Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 02)
Rate this Novel
Hayat (Episode 02)
Hayat by Ain Noon Alif
بے فکر زندگی ہر غم سے آزاد۔ ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دادی کی جان۔ اپنے بھائی کی دوست اور رازداں۔اپنے ماں باپ کی دوسری مگر اکلوتی اولاد۔ بھائی ہونے کے بعد اکلوتی کیسے؟۔۔کیونکہ پہلی اولاد اسکی پھوپھی کی پانچ سال تک کی بے اولادی دیکھ کر انہیں دے دی۔ اور پھر اس کے دو سال بعد اللہ نے انہیں دو جڑواں بیٹوں کی نعمت سے نوازا۔ مگر انہوں نے بھتیجی “منال” کو واپس نہیں کیا کہ اسی کی برکت سے ان کی سونی گود بھری ہے۔ بیٹوں سے زیادہ وہ اسی کو چاہتی تھیں۔ اور پھر چھہ مہینے اسے اپنا دودھ پلا کر حقیقی بیٹی کر لیا۔
اور اب وہ تھی اپنے ماں باپ، دادی کی واحد جمع پونجی۔ اس کے بعد اس کی ماں دوبارہ ماں نہیں بن پائی تھی۔ وہ اکیلی ان کی زندگی کا واحد مرکز تھی جہاں یہ سارے رشتہ ایک جگہ آ کر رک جاتے تھے۔ اسی لیے اس کے باپ نے اس کا نام “حیات” “حیات فرحان صدیقی” رکھا تھا۔اور پھر اس کی پھوپھی نے اپنے جڑواں بیٹوں میں سے ایک بیٹا اس کی ماں کو دے دیا تھا جو ڈیڑھ سال کی عمر میں ان کے ہاس آیا تھا۔ وہ اس سے ایک سال بڑا تھا اور اس کے بعد وہ اس کا نا صرف دودھ شریک بھائی بنا تھا بلکہ خون کا رشتہ بھی بن گیا تھا، جب بچپن میں ہی اس کے خون میں انفیکشن کی وجہ سے اس کا خون بدلوانا پڑا جو کہ فرحان صدیقی کا شفاف خون تھا۔ اور اسے بھی وہی اہمیت حاصل تھی جو اس کی تھی۔ اور اس کا نام اس کی ماں نے اریج سے بدل کر “احمد” رکھا تھا۔دونوں ایک خون تھے۔ مگر وہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے ہر آنکھ کا تارا تھی۔
بچپن میں ہی دونوں بہن بھائیوں نے سات سال کی عمر میں تجوید کے ساتھ قرآن سیکھا۔ پھر دونوں اسی عمر سے اسکول گئے۔ ان کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے انہیں ان کی عمر کے مطابق کلاس میں لیا گیا۔ دونوں نے کبھی کوئی سہیلی یا دوست نہیں بنائے۔ دونوں میں خوب دوستی تھی۔ ایس ایس سی کے ساتھ ہی احمد کا قرآن حفظ بھی مکمل ہو گیا تھا۔
زندگی کچھ اور آگے سرکی تھی۔ دونوں بہن بھائیوں نے ایچ ایس سی کر لیا تھا۔ جب احمد انٹرنیشنل کالج میں انجینئرنگ کے لیے داخل ہو گیا تھا جہاں سے گھر وہ صرف سالانہ چھٹیوں میں ہی آتا تھا۔ اور پھر انہیں حقیقت پتا چلی تھی کہ منال اس کی حقیقی بہن ہے اور احمد اس کی پھوپھی کا بیٹا۔ مگر اس سے ان دونوں کو خاص فرق نہیں پڑا تھا ہاں مگر اس کی اپنی کزن جو کہ بہن تھی، محبت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ تین چار سالوں کے وقفہ سے ان کا ملنا ہوتا تھا کیونکہ اس کی ہھوپھی دوبئی میں زیر قیام تھیں۔
اور پھر پھوپھا کی وفات کے بعد وہ لوگ ہمیشہ کے لیے انڈیا آ گئے۔ اور ان کے بلکل ساتھ والا فلیٹ خرید لیا۔ انڈیا آنے کی دوسری اور بہت خاص وجہ منال کی اس لڑکے سے شادی کی ضذ تھی جسے ان کا گھرانہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس سے اس کی ملاقات دبئی میں ہی ہوئی تھی۔ مگر اس کی رہائش ممبئی میں تھی۔
دونوں بہنوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ حیات جتنی چھپی ہوئی تھی، منال اتنی ہی کھلی ہوئی جس کا لباس مردوں سے مشابہت رکھتا تھا۔ سب کے بہت سمجھانے پر بھی وہ اس لباس کو ترک نہیں کر پائی تھی۔ ہاں مگر اتنا ہوا تھا کہ اس نے ہالف ٹی شرٹ کی جگہ کرتے کو دےدی تھی مگر ڈوپٹہ ابھی ندارد تھا۔ اور اس کی دوسری اور تکلیف دہ کمزوری وہ چمکنے والی چیزوں پہ جلدی فدا ہو جاتی اور پھر انہیں حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر گزرتی۔ اور اس کی اسی ضد کی وجہ سے اور سب کو خود کشی کی دھمکی نے آخر اس لڑکے کو قبول کرنے کی حامی بھر لی جسے وہ کبھی بھی قبول کرنا نہیں چاہتے تھے۔
اور منال کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے لکی گرل ہے جسے اس لڑکے نے پروپوز کیا جس کے پانے کے خواب ہر لڑکی کی آنکھ میں سکتے ہیں۔ جو لوگوں کی پہنچ سے ایسا دور ہے جیسے چاند۔ یہ حقیقت تھی کہ اسے اس سے کوئی طوفانی محبت نہیں تھی۔ مگر اس لڑکے کا رتبہ، مقام، اسکی پہنچ، اور سب سے زیادہ اس کی پرسنیلٹی جو کہ ہر لڑکی کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکتی تھی۔ اور وہ لڑکا کس کے حصہ میں آیا تھا؟ منال اعزاز صدیقی کے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ڈزرونگ ہے کہ اس کو وہ لڑکا ملے جو ہر آنکھ ہر دل کی طلب ہے۔ اور وہ کون ہے؟۔۔۔۔ دنیا کا جانا مانا “نوفل احمد خان”۔ جس کی منظور نظر لاکھوں لڑکیوں میں “منال اعزاز صدیقی” ٹھہری تھی۔
مگر ہوا کیا تھا۔ وہ منال کو تو نہیں ملا تھا جو اس پر بری طرح فریفتہ تھی۔ اور جس کے حصہ میں آیا تھا وہ اس سے اس قدر نالاں تھی کہ اسے کسی لڑکی کے قابل ہی نا جانتی تھی۔ قسمت نے کیسا ہیر پھیر کیا تھا اس کے ساتھ جس کے گرداب میں وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔ اور ایک ایسے لڑکے کے ساتھ اس کی زندگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی تھی۔ وہ بہت بہادر نہیں تھی تو کمزور بھی نہیں تھی۔ بلا جھجک اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے ہر انہیں عاجز کرنے میں ماہر تھی۔ کبھی غلط کے آگے نہ جھکنے والی کی زندگی “نوفل احمد خان” کے ساتھ کیسے گزرےگی۔ کیاکیا نہ خیال تھے جو اس کے دماغ سے چمٹ کر رہ گئے تھے۔
***********
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی اور ساتھ ہی اس کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔ چونک کر ادھر ادھر دیکھا تھا۔ ممبئی جوہو کے سب سے پوش ایریا میں ایک چودہ پندرہ فلور کی بلڈنگ کے اندر گاڑی رکی تھی۔ مہنگے ترین علاقے میں جہاں ایک روم کچن ہال کے گھر کی قیمت بھی کروڑوں میں ہوگی۔ وہاں وہ کھڑی تھی اس بلڈنگ کے نا جانے کس گھر کے مالک کی بیوی کی حیثیت سے جہاں رہنا وہ لوگ کبھی بھی افوارڈ نہیں کر سکتے تھے۔
طارق تم فیصل سے مل کر مجھے رپورٹ کرو کہ اس کا کام کہاں تک پہنچا۔ اور ہاں مجھے کل تک بلکل بھی ڈسٹرب بہ کیا جائے۔ کل پروموشن کے لیے جانا ہے۔ کل تک کا کام تمھارے اور فیصل کے ذمہ۔ ڈرائور کو ہدایت دیتا وہ اپنے چیرے پر رومال باندھ رہا تھا۔ سر پہ کیپ لگائی تھی پھر جیکیٹ اتار کر سمپل شرٹ میں باہر نکلا تھا۔
بیوی! کیا تم یہاں ایکیس توپوں کی سلامی کا انتظار کر رہی ہوجو تمھارا ویلکم کریں؟ وہ جو آنکھیں پھاڑے اس کی عجیب و غریب کاروائی دیکھ رہی تھی بری طرح ٹھٹکی۔
دھیرے سے دروازہ کھول کر باہر آئی تھی۔ ان دونوں کے اترتے ہی ڈرائور اس کی ہدایت پر گاڑی بھگا لے گیا تھا۔ وہ بغیر کچھ کہے لفٹ کی طرف بڑھ گیا تھا جس کی تقلید اس نے بھی کی تھی۔ لفٹ چودھویں فلور پر رکی تھی۔ یعنی بلنڈنگ کا آخری فلور۔ پورے فلور پر بس ایک ہی بڑا سا دروازہ تھا۔ یا اللہ پورے فلور پر انہیں کا گھر ہے۔ اگر یہ مجھے ٹارچر کریں گے تو کوئی ہیلپ کے لیے بھی نہیں آئےگا۔ یا اللہ کہاں پھنس گئی۔ اپنے ہی خیالوں میں گم اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ دو آنکھیں بڑی غور سے اسے دیکھ رہی ہیں۔
تو پھر کیا سوچا کیا بنا سکتی ہو یہاں؟ ۔ اس کے پورے فلور پر نظر دوڑانے پر چوٹ کی تھی۔
اس نے بھنویں اچکا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو گھر کے اندر بھی داخل ہو گیا تھا۔ رومال اور کیپ ہٹ گیا تھا۔ ایک پل کی اس کی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی۔ منال آپی صحیح فدا تھیں ان پہ۔
بیوی!۔۔جس طرح تم اس فلور پر غور کر رہی ہو اس سے یہی لگ رہا ہے جیسے نئی تعمیر کا کام تمھیں ہی کرنا ہے۔ کیا ارادہ ہے پھر؟۔۔ نوفل احمد خان تمھیں خود اندر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ چلو!
اندر آؤ، اس سے زیادہ پروٹوکول ڈزرو نہیں کرتی تم۔ کچھ دیر پہلے کی شوخی غائب تھی۔کھردرے و اکھڑ لہجہ میں کہتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔
یا اللہ! کتنے رنگ ہے ان کے؟۔ ابھی تو شروعات ہے۔ یہ بندہ کیا سوچ کے دیا ہے مجھے۔ جتنا لمبے چوڑے خود ہے ویسی ہی اکڑ اور غرور ہے۔ مجال ہے جو ذرا شرمندگی ہوئی ہو۔ ہونہہ۔ وہ پھر سے خیالوں میں جا چکی تھی۔
یہ بیماری تمھیں ابھی ہوئی ہے یا پہلے سے ہی مریض ہو؟۔ ویسےاس بیماری کا کیا نام ہے؟۔ اس نے جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا جس کی صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھی۔
یہی ہر جگہ اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد کے خیالوں میں جانے کی جگہ اور وقت کا تعین کیے بغیر۔ اس کی سوالیہ نگاہوں میں دیکھتے ہوئے وضاحت کی تھی۔
کیا آپ کوئی بات سیدھے طریقے سے نہیں کہہ سکتے۔ کب سے اناپ شناپ بولے جا رہے ہیں۔ واقعی نارمل انسان ہیں ہی نہیں آپ۔ ہمت کر کے دل بھڑاس نکال ہی لی۔ اور وہ اپنا والٹ، فون اور کوٹ کو ٹیبل پر رکھ رہا تھا، سیدھا ہوا کر واپس اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
اس ٹینٹ کو ریموو کرو۔ ارریٹیٹ ہو رہا ہوں میں۔ اور یہاں کوئی نہیں کہ تمھیں پریٹینڈ کرنے کی ضرورت پڑے۔ سو کم ان یور رئیلٹی۔ اس کی بات کو اگنور کر کے دوسرا حکم صادر کیا تھا اور چلتا ہوا ریلیکس انداز میں ٹانگ ٹانگ پر جمائے صوفے کی پشت پر دایاں ہاتھ رکھ کے اطمنان سے بیٹھ چکا تھا۔
کیا مطلب ہے آپ کا اس بات سے؟ ۔۔۔ میں پردہ دکھاوے کے لئے کرتی ہوں؟ آپ کی طرح نہیں ہوں میں جس کی حقیقت کچھ اور، اور ظاہر کچھ اور، جس طرح آپ لوگوں سے چھپ کر اوپر آئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے واقعی آپ کوئی مجرم ہی ہے۔ بس فلمی ٹیگ لگا کر خود کو کچھ اور ظاہر کر دیا۔کیسی تکلیف پہنچی تھی اسے اسکی بات سے۔
اف بیوی!۔ کتنا جان گئی صرف دو گھنٹوں میں۔ویسے بلکل صحیح اندازہ لگایا ہے۔سیریل کلر ہوں میں۔ اس کے کان میں پراسرار سرگوشی کرتا وہ حقیقی معنوں میں اسے ڈرا چکا تھا۔
اس کے نارمل لہجہ سے لگ رہا تھا جیسے اپنی نئی نویلی بیوی کے بھپرے انداز کو اس نے اپریشیٹ کیا تھا۔ جو ابھی تک چادر میں ہی چھپی کھڑی تھی۔
جسٹ ریموو اٹ بیوی۔ اور کتنی دیر اس ٹینٹ کا ڈرامہ کرنا ہے۔ اٹس اوور ناؤ۔آئی وانا سی یو۔ ا آفٹرآل اٹس مائی رائٹ۔ اب کے آواز کی نرمی غائب تھی۔ صاف حکم تھا۔
اس کے سوال کو اگنور کرنے پر غصہ تو بہت آیا تھا مگر اس کے خود کو سیریل کلر کہنے پر ڈر اپنی جگہ تھا۔ اوپر سے اس کے ساتھ اس پورے گھر میں اکیلی تھی۔
یا اللہ کیا ہیں یہ؟ خود ہی کچھ بھی بولتے ہیں اور وضاحت بھی نہیں کرتے۔۔ گھمنڈی کہیں کے۔۔ دوسرے کا سوال تو کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ یا اللہ مدد کرنا بس تو ہی اس زندان میں سہارا ہے۔ اور تونے ایک سیریل کلر کی بیوی بنا دیا۔دل ہی دل میں مخاطب ہوتے ہوئے وہ چادر سے خود کو آزاد کر چکی تھی۔ اپنے اوپر اس کی اندر تک جاتی نظروں کی تپش اس کو نروس کر رہی تھی۔ ہاتھوں کی کہکپاہٹ واضح تھی۔
اور وہ جو اس پر نظریں جمائے بڑے ہی ریلیکس انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے اور ایک ہاتھ صوفہ کی پشت پر رکھے سر ٹکائے بیٹھا تھا اس کو چادر سے باہر دیکھ کر فوراً سیدھا ہوا تھا۔
