Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 19)

Hayat by Ain Noon Alif

کیا اللہ کو اس پر ترس نہیں آتا۔ اور کتنے زخم اس کے حصہ میں ہیں۔۔ کیسے کر سکتا ہے وہ ایسے۔۔؟ الحان اب کے بےبسی زمین پر بیٹھ گیا تھا۔

ایک مجاہد ہو کر اللہ سے ایسی شکایت۔۔ زیب نہیں دیتی بیٹے۔ فرحان صدیقی کو اس کی بات ناگوار گزری تھی۔

تو انکل اتنے امتحان اتنی تکلیفیں، اس کی تکلیفوں پر ایس پی الحان شاید اپنے رب سے ناراض ہو رہا تھا اور یہ بات اس کے رب کو پسند نہیں آنے والی تھی۔

کوئلہ سالوں بھٹی میں جل کر ہیرے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر کہیں جاکر وہ سورج کی روشنی کو ٹکر دیتا ہے۔ اور نوفل احمد خان کو اس کا رب وہ ہیرا بنا چکا ہے۔ اس طرح کہہ کر اس کے ایمان میں کمزوری کا سبب نہ لاؤ بس دعا کرو۔

اور کیا تم نے ہدایت کی سیڑھی سے بھاگ کر جاتے ہوئے کسی شخص کو کامل ایمان کی منزل تک جاتے دیکھا ہے، جس کے سفر کا دورانیہ محض ڈھائی مہینوں پر مشتمل ہے۔۔۔؟؟؟ فرحان صدیقی کے سوال پر وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا تھا۔

وہ نوفل احمد خان، جس کو اللہ نے ہدایت دینے کے لیے اسکی سب سے قیمتی متاع کو تکلیف دی مگر اتنی جتنی وہ برداشت کر سکتی تھی۔ اور اس کی کل متاع میری بیٹی یعنی اس کی بیوی ہے۔۔ یہ تکلیف اس کے اندر کے پندرہ سالوں سے سوئے ہوئے مومن کو جگا گئی، مگر وہ مومن اپنی امامت پر پھر بھی نہیں آیا، پھر اس کی تکلیف اتنی بڑھائی کہ وہ ڈپریشن میں چلا گیا، پھر اس کی تکلیف مٹانے کے لیے اللہ نے مجھے راستہ دکھایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میری بیٹی اس کی امامت میں نماز ادا کر رہی ہے۔ “حیات” یعنی اس کے رب سے اس کے عشق کی امامت۔ پھر تم نے بتایا کہ وہ انڈیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ تب اسے اس کی زندگی اللہ نے واپس دلوا دی۔ اور پھر اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا یعنی نمازوں پر آیا، پھر قرآن سیکھا، پھر جماعت میں اللہ نے بھیجا اور پھر اللہ نے اور بلندی تک اس کو پہنچایا اس کے رب نے اسے اپنے مظلوم بندوں کی شرپسندوں سے حفاظت کے لیے چنا، اور تم دیکھ چکے ہو اگر وہ نہ ہوتا تو تم آٹھ لوگ اس سے آدھا بھی نہیں کر پاتے۔ اور الحان تو مسمرائز سا انہیں سن رہا تھا۔ یقیناً اللہ کے بندے بہت سی باتیں دلیلوں سے سمجھاتے ہیں۔ جیسے اس وقت انہوں نے ایس پی الحان کے دل میں ایمان کی آگ جلائی تھی جو اپنے دوست کو موت کے منہ میں دیکھ کر مدھم ہو رہی تھی۔ نوفل احمد خان کے قصہ سے۔

آپ لوگوں کو اس نے اتنی تکلیف دی کیا آپ نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی۔۔؟ نہ جانے کس خدشہ کے تحت اس نے پوچھا تھا۔

نہیں، ہم مسلمانوں کو بد دعا نہیں دیتے۔ سوا ان کے جو اسلام کے دشمن ہیں۔

نوفل احمد خان نے جب میری بیٹی سے زبردستی نکاح کیا تھا تب میں نے کہا تھا یا اللہ کس ماں نے جنا ہے یہ ناہنجاز اور گناہوں کے دلدل میں پھنسا ہوا انسان جو میرے گھر میں قیامت بن کے آیا۔

جب اس نے اپنے ماضی کے اوراق الٹے تب میں نے کہا تھا۔ اللہ کس ماں نے یہ مظلوم جنا ہے جس پر ہوئے ظلم نے اس کی شخصیت ہی مسخ کر دی۔

اور آج بےساختہ میں رب سے کہہ بیٹھا یا اللہ جس ماں نے نوفل احمد خان کو جنا اس کی مغفرت فرما وہ تیرے مجاہد بندے کی ماں ہے اور اگر وہ صحیح ہے تو اس کی حقیقت نوفل احمد خان پر ظاہر کر کے اسے معتبر کر دے اور اگر غلط ہے تو اس کی ستاری اس طرح کر کہ نوفل احمد خان پھر بھی معتبر ہو جائے۔ اور ایس پی الحان نے دیکھا تھا فرحان صدیقی نے دوسری طرف چہرہ کر کے اپنے آنسو پونچھے تھے۔ ایک سسر اپنے داماد سے محبت کا ظہار کر گیا تھا۔

وہ ہم دونوں کے حصہ کی گولیاں خود پر کھا گیا۔ جانتے ہو کیوں؟

ایک سے وہ خود بہت محبت کرتا ہے اور دوسرے سے اس کی بیوی بہت محبت کرتی ہے۔ وہ اکیلا اپنی اور اپنی بیوی کی محبت کی حفاظت کر گیا۔ اور وہ غازی ہے کیونکہ اس نے اسلام کے لیے لڑائی کی اس نے یہ گولیاں اپنے رب کے دین کے لیے کھائیں۔ اور تم شکوہ کر کے اس کی نورانیت پہ سوال کھڑا کر رہے ہو۔

ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کی بیٹی تھی اور آج اس ٹھنڈک میں اضافہ نوفل احمد خان نے کیا تھا۔

توبہ کرو بیٹا اللہ کو ناشکری اور شکایت پسند نہیں۔ وہ کہتے ہوئے ایک نظر اندر اپنے داماد پر ڈالتے پھر سے مسجد کی طرف بڑھ گئے تھے جو اس ہاسپٹل کے دوسری طرف تھی۔ ان کی باتیں سن کر الحان شرمندہ ہو گیا تھا۔ اب وہ بھی اپنے رب کو منانے بڑھ چکا تھا۔

*******************

وہ مصلہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھ میں ابھی تک ایک آنسو نہیں آیا تھا۔ وہ دعا کی طرح ہاتھ اٹھائے بالکل خاموش تھی جیسے لفظ ہی نہیں ہیں۔۔ آنکھیں بند کی تھیں جب ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔ بیوی رویا مت کرو تمہاری نم آنکھیں تمہارے شوہر کو اچھی نہیں لگتیں۔ اور پھر اس کی آنکھ سے پہلا قطرہ گرا تھا۔ اس کے حادثے کی خبر سن کر وہ بنا کوئی رد عمل دیے مصلہ پر آ کھڑی ہوئی تھی اور پوری رات بس نماز ہی نماز پڑھتی رہی تھی ایک بار بھی اسے نوفل احمد خان کی یاد نہیں آئی تھی۔ اور اب وہ تہجد پڑھ کے بیٹھی تھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے مگر۔

اللہ! حیات کو تجھ سے سب سے زیادہ محبت ہے نا۔۔۔؟ تجھے حیات سے حیات سے زیادہ محبت ہے۔۔ سامنے نظر اٹھا کر ایسے سوال کیا تھا جیسے وہ اپنے رب کو دیکھ رہی ہو۔۔۔ پھر اس کی باتیں اور سوال بڑھتے چلے گئے۔

اللہ، حیات کو اپنے شوہر سے محبت ہو گئی ہے نا، مگر تجھ سے زیادہ نہیں ہوئی، وہ تیری رضا میں راضی ہے، وہ تجھ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کرتی نا؟؟ گردن کو زور سے نفی میں ہلاتی وہ اپنے رب کو یقین دلا رہی تھی۔

اللہ حیات کو تیری محبت کبھی بھی تکلیف نہیں دیتی، تیری محبت میں وہ مسرور و شاداں رہتی ہے، مگر اللہ حیات کو اس کے شوہر کی محبت رلا رہی ہے نا، حیات کے دل میں بہت درد ہو رہا ہے، اس سے برداشت نہیں ہو رہا ہے یہ درد، تجھے پتا ہے نا، مگر حیات خوش ہے، کیونکہ یہ حیات کے رب کی مرضی ہے۔۔۔ ہے نا؟ حیات تیری نافرمان نہیں ہے نا، حیات کو درد ہو رہا ہے اس کے شوہر کی حالت کا سن کر تو ناراض نہیں ہو رہا ہے نا، تو جانتا ہے نا کہ حیات سب سے زیادہ تجھ سے محبت رکھتی ہے، حیات نے تیرے لیے انہیں جماعت میں بھیجا تھا۔ جہاد تونے کروایا ہے تونے اپنی حیات کی ایک نیکی کو بہت بڑھا دیا ہے، حیات تجھ سے راضی ہے، تو بھی حیات سے راضی ہو جا نا۔۔۔ سر ہلا ہلا کر اپنی طرف اشارہ کر کے وہ اپنے رب سے اس طرح بات کر رہی تھی جیسے اپنا نہیں کسی اور کا مقدمہ لڑ رہی ہو، اور اس کا رب اس کے سامنے بیٹھا اسے بغور سن رہا ہو اور پھر سب ٹھیک کر دے گا۔

اللہ تجھے حیات کے شوہر سے بہت محبت نا جبھی تونے ان سے اتنا بڑا کام لیا، تونے ان کی مغفرت کردی نا، اللہ انہوں نے کبھی شراب نہیں پی، کسی غیر عورت کو گندے طریقے سے ہاتھ بھی نہیں لگایا، وہ جھوٹ بھی نہیں بولتے، سگریٹ بھی نہیں پیتے، اور اب فلموں کے پیسوں سے لی ہوئی کوئی چیز بھی استعمال نہیں کرتے، وہ بہت اچھے ہیں نا اللہ؟ اور اب وہ حیات کے شوہر کا مقدمہ اہنے رب کے سامنے رکھ چکی تھی، کبھی آواز پرجوش ہو جاتی، کبھی تیز، کبھی بالکل مدھم، اور اس کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی بچہ کسی کی اچھائیاں گنوا کر اس سے اس کے لیے بڑا سا مطالبہ کرتا ہے۔

تو ان کو معاف کر دینا، وہ بھی تجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، حیات کے کہنے سے جماعت میں گئے تھے مگر گئے صرف تیرے لیے تھے اور حیات نے تو صرف تیرے لیے کہا تھا۔ تو ان دونوں سے راضی ہو جا نا، پلیز اللہ اللہ تو راضی ہو جا، یہ دونوں تجھ اے راضی ہیں اب تو بھی ہو جا نا۔۔۔۔ آخری بات پر وہ سجدہ میں گر کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی، اور پھر اس کی سانسیں پھر سے اٹکنے لگیں تھیں اور نوفل احمد خان جانتا تھا کہ رونے سے اس کا کیا حال ہوتا ہے اس لیے اپنی غیر موجودگی میں وہ اس سے نہ رونے کا وعدہ لے کر گیا تھا۔ مگر یہ پہلا وعدہ تھا جو حیات سے ٹوٹ گیا تھا جس کے ٹوٹنے میں اس کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

*********************

کیا ہوا انکل پریشان ہیں آپ؟ الحان ان کے لیے چائے لے کر آیا تھا۔ جب انہیں پریشان دیکھ کر سوال کیا تھا۔

نہیں بیٹا، الحمد للہ، اللہ کی امان میں سب کو دے کر اب سکون میں ہوں۔ تم نے اپنی ڈریسنگ کروائی کہ نہیں۔ آخری لڑائی میں یہ دونوں بھی کافی زخمی ہوئے تھے، مگر چار دنوں سے بس نوفل احمد خان کی فکر میں خود کو بھلائے ہوئے تھے۔ جسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔ اس کی جان کے صدقہ کے لیے انہوں نے کتنے لوگوں کی مدد کی تھی، کتنے ہی بھوکوں کو کھانا کھلایا تھا، جن کی زبان سے دعا ایک پل کو نہ رکی تھی، تو پھر ایسے لوگوں کی فریاد کیسے رد کی جاتی۔۔

حیات بھابھی ٹھیک ہیں اب؟ جھجکتے ہوئے سوال کیا تھا۔۔ اس کے سوال پر وہ افسردہ ہوئے تھے اپنی بیٹی کو دیکھنے کی چاہ زور پکڑ گئی تھی جو گیارہ گھنٹے بےہوش رہی تھی۔ نارمل رونا اس کا کچھ نہیں بگاڑتا تھا، وہ اسے اکثر اللہ کے سامنے روتے دیکھ چکے تھے، مگر کسی غم کا رونا اس کی سانسیں روک جاتا تھا۔ ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا کہ انہیں کہ اسے رونا نہ دیا جائے۔ انہوں نے احمد کو کل ہی فون کر کے سب بتا کر اسے گھر بھیجا تھا۔

اللہ کا شکر ہے۔ اللہ اس کا محافظ و مددگار ہے۔ سنا نہیں تھا برخوردار آخر میں بھی کیاب کہہ رہے تھے۔۔ انہیں نوفل احمد خان کے وہ جملے یاد آئے تھے جو اس نے بےہوش ہونے سے پہلے کہے تھے۔ اور نوفل احمد خان کے اپنی بیٹی کے شوہر ہونے پر بےاختیار نہ جانے کتنی بار شکر ادا کیا تھا۔

سسر جی میری بیوی کو رونے نہیں دینا، اسے نہیں بتانا کہ کیا ہوا ہے، کیونکہ نوفل احمد خان کے علاوہ کوئی اس کا رونا ہینڈل نہیں کر سکتا، اسکی رکتی سانسیں۔۔۔ جملہ ادھورا چھوڑ۔ اس کے اس جملے کا مفہوم وہ نہیں سمجھے تھے۔ انہیں یہی لگا تھا کہ ان کی طرح اسے بھی حیات کے بےہوش ہونے کا ڈر ہے۔ اور اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا تھا ” اللہ تو میری اس امانت کی حفاظت کرنا جو مجھ سے پہلے تیری امانت ہے، نوفل احمد خان اپنی بیوی کو تیرے حوالے کرتا ہے” کتنی روانی سے کہے تھے اس نے یہ جملے، پھر استغفار پڑھتا ہوا وہ ہوش گنواتا چلا گیا تھا۔

اور اس عرصہ میں پہلی بار وہ دونوں کھل کر مسکرائے تھے۔ اس طرح کے الفاظ اپنی بیوی کے لیے کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر نوفل احمد خان ہی بول سکتا تھا۔

********************

یہ مسجد کی جگہ ہے یہاں مسجد بنائی جائےگی کوئی مائی کا لال میرے رب کے گھر کی اس زمین پر قبضہ نہیں کر سکتا کہتے ہوئے اس نے مقابل کے سینہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اور تکبیر کہتا وہ اس بستی کی اس زمین پر مسجد کے نام کی اینٹ رکھ چکا تھا جس میں اس کے ساتھ اسکا دوست اور اس کی متاعِ کل کے پاپا تھے۔ اور پھر ان لوگوں نے وہاں نماز ادا کی تھی جس کی امامت اس کے سسر نے کی تھی۔ ان کے پیچھے تقریباً اس چھوٹی سی بستی کے سبھی لوگ تھے۔

میں آپ سے بات نہیں کروں گی، آپ نے کہا تھا جلدی آئیں گے اب میں بھی آپ سے نہیں ملوں گی میں بھی جا رہی ہوں، وہ اس کے آنسو صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ اس کے ہاتھ جھٹک رہی تھی، اس کو بالکل بھی اپنے قریب نہیں آنے دے رہی تھی۔۔۔ وہ بے تحاشا رو رہی تھی پھر بھاگتی ہوئی اس سے دور چلی گئی تھی اتنی کہ اسے سمجھ نہیں آیا تھا وہ کہاں گئی ہے۔ پھر اس نے دیکھا تھا وہ ایک جنگل میں کسی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہی تھی ہوا کے چلنے سے اس پر چھوٹے چھوٹے پھول اور پتے گر رہے تھے۔ اسے سجدہ میں بہت دیر ہو چکی تھی تب کسی خدشہ کے تحت وہ بھاگتا ہوا اس کے قریب گیا تھا اور اسے سجدہ سے اٹھا کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا مگر یہ کیا،، اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا تھا اور جو ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا وہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بے جان ہو کر پھسل گیا تھا۔

بیوی، اٹھو یار، ایسے کیسے دور جا سکتی ہو تم، تمہارے دل کی دھڑکن نوفل احمد خان اپنے ساتھ جڑوا چکا ہےسمجھی، اب اٹھو! مگر وہ نہیں اٹھی تھی اس نے تقریباً اسے جھنجوڑ ڈالا تھا۔ اور پھر اپنے سینے میں بھینچ کر وہ اتنی تیز چلایا تھا کہ اس کی آوازوں کی بازگشت پورے جنگل میں گونج رہی تھی۔

یا اللہ، بیوی۔۔۔۔!!!!!!!

**********************

ایک بات پوچھوں حیات؟ وہ جو نہ جانے کس خیال میں گم تھی احمد کی آواز پر چونکی تھی۔

جی بھائی پوچھیں۔ خود کو نارمل کرتی ہوئی وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

نوفل بھائی کیا بہت اچھے ہیں؟ اس کے اس سوال پر وہ حیران ہوئی تھی۔ اتنے دنوں بعد ایسا سوال۔ وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔

بس یونہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔ تم بتاؤنا۔

آپ نے کبھی ان لوگوں کے بارے میں سنا ہے بھائی جن کے بارے میں اللہ فرما دے یہ ایمان والے ہیں؟۔ اور ایمان والوں کی تشریح یوں کی گئی ہے ” اور جب انہیں ان کے رب کی طرف سے ہدایت ملتی ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں اور بس پھر اپنے رب کی طرف پلٹ آتے ہیں”۔۔۔۔ وہ ایسے ہی ہیں۔ اور میرا دل یقین سے ایسا کہتا ہے۔ اب آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

تمہیں محبت کب ہوئی؟ منال بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی۔ اس کے سوال پر احمد جزبز ہوا تھا۔

آپی۔۔۔ جیسے اسے روکا تھا۔

احمد ہم چاروں بہن بھائی کم اور دوست زیادہ ہیں اور اب شاید ہم میں اتنی فرینکنیس ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے کے دل کی سب نہیں کچھ نہ کچھ باتیں تو جان لیں۔ اور پھر اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔

بدھو! دھیان بٹا رہی ہوں اس کا تاکہ کچھ تو اداسی کم ہو، دیکھ نہیں رہے سب کام برابر کر رہی ہے جیسی پہلے تھی اب ہی ویسے ہی نارمل بی ہیو کر رہی ہے مگر پہلے کی طرح ہنسی مذاق بالکل بھی نہیں کر رہی ہے۔ اور وہ اس کی بات سمجھتا سر ہلاگیا تھا۔

بولو نا حیات۔ اب وہ دونوں بضد ہوئے تھے۔

مجھے نہیں پتا۔ اس نے ایسے بےخیالی میں جواب دیا تھا۔ نظریں اب بھی آسمان میں کچھ تلاش کر رہی تھی اور دل میں استغفار کا ورد تھا کیونکہ اس کے دل میں درد پھر سے بڑھ رہا تھا۔

اچھا یہ بتاؤ یہ نوفل بھائی تمہارا نام کیوں نہیں لیتے؟ ابھی تک تو سنا نہیں ہم نے سب کے سامنے بھی بیوی، بیوی۔۔۔ اور اس سوال پر اسے پندرہ دن پہلے کی بات یاد آئی تھی۔ اور اس کی زبان سے اس کے کہے لفظ ہو بہو نکلنے لگے تھے۔

آپ نے ابھی تک میرا ایک بار بھی نام نہیں لیا جیسے سب لیتے ہیں۔ کیوں۔۔؟ “مد” کا قاعدہ سمجھانے کے بعد آج اس نے بہت دن سے سوچا ہوا سوال کیا تھا۔ جس پر نوفل احمد خان نے اس کے اطراف دونوں ہاتھ باندھ کر اسے مکمل اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

کیونکہ تمہارا جو نام ہے وہ سب کے لیے ہے سب ایک ہی نام لیتے ہیں مگر جو نام نوفل احمد خان لیتا ہے وہ کبھی بھی کوئی بھی نہیں لے سکتا۔۔ ا سکے گرد گرفت کچھ اور مضبوط کی تھی۔

کیوں؟ بنا سوچے سمجھے سوال کیا تھا۔

کیونکہ بیوی تم صرف نوفل احمد خان کی ہو، صرف نوفل احمد خان کی تو کوئی اور کیسے بلائےگا۔ اور نوفل احمد خان کے لیے تمہارا نام ہی بیوی ہے۔

ہاں مگر کوئی تو وجہ ہوگی نا۔۔؟ اب کے تھوڑا سا منہ پھولا تھا جسے نوفل احمد خان شرارت کر کے اور پھولا گیا تھا۔

وجہ یہ ہے بیوی! “نوفل احمد خان کے پاس صرف ایک ہی رشتہ ایسا ہے جس کا وہ بلا شراکت داری کے اکیلا مالک ہے۔ اس رشتہ پر اس سے زیادہ نہ حق کسی کا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ وہ اللہ کا میرے لیے وہ انعام ہے جو صرف میرے اکیلے کے لیے ہے جس کو مجھے کسی سے شیئر نہیں کرنا ہے۔ سر سے پیر تلک صرف نوفل احمد خان کا۔ اور وہ تم ہو بیوی۔ صرف میری بیوی۔ اور باقی کے رشتوں نے تو صرف اسے توڑا ہے، جوڑنے والی تو بیوی ہے میری۔۔ اتنا کہہ کر وہ اسکے چہرے کے رنگوں کو دیکھنے لگا تھا جس میں ایک فخر سا تھا اور پھر اس رنگ میں اس نے اور نہ جانے کتنے رنگ بھر دیے تھے۔

ماشاءاللہ کیا لوجک لی ہے نوفل بھائی نے۔ یار ویسے ایک دم سے عجیب قسم کے نہیں ہیں وہ۔۔ احمد کے کہنے پر اس نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ جس پر ان دونوں کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

کچھ عجیب نہیں ہیں وہ سب سے اچھے ہیں۔ میں بتاؤں گی انہیں آپ انہیں عجیب کہہ رہے ہیں۔۔ اور وہ حیران رہ گئی تھی ایسی دھمکی تو وہ نوفل احمد خان کو دیا کرتی تھی اور آج اس کے لیے اپنے بہن بھائی کو۔

ہاہاہاہاہا ہمارے سرپھرے بہنوئی کے لیے ہماری حیات ہمیں دھمکی دے رہی ہے۔۔ یعنی کل ان کے آنے پر تم یہ شکایت کے پٹارے کھول کر رکھنے والی ہو۔

اور دونوں کے سرپھرے کہنے پر تو اسے آگ ہی لگ گئی تھی۔ درد کا احساس ابھی شانت ہو گیا تھا۔

کیا ہو رہا ہے بچوں؟ دادی کی آواز پر وہ خاموش ہوئے تھے۔

دادی دیکھیں یہ آپی اور بھائی انہیں کیا کیا بول رہے ہیں۔۔۔ اس کے منہ پھلا کر شکایت لگانے پر دادی نے ان دونوں کو دیکھا تھا جو انہیں کچھ اشارہ کر رہے تھے یعنی وہ دونوں کچھ وقت کے لیے ہی صحیح مگر بہلا چکے تھے۔ مگر اسے مکمل بہلانے کا فن تو صرف نوفل احمد خان کے پاس تھا۔ اس کے دل میں گھٹن بڑھی تو وہ پھر سے اپنے رب کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *