Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 15)

Hayat by Ain Noon Alif

کیا ہوا ہے عتیق اتنی ایمرجنسی کال؟۔۔ اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ اسے اس کا کال کرنا کچھ خاص پسند نہیں آیا۔

ضروری تھی سر۔۔ کانسٹیبل روبی کی کال تھی ان دونوں کی حالت بہت خراب ہے۔ وہ پوچھ رہی ہیں کیا کرنا ہے آپ کے نمبر پر کال کی آپ نے ریسیو نہیں کی۔۔ عتیق نے اس کے غصہ کی وجہ سے جلدی جلدی ریزن بتایا۔

چلو وہیں۔ اس کے حکم پر عتیق نے گاڑی بھگانی شروع کر دی تھی پندرہ منٹ بعد وہ لوگ ممبئی سینٹر کے ویسٹ میں تھے۔

نن۔نن۔نو۔ف۔ل ہم۔میں۔ مم۔عاف۔ ککر۔دو۔ چچ۔چھور دو ہم۔ہمیں مانیہ چودھری اور نتاشہ اسے دیکھتے اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایک پل کو ان کی حالت دیکھ کر اسے افسوس ہوا تھا مگر ان کی حرکت یاد آتے ہی اس کا خون پھر سے کھول اٹھا تھا۔

اب کیا کرنا ہے سر۔۔ روبی کے پوچھنے پر وہ کچھ دیر سوچتا رہا تھا۔

انہیں ان کے گھر پہنچا دو۔ امید ہے اب شاید یہ سدھر جائیں۔ انہیں آزادی کا مزدہ سنا کر وہ دروازے کی سمت بڑھا تھا پھر کچھ یاد آنے پر واپس ان کی طرف آیا تھا۔

مانیہ چودھری تمھیں بتا دوں میری بیوی کون ہے؟ کیسی ہے۔۔؟؟ گھٹنوں کے بل بیٹھتا بے دم پڑی مانیہ کی طرف جھکا تھا۔

جس کو کبھی کسی غیر مرد نے نہیں دیکھا، جس کے دل دماغ سے کبھی کسی گناہ کے خیال کا بھی گزر نہیں ہوا۔ جسے گناہوں کے راستوں کی خبر تک نہیں۔۔ تم لوگوں نے کہا تھا کوئی شریف زادی نوفل احمد خان کی قسمت میں نہیں ہے۔۔ تو بتا دوں نوفل احمد خان کو اللہ نے شریف زادی نہیں بلکہ ایک مومنہ دی، ایسی معصوم جو اللہ کی پسندیدہ بندیوں میں ہوتی ہے۔ نوفل احمد خان کے لیے اس کے رب کی طرف سے روشنی کی وہ مشعل جس کی روشنی سارے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔ اور جانتی ہو ایسا کیوں ہے کیونکہ حرام کی دنیا میں جانے کے بعد بھی نوفل احمد خان کبھی زنا شباب و شراب کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔

اور ایک خاص بات بتاؤں۔ وہ منال کی سسٹر ہے۔ تم جیسی عورتوں کی وجہ سے نوفل احمد خان جو عورتوں سے اس درجہ نفرت کرنے لگا تھا کہ ان کی طرف دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتا تھا۔ اور جس لڑکی کو اپنی جارحیت میں بیاہ کر لایا تھا اس سے ایک پل کے لیے بھی نفرت نہیں کر پایا۔ ایک پل کے لیے بھی۔ وہ میرا عشق مجازی ہے جو مجھے عشق حقیقی تک لے کر جائےگا۔ مگر تم جیسے لوگ ایسی پاکیزگی کو نہیں سمجھتے۔

اب بھی وقت ہے توبہ کر لو۔۔۔ورنہ تم لوگوں کی وجہ سے جو میری بیوی نے سہا ہے نا دل چاہتا ہے تم لوگوں کو بھی اسی اذیت سے گزاروں اس کے سرد اور ٹھنڈے لہجے پر دونوں کانپ کر رہ گئی تھیں اور اپنے ہاتھ اس کے پیروں پر رکھنے کی کوشش کی تھی جن کے اس کے پیروں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے پیر ہٹا چکا تھا۔ جانتی ہو جان سے کیوں نہیں مار رہا تم لوگوں۔۔؟ شاید میری طرح اللہ نے تمہیں بھی ہدایت دینے کا ارادہ کیا ہو۔ اور دوسری وجہ تمہاری وجہ سے ہی مجھے بیوی ملی ہے۔ اپنی بیوی کے صدقے نوفل احمد خان نے معاف کیا تم لوگوں کو۔

کانسٹیبل روبی کو ان دونوں کا ایڈریس دیتا وہ اپنی جنت کی طرف چل دیا تھا جہاں اس کی روح رواں موجود تھی۔۔۔۔۔ وہ یاور قریشی کو بھی آزاد کروا آیا تھا۔ جتنا وہ ان آٹھ دنوں میں سہہ چکا تھا وہ اس کے لیے زندگی بھر کے لیے کافی تھا۔

اسکے قدم اپنی منزل کی طرف جا رہے تھے جن کی سرشاری اس کے مدہوش ہونے کا پتا دے رہی تھی۔ مگر قسمت ایک بار پھر امتحان کا ایک چھوٹا سا پرچہ اس کے لیے تیار کر چکی تھی۔ *******************

وہ اس گاؤن کو اپنے جسم سے لگا کر دیکھ رہی تھی اس وقت شاک کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پائی تھی کہ کتنا پھٹا ہے بے پردگی کتنی ہوئیتھی۔ اور اب دیکھ رہی تھی تو اس کا دل چاہا تھا کاش اس کی روح تبھی پرواز ہو جاتی۔ یا اللہ تیرے حبیب کے زمانے کی عورتیں تو خود پر کسی نامحرم کی نظریں بھی برداشت نہیں کر پاتی تھیں، یا اللہ اور میں اس بے حجابی پر اب تک زندہ ہوں تو اتنا ناراض ہے مجھ سے۔

وہ اگر اس کو پہنتی تو بازو اور سینے پر سے برہنہ ہوتی اور وہ ہوئی تھی اور اس حال میں اسے دو مردوں نے دیکھا تھا۔ وہ تو اکیلے میں بھی ننگے سر نہیں گھومتی تھی، واشروم سے بھی سر کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلتی تھی۔ یہ کیا ہو گیا تھا۔ کیا اس نے ایسا کوئی گناہ کیا تھا جس کی یہ سزا تھی۔ اسے یہ کہاں پتا تھا اس کی یہ آزمائش اسکے شوہر نوفل احمد خان کو اس کے رب سے ملانے والی تھی۔

وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔ پہلے سسکیاں پھر رونا اور اب اس کے رونے کی آواز پورے روم میں گونج رہی تھی۔

******************

نوفل احمد خان کی آمد ابھی ہوئی تھی عادت کے مطابق وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا حیات کے روم کے بند دروازے کو دیکھا تھا یعنی وہ سو گئی تھی۔ اسے خود پر غصہ آیا جلدی جلدی کرتے بھی اسے دیر ہو گئی تھی وہ اسے دیکھنے کی حسرت لیے شرٹ نکالتا اپنے روم میں داخل ہوا تھا۔ اور اب اس کو جھٹکا لگا تھا جو اتنا زورآور تھا کہ وہ کچھ پل تو ہل بھی نہیں پایا تھا۔ اس کی بیوی فرش پر بیٹھی دہاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ اس کے سامنے تھوڑی دور اس کا گاؤن پڑا ہوا تھا۔ اسے دادی کی بات یاد آئی تھی۔ “اس حادثہ کا اثر تمہاری زندگی کی حقیقت جان کروقتی طور پر کم ہوا ہے کیونکہ اس دن سے وہ خواب میں بس تمہاری تکلیفوں کو دیکھ رہی تھی اور پھر روتی رہتی تھی، مگر پھر سے اس حادثہ کی یاد آئی تو اس کا حال پھر پہلے جیسا جائےگا”۔ اور اب واقعی نوفل احمد خان کا دل چاہا تھا خود کو ختم کر لے۔ کاش وہ اس گاؤن کو چھپا دیتا یا کچھ بھی کر دیتا۔ دوپہر وہ نیم اندھیرے کی وجہ سے اور کچھ اس کی بےباکی کی وجہ سے دیکھ نہیں پائی تھی۔وہ شرٹ کو سائڈ میں پھینکتا اس کی طرف لپکا تھا جو بلکل روتے روتے فرش سے لگتی جا رہی تھی۔

بیوی! اسے فرش سے اٹھا کر وہ بیڈ پہ لایا تھا۔

بیوی نو، اب اور نہیں، اسے اپنے سینے سے لگاتا وہ چپ کروا رہا تھا جو اس کا سہارا پا کر اور شدت سے رونے لگی تھی۔

مم۔میں نے کک۔کبھی ببھی۔ کک۔ کسی کو بھی ا۔ایسا نن۔ نہیں بب۔بولا۔ کک۔بھی بھی اپ۔ اپنے پردہ کک۔کرنے پر گھمنڈ نہیں کیا پھر ایسا کیسے ہوا۔ مم۔مجھے اس نے ایسے حال میں دیکھا اور آپ نے بھی۔ رونے کی وجہ سے وہ بول بھی نہیں پا رہی تھی۔ اس کی گرفت بڑھتی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کا تڑپنا۔

بیوی اس نے نہیں دیکھا تمہیں۔ بالکل بھی نہیں دیکھا اس حال میں اس نے تمہیں۔سمجھی تم۔ وہ صرف تم سے بد تمیزی کرنا چاہتا تھا اور اس کا فوکس بھی اسی پر تھا تم پر دھیان نہیں تھا اس کا۔ تم کتنی بےحجاب ہو اسے پتا نہیں تھا۔ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر وہ زور زور سے بول رہا تھا۔

چپ! اب بالکل خاموش اسے چپ نہ ہوتے دیکھ کر اب کے وہ غصہ سے بولا تھا۔ جس کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا۔ وہ اس کے ہاتھوں میں ہی سسکیاں لے رہی تھی جس سے اس کا پورا وجود جھٹکے کھا رہا تھا۔

غور سے سنو اور یقین کرو اس نے نہیں دیکھا تھا تمھیں۔ کیونکہ تمہیں اس حال میں دیکھنے اور تمہاری طرف بڑھنے سے پہلے ہی میں نے اس کے پیر پر گولی مار دی تھی۔

اور رہا میں۔ تو ہاں میں نے دیکھا تھا تمہیں اس حال میں۔ اور میرے دیکھنے سے تمہاری بےپردگی اور بے عزتی نہیں ہوئی اور نہ کبھی ہوگی کیونکہ میں شوہر ہوں تمہارا، تم کسی بھی حال میں کیسے بھی لباس میں میرے سامنے آ سکتی ہو اور میں دیکھ سکتا ہوں تمہیں۔ اس سے اللہ ناراض نہیں ہوگا۔ اور وہ تم سے ناراض نہیں تھا اس لیے تو میں اکیلا ہی اس روم میں پہنچا تھا۔ پھر اس کے بعد میں نے تمہیں مکمل چھپا دیا تھا سب سے خود سے۔ تمہارے کپڑے میں نے خود بدلے تھے کیونکہ عورت کا عورت سے بھی پردہ ہے سوا اس کے شوہر کے اس کا ہر کسی سے پردہ ہے۔ اس لیے میں نے خود ہی بدلے تاکہ تمہیں اس حال میں کوئی عورت بھی نہ دیکھے۔ تو کوئی بےحجابی نہیں ہوئی۔ اسکی تیز آواز پر وہ سہم گئی تھی مگر اس کی باتوں کو غور سے سنا تھا اور وہ اسی لیے زور سے بول رہا تھا تاکہ وہ مکمل اس کی آواز سنے۔

اس نے مم۔مجھے چھ۔چھوا بھی تھا۔ کیسا کانپتا لہجہ تھا اس کا۔۔ نوفل احمد خان خود کو حد درجہ تکلیف میں محسوس کر رہا تھا۔ وہ جتنا اس کو بہلا کے رکھتا تھا کچھ چیزیں پھر پھسل جاتی تھیں جو اسکی بیوی کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتی تھیں۔

تمہارا گاؤن جتنا بھاری اور ورک ایبل تھا آستینوں سے بھی، ٹریپل کپڑا اس میں لگا تھا۔ اس کے لمس کی گرمی تمہارے وجود تک نہیں پہنچی۔ اور جو اس کے ناخنوں کی کھرچ تمہاری گردن پر لگی وہ بھی اس کے لمس میں نہیں تھی، ایسی کھرچ تو کسی بھی جانور کےپنجے سےلگ جاتی ہے۔۔ تمہارا اللہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے وہ تمھیں ذلیل نہیں کر سکتا تھا۔ تمہاری فیملی کی دعائیں ہر پل تمہارے ساتھ ہیں کوئی ذلیل نہیں کر سکتا تمھیں۔ اور جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی اس کو ایسی سزا ملی ہے کہ زندگی بھر دوبارہ ایسا کرنے کا سوچےگا بھی نہیں ۔سمجھیں تم۔ اس کے غصہ سے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سرہلایا تھا۔

اسکی سخت گرفت اور غصہ سے خائف ہوتی وہ بمشکل اپنی سسکیاں روک رہی تھی۔ جس سے وہ پوری طرح کانپ رہی تھی لب کچھ کہنے کی چاہ میں پھڑپھڑا کر رہ گئے تھے۔ وہ کس بےبسی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی یہ نوفل احمد خان کی برداشت کی حد تھی۔ اگلے پل وہ اس کو آزاد کرتا کھڑا ہوا تھا۔ اس کے ایسا کرنے وہ بے جان ہوتی بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں گری تھی۔ اگر نوفل احمداس کا رونا نہیں رکواتا تو شاید وہ بے ہوش ہی ہو جاتی۔

تمہارے تین مجرموں کو سزا مل گئی ہے۔ چوتھے کو نہیں ملی اس لیے میں تمہاری اس تکلیف کا مداوا نہیں کر پا رہا ہوں۔ تمہارا سب سے بڑا مجرم میں ہوں اگر میں اس دن تمہاری بات مان لیتا، تمہارا خوف سمجھ جاتا اور تمہیں وہاں نہ لے کر جاتا اور اگر لے گیا تھا تو تمہیں چادر سے آزاد نہ کرتا اگر میں ایسا کرتا تو تمہارے ساتھ یہ سب نہ ہو تا۔ اس لیے اصل سزا کا حق دار میں ہوں۔ اس کی باتیں سنتی وہ بالکل خوف سے پیلی پڑ رہی تھی کیا کرنے والا تھا وہ۔

اور پھر نوفل احمد خان اپنی بیلٹ کھینچ کر اپنی ننگی کمر پر برسانے لگا تھا۔ اور اس کی بیلٹ کی آواز کے ساتھ حیات کی دلدوز چیخ کمرے میں گونجی تھی اور اگلے پل بیڈ سے اٹھ کراس کی طرف بڑھتی وہ بیچ میں ہی بے دم ہو کر فرش پر گرنے لگی تھی۔ نوفل احمد جو اسی کی طرف متوجہ ہو کر خود کو سزا دے رہا تھا اسےفرش پر گرتے دیکھ آگے بڑھ کر اسے گرنے سے روک گیاتھا۔

کب سوچا تھا اس نے اتنے خوبصورت دن کی رات اتنی تکلیف دہ ہوگی۔ اسے متاع جان کی طرح سنبھالے وہ اسے گود میں لئے فرش پر ہی بیٹھ گیا تھا۔

میں گناہگار ہوں بیوی، نہیں ہوں تمہارے قابل، اب تک تمھیں خوش و مطمئن نہیں رکھ پایا۔ کرب سے بولتا وہ اسے بچوں طرح خود میں چھپا رہا تھا۔

ہوش کرو بیوی، اور امتحان نہ لو۔ آج ڈاکٹر عائشہ بھی یہاں نہیں ہیں، تمھیں باہر نہیں لے جا سکتا، پلیز ہوش میں آؤ۔۔ مت ستاؤ یار۔ زندگی نے کم ستایا ہے کیا اب تم بھی ستاؤگی، کچھ نہیں ہے یار نوفل احمد خان کے پاس سوا تمہارے، تمھیں پاکر امیر ہوا تھا وہ اب پھر سے غریب مت کرو یار۔

پندرہ سال پہلے وہ اپنی ماں کے لیے رو رہا تھا اور پندرہ سال بعد اپنی بیوی کے لیے۔ اس کی بیوی کا چہرہ اس کی گردن میں چھپا تھا جب اسے محسوس ہوا اس کے لب اس کی گردن پے اپنا لمس چھوڑ رہے ہیں۔ اس نے تڑپ کر اس کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا وہ ہوش میں تھی کچھ بولنا چاہ رہی تھی مگر اس کے ہونٹ پھڑپھڑاکر رہ جاتے جب بولا نہیں گیا تو وہ گردن کو نفی میں ہلانے لگی تھی آنسو بےتحاشہ بہہ رہے تھے۔

بیوی، ٹھیک ہو تم۔ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی اشارہ کیا تھا۔ اس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی سانسوں کی رفتار سلو ہو رہی تھی۔ اس سے پہلےاس کی سانسیں رکتیں ایک بار پھر نوفل احمد خان بنا سوچے سمجھے اسکی سانسوں میں اپنی سانسیں ملانے لگا تھا۔ پہلی بار کے عمل میں وہ بےہوش تھی مگر اس بار وہ اس کے ہوش میں ایسا کر رہا تھا۔ اور اس لمس میں کب اس کے جذبات شامل ہو کر شدت اختیار کر گئے اس کا احساس اسے حیات کے کراہنے پر ہوا تھا۔

اس کی سانسیں بحال ہونے پر وہ اسے لیے بیڈ پر آیا تھا، اسے لٹا کر واشروم سے ٹاول گیلا کر کے لایا اور اس کا ڈوپٹہ اس کے جسم سے الگ کر کے سائڈ میں رکھا پھر اس گیلے ٹاول سے اس کا چہرا، گردن، ہاتھ پیر اچھے سے صاف کیے پھر اس کو اچھے سے بلینکٹ اڑھایا۔ جس سے اس کے حواس کچھ بحال ہوئے تھے۔ وہ ٹاول واشروم میں رکھنے کے لیے بڑھا تو حیات اس کا ہاتھ پکڑ کر روک رہی تھی خوف اس کے چہرے سے ہویدہ تھا۔ اسے ڈر تھا وہ کہیں پھر سے خود کو مارنے نہ لگے۔ اس کے نفی میں گردن ہلانے اور اس کی بیلٹ کی طرف نظر ڈالنے سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کو کیوں روک رہی ہے۔

کام ڈاؤن بیوی، اب نہیں کر رہا ایسا، تم ٹھیک ہو جاؤ پھر خود سزا دے دینا۔ اس کے اس طرح بولنے پر وہ پھر بدکی تھی۔ اور اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر کے کھینچنے لگی تھی۔ پتا نہیں کیا خوف لاحق ہو گیا تھا اس کو جو پھر بگڑتی جا رہی تھی۔

اوکے اوکے۔ ویٹ میں فریش ہو کر آتا ہوں ٹھیک ہے۔۔ اس کے کچھ بولنے سے پہلے وہ واشروم کی طرف بڑھا اور پانچ بعد پھر اس کے سامنے تھا۔ زمین سے بیلٹ اٹھا کر ٹیبل پر رکھنے کی نیت سے جھکا تو حیات کے چیخنے پر پھر اس کی طرف بھاگا جو اس کے بیلٹ اٹھانے سے پھر سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اور نفی میں ہلاتی شاید اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

نوبیوی۔ بیلٹ کو صرف اٹھا کر رکھ رہا تھا۔ اب بس، نو ڈرنا اور نو رونا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بلینکٹ میں لیٹتا اسے اپنے حصار میں چھپاتا پرسکون کر رہا تھا۔ اگر وہ ہوش میں ہوتی تو اسے کب اس طرح کرنے دیتی۔ مگر اس وقت وہ خود اتنی ڈری ہوئی تھی، اور شاید اسے خود ضرورت تھی اس کے سہارے کی۔ وہ اتنی پتلی دبلی تھی کہ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی کمسن بچی کو خود میں چھپایا ہوا ہے۔ اس کے وجود میں وہ بلکل ہی گم ہو رہی تھی۔ اسے خود میں بھینچنے کی شدت میں اضافہ ہوا تھا اور وہ اس کے آغوش میں سمٹتی خود کو اس کے خوف سے بچا رہی تھی۔ اور پھر کتنی دیر تک وہ اسے سمجھاتا تسلیاں دیتا آخر کار سلانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی مگر نیند نوفل احمد خان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ صبح میں ہونے والے اس کے رئیکشن کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اور نہ جانے کب وہ بھی اس کے وجود کی نرمیوں میں گم ہو کر نیند کے آغوش میں چلا گیا۔ *********************

وہ بنا دوپٹے کے دادی کے آغوش میں لیٹی ہوئی تھی اور دادی اسے اماں عائشہ پر تہمت کا قصہ سنا رہی تھیں پھر اسے سورہ نور کی شروع کی دس آیتوں کو تفسیر کے ساتھ پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ ان کے حکم پر اس نے ایسے ہی پڑھنا شروع کیا تھا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے کوئی اس کے وجود کو لباس کی طرح چادر سے ڈھانپتا جا رہا تھا۔ تلاوت کے بعد جو چیز اسے سمجھ میں آئی تھی، وہ اللہ کی طرف سے آزمائش میں اس کے قریب ہونا یا پھر اس سے دور ہونا تھیں، جیسے اماں عائشہ صرف اللہ کے سامنے فریاد کناں ہوئی تھیں اور اللہ ان سے اس طرح راضی ہوا تھا کہ قرآن میں ان کی پاکیزگی کی گواہی خود دے دی یہ دس آیتیں اتار کر۔ “(اس کا مطلب اس کی بھی یہ آزمائش تھی مگر اماں عائشہ کی تکلیف کے سامنے تو کچھ بھی نہیں تھی”)۔ اور دشمنوں کو ان کے کیے کی سزا مل گئی۔ وہ زمانہ میں زندگی بھر کے لیے رسوا ہو گئے۔ اب اس کو چادر ڈھانپنے والا خود بھی اس کے اسی چادر میں خود کو بھی ڈھانپنے لگا تھا جیسے وہ اس کا بھی لباس ہو، اس نے اس سے دور ہونے کی کوش کی تھی مگر دادی نے اسے منع کر دیا تھا یہ کہہ کر کہ یہ اللہ نے تیرا محافظ اتارا ہے، اور تم دونوں ہی ایک دوسرے کا لباس ہو۔ اس نے اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی تھی جو اس کے ساتھ ہی دادی کے گود میں سر رکھے ہوئے تھا اور اس کے بے حد قریب تھا، اسے دادی کے سامنے اس طرح بہت حیا آئی تھی۔ وہ چہرہ اب اس کے چہرے کے قریب تھا اور پھر وہ چہرہ اس کے سامنے ہوا تھا تو وہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ وہ کوئی اور نہیں اس کا شوہر “نوفل احمد خان” تھا۔

اس کی آنکھیں فجر کی اذان کے الارم سے کھلی تھیں۔ یا اللہ یہ کیسا خواب تھا جس نے اسے اس کی ساری ٹینشن، ڈپریشن سب سے فری کر دیا تھا۔ اسے محسوس ہوا تھا جیسے کسی نے اسے باندھا ہوا ہے۔ دھیان دیا تھا تو دیکھا نوفل احمد خان اس کو بری طرح جکڑے گہری نیند سو رہا ہے جیسے اگر چھوڑا تو کہیں غائب نہ ہو جائے۔ اگر وہ خواب نہیں دیکھتی تو اب تک اس کا حصار توڑ کر بھاگ چکی ہوتی، اور اسے خوب کھری کھوٹی بھی سنا چکی ہوتی۔ اسے رات کی نوفل احمد خان کی تمام باتیں یاد آئی تھیں اور واقعی اس نے کتنا صحیح کہا تھا۔ اور وہ واقعی اللہ کی نیک اور سمجھدار بندی تھی جو ان باتوں کو سمجھ رہی تھی۔ اس نے نرمی سے خود کو نکالنے کی کوشش کی اسے نماز پڑھنی تھی۔ بڑی مشکل سے وہ خود کو نکال پائی تھی پھر بغیر لائٹ آن کیے اس پر اچھی طرح چادر اوڑھا کر روم سے باہر جانے کے لیے قدم بڑھائے تھے جب اچانک اسے بہت پہلے پڑھی ایک تحریر یاد آئی تھی۔ اس نے دل کی آواز پر لبیک کہا تھا اور نوفل احمد خان کی طرف قدم واپس موڑ لیے تھے۔

سنیے! اٹھیں، وہ اس کے قریب جھکی اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس میں کوئی حرکت نہ ہوتے دیکھ کر وہ اس کا ہاتھ ہلانے لگی تھی۔ اس کا بھی اثر نہیں ہوا تھا تو اس کے پیروں کو ہلایا تھا۔

یا اللہ اب کیسے اٹھاؤں نماز میں بس آدھا گھنٹہ منٹ باقی ہے۔ اب کے اس نے جھجھکتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے تھے اور دباؤ بڑھایا تھا جب نوفل احمد خان ایک نہایت گرم لمس کی حدت سے آنکھیں کھول گیا تھا۔ مندی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اور اپنا تخیل سمجھتا مسکراتا ہوا پھر سے آنکھ بند کر گیا تھا۔ مگر جب اسے اپنے وجود میں میں کوئی کمی محسوس ہوئی تو جھٹکے سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو بیڈ پر خود کو اکیلا پایا۔

بیوی! ماتھے پر رکھے ہاتھ کو پکڑتا وہ اٹھ بیٹھا تھا۔ سائڈ ٹیبل لیمپ جلایا تھا۔

بیوی تم ٹھیک ہو؟ اس کے ساتھ کھڑا ہوتا وہ اسے چھو کر دیکھنے لگا تھا۔ نیند سے اٹھ کر بھی اسے اسی کی فکر تھی۔ اور اسے صحیح سلامت دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔ صبح صبح اس افتاد پر وہ بوکھلا کر رہ گئی تھی۔

میں ٹھیک ہوں پلیز چھوڑیں۔ میں آپ کو نماز کے لیے جگا رہی تھی۔ آپ بھی نماز پڑھ لیں، وقت بہت کم بچا ہے۔خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کرتی وہ اسے وقت کا احساس دلا رہی تھی۔

تمہیں بخار ہے بیوی دیکھو کتنی تپ رہی ہو۔ رات کی حالت اسے واقعی تیز بخار میں مبتلا کر گئی تھی، وہ گرم وجود رات بھر اس کی باہوں میں رہا تھا پھر بھی اسے پتا نہیں چلا کہ اس کی بیوی بخار میں تپ رہی ہے۔ خود پر افسوس کرتا وہ اسے محسوس کر رہا تھا۔

میری نماز قضا ہو جائے گی، اللہ ناراض ہو جائے گا پھر آپ کو بھی گناہ ملےگا اور مجھے بھی پلیز بعد میں دیکھ لینا ابھی چھوڑیں۔ اس کی روہانسی آواز پر وہ اسے آزاد کر گیا تھا۔

اوکے، جاؤ جلدی پڑھ لو، پھر ناشتہ کر کے میڈیسن لینی ہے۔

آپ بھی نماز پڑھیں پلیز۔ دادی کہتی ہیں فجر کی نماز بنیاد ہے دن بھر کی خوشحالی اور سکون کی۔ فجر کی نماز کی پابندی ہمیں منافقت سے بچاتی ہے۔ پڑھ لیں آپ بھی جلدی سے۔ اس کے اتنے معصوم انداز میں سمجھانے پر نوفل احمد خان پورے پندرہ سالوں کے بعد اپنے رب کے سامنے جھکنے جا رہا تھا۔ وہ بھی اپنی بیوی کے لیے۔ وہ نہیں جانتا تھا اسے نماز یاد بھی ہے یا نہیں مگر وہ وضو بنانے چلا گیا تھا۔ اور حیات دوسرے روم میں جہاں اس کا سامان رکھا ہوا تھا۔

**************

مصلہٰ تو تھا نہیں اسلیے اس نے چادر بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی۔ اسے لگا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں پڑھ پائےگا مگر پندرہ سالوں بعد اسے مکمل نماز یاد آ گئی تھی، جیسے وضو کرتے ہوئے وضو کے سنت فرائض سب یاد آ گئے تھے۔ یعنی وہ خود اللہ کو بھولا تھا اس کا رب اسے ایک پل کو بھی نہیں بھولا تھا۔ اور پھر وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حال دل بیان کرتا چلا گیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا وہ کتنا رو رہا ہے اسے بس اتنا پتا تھا، “آج وہ صحیح غمگسار کے پاس آیا ہے”۔ کتنی دیر تک وہ ایسے ہی اپنے رب کے سامنے بیٹھا رہا تھا۔ اور بیشک اللہ نے خود فرمایا ” وہ نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے”۔۔۔اپنے بندوں کی ایک ہی پکار پر لبیک کہنے والا، ہے کوئی ایسا رب جو اتنی غفلت کے بعد بھی تمہیں اپنے در پہ نہ صرف بٹھاتا ہے بلکہ تمھیں نوازتا بھی ہے۔۔ جو تم سے صرف تمہارے لیے محبت کرتا ہے جس کی حد ہی کوئی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *