Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 18)
Rate this Novel
Hayat (Episode 18)
Hayat by Ain Noon Alif
وہ کروٹیں بدل بدل تھک گئی تھی مگر اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ کوئی کمی محسوس ہو رہی تھی یا شاید کوئی طلب جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
حیات بچے کیا ہوا نیند نہیں آ رہی ہے؟۔ دادی کو شاید اس کی بےچینی نظر آ گئی تھی۔
پتا نہیں دادی ساری دعائیں بھی پڑھ چکی ہوں پھر بھی سو نہیں پا رہی ہوں۔ اسکی اداسی اس کے لہجہ سے عیاں تھی۔ شام تک سب سے بہت گھلی ملی رہی تھی۔ منال سے بھی کافی دیر تک بات ہوئی تھی۔ کوئی کسی کمی کا احساس نہیں تھا۔ مگر بستر پہ آتے ہی وہ بےچین ہو گئی تھی۔ اس کا دل کوئی طلب کر رہا تھا۔۔ مگر کیا۔۔؟
اپنے گھر میں آ جاتی تھی نیند، کب اور کیسے سوتی تھی وہاں؟ دادی کے پوچھنے پر چھن سے اسے نوفل احمد خان کا مضبوط حصار یاد آیا تھا۔ کیسے بچوں کی طرح لے کر سوتا تھا اسے۔ اور پھر اپنے چھوٹے چھوٹے سوالوں سے جن کا مطلب تک اسے نہیں پتا ہوتا تھا کیسے زچ کرتا تھا۔ اور پھر اس کے الٹے سوالوں پر کیسے اس پر چھا جاتا تھا کہ اسے چھپنے کو اس کے سینے کے علاوہ جگہ ہی نہیں ملتی تھی۔
جی دادی وہاں تو آرام سے آ جاتی تھی۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا۔ آج پتا نہیں کیوں۔ اور اس کی یہ اداسی تجربہ کار دادی کی سمجھ میں بہت جلد آ گئی تھی جس میں ان کی یہ معصوم اور جھلی پوتی اپنے دل میں پنپنے والے ان نئے جذباتوں میں الجھی ہوئی تھی۔
نوفل بچے کی یاد آ رہی ہے؟ اب دادی اس کی پہلی والی دوست بن گئی تھیں۔ اور سوال بھی اب ایسے ہی کرنے تھے انہوں نے۔
یاد کروگی مجھے۔۔ بیوی دس کے لیے جا رہا ہوں، کیسا رہوں گا یار تمہارے بغیر۔۔ دیکھنا تمہیں بھی نیند نہیں آئےگی میرے بغیر۔۔ یار فون تو دےدو ایٹلیسٹ بات تو کر لوں گا۔ اور اس نے کہا تھا اللہ کے راستے میں دنیا کو لے کر نہیں جائیں۔ ٹھیک ہے بیوی۔ یہ میرا جہاد ہے خود سے تم سے۔ اللہ کے اس راستے میں میں ایک جہاد کے لیے نکل رہا ہوں اور اب تمہارا جہاد ہی کروا کر لوٹوں گا۔
اللہ آپ کو کامیاب کرے اور اسے قبول کرے۔ پھر کتنی ساری دعائیں اس پر پڑھ کر پھونکی تھی جیسے اس کی مما اور دادی اس کے پاپا پر پھونکتی تھیں۔
یار بیوی کبھی تو تم مجھے دادی والی فینگ دیتی ہو، کبھی بالکل بچوں والی۔ یار بیوی والی فیلنگ کب دوگی۔۔ کب یہ احساس دلاؤگی کہ نوفل احمد خان شادی شدہ ہے۔۔ اور وہ اس کے اس طرح چڑ کر کہنے پر کس قدر ہنسی تھی اس کے سامنے پہلی بار۔ اور وہ کیسے اسے ہنستے ہوئے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا اور پھر اس کی ہنسی میں اپنی ہنسی کے رنگ ملانے لگا تھا۔ تو کیا وہ اس کی قربتیں بھی مس کر رہی تھی۔
کس سوچ میں گم ہو گئی۔۔ دادی کی آواز پر وہ چونکی تھی۔
ایسی ہی محبت ہوتی ہے بچے شوہر سے، ہر ایک محبت سے منفرد، شوہر کے جانے کے بعد ہونہی بےکلی ہوتی ہے۔ اور تیرا شوہر تو ہے بھی سرپھرا اسے تو یاد نہ کرنے والا بھی یاد کرےگا اور تو تو پھر اس کی محبوب بیوی ہے، ڈنکے کی چوٹ پر بتا کر گیا ہے، الگ الگ سب کو تیرا خیال رکھنے کی تاکید کر کے گیا ہے۔۔ وہ ایسی ہی تھیں اس کے ساتھ جب وقت ہوتا تو ہر بات ایسے ہی کھل کر کرتی تھیں۔
اور دادی کی باتیں سن کر اپنے دل میں ایک ہلکا ہلکا درد محسوس کر رہی تھی، جو اسے ایک سرور بخش رہا تھا۔ پہلی بار وہ اپنے شوہر کو سوچ رہی تھی ایک الگ ہی انداز میں، ایک الگ ہی طریقے سے۔ وہ کتنی دیر اسے سمجھاتی رہی تھیں۔ اور شاید وہ سمجھ بھی رہی تھی۔ بلا تکلف وہ یہ اقرار کر گئی تھی کہ وہ اپنے شوہر کا حصار مس کر رہی ہے وہ اس کی عادی ہو چکی ہے۔ نوفل احمد خان کے اس کو دو مہینوں تک اپنا تکیہ بنا کر سلانے کی عادت ڈال کر اچھا نہیں کیا تھا۔ جب تک وہ اس کے حصار میں سوتی تھی تو بوکھلائی شرمائی رہتی تھی اور آج وہ حصار نہیں تھا تو وہ بے چین ہو رہی تھی۔
دادی سو چکی تھیں مگر وہ اب تک نہیں سو پائی تھی جب بالکل بےچین ہو گئی تو اٹھ کر نوفل احمد خان کی وہاں چھوڑی ہوئی شرٹ جو اس نے دھو کر اپنے ہی بیگ میں رکھی ہوئی تھی، نکالی تھی اور بنا سوچے سمجھے پہن لی تھی اور ایسا عمل اس نے زندگی میں پہلی بار کیا تھا اور وہ حیران تھی کہ وہ یہ کیا کر رہی ہے۔ مگر اس کی شرٹ پہن کر اسے محسوس ہوا تھا جیسے وہ مکمل نوفل احمد خان کے حصار میں ہے۔ اور پھر ایسے ہی وہ اسے محسوس کرتے ہوئے نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھ *******************
اے بچے ذرا صحیح سے کھاؤ یاد نہیں کیا کہہ کر گیا تھا تیرا میاں اس کے آنے تک اور دو کلو وزن بڑھ جانا چاہئے۔علی الاعلان کہہ کر گیا تیرا خیال رکھنے کو۔اگر کھانے پینے میں کوتاہی ہوئی تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ اور اسے اس کی ہدایت یاد آئی تھی۔ جاتے وقت کس طرح وہ اپنی بےقراریاں اس میں انڈیل رہا تھا۔
بیوی، ڈیلی روٹین میں کوئی چینجنگ نہیں ہونی چاہئے نوفل احمد خان تمہارے پاس مجسم نہیں ہوگا مگر اس کا تخیل ہر وقت تمہارے ساتھ ہونا چاہیے۔ میں اللہ کے راستے میں نکل رہا ہوں تو تمہیں اسی اللہ کے نام پر بطور امانت تمہارے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں اور مجھے میری امانت میں کوئی بھی کمی نہیں چاہئے۔ اور پھر کتنے ہی پل وہ اس کے ساتھ جی کر اللہ کی راہ میں نکل پڑا تھا۔ وہ کہہ کر گیا تھا کہ یہ اس کے لیے جہاد ہے جو اس سے بیوی کروا رہی ہے اور اس کے اس جہاد میں اس سے زیادہ کی حقدار ہے۔
ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی تھی۔ اور پھر واقعی اس نے اور سب نے اس کا خیال ایسے ہی رکھا تھا جیسے نوفل احمد خان مجسم رکھتا تھا۔ دو پاک محبتیں مل کر اسے پرنور کر رہی تھیں۔
دادی یہ پیسے آپ ساجدہ چاچی کے گھر بھجوا دیں۔ یہ میرے دو مہینے کے صدقے کے پیسے ہیں ان شاء الله ان کا ایک مہینے کا راشن آجائےگا۔
ماشاء اللہ واقعی اللہ نے اس کی دعا سن لی دو دن پہلے ہی وہ بڑی پریشان تھی۔ میں خود جا کر دے آؤں گی۔
صدقہ کا تو روز دینا چاہئے نا ،تو تم ایک ہی دن میں کیسے نکال رہی ہو دو مہینوں کا۔۔۔؟ منال جو آج کل دادی سے اسلامی تعلیم حاصل کر رہی تھی، یہ بات بھی جاننے کی خواہاں تھی۔
بتاؤ حیات آج کا سبق تم پڑھاؤ اسے میں پیسے دے کر آتی ہوں۔۔۔ دادی کہہ کر چلی گئی تھیں ساتھ اپنی بہو کو بھی لے گئی۔ آج بھی ان کے گھر کی عورتیں پڑوس میں بھی اکیلی نہیں جاتی تھیں۔
آپی میں آپ کو پورا سبق بتاتی ہوں اس کا۔ اللہ زمین پر صبح و شام کچھ آفتیں نازل کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آفتوں سے بچنے کا علاج صدقہ بتایا ہے۔ اور یہ صدقہ اگر مصیبتیں و آفتیں اترنے سے پہلے کر دیا جائے تو یہ بالکل ایسا ہے جیسے بارش کے ہونے سے پہلے گھر کی چھت ٹھیک کرلی جائے تو بارش کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ یعنی یہ ہمارے اور مصیبتوں کے درمیان دیوار بن جاتا ہے اور بلائیں اس دیوار کو بلکل نہیں پھاند سکتی۔
میں تہجد کی نماز کے بعد صدقہ نکلا دیتی ہوں ایک ڈبہ بنایا ہوا ہے پھر اللہ جتنی توفیق دے۔ اور وہ رقم میں دعا کر کے اللہ کے حکم سے جہاں وہ بھجوانا چاہتا ہے بھجوا دیتی ہوں۔
تمہیں اتنا سب اتنے عمدہ طریقے سے کیسے آتا ہے حیات۔۔۔؟ منال اس کے اتنے مناسب اور خوبصورت انداز میں سمجھانے پر ابھی تک حیرت میں تھی۔
نہیں آپی طریقہ تو میرا بالکل عمدہ نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ایک ٹرینڈ بچہ جس کو یہ سب بولنے کی ٹریننگ دی گئی ہو جو بنا رکے ایک ایک پوائنٹ سمجھاتا چلا جاتا ہے مگر اپنا بچکانا پن نہیں چھپا پاتا، تم بالکل ویسے ہی بولتی ہو، پھر کہتے ہیں “بیوی بنا سگنل کے دل کی گہرائی میں اترتی ہے تمہاری بات”۔۔ اور اس کی بات سن کر منال بے تحاشہ ہنسنے لگی تھی۔ اور حیات کو محسوس ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ ہر بات میں نوفل احمد خان کا حوالہ دے رہی ہے۔
تمہاری فجر مس ہوتی ہے؟ میری کبھی کبھار مس ہو جاتی ہے۔۔
الحمد لله فرض نمازوں میں اللہ کا بڑا احسان ہے مگر کبھی کبھی اشراق اور تہجد میں کوتاہی ہو جاتی ہے مگر میں روزانہ عشا کی سنت کے بعد والی نفل میں تہجد کی نیت کر لیتی ہوں اور فجر کی نماز کے بعد “سورة الضحی” پورے جوارے کے صدقہ کی نیت سے پڑھ لیتی ہوں اور آپ کو پتا ہے اس کے پڑھنے کا ثواب کیا ہے۔۔۔؟ پرجوش آواز پر منال نے سوالیہ نظریں اس کی طرف کی تھیں۔
جتنے بھی پہاڑ ہیں ان سب کے برابر سونا چاندی صدقہ کرنے کا ثواب۔ انہوں نے سب سے پہلے یہی سورہ یاد کی۔ جب بھی وہ یہ باتیں کرتی تھی اس کا چہرا روشن رہتا تھا جیسے کوئی غیبی ٹارچ اس کے چہرے پر پڑ رہی ہو اور یہ اس لیے ہوتا تھا کیونکہ اس کا عمل ریا سے پاک اور خالص اس کے رب کے لیے ہوتا تھا۔
اور آج ہم چاہے رات رات بھر نفلیں پڑھیں، روزے رکھیں قرآن پڑھیں تو بھی ہمارے چہروں پر پھٹکار برستی ہے کیونکہ ہمارا یہ سارا عمل ہماری غفلت میں ہوتا ہے۔ نماز پڑھتے ہیں تو ساری دنیا سامنے ہوتی ہے، قرآن پڑھتے ہیں تو بھی ہم بس پڑھتے چلے جاتے ہیں مطلب و معنی اور اس کی قدر ومنزلت محسوس ہی نہیں کرتے اور پھر جب ہم یہ بات کسی اور کو بتاتے ہیں تو مقابل الٹا جواب دیتے ہیں تو جو عمل ہمارے خود کے دل ہر اثر نہیں کرتا وہ زبان سے کسی اور کے دل پر کیا اثر کرےگا۔۔ ” حالانکہ تمہارا رب تم سے عبادت کی کثرت کا سوال نہیں کرتا بلکہ تمہارے خلوص کو دیکھتا ہے یہی اس کی چاہت ہے، بے ریا عمل چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو”۔۔۔
بہت کچھ ہے حیات تمہارے پاس۔۔۔ اتنی اچھی مشق ماشاءاللہ۔
یہ سب تو آپی دادی، مما پاپا اور میرے اساتذہ کا احسان ہے۔ آپ کو پتا ہے ایک ایک عمل کی مشق دادی اور پاپا مجھ سے اور احمد بھائی سے دو دو مہینے تک کرواتے تھے جب تک ہمیں مہارت نہیں ہو جاتی تھی، روزانہ کی مشق کے بعد ہی کھانا ملتا تھا۔ اور منال کے دل نے شدت سے حیات جیسی ہونے کی دعا کی تھی جس کے صرف جانے سے ہی نوفل احمد خان ہدایت کی راہ پا گیا تھا *******************
اب تو رومال کھول دو برخوردار۔ انہیں جماعت میں آئے چھٹا دن تھا مگر نوفل احمد خان پہلے دن کی طرح ہی سب کے سامنے چہرے پر رومال باندھ کر آتا تھا۔
سسر جی سارے لوگ آپ کے گھر کی طرح ٹی وی اور فلمی دنیا سے نابلد نہیں ہیں۔ نوفل احمد خان ہندوستان کا جانا مانا نام ہے لوگ اس کے چہرے کو دیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں اور یہ سب اس کے چہرے سے واقف ہیں۔ میری بیوی نے مجھے نیک کام کے لیے بھیجا ہے اور میں اپنا چہرہ چہرہ ظاہر کر کے ان لوگوں کا دھیان اپنی طرف کروا کر اس نیکی کی نورانیت کم نہیں کرنا چاہتا، اپنے نفس پر پیر رکھ آیا ہوں میرے لیے یہ جہاد ہے اور میری بیوی کی تمنا ہے کہ اسے جہاد کا ثواب ملے۔ یہ لوگ میرے بارے میں کیا باتیں کریں گے مجھے فرق نہیں پڑتا بس مجھے اپنے اور اپنی بیوی کے لیے یہ جہاد کرنا ہے۔ یقیناً مطلب آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ کوئی بات سب کے سامنے اس طرح اپنی بیوی سے متعلق اتنے کانفیڈنٹ سے نوفل احمد خان ہی کر سکتا تھا۔
اور فرحان صدیقی نے اسے اس طرح دیکھا تھا جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ باہر نکلتے وقت وہ اپنا چہرہ کیوں چھپا کر رکھتا ہے تاکہ لوگ اس کو پہنچان کر اس کے گرد جمع نہ ہوں اس کے بارے میں باتیں نہ کریں یہ بات پہلے کی تھی اب وہ اس لیے چھپاتا تھا تاکہ لوگ اس کی وجہ سے گناہگار نہ ہوں۔
اور جماعت میں آنے کے بعد اس کی بیوی سے اسے اور عشق ہو چلا تھا جب اس نے جماعت کے بےبہا فائدے محض چھ دنوں میں دیکھ لیے تھے۔ صحیح کہا تھا اس نے اللہ والوں کی قربت اللہ کی قربت کا ذریعہ بنتی ہے۔ کتنے مسائل کتنے قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ عمل کی تاکید کرنےوالے عملوں کی تفسیر۔ کیا کچھ نہیں جان پایا تھا وہ۔
ان چھ دنوں میں اس نے ایک بار بھی حیات سے بات نہیں کی تھی اس کا فون بھی اسی کے پاس تھا۔ اس کا کہنا تھا اللہ کے راستے میں خالص اللہ کے کیے جائیں۔ اگر دنیا کی محبت کو ساتھ لے کر جائیں گے تو اللہ کی محبت میں پیچھے رہ جائیں گے۔ اور یقیناً اگر وہ فون پر اس سے باتیں کرتا تو اتنا نہیں سیکھ پاتا جتنا سیکھ رہا تھا۔
*************
کیا بات ہے حیات بڑا بلش کر رہی ہو؟ منال کی آواز پر وہ چونکی تھی۔
نہیں آپی ایسی بات نہیں ہے۔۔ لہجہ کمزور سا تھا۔
جاؤ جاؤ مت بتاؤ۔۔ ویسے یہ ڈریس نہیں یہ والا پہنو۔ اس کے ہاتھ سے بلیو کلر کا سمپل فراک لے کر پنک کلر کا زیادہ گھیر والا اے لائن فراک تھمایا تھا جس کی آستین اور گلے سے پیٹ کے نیچے تک موتی اور اسٹون ورک تھا۔
یہ زیادہ ہیوی ہے آپی الجھن ہوتی ہے مجھے ایسے کپڑوں سے۔۔۔
حد ہے کم سے کم نوفل بھائی کے آنے کی خوشی میں ہی پہن لو۔۔۔ جس کے تخیل کے ساتھ دن رات ایک سرور میں بسر ہو رہے تھے وہ آج مجسم آنے والا تھا۔ اور وہ اس کے آنے کی خوشی میں اس کی پسند کا کھانا بنا رہی تھی اور اب وہ اس کے لیے تیار ہونا چاہتی تھی تاکہ وہ اسے دیکھ کر خوش ہو جائے۔ کل ہی تو دادی نے بتایا تھا اسے کہ شوہر کے لیے سجنا سنورنا تو سنت نبویہ ہے۔
ویسے حیات کیا ابھی بھی وہ تمہیں گود میں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ویسے تو اب تم ان کی ٹیچر بھی ہو کچھ تو لحاظ کرتے ہوں گے۔۔
کرتے ہیں آپی ایسا لحاظ کرتے ہیں کہ شاید ہی کسی نے کیا ہو اپنی ٹیچر کا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی آنکھوں میں اس کے ساتھ کے منظر آ سمائے تھے۔
اچھا ایسا کیا کیسا لحاظ کرتے ہیں۔۔۔؟ منال کے لہجہ میں تجسس تھا۔
بڑی عزت سے گود میں بٹھاتے ہیں پھر اچھا خاصا پریشان کرتے ہیں۔ پھر پڑھتے ہیں۔ اور پڑھنے کے بعد۔۔۔ وہ کسی اور ہی دھن میں تھی جو اپنے راز عیاں کر رہی تھی۔۔
ہاہاہاہاہاہا منال کی ہنسی پر اس کو بریک لگے تھے۔۔۔
اف اللہ آپی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں آپ۔ اس کے منہ پھلانے پر ایک بار پھر منال کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ کچھ دیر بعد دونوں بہنیں ایک ساتھ ہنس رہی تھیں۔
کتنی پرسکون اور خوش لگ رہی ہے نا اماں اپنی حیات۔۔ دادی اپنی بہو اور بیٹی کے ساتھ بیٹھی اپنی دونوں پوتیوں کو نہار رہی تھیں جب فائزہ بیگم کے بولنے پر حیات کو غور سے دیکھا تھا اس کے چہرے پر ایک روشنی سی پھوٹ رہی تھی۔ آج اس کا محرم آ رہا تھا اور اس کی آمد کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
ہمارا داماد واقعی سرپھرا ہے اماں۔ کیسا سب کے سامنے اسے بیوی بیوی کرتا پھرتا رہتا ہے، مجال ہے جو کسی کا لحاظ کر لے۔ اور جانے سے پہلے دیکھا تھا کیسے اپنے ہاتھوں سے کھلا کر گیا تھا کھانا۔۔ مگر ہے اچھا۔ فائزہ بیگم کے دل میں ایک فخر سا در آیا تھا۔ جاتے ہوئے ایک بار پھر وہ ان سے گن پوائنٹ والی بات پر معافی مانگ کر گیا تھا۔
اللہ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔ اور ہمارے بچوں کے اس رشتہ اور ان کی محبت کو ہر بری نظر سے بچائے اور برکت دے ان کے رشتہ میں بھی اور محبت میں بھی۔ ان کی دعا پر دونوں نے زیر لب آمین کہا تھا۔
اور دور کھڑی قسمت نے ان کی دعا کو پورا کرنے کے لیے ایک اور امتحان ان کے لیے رکھ دیا تھا۔ ہر پڑھائی کے بعد امتحان بھی تو ضرور دیا جاتا ہے۔ اب یہ پڑھنے والے پر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح پڑھ کر کیسا رزلٹ لائےگا۔ اور اللہ نے ان پڑھنے والوں کا ایک اور پرچہ لکھ دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ کون اس کے فیصلہ پر راضی ہوتا ہے کون باغی۔
*************
کیا ہو رہا ہے یہاں؟ نوفل احمد خان کی آواز پر بھاگتا ہوا وہ لڑکا ایک پل کو رکا تھا۔
کچھ شرپسندوں نے اس علاقے پر حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ جو خالی زمین پڑ ی ہے مسجد کی وہاں مندر بنانا ہے۔ یہ چھوٹا سا گاؤں ہے کوئی مسجد نہیں ہے یہاں۔ اس زمین میں ٹینٹ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ ابھی بھی نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ لوگ آ گئے اس لیے سب بھاگ رہے ہیں۔۔ پولیس والے بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ لڑکا کہتا ہوا بھاگ گیا تھا۔ مگر وہ ہل نہیں پایا تھا۔ اس نے اب تک شرپسندوں کے بارے میں صرف سنا تھا اور آج وہ اس صورت حال میں گھرا کھڑا تھا۔
اچانک چار پانچ لوگوں کا گزر ہوا تھا جو بھاگتے ہوئے ان کے قریب سے گزرے تھے جب ان میں سے اچانک کوئی رکا تھا۔ اور حیرت سے ان کے قریب آیا تھا۔
نوفل تم یہاں اور انکل آپ بھی!؟؟ رکنے والے نے اپنے چہرے سے رومال ہٹایا تھا اور اب حیرت سے انہیں دیکھ کر سوال کیا تھا۔
جماعت میں آئے تھے اب واپس جا رہے تھے تو یہاں کی صورت حال دیکھ کر رکے تھے۔ اور تم پولیس والے لوگ ان شرپسندوں کے ساتھ ہو۔
ہم نہیں ہیں ان کے ساتھ دوسرے علاقے کے لوگ ہیں یہ چھوٹی سی مسلم بستی ہے کمینوں سے سکون دیکھا نہیں جا رہا ان غریبوں کا۔ اور تم لوگ جلدی نکلو دیکھ نہیں رہے سڑک خالی ہو گئی ہے۔ کوئی اپنی گاڑی نہیں روک رہا ہے۔ ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ کچھ شرپسند ان کی طرف بھاگتے ہوئے آئے تھے۔۔
نوفل جلدی کرو جاؤ۔۔ اس نے نوفل احمد کو دھکا دیا تھا مگر وہ ہلا تک نہیں تھا۔
کیا تم لوگ انہیں جان سے ماروگے؟ اس کے پوچھنے پر الحان اور فرحان صدیقی نے حیرت سے دیکھا تھا۔ مگر اس کے چہرے کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر دونوں حیران رہ گئے تھے۔
نوفل۔۔۔۔۔
سسر جی! جہاد کیا ہے؟ اس کی آواز میں کیا تھا فرحان صاحب سمجھ نہیں پائے تھے۔
مسلمانوں کی حفاظت کرنا، اسلام کے لیے لڑنا۔۔
تو پھر کیا ارادہ ہے بیوی کی خواہش یہیں نہ پوری کردوں۔۔۔ آپ جائے سسر صاحب میری بیوی سے کہہ دینا پریشان نہ ہو بلکل بھی، نوفل احمد خان کو وہ پریشان اچھی نہیں لگتی۔۔ ان شاء الله میں جلد آؤں گا۔
مارو سالوں کو ان لوگوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ نوفل احمد خان نے جلدی سے اپنے سسر کے چہرے پر بھی رومال باندھ دیا تھا۔ الحان بھی اپنا چہرہ چھپا چکا تھا۔
چلو جہاد صرف تم دونوں پر ہی نہیں مجھ پر بھی فرض ہے اور مجھے یقین ہے اللہ نے اسی لیے ہمیں اس راستے سے بھیجا، وہ اپنے زمانے کے بلیو بیلٹ رہ چکے تھے اٹھان تو ان کی ابھی بھی کمال تھی۔ اللہ اکبر کہتے وہ تینوں خود کو تیار کر چکے تھے۔
وہ پانچ لوگ تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ہاکی، ڈنڈے اور بیٹ تھے۔ الحان نے ان کے پیروں پر فائر کیا تھا۔ دو لوگوں ک اس نے زمین گراکر مارنا شروع کیا تھا۔
نوفل احمد خان نے دوسرے پر فائر کیا تھا دونوں کی گن پر سائلینسر لگا ہوا تھا اس لیے آواز نہیں ہو رہی تھی۔
ایک نے فرحان صدیقی کو مارنے کی نیت سے بیٹ اٹھایا تھا جسےوہ راستے میں ہی روک گئے تھے۔
کچھ ہی دیر میں وہ تینوں ان لوگوں پر قابو پا چکے تھے۔
الحان اگر انہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ پھر سے ان لوگوں کو پریشان کریں گے۔ یہ دشمنان اسلام ہیں اس لیے واجب القتل ہیں۔ نوفل احمد خان انہیں دیکھ کر غرایا تھا جو اب زمین پر پڑے کراہ رہے تھے اگر ان لوگوں کے پاس گنز ہوتیں تو شاید یہ لوگ ان پر قابو نہیں پا سکتے تھے۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو سالے کتے مسلمانوں کو جینے ہی نہیں دے رہے ہیں۔۔ اسی لیے تو ہم بھیس بدل کر آئے ہیں ہم انہیں پولیس والے بن کر نہیں مجاہد بن کر ماریں گے۔ اسلام کے لیے۔
ان پانچوں کو گاڑی میں بھرا تھا اور ایک دوسرے پولیس والے کے ساتھ الحان کے خفیہ ادارے میں بھجوا دیا تھا۔
اب وہ لوگ چھپتے چھپاتے علاقے کے اندر داخل ہو رہے تھے جہاں کچھ اور آدمی بچوں اور بوڑھوں پر تشدد کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے دور سے ہی دوسری گن سے ایک ہوائی فائر کیا تھا۔ پانچ چھ لوگ ان کی طرف دوڑے آئے تھے ان کے پاس بھی پہلے والے لوگوں کی طرح کے ہی ہتھیار تھے۔
الحان اب بھی گاڑی ریڈی ہے نا۔۔؟ اس کے پوچھنے پر الحان نے سر ہلایا تھا۔ یہ لوگ ان کے انتظار میں تھے نوفل احمد کی چالاکی کی وجہ سے وہ لوگ بھی ان کے چنگل میں پھنس چکے تھے۔ مگر ان میں سے ایک فرحان صدیقج کو زخمی کر چکا تھا مگر ہمت یہ لوگ نہیں ہار رہے تھے۔
الحان ہم نے بھی پانچ لوگوں کو پکڑ لیا ہے۔ اور انہیں بھی وہیں بھجوا دیا ہے۔ مگر ابھی بھی ان میں کے دو تین لوگ کسی کے گھر میں گھس گئے ہیں۔ اس کے دو ساتھی بھاگ کر آئے تھے۔ جن میں سے ایک کو ان چھ لوگوں کو لے کر روانہ کر دیا تھا۔ ان ساروں کو بےہوش کر کے بھیجا جا رہا تھا تاکہ یہ لوگ پکڑے نہ جائیں۔
سسر جی آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ نوفل احمد اب ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
الحمدلله۔ اب جلدی ان لوگوں کو پکڑنا ہے گھر میں گھسنے کا مطلب بہن بیٹیوں کی عزت خطرے میں ہے۔
اب یہ چاروں بالکل الگ الگ طریقے سے گھوم رہے تھے۔ نوفل احمد اپنے سسر کو لیے آگے کی طرف بڑھتا چلا گیا تھا۔ کچھ دور چلے تھے جب ایک گھر سے چیخنے چلانے کی آوازیں آئی تھیں۔ اس کے پاس فون نہیں تھا جو الحان کو انفارم کرتا وہ خود ہی اس گھر میں گھسنے کا طریقہ سوچنے لگا تھا۔ کیونکہ وہ اندر سے لاکڈ تھا۔
قسمت سے ایک کھڑکی کھلی نظر آئی اس میں جھانک کر دیکھا تو دو آدمی دو لڑکیوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو باریش آدمی زمین پر زخمی پڑے ہوئے تھے اور تین چالیس پنتالیس سال کی عورتیں بھی پڑی ہوئی تھی ان لوگوں کے بعد اب یہ لوگ ان لڑکیوں سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو اپنے آپ کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھیں۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا اور اگر وہ اندر جاتا ان لوگوں کی جان کو خطرہ ہو جاتا۔
اس نےکھڑکی کی جالی سے ہی نشانہ لیا تھا اور سیدھا ایک کے بعد دونوں کے سر پر فائر کر دیا تھا۔ اب وہ دونوں فرش پر پھٹے سر کے ساتھ ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔
نوفل ملا کوئی۔۔ الحان بھاگتا ہوا آیا تھا۔
اندر دیکھو اور ان لوگوں کو اٹھواؤ اس سے پہلے کہ کوئی اور پہنچے۔ گھر والے کافی ڈرے ہوئے ہیں۔۔ اور کوئی باقی رہ گیا ہے۔۔؟
نہیں، الحمدلله سب پکڑ لیے۔ ان پچیس تیس لوگوں پر اللہ نے دس لوگ بھاری کر دیئے۔
زخمی لوگوں کو ہاسپٹل پہنچوانا ہے جلدی کرو۔ اللہ کا شکر ہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ ایک شخص ان میں چھپ گیا ہے یا بھاگ گیا ہے کچھ پتا نہیں اور وہ اکیلا ہے جس کے پاس گن ہے۔ الحان نے اپنے دوسرے ساتھیوں سے کہا تھا جو اپنا کام کرنے لگے تھے۔ زیادہ تر لوگ خوف سے گھروں میں چھپے ہوئے تھے اس لیے علاقے میں بالکل سناٹا تھا۔
چار پانچ گھنٹوں میں یہ لوگ ایک مجاہد کا کام انجام دے چکے تھے۔ یقیناً یہ ایک جہاد تھا۔
الحان تمہیں یہاں کچھ خفیہ ادارے بنانے چاہئے ہو سکتا ہے ان لوگوں کے غائب ہونے پر شاید کوئی اور سرپھرا آجائے۔ تو یہاں پر ایسے اپنے خفیہ لوگ چاہو تو کچھ لوگوں کو ود فیملی رہائش کروا دو۔ نوفل احمد کی بات اس کے دل کو لگی تھی۔ واقعی اس نے دور کا سوچا تھا۔
اور یہاں مسجد کی تعمیر کا کام بھی کروانا ہے۔
وہ تینوں اپنا کام ختم کر کے اب گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے انہیں یہاں کی بھاگ دوڑ میں۔ گھروالوں کی پریشانی کی بھی فکر تھی۔ اور اسے بس اپنی بیوی کی۔ کیونکہ وہ کمزور ابھی بھی تھی۔ دل سے بھی دماغ سے بھی۔ وہ اپنی دس دن کی جدائی میں اپنی بیوی کے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ دیکھنا چاہتا تھا۔ اب وہ ایک پل یہاں نہیں رکنا چاہتا تھا بس جلد از جلد اپنی بیوی کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ جہاد کر کے آیا ہے۔ اسے دیکھنے، اور چھونے کی خواہش زور پکڑتی جا رہی تھی۔ جتنا وہ تھک چکا تھا ساری تھکن اپنی بیوی سے شیئر کرنا چاہتا تھا۔ مگر کون جانے ابھی اسے اور کتنا تھکنا تھا۔
مگر ضروری نہیں ہر بار وہی ہو جو ہم چاہتے ہیں۔ محبت کا دعویٰ کرنے والوں کی آزمائش طے ہے وہ چاہے دنیا سے ہو یا دین سے
**************
یا اللہ تجھ سے بہتر حفاظت کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ لوگ جو تیری راہ میں نکلے تھے سب واپس آ گیے ہیں مگر پاپا اور یہ نہیں آئے۔ نو بج گئے ہیں شام میں چار بجے آنے والے تھے۔ یا اللہ جہاں بھی ہوں تو ان کی حفاظت کرنا۔ تجھے پتا ہے نا مجھے کتنی تکلیف ہو رہی ہے، میرے اندر گھٹن بڑھ رہی ہے اس دن سے بھی زیادہ جس دن میں نے مرد کا ایک بھیانک روپ دیکھا تھا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا دل رکنے والا ہے۔
اللہ پلیز مدد کرنا جو بھی پریشانی ہو، کوئی مصیبت ہو، تیرے سوا کوئی حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ میں ان دونوں کی اور ان کے صدقے جو لوگ اور مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں سب کی جان کا صحت کا ایمان کا صدقہ کر رہی ہوں اس صدقہ کو قبول فرما لے۔۔۔ ایک ہزار روپے صدقہ کے ڈبہ میں ڈالتی ہوئی وہ اللہ سے فریاد کناں تھی۔
آنسو بہہ رہے تھے اب وہ مصلہ پر بیٹھی تھی ہر پریشانی میں وہ اپنے رب کا دامن تھام لیتی تھی۔
اللہ۔۔۔! بےاختیار دل میں درد اٹھا تھا اس کے جیسے کچھ کھو گیا ہو۔ اس نے شدت گریہ سے آنکھیں بند کی تھی جب ایک شبیہ اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئی تھی۔
میرا جی چاہتا ہے بیوی تمہارے ساتھ ایک لمبا سفر طے کروں۔ اور کسی جنگل میں پڑاؤ ڈال دوں تم جو یہ میری ذرا سی شدت پر چھپتی پھرتی ہو نا جنگل میں کوئی جگہ چھپنے کی نہ ملے اور جنگل کے خوف سے تم مجھے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لو۔۔کچن میں کام کرتے ہوئے اس کے شوہر نے اس کو اپنے حصار میں لے کر اسے کنفیوژ کر کے اپنی بات کہی تھی۔
آپ ایسی بات کیوں کرتے ہیں۔۔۔ اس نے نکلنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے وہ حصار اور مضبوط کر دیتا تھا۔
تاکہ میں اگر کہیں چلا جاؤں تو تم میری ان شدتوں کو یاد کر کے میری محبت میں مبتلا ہو جاؤ۔
اللہ پلیز ان کو بھیج دے نا۔۔ تجھے پتا ہے نا میرا دل پریشان ہے۔ اس کا مطلب تو مجھے پھر کسی غم کے لیے تیار کر رہا ہے۔۔ وہ اللہ سے ایسے بات کرتی تھی جیسے وہ مجسم اس کے سامنے بیٹھا ہو۔
پھر اٹھ کر واپس اس کی شرٹ پہن کر مصلہ پر آ بیٹھی تھی۔ اس کے دل کا درد بڑھتا جا رہا تھا۔ اور اس کے رب کے سوا کون جانتا تھا کہ یہ درد کیوں بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کے رب کو تو معلوم تھا کہ دور کہیں اس کی نئی نئی محبت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔
جاری ہے۔
