کررہی تھی جسے وہ ناکام بنا گیا تھا۔

بے فکر رہو بیوی جس طرح اب تک تم یہاں حلال کھا رہی ہو ویسے ہی حلال جگہ میں رہ بھی رہی ہو۔ اس کے دوپٹہ کو ماتھے سے پیچھے سرکاتا وہ اسے مطمئن کر گیا تھا۔

تو پھر کیسے خریدا۔۔ اب کے لہجے میں حیرانی تھی۔

جو عورت بارہ سال پہلے میری ماں تھی انہوں نے کچھ زمین میرے نام کی تھی پانچ سال پہلے اس کو بیچ کر یہ فلور خریدا تھا پاپا کے کہنے پر۔ اس کے لہجہ میں نفرت تھی یا تکلیف وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔

آپ اپنی ماں کے لیے ایسا بول رہے ہیں۔۔ اللہ ناراض ہوگا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے آپ کو ان سے نفرت نہیں کرنی چاہیئے۔ ان کے عمل کی وہ اللہ کے سامنے خود جواب دہ ہیں مگر ان سے متنفر ہو کر آپ گناہگار ہو رہے ہیں۔ اور آپ نے خود بتایا تھا کہ آپ کی ماں نے ہی آپ کو نماز، قرآن سکھایا، سب کی عزت کرنا سکھائی، اورکم عمر میں ہی وہ آپ کو بہت اچھی اچھی باتیں سکھا چکی تھیں جس کی وجہ سے آپ برائی کے گھر میں رہنے کے باوجود بھی وہاں کی برائی سے محفوظ رہے۔۔ تو جن کی تربیت اتنی زورآور ہے وہ غلط کیسے ہو سکتی ہیں۔۔ آپ نے سچ کا پتا لگانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ وہ اب اپنے مطلب کی بات کر رہی تھی جو اسے کئی دن سے پریشان کر رہی تھی۔

بیوی یہ کوئی فلم نہیں ہے جہاں ٹوسٹ پر ٹوسٹ اور راز میں راز رہے یہ اصل زندگی ہے۔ ان کی تصویریں دیکھی تھیں میں نے جو ایڈٹ نہیں رئیل تھیں۔ تو کیا بچتا ہے زندگی میں، ان کے اس عمل سے نوفل احمد خان ایک ناکارہ شخصیت بن کر رہ گیا، زندگی نے ان کی وجہ سے اتنے زخم لگائے ہیں جو اب بھی رستےہیں۔۔ اس کی آواز میں پنہا تکلیف اس نے اپنے دل میں محسوس کی تھی مگر پھر بھی اس کا دل اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھا۔ جو عورت بچپن سے ہے اپنے بچے کو گناہ ثواب کے کاموں کا فرق سکھائے، نیکیوں کی تلقین کرے وہ ایسی کیسے ہو سکتی ہے۔۔

بیوی زیادہ مت سوچو تمہاری یہ بیماری ابھی بھی نہیں گئی نا لگتا ہے اس کا بھی علاج بھی اب مجھے ہی کرنا پڑےگا۔

آپ سچائی جاننے کہ کوشش کریں جن لوگوں نے تصویری دکھائیں وہی لوگ کچھ نہ کچھ تو ضرور جانتے ہوں گے، اور وہ آپ کے ویسے ہی دشمن ہیں تو پھر آپ ان کی باتوں پر یقین کیسے کر سکتے ہیں گویا اس کی عقل پہ ماتم کیا تھا۔ اور جیسے آپ کی تصویریں ایڈٹ تھیں ویسے ہی ان کی۔۔۔

بیوی نیند نہیں آ رہی ہے تو تمہیں کوئی نیا چیپٹر پڑھاؤں۔۔ اس وحشت ناک قصہ سے وہ بچنا چاہتا تھا جس سے بچنے کے لیے وہ دو مہینے پہلے تک کئی نیند کی گولیاں کھا کر ہوش و خرد سے بیگانہ پڑا رہتا تھا۔ اب بھی اس کی وحشت بڑھتی جا رہی تھی۔ اس لیے وہ اسے بار بار یہ بات کرنے سے روک رہا تھا۔

آپ سمجھیں تو میری بات کو، کوئی تو طریقہ ہوگا سچ جاننے کا، اصل بات پتا لگانے کا، ورنہ تو آپ زندگی بھر ان ست نفرت کرتے رہیں گے۔ اور آپ کے سوا تو ان کے ایصال و ثواب کے لیے دعا کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔۔ وہ اپنی ہی بات پر اڑی ہوئی تھی جیسے آج ہی سچائی پتا کروا کے رہےگی اور اسکی بدگمانی مٹا کر رہےگی۔

تو تم نہیں مانوگی بیوی، ٹھیک ہے پھر۔ اس سے پہلے وہ کچھ بولتی یا سمجھتی نوفل احمد خان اس کے بقیہ الفاظوں کو اس کے منہ ہی میں روک چکا تھا۔ یہ اس کی برداشت کی حد تھی۔

یہ اس کی شدت تھی یا وہ اس ذکر پر پھر سے ڈپریشن میں چلا گیا تھا۔ جو بھی تھا مگر وہ اپنے اندر بڑھتی وحشت پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہا تھا۔ مگر اس نے اب بھی کوئی حد پار نہیں کی تھی۔ اسے سکون چاہئے تھا اسے اس وحشت سے چھٹکارا چاہئے تھا جو پچھلے پندرہ سالوں سے اس کے جسم و جاں میں گھر کر کے ایک مکین کی طرح رہ رہی تھی جس نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ چند آنسوؤں کے قطرے حیات کے چہرے پر گرے تھے مگر اس کے عمل میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور جب تک اسے سکون نہیں ملنا تھا وہ شاید پیچھے ہٹنے والا بھی نہیں تھا۔

*****************

بیوی دس دن کی بات ہے یار، دس دن کیسے رہوں گا تمہارے بغیر۔۔ یار تین دن والی اوکے کرتے ہیں نا۔۔ وہ اس کو منانے کی کوشش کر رہا تھا۔

کیا آپ میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے۔۔؟ وہ منہ پھلا کر بولی تھی۔ پرسوں رات کی اس کی حالت دیکھ کر وہ اسے اپنے پاپا کے ساتھ دس دن کی جماعت میں بھیجنے کا سوچ چکی تھی جب اسے پتا چلا تھا آج شام کو اس کے پاپا جماعت میں جا رہے ہیں۔ کچھ تکلیفوں سے وہ اسے چاہ کر بھی چھٹکارا نہیں دلا پا رہی تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ ایک بار ڈپریشن میں گیا تھا اس وقت اس نے سلیپنگ پلز کا استعمال کیا تھا۔ پندرہ سولہ گھنٹے وہ پریشان رہی تھی۔

بہت زیادہ ہے یار۔۔۔ وہ اسے اپنی گود میں اس طرح بٹھا کر بولا کہ اس کی دائیں سائڈ اس کے سینےسے لھی ہوئی تھی۔

آپ مجھے بچوں کی طرح گود میں بٹھاتے ہیں نا سچ میں پتا نہیں کیسی فیلنگ آتی ہے۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی حد درجہ پزل ہو چکی تھی۔

کیسی فیلنگ آتی ہے؟ اپنی ناک کو اس کے گال سے رگڑتا وہ اسے پھر سے ستانے لگا تھا۔

مجھے نہیں کچھ سمجھ میں آتا۔ پتا نہیں کیسا لگتا جب آپ ایسا ویسا کرتے ہیں۔۔ آپ نہ کیا کریں پھر۔۔ وہ اس کی شدتوں سے واقعی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔ اور وہ اس کے اس احساس کی پہچان سے سرشار ہو رہا تھا۔

تمہیں برا لگتا ہے بیوی؟۔۔ اس کی کیفیت سمجھتا وہ اسے ایک اور سبق دے رہا تھا۔ یا پھر اس کی اس معاملے میں گروتھ جان رہا تھا۔

مجھے نہیں پتا۔۔ پرسوں رات بھی آپ کے۔۔۔ وہ جملہ ادھورا چھوڑ گئی تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا تھا کیا کہے۔ اپنی بدلتی کیفیات اسے ہراساں کر رہی تھیں اور یہی چیز اسے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔

ادھر دیکھو بیوی۔۔۔ وہ اس کا دوسری طرف کیا چہرہ اپنی طرف کرتا ہوا بولا تھا۔ اس نے جھجکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا آنکھوں میں ہلکی نمی تھی۔

تمہیں برا لگتا ہے بیوی میرا ایسا کرنا؟۔۔ انداز پر سوچ تھا۔ ایک ہاتھ اسے کے گال پر رکھے وہ اسے سہلا رہا تھا۔

نہیں! برا نہیں لگتا پتا نہیں کیسا ہوتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے انرجی کم ہو رہی ہے۔ اتنا فرینک تو وہ اسے خود سے کر چکا تھا کہ اپنی فیلنگ وہ اس سے شیئر کر سکے۔ جس طرح اب کر رہی تھی۔

اور نوفل احمد خان جو ان دو مہینوں میں اپنی بیوی کی رگ رگ سے واقف ہو چکا تھا اس کی کیفیات اس کے چہرے سے جان لیتا تھا۔ پرسوں رات کی اس کی ہوش و حواس میں کی گئی حرکت پر وہ اس سے بیزار نظر نہیں آئی تھی بلکہ شرم و حیا کی وجہ سے کل شام تک وہ اس سے چھپتی رہی تھی پھر اپنے آپ کو کنٹرول کر کے وہ اسے اس کیفیت سے باہر لایا تھا۔ مگر وہ اس سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا تھا۔ اور اس کی یہ الجھن اس سے اب یہ فیصلہ کروا گئی تھی۔ دس دن کی دوری سے اس کی بیوی کو بہت کچھ سمجھ میں آنے والا تھا۔ اور یہی وقت وہ اسے دینا چاہتا تھا۔ یعنی بہت سی چیزوں کو اب اس کا دل اور دماغ قبول کر سکتا تھا۔

بیوی میرے بغیر رہ لوگی دس دن۔۔ یاد نہیں آئےگی میری، اس کو الجھا کر وہ پھر سلجھاتا تھا۔ جیسے اب کر رہا تھا۔ پہلے اس حد درجہ کنفیوز کرتا تھا پھر خود ہی اس کا دھیان دوسری طرف پھیر دیتا تھا۔ یہی تو نوفل احمد خان کو اچھا لگتا تھا۔

مجھے نہیں پتا۔ میں آپ کے لیے دعا کروں گی جیسے پاپا کے جانے پر کرتی ہوں۔ پھر دس کے بعد جب آپ آئیں گے تو آپ کی پسند کا کھانا بناؤں گی۔ وہ اس کا رخ اب دوسری طرف کر چکا تھا اور یہ اس کا کمال تھا جو اسے اپنی بیوی پر حاصل تھا۔

اچھا!!۔۔۔۔۔ ویسے تم مجھے جماعت میں کیوں بھیج رہی ہو۔۔۔؟ وہ اب بھی اس کا گال سہلا رہا تھا کبھی ایک کبھی دوسرا۔

کیونکہ جو بیوی اپنے شوہر کو نیک کاموں میں لگاتی ہے وہ اللہ کی فیوریٹ ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے جہاد میں بھیجنے والیوں کو تو مکمل جہاد کا ثواب ملتا ہے۔ بہت زیادہ کنفیوزن میں بھی ایکدم نارمل ہو جانا یی حیات کی ہی عادت ہو سکتی تھی وہیں اسے نارمل حالت میں لانا نوفل احمد خان کا کمال ہوتا تھا۔

ہاہاہاہا مطلب یہاں بھی تمہیں اللہ کی فیوریٹ ہونا ہے۔۔ اب کے اسے اور قریب کر کے وہ اسے پھر کنفیوز کر رہا تھا۔

آپ کا دل نہیں کرتا اللہ کے فیوریٹ بندہ بننے کا؟

کرتا ہے نا بتاؤ کیسے بنوں گا؟ اب پھر سے وہ اسے سلجھا رہا تھا۔

ہر چیز سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کر کے۔اب وہ ایک عجب کیفیت میں اسے بتا رہی تھی اس کا دل اس کے رب کی محبت میں سرشار تھا۔ اس جملہ پر اس کے کے چہرے پر آنکھوں کو روشن کرنے والی روشنی تھی جو نوفل احمد خان کو ایک بار پھر بہکا گئی تھی۔

چلو بیوی تیاری کرواؤ میری ایک گھنٹے میں نکلتے ہیں پھر کیونکہ سسر جی میری بات بھی کر چکے ہیں۔۔ اس کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنی مسکراہٹ دباتا اسے لیے ہی کھڑا ہوا تھا۔

اور گھنٹے بعد وہ گھر سے نکل چکے تھے۔ زندگی کا ایک نیا سفر دونون کا منتظر تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *