Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 01)

Hayat by Ain Noon Alif

حیات!۔۔ میں کچھ پوچھ رہی ہوں.. منال کہاں ہے؟؟۔۔ فائزہ بیگم نے تقریباًc جھنجوڑ دیا تھا۔۔

ممجھے نہیں پتا مما۔۔ آپی بس یہی کہہ کر گئی تھیں “دس منٹ میں آ رہی ہوں جب تک سنبھال لینا نکاح سے پہلے پہلے آجاؤں گی جانا بہت ضروری میری دوست کی زندگی اور موت کا سوال ہے” اس نے روتے روتے منال کے الفاظ دہرائے تھے۔۔ فائزہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں۔۔

یا اللہ! اب کیا ہوگا۔۔؟ وہ لڑکا تو ہماری جان کو آ جائے گا۔۔ ان کی فکر کم نہیں ہو رہی تھی وہ شاید معاملہ کی سنگینی کا اندازہ کر رہی تھیں۔۔

او مائے ڈیر اللہ! مما اس لڑکے کو کوئی فرق نہیں پڑےگا وہ آپی سے شادی بس فارمیلٹی کے لیے کر رہا تھا۔۔ پتا نہیں کیوں مگر مجھے وہ آپی کے لیے اچھا لگا بھی نہیں تھا۔۔۔”شکل اور عمارت کا غرور کسی کام کا نہیں ہوتا اگر اخلاق اور کردار ہی نہ ہو تو”۔۔ وہ خود بھی اس کے لفظوں سے متفق تھیں جو اتنی ٹف سچویشن میں بھی اپنی بات کہنا نہیں بھولی تھی۔۔۔ یہی تو خاصیت تھی اس میں۔۔ کیسے بھی حالات ہوں حتیٰ کہ خوف میں بھی جو اسے سمجھ آتا تھا کہہ دیتی تھی۔۔ مگر شاید کبھی کبھی ایسے لوگوں کو اسی عادت کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے۔۔

ایسا دادی کہتی ہیں نہ۔۔۔فائزہ بیگم کے گھورنے پر وہ ہڑبڑائی تھی۔۔۔

اور وہ جو نکاح میں دیر ہونے کی وجہ خود ہی جاننے آیا تھاکہ یہاں لوگوں کے رویوں کا اس کو علم تھا جس طرح یہ شادی ہو رہی تھی کوئی بھی خوش نہیں تھا۔۔ لوگ بھی زیادہ نہیں بلائے گئے تھے۔۔ وہ چار لوگوں پر مشتمل بارات لیکر آیا تھا۔۔۔ اور ان لوگوں نے بھی اپنے بہت قریبی اور خاص لوگوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔۔۔حقیقت کا ادراک اور اپنے بارے میں اس لڑکی کے خیالات جان کر اس کا دل کیا تھا کہ اس لڑکی سمیت اس گھر کو آگ لگا دے۔۔ کس بنا پر وہ اسے ناقابل قرار دے کر بد کردار بھی کہہ رہی تھی۔ اسے نہ جانے کیوں یہ یقین تھا کہ منال کو بھگانے میں اسی کا ہاتھ ہے اور اب معصوم بن رہی ہے۔۔

مما! ۔۔آپ پاپا کو بتا دیں وہ آپی کا پتہ کروائیں گے۔۔ دو گھنٹے ہو ان کو جا کر پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا۔۔۔ اس کے لہجے کی سچی فکر بھی اسے ڈرامہ لگ رہی تھی۔۔

اس کے کہنے پر فائزہ بیگم دروازہ کی طرف بڑھی تھیں کہ شوہر کو مطلع کر دیں۔۔ جب دروازہ میں استادہ اس ذی روح کو دیکھ کر حق دھک رہ گئی تھیں۔۔۔

بیٹا تتم یہاں۔۔۔ زبان کی لڑکھڑاہٹ پر ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا تھا جس کی پشت اس کی طرف تھی۔۔ اور پھر اپنے اسی مخصوص اور سنجیدہ لب و لہجہ میں مخاطب ہوا تھا جو مقابل کو چاروں شانے چت کر دیتا تھا۔۔

پانچ منٹ میں مولوی صاحب اندر آئںگے نکاح کے لیے۔۔۔ اس لڑکی کو تیار کریں۔۔۔ اور یہ حکم ہے جس کی بجا آوری ضروری ہے ورنہ اس گھر کو مکینوں سمیت مجھے دھوکہ دینے کے جرم میں انکے انجام کو پہنچانے میں مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا۔۔۔

اس کے خوفناک اور سرد لہجہ نے دونوں ماں بیٹیوں کو ششدر کر دیا تھا۔۔۔ وہ ان کہ سوچ سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔۔ تبھی وہ اپنے چہرے کو کور کر کے اس کی طرف پلٹی تھی۔

ممیں آآپ سے شادی نہیں کروں گی۔۔ ڈرتے نہیں ہیں ہم آپ سے ہیرو ہوں گے آپ اپنی انڈسٹری کے۔۔۔ اب آپی نہیں ہیں تو جائیں اور انہیں تلاش کر کے لائیں۔۔آپکی بھی تو ذمہ داری تھیں نہ وہ۔۔ وہ جو جانے کے لیے پلٹا تھا اس کے لفظوں پر ایک پیر پر گھوما تھا اور چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ رقصاں تھی جو اچھا سائن بلکل نہیں تھی۔۔

گڈ! اپنے دفاع میں بولنے والے اچھے ہوتے ہیں مگر یہاں تمھارے پاس کوئی چوائس نہیں ہے پوور گرل۔۔

اس نے ایک نظر اس ڈھکی چھپی لڑکی کو دیکھا تھا جس کی حقیقت واضح نہیں ہو رہی تھی مگر آواز بتا رہی تھی کہ کم عمر ہے۔ مگر اس سے شاید اسے کوئی بھی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ اسے تو بس وہ وجہ پوری کرنی تھی جس کے لیے وہ آیا تھا باقی معاملات اس نے بعد کے لیے چھوڑ دیے تھے۔

صحیح کہہ رہی تھیں تم منال سے شادی میں فارمیلٹی کے طور پر ہی کر رہا تھا۔۔۔ اب وہ نہیں تو کوئی بھی صحیح۔۔ اور اس وقت تمھارے سوا اس گھر میں منال کے رشتہ سے کوئی اورلڑکی موجود نہیں ہے اور جو ہے وہ محض آپ لوگوں کے پڑوسی اور دور جے رشتہ دار ہیں۔ اور میں شاید ایسا بے رحم نہیں ہوں جو آپ لوگوں کی غلطی کی سزا انہیں دوں جن کا آپ سے خاص تعلق کوئی نہیں۔سو یہ قربانی تمھی دینی ہوگی آخر مجرم ہو تم میری تو سزا بھی تمھیں ہی ملےگی۔۔۔ اپنے اس نکاح کو وقت کا فیصلہ سمجھ کے قبول کرو اچھی لڑکیوں کی طرح۔۔۔ شاید میں منال کے ساتھ مل کر مجھے دھوکہ دینے کی سزا میں تھوڑی بہت ترمیم کردوں۔۔ الفاظ اور لہجہ نے ان دونوں کو خوف زدہ ہی رکھا تھا۔۔ مگر وہ اپنی عادت کے مطابق بولنےسے باز نہیں آئی تھی یا شاید اپنی رائے سے اسے متنفر کر کے خود کو بچانے کی ایک کوشش۔۔

یعنی، آپ مانتے ہیں آپسے شادی ایک قربانی، ایک سزا ہے۔۔ جب آپ خود اپنی حقیقت سے آگاہ ہیں تو پھر کوئی جان بوجھ کر کھائی میں کیوں گرنا چاہےگا۔۔۔ اسکی حاضر جوابی نےاس کی آنکھوں موجود سرد تاثر کو اور گہرہ کر دیا تھا۔۔

حیات تم جاؤ یہاں سے میں بات کر رہی ہوں ان سے۔۔ فائزہ بیگم اس کے تاثرات سے خوفزدہ ہوئی تھی اس لڑکے ڈمانڈ نے انہیں گنگ کر دیا تھا۔۔۔ مگر جاسوسی ناول کی ہیروئنوں کی دلدادہ انکی بیٹی جوابی کاروائی کرنا نہیں بھولی تھی۔۔

پانچ منٹ تم نے باتوں میں خراب کر دیے پہلے اور آخری یہ غلطی معاف کی جاتی ہے۔۔ مولوی صاحب کے سامنے شرافت سے اقرار کر لینا۔۔

دیکھو بیٹا ہم ایسا نہیں کر سکتے منال کی جگہ اس کو نہیں نہیں ۔۔۔۔ تم سمجھو بیٹا لوگ کیا کہیں گے اور کیا پتہ منال واقعی کسی مصیبت میں ہو جو پہنچ نہیں پائی۔۔۔۔ اس کے چہرے کا پتھریلا پن دیکھ کر انہوں نے معاملہ کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی تھی۔

نو اولڈ لیڈی!… آی ڈونٹ ہیو ٹائم۔۔ میں یہاں شادی کرنے آیا تھا۔۔ کیے بغیر نہیں جاؤں گا۔۔۔ اس سے پہلے کی مزید تماشا ہو اور سب کے سامنے آپ لوگوں کی عزت کا جنازہ نکلے نکاح کی رضامندی دے کر معاملہ کو رفع دفع کریں۔۔ بہت وقت ضائع کروا دیا میرا۔۔۔۔

مگر میں نہیں۔۔۔۔۔ باقی کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے آنکھیں خوف سے پھٹنے کو تھیں ان دونوں ماں بیٹی کے سوا اور کوئی موجود بھی نہیں تھا سب باہر تھے اور یہاں یہ پل ان دونوں کہ لئے قیامت لے آیا تھا۔۔ جب اس کی ماں کی کنپٹی پر گن رکھی گئی تھی۔۔

ممما!! ۔۔۔ن۔ن۔ نہیں اس کی چیخ بےساختہ تھی۔۔ چھوڑیں میری مما کو۔۔ اس نے اس کا ہاتھا ہٹانے کی کوشش کی تھی خوف اس قدر تھا کہ وہ اپنی ماں کے سفید پڑتے چہرے کو بھی نہیں دیکھا پائی تھی۔۔۔۔

مم مجھے منظور ہے شادی۔۔ اآپ میری مما کو چھوڑیں۔۔۔

حیات چپ! اور جاؤ اپنے پاپا کو بلا کے لاؤ۔۔۔ اس کے اقرار نے جیسے اس کی ماں کو خواب سے جگایا تھا۔۔ شاید بیٹی کو قربان کرنے جی سوچ نے دہلا دیا تھا۔

میں تمھیں اس جیسے کمظرف شخص کے حوالے بالکل نہیں کروں گی۔۔ تم جاؤ انہوں نے دروازہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔ مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔۔ کوئی اس کے سامنے نہیں ڈٹ نہیں پائےگا شاید اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ بپھرا ہوا شیر ہے جسے ان کی کوئی بھی کوشش متاثر نہیں کر پائےگی۔

اپنے شوہر کو آپ کس طرح قائل کرتی ہیں۔۔۔ ڈونٹ کیئر۔۔ مگر نو مور ٹائم۔۔ وہ اس کے فیصلہ کو سمجھ گیا تھا۔۔ اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔

اور پھر کس طرح فرحان صدیقی صاحب کو راضی کیا گیا۔۔۔ کیسے نکاح ہوا۔ کون آیا۔ کون گیا۔ کیا جاتیں ہوئیں اسے کچھ بھی خبر نہیں ہوئی۔ یہ پہلہ حادثہ تھا جس نے اس کے حواس مکمل طور پر گم کر دیے تھے۔ سب فیملی میمبرز تھے۔ رسوائی کا خوف نہیں تھا مگر ایک بیٹی کےغائب ہونے اور دوسری کے قربان ہونے نے ان مکینوں کی کمڑ توڑ دی تھی۔۔۔

اپنے عزیزوں کے غمزدہ چہرے اور جھکے سروں کو دیکھ کر اس کا دل چاہا تھا اس کی گن لے کر چھ کی چھ گولیاں اس کے سینے میں اتار دے۔۔۔ مگر ایسا صرف وہ سوچ سکتی تھی کہ اس کی سفاکیت نے اسے بھی خوفزدہ کر رکھا تھا۔۔

ہماری بچی کو اس کے ناکردہ گناہ کی سزا مت دینا۔۔۔ آج تم نے ایک باپ کو کمزور کر دیا ہے۔۔ جو اپنی بیٹی کی حفاظت نہیں کر پایا۔۔ امید تو نہیں پھر بھی ہاتھ جوڑتے ہیں ہم تمھارے سامنے۔۔۔ ہماری بچی تمھارے مقابلے بالکل بچی ہے تمھارا ظلم سہہ نہیں پائےگی۔ منال کی سزا اسے مت دینا۔۔ جس طرح کا مظاہرہ آج تم نے کیا ہے تم سے امیدی تو نہی مگر پھر بھی شاید کچھ انسانیت باقی ہو۔۔۔ بھیگے لہجے اور جڑے ہاتھوں نے حیات کے دل کو کس طرح مسلہ تھا وہی جانتی تھی۔۔ آج تک یہ سر فخر سے اونچے رہے تھے۔۔ اور آج اس کی آپی کی ایک غلطی نے کیسے جھکا دیے تھے۔۔ کاش آپی میں زبردستی آپ کو روک لیتی۔۔ تب شاید یہ وائلڈ اینیمل کچھ شرافت کا مظاہرہ کرتا۔۔ گھر والوں کی حالت تو ایسی نہ ہوتی۔۔

فلم شوٹ میں کرتا ہوں مگر ڈرامہ آپ لوگ بہت اچھا کرتے ہیں۔۔ اپنی اگلی فلم میں یہ ڈالاگز اپنی اسکرپٹ میں ضرور ایڈ کرواؤں گا ٹو اولڈ لیڈی۔۔۔

دادی کے التجاؤں پر مذاق اڑاتا اس کا لہجہ وہاں موجود لوگوں کو اس کی سفاکیت کا یقین دلا گیا تھا۔۔

دادی اور ماں اپنی بیٹی کو لپٹائے رو رہی تھیں۔۔ حیات اللہ کی امان میں دیا میرے بچے۔۔ اللہ تیری حفاظت کرےگا۔۔۔ تو کہتی ہے نہ تو اللہ کی لاڈلی ہے۔۔ تو واقعی ہے۔۔ ہر بات جیسے آج تک اللہ سے کہتی آئی ہے آگے بھی اللہ ہی سے کہنا۔۔ اور اپنے کمزور گھر کو معاف کر دے۔۔۔ دادی کی باتوں پر تڑپ کے سر اٹھایا تھا۔۔۔

نہیں دادی!۔۔ ایسا نہیں کہیں۔۔ اللہ کے حوالے کر دیا تو نوٹینشن۔۔ زبردستی مسکرانے کی کوشش کی گئی تھی۔۔

ناؤ! ۔۔ شو ٹائم از اوور۔۔ چلو بیوی!۔۔ دادی کے بازو سے لگی حیات کا ہاتھ پکڑتا وہ وہاں موجود لوگوں پر ایک نگاہ ڈالتا باہر کی طرف بڑھتا چلا گیا تھا۔۔

عطیق! ۔۔۔ اوپن دا ڈور۔ مخصوص لہجہ میں آرڈو دیتا اس طرف بڑھا جہاں اس کا ڈرائور گاڑی کا دروازی کھولے اپنے مالک کا انتظار کر رہا تھا۔۔ اور پیچھے ہی دو باڈی گارڈ کھڑے ہوئے تھے جو اپنے ڈیل ڈول سے کافی خطرناک ٹائپ کے تھے۔۔

گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے اپنے گھر کی طرف مڑ کر دیکھا تھا مما پاپا، دادی، پھوپھو پھوپھا، ساتھ والے سراج انکل اور ان کی پوری فیملی چار بچوں پر مشتمل، اور پاپا کے دوست اور اب کے پانچ بچے پورا قافلہ اسے ہسرت بھری نظر سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے رشتوں کی آنکھوں سے بہتا سیلاب چہرے پر رقم اذیت نے اسے زیادہ دیر انکی طرف دیکھنے نہیں دیا تھا۔۔

گاڑی میں بیٹھو بیوی۔۔

مخصوص حکم پر وہ حسرت سے دیکھتی بیٹھ گئی تھی۔۔۔ گاڑی کے چلنے سے پہلے اس نے دیکھا تھا کہ اس کی روتی بلکتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔ کیسی حسرت تھی جو پل پل اسکی تکلیف کو بڑھا رہی تھی۔

یا اللہ مدد کرنا تیرے رحم کے ساتھ۔۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا تھا اور پھر اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔۔ پتہ نہیں زندگی کا رنگ دکھانے والی تھی۔

اس نے ایک نظر اس روتے سسکتے وجود کو دیکھا تھا جو پوری طرح ایک گرے چادر میں لپٹا تھا جسے پر غور کرنے کی اس نے ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ اسے تو شاید یہ بھی نہیں پتہ تھا وہ خوبصورت ہے یا بدصورت اچھی ہے یا بری۔ اس نے کایعنی سوچو کو جھٹکا تھا اور ڈرائور کو گاڑی دوڑانے کا حکم دے دیا تھا۔۔

کیا وہ واقعی ظالم تھا؟ ۔۔۔ کون سی وجہ تھی جو وہ ایسا تھا بالکل بدلحاظ دوسروں کو جوتوں کی نوک پر رکھنے والا۔۔؟؟ تین سالوں میں آسمان کی بلندی کو چھونے والا روشن ستارا فلم انڈسٹری کا موسٹ وانٹیڈ ہیرو “نوفل احمد خان”جس کی لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے دیوانے ہیں مگر وہ اپنے غرور میں انکی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ وہ ایک اپنے سے کم حیثیت والی لڑکی کو زبردستی بیاہ کر لے جا رہا تھا۔ کیوں؟ اور لڑکی بھی وہ جو نہ اس نے دیکھی نہ جانی بس گن پوائنٹ پر نکاح کر لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *